ضمیمہ 12، نبی محمد کا کردار
ضمیمہ 12
نبی محمد کا کردار
نبی کا واحد مشن قرآن پہنچانا تھا، پورا قرآن، اور قرآن کے سوا کچھ نہیں (3:20; 5:48-50, 92, 99; 6:19; 13:40; 16:35, 82; 24:54; 29:18; 42:48; 64:12)۔
قرآن کو پہنچانا ایسا عظیم اور باوقار مشن تھا کہ نبی کے پاس کچھ اور کرنے کا وقت ہی نہیں تھا۔ مزید برآں، نبی کو سخت ترین الفاظ میں قرآن کے علاوہ کوئی بھی دینی تعلیمات جاری کرنے سے منع کیا گیا تھا (69:38-47)۔ حتیٰ کہ انہیں قرآن کی وضاحت کرنے سے بھی منع کیا گیا تھا (75:15-19) - خدا ہی قرآن کا واحد معلم ہے (55:1-2) اور قرآن ہی بہترین حدیث ہے (39:23 & 45:6)۔
یہ قرآنی حقائق اس تاریخی حقیقت میں ظاہر ہوتے ہیں کہ نبی سے منسوب اقوال و اعمال (حدیث و سنت) ان کی وفات کے بعد دوسری صدی تک سامنے نہیں آئے۔ قرآن نے نبی کے دشمنوں کے ہاتھوں حدیث اور سنت گھڑے جانے کی پیشین گوئی کر دی تھی (6:112-115)۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ حدیث اور سنت کی ایجاد کی اجازت دینا خدا کی مشیت تھی تاکہ یہ ان لوگوں کو بے نقاب کرنے کا معیار بنے جو صرف اپنے ہونٹوں سے ایمان لاتے ہیں، اپنے دلوں سے نہیں۔ جو لوگ حدیث اور سنت کی طرف مائل ہوتے ہیں وہ جھوٹے مومن ثابت ہوتے ہیں (6:113)۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حدیث کی کتابیں خود نبی کے یہ احکام نقل کرتی ہیں کہ ان سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھا جائے! ذیل میں ایسی ہی دو حدیثیں پیش کی گئی ہیں جو اہلِ حدیث کے معتبر ترین ماخذوں، صحیح مسلم اور مسند احمد ابن حنبل سے لی گئی ہیں:
نبی نے فرمایا، "مجھ سے قرآن کے سوا کچھ نہ لکھو۔" [احمد، جلد 1، صفحہ 171، اور صحیح مسلم] |
یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ نبی نے وفات تک حدیث کے خلاف اپنا موقف برقرار رکھا۔ [احمد، جلد 1، صفحہ 192] |