قرآن 2:249 — بچھیا(البقرة)
جب طالوت نے فوجوں کی کمان سنبھالی تو اس نے کہا، ”خدا تمہیں ایک ندی کے ذریعے آزمائش میں ڈال رہا ہے، جو کوئی اس میں سے پانی پیۓ گا وہ میرے ساتھ نہیں ہے، صرف وہی جو اس میں سے نہیں چکھیں گے وہ میرے ساتھ ہیں سواۓ اس کے کہ صرف ایک گھونٹ ہو۔“ مگر چند کے علاوہ زیادہ تر نے اس میں سے پی لیا۔جب وہ ایمان والوں کے ساتھ اس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ ، ”اب ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ “ جن کو خدا سے ملاقات کا یقین تھا کہنے لگے، “کئی بار چھوٹی فوج نے خدا کی مرضی سے ایک بڑی فوج کو شکست دی۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں۔
[2:248] ان کے نبی نے ان سے کہا، ”اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ عہد کا صندوق تمہارے لیئے بحال کیا جائے گا، تمہارے رب کی طرف سے یقین دہانیاں لاتے ہوۓ، اور موسیٰ کی قوم اور ہارون کی قوم کے چھوڑے گئے تبرکات ۔اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔اگر تم واقعی ایمان والے ہو تو یہ تمھارےلیےایک قائل کرنے نشانی ہونی چاہیے۔
[2:250] جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے آےتو انہوں نے دعا کی،” اے ہمارے پروردگار، ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، ہمارے قدم جما، اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما‘‘۔