سورۃ 17: بنی اسرائیل(بنی اسرائیل) — قرآن کی تلاوتیں اور قراتیں
YouTube · 26:39
سورۃ 17: بنی اسرائیل(بنی اسرائیل)
[17:1] سب سے زیادہ تعریف ہے اس کی جس نے اپنے بندہ (محمد) کو طلب کیارات کے دوران (مکہ کی) مقدس مسجد سے سجدہ کر نے کے لئے دور ترین مقام پر*، جس کے گردو نواہ کو ہم نے برکت دی ہے،تم اپنی کچھ نشانیاں دکھانے کے لیے ۔ وہ سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے ۔
[17:2] اِسی طرح، ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مشعل راہ بنایا کہ: " تم کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہرانا ایک پروردگار اور مالک کے طور پر میرے ساتھ۔"
[17:3] یہ ان کی نسل سےہیں جنہیں ہم نوح کے ساتھ اُٹھالے گئے تھے ۔ وہ ایک قدردان بندہ تھا ۔
[17:4] ہم نے آسمانی کتاب میں بنی اسرائیل سے خطاب کیا: "تم زمین پر مجموعی برائی کا ارتکاب کرو گے گا، دو بار۔ تمہارا مقدر ہے کہ تم تکبر کے عظیم بلندیوں میں جا پڑو گے۔
[17:5] " جب پہلی بار آئی گی تو، ہم تمہارے خلاف اپنے بندے بھیجیں گے جو بڑی قوت کے مالک ہی، ا ور وہ تمہارے گھروں پرحملہ آور ہوں گے۔. یہ ایک پیشن گوئی ہے جوواقع ہو کر رہے گی۔
[17:6] "اس کے بعد، ہم تمہیں ان پر ایک باری دیں گے، اور تمہیں بہت سارا مال اوراولاد فراہم کریں گے؛ ہم تمہیں ان پر با لادستی دیں گے۔
[17:7] " اگر تم نیکو کاری کرو ، تو تم نیکو کاری اپنی ہی بھلائی کے لئے کرتے ہو، لیکن اگر تم برائی کرو تو تم اپنے ہی گھاٹے کے لئے کرتے ہو۔ لہٰذا، جب دوسری مرتبہ آئے گی، وہ تمہیں شکست یاب کر دیں گے اور مسجد میں داخل ہو جائیں گے، ویسے ہی جیسے کہ پہلی بار ہوئے تھے۔ وہ تمہارے حاصل کردہ تمام سرمائے کا صفایا کر دیں گے۔"
