ضمیمہ 38، 19: خالق کے دستخط
ضمیمہ 38
19: خالق کے دستخط
الہامی کتابیں اللہ کی وہ واحد ریاضیاتی طور پر مرتب کردہ تخلیقات نہیں ہیں جن میں عدد 19 قدرِ مشترک ہے۔ درحقیقت یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ گلیلیو نے اپنا مشہور قول کہا تھا: "ریاضی وہ زبان ہے جس میں خدا نے کائنات کو تخلیق کیا۔" سائنسی دریافتوں کی ایک بڑی تعداد نے اب یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عدد 19 بعض تخلیقات پر اللہ کے دستخط کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ الٰہی مہر پوری کائنات میں بالکل اسی طرح نمایاں ہے جس طرح مائیکل اینجلو اور پکاسو کے دستخط ان کے فن پاروں کی پہچان کراتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
1۔ سورج، چاند اور زمین ہر 19 سال میں ایک بار ایک ہی نسبتی پوزیشن میں سیدھ میں آ جاتے ہیں (دیکھیے انسائیکلوپیڈیا جوڈائیکا، بعنوان "Calendar")۔
2۔ ہیلی کا دمدار ستارہ، جو ایک عظیم آسمانی مظہر ہے، ہر 76 سال بعد، 19x4، ہمارے نظامِ شمسی کا دورہ کرتا ہے۔
3۔ آپ پر اور مجھ پر اللہ کی مہر اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ انسانی جسم میں 209 ہڈیاں ہیں، 19x11۔
4۔ ٹی ڈبلیو سیڈلر کی کتاب LANGMAN'S MEDICAL EMBRYOLOGY امریکہ کے بیشتر میڈیکل اسکولوں میں بطور نصابی کتاب استعمال ہوتی ہے۔ پانچویں ایڈیشن کے صفحہ 88 پر ہم یہ بیان پڑھتے ہیں: "عام طور پر پوری مدت کے جنین کے لیے حمل کی مدت آخری ماہواری کے آغاز کے بعد 280 دن یا 40 ہفتے شمار کی جاتی ہے، یا زیادہ درست طور پر، بارآوری کے بعد 266 دن یا 38 ہفتے۔" اعداد 266 اور 38 دونوں 19 کے مضاعف ہیں۔