سورۃ 2: بچھیا(البقرة)
خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
[2:1] ا۔ل ۔م۔
[2:2] اس کتاب میں کوئی شک نہیں،یہ ان لوگوں کیلئے ہدایت ہے جو غائب پر ایمان لاتے ہیں۔
لوگوں کی تین اقسام (1)نیکوکار
[2:3] جوغائب پر ایمان لاتے ہیں اورنماز* قائم کرتے ہیں اور ہمارے* دیئے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں۔
[2:4] اور جو آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ اس پریقین رکھتے ہیں،اورجوآپ* سے پہلے نازل کیاگیا اس پربھی اور آخرت کے بارے میں ان کو قطعاً کوئی شک نہیں۔
[2:5] ان کی راہنمائی تمہارا خدا کرتاہے:یہی کامیاب لوگ ہیں۔
(2) کافر
[2:6] جولوگ ایمان نہیں رکھتے آپ انہیں تنبیہ کرویا نہ کرو وہ ایمان نہیں لاسکتے *۔
[2:7] خدا ان کے دلوں اورکانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے ۔انہوں نے سخت گھاٹے کا سودا کیا ہے ۔
(3)منافقین
[2:8] اور ان میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ’’ہم ایمان لائے خدا پر اور آخرت کے دن پر ‘‘لیکن وہ ایمان والے نہیں ہیں۔
[2:9] خدا اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی کوشش میں وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا ۔
[2:10] ان کے دل میں بیماری ہوتی ہے ۔ان کے اعمال کی بدولت خدا اس بیماری کو بڑھا دیتا ہے۔اپنے اس جھوٹ کی بدولت انہوں نے دردناک عذاب کما لیا ہے۔
[2:11] جب انہیں کہا جاتا ہے کہ’’برائی مت کرو‘‘توکہتے ہیں’’ہم تو پرہیز گار ہیں‘‘۔
[2:12] حقیقت یہ ہے کہ وہ برے کام کرتے ہیں لیکن انہیں اس کا احساس نہیں ہے۔
[2:13] جب انہیں کہا جاتا ہے کہ’’ اہل ایمان کی طرح ایمان لاؤ ‘‘تو کہتے ہیں’’ کیا ہم ان احمقوں کی طرح ایمان لائیں‘‘۔دراصل وہ خود ہی احمق ہیں لیکن وہ جانتے نہیں۔
[2:14] جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں،’’ہم ایمان لائے،‘‘اورجب وہ اپنے شیطان ساتھیوں کے ساتھ اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں، ’’ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف مذاق کررہے تھے ‘‘۔
[2:15] خدا بھی ان کے ساتھ مذاق کرتا ہے اور انہیں گناہ اور غلط کاریوں میں دھکیل دیتا ہے۔
[2:16] یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ۔اس قسم کے سودے میں برکت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان لوگوں کو ہدایت نصیب ہوتی ہے۔
[2:17] ان لوگوں کی مثال ویسی ہے جو آگ جلاتے ہیں اور جونہی و ہ چاروں طرف روشنی پھیلانے لگتی ہے تو خدا یہ روشنی چھین لیتا ہے اور اندھیروں میں پڑے رہ جاتے ہیں اور انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
[2:18] گونگے ،بہرے اور اندھے ،وہ واپس آنے میں ناکام رہتے ہیں۔
[2:19] اس کی دوسری مثال :جب آسمان سے زبردست بارش آتی ہے جس میں اندھیرا ہوتا ہے اوربجلی کڑکتی اورچمکتی ہے۔وہ موت سے بچنے کیلئے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں۔خدا ان منکروں کو بخوبی جانتا ہے۔
ایمان کی روشنی
[2:20] بجلی کی چمک ان کی بینائی چھین لیتی ہے ،جب بجلی چمکتی ہے تو وہ آگے بڑھتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ رک جاتے ہیں۔اگرخدا کو منظور *ہوتو وہ ان کی سماعت اوربینائی چھین لے۔خدا قادر مطلق ہے۔
[2:21] اے لوگو!صرف اپنے رب ہی کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان کو پیدا کیا جوتم سے پہلے تھے۔تاکہ تمہاری نجات ہو سکے۔
[2:22] وہ خدا جس نے زمین کو تمہارے لئے قابل رہائش بنایا اور آسمان کو چھت بنایا۔وہ آسمان سے پانی برساتا ہے ، ہرقسم کے پھل پیدا کرنے کے لئے، تمہاری پروررش کے لئے۔ تم خدا کے مقابلے میں شریک مقرر نہ کرنا، اب جب کہ تم جانتے ہو۔
ریاضیاتی چیلنج
[2:23] اگر تمہیں اس بارے میں ذرہ بھی شک ہے جو ہم نے اپنے بندے* پراتارا ہے توان جیسی ایک سورۃ بنا کر دکھا دواوراگر تم سچے ہوتو اپنے گواہوں کو بلاؤ۔
دوزخ کی تمثیلی وضاحت
[2:24] کیا تم ایسا کرسکتے ہو؟یقیناتم ایسا کبھی نہیں کرسکتے توپھردوزخ کی آگ سے باخبر رہو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔دوزخ کافروں کی منتظر ہے۔
جنت کی تمثیلی وضاحت
[2:25] 25. ان لوگوں کو خوشخبری سناؤ جو ایمان لائے اورپرہیز گاری کی زندگی گزارتے ہیں وہ ایسے باغوں میں رہیں گے جہاں نہریں بہتی ہونگی اور وہ کہیں گے ’’یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے بھی فراہم کیا گیا تھا ‘‘۔اس طرح انہیں مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ان کو پاک ازواج ملیں گے اور وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے۔
[2:26] خدا مچھر* جیسی چھوٹی چیز سے لیکر بڑی سے بڑی چیز کی مثال دینے میں جھجھک محسوس نہیں کرتا ۔جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کی خدا کی طرف سے بھیجا ہوا سچ ہے۔اورجومنکر ہیں وہ کہتے ہیں ’’خدا کی طرف سے اس قسم کی مثال دینے کا کیامطلب ہے؟‘‘۔خدا بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت بخشتا ہے ۔برے لوگوں کے علاوہ وہ کسی کو گمراہی میں نہیں ڈالتا ۔
[2:27] جو لوگ خدا کے عہدکو ماننے کا وعدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ،اس چیز کو چھوڑ دیتے ہیں جس کو خدا نے کرنے کا حکم دیا ہے اوربرے کا م کرتے ہیں۔یہ لوگ گھاٹے والے ہیں۔
کافروں کیلئے دو موتیں اور دو زندگیاں *
[2:28] تم لوگ کس طرح خدا کا انکار کرسکتے ہو جب تم مردہ تھے تو اس نے تمہیں زندگی دی اور پھر تمہیں موت کی طرف موڑتا ہے اورپھر زندگی کی طرف لوٹاتا ہے اور آخر کار تمہیں اسی کی طرف ہی لوٹ کرجانا ہے۔
[2:29] وہ خدا ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین پر ہر چیز تخلیق کی اور پھر آسمان کی طرف رخ کرلیا اور وہاں سات کائناتیں مکمل کیں،*اور وہ تمام باتوں سے پوری طرح باخبر ہے۔
شیطان :ایک عارضی ’’خدا‘‘*
[2:30] یاد کرو جب تمہارے خدا نے فرشتوں سے کہا تھا ’’ میں زمین پر اپنا خلیفہ(عارضی خدا) مقرر کرنے والا ہوں‘‘۔فرشتے بولے ’’کیا آپ وہاں اس مقرر کریں گے جو برائی کو پھیلائے گا اور خون بہائے گا ؟ہم آپ کی تسبیح اور حمد بیان کرنے اورآپ کی کامل قدرت کو مانتے ہیں؟‘‘خدا نے کہا ’’میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ‘‘۔
امتحان شروع
[2:31] خدا نے آدم *کو تمام نام سکھائے پھر یہ نام فرشتوں کے آگے رکھے اور کہا ’’بتاؤ یہ کیا نام ہیں اگر تم سچے ہوتو ‘‘۔
[2:32] وہ بولے’’آپ کی ذات پاک اوربلند ہے،ہمیں کوئی علم نہیں سوائے اس کے جوآپ نے ہمیں پڑھایا ہے۔آپ تما م چیزوں سے باخبر ہیں اور سب باتیں آپ کے علم میں ہیں‘‘۔
[2:33] اس نے کہا ’’اے آدم ،انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ‘‘جب اس نے انہیں وہ نام بتائے تو خدانے کہا ’’میں نے کہا تھا نا کہ زمین و آسمان کے تمام راز جانتا ہوں؟میں وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپاتے ہو‘‘۔
[2:34] جب ہم نے فرشتوں کو کہا ’’آدم کے سامنے سجدہ کرو‘‘تو وہ سجدے میں پڑ گئے ،سوائے شیطان کے:اس نے انکار کیا ،بہت غروروالا اور منکر تھا ۔
[2:35] ہم نے آدم سے کہا’’ اپنی بیوی سمیت جنت میں رہو اور خوب کھاؤ پیولیکن اس درخت کے پاس نہ جانا مبادہ تم گناہ میں پڑ جاؤ‘‘۔
[2:36] لیکن شیطان نے انہیں ورغلایا اور ان کی جنت سے بے دخلی کا سبب بنا۔ہم نے کہا’’زمین پر چلے جاؤ ایک دوسرے کے دشمن کی طرح ،وہاں تمہاری عارضی رہائش اوردیگر چیزیں ہونگی ‘‘۔
مخصوص الفاظ*
[2:37] پھرآدم نے خدا سے کچھ الفاظ سیکھے ،جس کے بعد خدا نے آدم کو معاف کردیا ۔وہ ہی معاف کرنے والا اور نہایت مہر بان ہے ۔
[2:38] ہم نے کہا ’’اتر جاؤ زمین پر ،تم سب ۔جب ہماری طرف سے تم تک ہدایت نہ آجائے ،جومیری ہدایت پر عمل کریں گے انہیں کوئی خوف اور غم نہ ہوگا‘‘۔
[2:39] جولوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور انکار کریں گے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
تمام یہودیوں کیلئے الہامی احکامات : ’’تم اس قران پر ایمان لاؤ ‘‘
[2:40] اے بنی اسرائیل یاد کرو اس نعمت کو جو میں نے تمہیں عطا کی تھی اور اپنے حصے کا وعد ہ پورا کرو تاکہ میں اپنے حصے کا وعدہ پورا کروں۔میری تعظیم کرو۔
[2:41] جو چیز ہم نے نازل کی ہے اس پر ایمان لاؤ یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے ۔اس کو جھٹلانے میں پہلے کرنے والے نہ بنو۔میری آیات کو کم قیمت پر نہ بیچو۔میرے احکامات مانو۔
[2:42] سچ کو جھوٹ میں شامل نہ کرو اور نہ ہی جان بوجھ کر سچ کو چھپاؤ۔
[2:43] نماز قائم کرواورزکواۃ دو اوران لوگوں کے ساتھ جھک جاؤ جو جکھے ہوئے ہیں۔
[2:44] الہامی کتاب پڑھنے کے باوجود تم دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہو اور اپنے آپ بھول جاتے ہو۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟۔
[2:45] نماز اور صبر سے کام لو ،بیشک یہ مشکل کام ہے مگر ایمان والوں کیلئے نہیں۔
[2:46] انہیں اپنے خدا سے ملاقات کا یقین ہے اور جانتے ہیں کہ اسی کی طرف ہی انہیں لوٹ کر جانا ہے ۔
[2:47] اے بنی اسرائیل یاد کرو اس نعمت کو جو میں نے تمہیں عطا کی تھی اور تمہیں دوسری قوموں سے بڑھ کر نوازا تھا ۔
[2:48] اس دن سے باخبر رہو جب کوئی کسی دوسرے کے کام نہیں آئیگا ،اس دن کوئی سفارش قبول نہیں کی جائیگی ،کوئی تاوان ادا کرسکے گا اور نہ ہی کسی کی مدد کی جاسکے گی ۔
[2:49] یاد کرو ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے بچایا تھا جنہوں نے تم پر ظلم کی انتہا کردی تھی ۔وہ تمہارے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے ۔یہ تمہارے خدا کی طرف سے آزمائش تھی۔
[2:50] یادکرو جب ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو دوحصوں میں تقسیم کردیا :ہم نے تمہیں بچالیا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعون کے لوگوں کو غرق کردیا ۔
[2:51] اسکے باوجود جب ہم نے موسی ٰ کو چالیس راتوں کیلئے بلایا تو اس کی عدم موجودگی میں تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اورفاسد بن گئے*۔
[2:52] اسکے باوجود ہم نے بعدازاں تمہیں معاف کردیا تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔
[2:53] یاد کرو ہم نے موسی ٰ کو توریت عطا کی تاکہ تم ہدایت حاصل کرسکو۔
اپنی انا کو ختم کرو*
[2:54] یاد کرو اس وقت کو جب موسی ٰ نے اپنی قوم سے کہا ’’ اے لوگوں تم نے بچھڑے کی پوجا کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ۔اپنے خدا سے معافی طلب کرو۔اپنی انا کو ختم کرو۔تمہارے خالق کے نزدیک یہ تمہارے لیے بہتر ہے ‘‘۔اس نے تمہیں معاف کردیا ،بیشک وہ معاف فرمانے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
جیتا جاگتا ثبوت*
[2:55] یاد کرو جب تم نے کہا تھا ’’اے موسی ٰ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے،چنانچہ جونہی تم نے دیکھا تو ایک چمک نے تمہیں آلیا۔
[2:56] اس کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا جبکہ تم مر چکے تھے شاید کہ تم شکرگزار بن جاؤ۔
سینا:
[2:57] سیناء میں ہم نے تم پر بادلوں کاسایہ کیا ،اورتم پربٹیرے اور من وسلویٰ اتارا۔کھاؤ پیو خدا کی پاک نعمتوں میں سے جو تم کو فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے بغاوت کرکے ہمیں نقصان نہ پہنچایا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا ۔
خدا پر عتماد کی کمی: انہوں نے یروشلم میں داخل ہونے سے انکار کردیا
[2:58] یاد کرو جب ہم نے کہا تھا ’’اس شہر میں داخل ہوجاؤ،جہاں تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم چاہو گے۔صرف دروازے میں جھک کر داخل ہوجاؤ اورلوگوں کو اچھے طریقے سے پیش آؤ۔ہم تمہارے گناہ معاف کردینگے اور پرہیز گاروں کیلئے نعمت بڑھا دینگے‘‘۔
[2:59] لیکن ان میں سے جو ظالم تھے انہوں نے ان احکامات کے علاوہ دیگر احکامات پر عمل کیا ۔ان حد سے گزرنے والے لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے آسمان سے ان پر عذاب نازل کیا۔
مزید معجزے
[2:60] یاد کرو جب موسی ٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے کہا’’ اپنا اعصا اس پتھر پرمارو‘‘۔اس کے بعد وہاں سے پانی کے بارہ چشمیں پھوٹ پڑے۔ان میں سے ہر قبیلے کے لوگوں نے جان لیا کہ اس کے حصے کا پانی کونسا ہے ۔خدا کی نعمتوں میں سے کھاؤ پیو اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ۔
اسرائیل کی بغاوت
[2:61] یاد کرو جب تم نے کہا تھا اے موسی ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر قناعت نہیں کرسکتے ۔اپنے رب سے کہوکہ ہمارے لیے زمین کی پیداوارلوبیا ،کھیرا،ککڑی،گہیوں،لہسن اورپیاز وغیرہ پیدا کرے۔تو موسی ٰ نے کہا ’’کیا تم ایک بہتر چیز کی بجائے ادنی ٰچیز لینا چاہتے ہو؟مصر چلے جاؤ وہاں تمہیں ہر وہ چیز ملے جائیگی جس کی تم خواہش کررہے ہو‘‘۔اورپھر ان پر ذلت ،پستی ،خواری اوربدحالی ان پر مسلط ہوگئی اور خدا کے غضب آگئے۔یہ اسلئے ہوا کیونکہ انہوں نے خدا کی آیات کو جھٹلایا اور پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ۔انہوں نے نافرمانی کی اور ظلم کیا ۔
تمام فرمانبردار واں کا اتحاد
[2:62] بے شک جولوگ ایمان لائے خواہ وہ یہودی ہوں یا عیسائی اورصابی:جو بھی (1)خدا پر یقین رکھتاہے اور(2)آخرت کے روز پر یقین رکھتاہے،اور(3)نیک عمل کرتا ہے،وہ اس کا بدلہ اپنے رب سے پا لے گا۔ان لوگوں کو کئی فکر ہوگا نہ ہی غم۔
اسرائیل کے ساتھ عہد
[2:63] ہم نےتم سے وعدہ لیاتھا، جب ہم نےطور پہاڑ کو تمہارے سامنے اٹھا یا: ’’جوکچھ ہم نے تم کو دے رکھا ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے ،اور اس میں جوباتیں ہیں انہیں یاد رکھوگے ،شاید کہ تمہیں نجات مل سکے‘‘۔
[2:64] لیکن بعد میں تم اس عہد سے پھر گئے اوراگر خدا کافضل اوررحمت تمہارے ساتھ نہ ہوتی تو تم کب کے تباہ ہوچکے ہوتے ۔
[2:65] تمہیں ان لوگوں کا علم ہے جو تم میں سے تھے اور انہوں نے سبت کی بے حرمتی کی ۔ہم نے ان سے کہا ’’بندروں کی طرح حقیر بن جاؤ‘‘۔
[2:66] ہم نے انہیں ان کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے مثال بنادیا، اور پرہیز گاروں کیلئے نصیحت ۔
بچھیا *
[2:67] موسی ٰ نے اپنی قوم سے کہا ’’خدا تمہیں ایک بچھیا ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’کیاتم ہم سے مذاق کرتے ہو‘‘موسی ٰ نے کہا خدا نے مجھے منع کیا ہے کہ میں جاہلوں جیسا برتاؤ کروں ‘‘۔
[2:68] وہ کہنے لگے , ”ا پنےپروردگار سے پوچھو کہ کونسی والی ؟“۔موسی ٰ نے کہا،” یہ ایسی بچھیا ہے جونہ زیادہ بوڑھی ہواورنہ کمسن، بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔اب تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو‘‘۔
[2:69] وہ کہنے لگے ، ” اپنے رب سے پوچھو کہ ہمیں اس کا رنگ بتاۓ؟‘‘موسی ٰ نے کہا، ”وہ کہہ رہا ہے کہ اس بچھیاکا رنگ زرد اورشوخ ہے اور دیکھنے والوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے۔ “
[2:70] انہوں نے کہا کہ ،”اپنے پروردگار سے پوچھو کہ کونسی والی ہے ۔ہمیں تمام بچھیئں ایک جیسی لگتی ہیں ،خدا نے چاہا تو ہمیں راہنمائی مل جائیگی‘‘۔
[2:71] اس ٰ نے کہا ’’وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک ایسی بچھیا ہے جس کی کبھی بھی کو زمین پر ہل چلا کر اورفصلوں کو پانی دے کر توہین نہیں کی گئی ہے ، کسی بھی دھبے سے پاک ‘‘۔وہ بولے، ” اب تم نے ہمیں سچ بتا دیا ہے۔‘‘ آخرکار انہوں نےبچھیا کو ذبح کر دیا، اس لمبی ہچکچاہٹ کے بعد۔
بچھیا کا مقصد
[2:72] تم نے ایک شخص کوقتل کردیا تھا، پھر تم نے آپس میں تنازہ کیا۔خدانے چاہا کہ وہ چیز ظاہر کردے جو تم چھپانے کی کوشش کر رہے تھے ۔
[2:73] ہم نے کہا’’ (مظلوم کو بچھیا کا) ایک ٹکڑا مارو‘‘۔پھر ہم نے مظلوم کودوبارہ زندگی دے دی اور تمہیں اس کی نشانیاں دکھائیں تا کہ شاید تم سمجھ سکو۔
[2:74] اسکے باوجود، تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔کیونکہ پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے دریا بہتے ہیں،دوسرے پتھر پر شگاف ہوتے ہیں اورآہستہ ندیاں نکالتےہیں۔اوردیگر پتھر خدا کے خوف سے کانپتے ہیں۔خدا اس سے ہرگز بے خبر نہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔
خدا کے کلام کا بگاڑنا
[2:75] کیا تم ان سے یہ توقع کرتے ہو کہ وہ ایمان لائیں گے تمہاری طرح جبکہ ان میں سے بعض خدا کاکلام سنتے تھے، پھر اسے بگاڑ دیتے تھے، پوری طرح سمجھ لینے کے بعد، اور جان بوجھ کر؟۔
خدا کے کلام کو چھپانا
[2:76] اورجب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں’’ہم ایمان لائے‘‘لیکن جب وہ آپس میں اکھٹے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں’’جو علم خدانے تمہیں دیا ہے اس سے(ایمان والوں کو) آگاہ نہیں کرنا، ورنہ ایسا نہ ہو جاۓ کہ تم ا اپنے پروردگار کے بارے میں ان کےدلائل کی حمایت فراہم کرو ۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟‘‘۔
[2:77] کیا انہیں معلوم نہیں کہ خدا ہر وہ بات جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں ، اورہر وہ بات جو ظاہر کرتے ہیں؟۔
[2:78] ان کے درمیان وہ ہیں جو اہل کتاب نہیں ہیں جو آسمانی کتاب کو نہیں جانتے مگر سنی سنائی باتوں کے ذریعے، پھر قیاس کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں۔
[2:79] اس لیے ،ان پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے آسمانی کتابوں کو بگاڑتے ہیں اور لوگوں کوبتاتے ہیں کہ ’’یہ وہی ہے جوخدا نے نازل کیا ہے “ایک معمولی مادی مفاد کی تلاش میں۔ ان پر افسوس ہے ایسے بگاڑ پر ، اور ان پر افسوس ہے ان کے ناجائز مفاد پر۔
جنت اوردوزخ کی ابدیت*
[2:80] بعض نے کہا ہے کہ ’’دوزخ کی آگ ہمیں نہیں چھوئے گی سواۓ محدود دنوں کیلئے‘‘۔کہو’’کیا تم نے خدا سے کوئی ایسا عہد لیا ہوا ہے —خدا اپنے عہد کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا —یا تم خدا کے بارے میں وہ کہہ رہے ہوجسے تم نہیں جانتے ؟‘‘۔
[2:81] درحقیقت، جو لوگ گناہ کماتے ہیں اور اپنے برے کاموں میں گھر جاتے ہیں وہ دوزخ کے رہائشی ہوں میں گے ؛ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔
[2:82] رہے وہ ایمان لاتے ہیں، اور نیک زندگی گزارتے ہیں، وہ جنت کے رہائشی ہوں میں گے ؛ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔
احکامات
[2:83] ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ :’’تم خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرنا ۔تم اپنے والدین کی عزت اور رشتہ داروں ،یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنا ۔تم لوگوں سے اچھے طریقے سے پیش آنا ، تم نماز قائم کرنا اور زکواۃ ادا کرنا ۔ “لیکن تم نے اس کے بعد روگردانی کی، سواۓ چند لوگوں کے ،اور تم متنفر ہو گۓ۔
[2:84] ہم نے تم سے یہ وعدہ لیا تھا کہ، تم خون نہیں بہانا اور نہ ہی ایک دوسرے کو ان کےگھروں سے نکالنا ۔تم نے اس سے اتفاق کیا اور شہادت دی ۔
[2:85] اس کے باوجود ،یہاں تم ہو کہ ایک لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہو اور تم میں سے کچھ کو گھروں سے نکال رہے ہو۔ان کے خلاف جتھہ بندی کرتے ہیں، گناہگاری اور بدنیتی سے ۔یہاں تک کہ جب انہوں نے ہتھیار بھی ڈال دیے، تو تم نے ان سے تاوان طلب کیا۔اولً تو تمہیں منع کیا گیا تھا کہ ان کو گھر سے نہ نکالنا ۔کیا تم کتاب کے کچھ حصہ کو مانتے ہو اور کچھ کو نہیں مانتے ؟تم میں سے جو ایسا کرتے ہیں ان کیلئے کیا سزا ہونی چاہیے ، سواۓاس دنیا میں بھی ذلت اور آخرت کے روز اس سے بھی کہیں برا عذآب۔تم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا اس سے کبھی بھی بے خبر نہیں۔
[2:86] یہی ہیں وہ جنہوں نے اس نیچ زندگی کو آخرت کے بدلے میں خرید لیا۔چنانچہ، ان کی سزا میں تبدیلی کی جاتی ہے ،اور نہ ہی ان کی مدد کی جا سکتی ہے ۔
اسرائیل کے پیغمبر
[2:87] ہم نے موسی ٰ کو آسمانی کتاب دی اور اس کے بعد دوسرے انبیا بھیجے ۔اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسی ٰکو کھلے معجزے عطا کئے اورپاک روح سے اس کی مدد کی ۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی چیز لے کر آیا جو تمہیں پسند نہیں تھی تو تمہاری انا نے تمہیں سرکش بنا دیا ؟ان میں سے بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کوقتل کردیا ۔
افسوس ناک بیان:’’میں نے فیصلہ کرلیا ہے ‘‘
[2:88] بعض کہتے ہیں’’ہم نے فیصلہ کر لیا ہے‘‘۔یہ خدا کی طرف سے ان پر لعنت ہے جس کی وجہ ان کا انکارہے جو انہیں ایمان لانے سے روکتا ہے ،سوائے ان میں سے چند ایک کے۔
قران تما م آسمانی کتابوں کو مکمل کرتا ہے
[2:89] جب خدا کی طرف سے یہ کتاب ان کے پاس آئی اور اگرچہ یہ اس سے اتفاق کرتی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے اس ہے ، اور اگرچہ وہ اس کی آمد کی پیش گوئی کرتےتھے کافروں سے بات چیت کے دوران، جب ان کی اپنی ہی پیشگوئی پوری ہوگئی تو انہوں نے اس پر یقین نہیں کیا ۔اس طرح منکرین پر خدا کی لعنت مسلط ہوتی ہے ۔
[2:90] وہ بہت برا تھا جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی روحوں کو بیچ ڈالا—خدا کی ان آیات کو صرف اس لئے ماننے سے انکار کردیا کہ خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی مہربانی عطا کرتا ہے ۔ چنانچہ ، انہوں نے عذاب پر عذاب مول لیا۔ کافر ذلت آمیز سزا کے مستحق ہو گۓ ہیں۔
[2:91] جب انہیں کہا جاتا ہے کہ، ’’ خدا کی ان آیات پر ایمان لاؤ‘، ‘تو وہ کہتے ہیں،” ہم تو صرف اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر ہی بھیجا گیا تھا “۔اس طرح ، وہ بعد میں آنے والی آیات کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں، اگرچہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا سچ ہے، اور اگرچہ وہ اس کی تصدیق بھی کرتا ہے جو ان ک پاس ہے ۔کہہ دو، ’’ تم نے پیغمبروں کوقتل کیوں کیا تھا، اگر تم ایمان والے تھے تو ؟‘‘۔
اسرائیل کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا
[2:92] موسی ٰ تمہارے پاس روشن معجزے لے کر آیا ، اس کے باوجود، تم نے اس کی عدم موجودگی میں بچھڑے کی پوجا کی، اور ظالم بن بیٹھے ۔
[2:93] ہم نے تم سے عہد لیا تھا ، کوہ طو ر کو تمہارے اوپر کھڑا کرکے، ہی کہتے ہوۓ،” تم ان احکامات پر سختی سے عمل کرنا ، جو ہم نے تمہیں دیے ہیں، اور سنو۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سنتے ہیں، لیکن عمل نہیں کریں گے‘‘۔ ان کے دلوں میں بچھڑے کی پوجا کاشوق بھر گیا ، ان کے کفر کی وجہ سے۔کہہ دو،” درحقیقت ، وہ بہت ہی برا ہے، وہ جسے کرنے پرتمہارے ایمان تمہیں حکم جاری کرتےہیں ، اگر تمہارا کوئی ایمان ہے۔
[2:94] کہہ دو،” اگر اورسب لوگوں کو چھو ڑ کر آخرت کی رہائش گاہ صرف تمہارے لیے ہی مخصوص ہے، تو اپنے لئے موت کی خواہش کرو، اگر تم سچے ہو ‘‘۔
[2:95] وہ کبھی اس کی خواہش نہیں کریں گے اس کے باعث جوانہوں نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجے ہیں۔خدا ان ظالموں سےپوری طرح واقف ہے ۔
[2:96] درحقیقت، تم انہیں سب سے زیادہ ذندگی کا لالچی پاؤ گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بہت زیادہ۔ان میں سے ہر کوئی ہزار سال زندہ رہنے کا خواہش مند ہے ۔لیکن یہ انہیں اس عذاب سے بلکل بچانہیں سکے گا، خواہ وہ جتنی ہی لمبی زندگی گزاریں ۔خدا وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
جبرائیل کے ذریعے وحی نازل کی جاتی ہے
[2:97] کہہ دو کہ،” جو کوئی جبر آئیل کی مخالفت کرتا ہے یہ جان لگ کہ اس (قرآن) کو تمہارے دل کے اندر اس نے اُُتارا ہے، خدا کی مرضی کے مطابق، پچھلی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتے ہوۓ، اور مومنوں کے لیۓ ہدایت اور خوشخبری فراہم کرتے ہوۓ۔ “
[2:98] جو کوئی بھی خدا ،اسکے فرشتوں،اسکے پیغمبروں ،جبرائیل اورمیکائیل کی مخالفت کرتا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ خدا بھی کافروں کی مخالفت کرتا ہے ۔
[2:99] ہم نے تمہارے پاس واضع وحی بھیجی ہے اور اس کو صرف ظالم ہی رد کریں گے۔
[2:100] کیا یہ حقیقت نہیں ہےکہ جب بھی وہ کوئی عہد کرتے ہیں اوراس کوپورا کرنے کا وعدا بھی کرتے ہیں تو ان میں سے ہی کچھ ہمیشہ اسے نظر انداز کرتے ہیں؟ در حقیقت ، ان میں سے بیشتر ایمان نہیں رکھتے۔
خدا کی الہامی کتاب کو نذرانداز کرنا
[2:101] اب جبکہ خدا کا ایک پیغمبر ان کے پاس آگیا ہے *اوراگرچہ ان کی کتابوں کو ثابت کرتا ہے اور ان کی تصدیق کرتا ہے، ان کتابوں کے بعض پیروکار (یہودی ،عیسائی اور مسلمان)اپنی پیٹھ پیچھے خدا کی آسمانی کتاب کونظرانداز کر دیتے ہیں جیسے ان کے پاس کوئی کتاب تھی ہی نہیں ۔
ساحری کی مذمت
[2:102] وہ اس چیز کی پیروی کرنے لگے جوشیاطین سلیمان کی سلطنت کے نام پر سکھایا تھا حالانکہ سلیمان کافر نہیں تھا،لیکن شیاطین کافر تھے۔ وہ لوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے اوروہ چیز جو بابل میں ہاروت اورماروت فرشتے کے ذریعے نازل کی گئی تھی ۔ان دونوں فرشتوں نے لوگوں کو کبھی یہ علم نہ سکھایا یہ بتائے بغیر کہ،’یہ’ایک آزمائش ہے ،اس علم کا ناجائز استعمال نہ کرنا ‘‘ ۔لیکن لوگوں نے اس علم کو میاں بیوی میں پھوٹ ڈالنے جیسی شیطانی سکیموں میں استعمال کیا ۔خدا کے حکم کے بغیر وہ کسی کونقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ،تب بھی وہ ایسی چیزیں سیکھتے رہے جو ان فائد ہ نہیں نقصان پہنچا سکتی تھی ۔وہ جو کچھ بھی کررہے تھے اس سے بخوبی آگاہ تھے ۔آخرت میں ساحر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ درحقیقت برا ہے وہ جس کے عوض انہوں نے اپنی روحوں کو بیچ دیا، کاش کہ یہ جانتے ۔
[2:103] اگر وہ ایمان لائیں اور پاک زندگی گزاریں تو خدا کے ہاں اس کا اجر کہیں زیادہ بہتر ہے ،کاش انہیں معلوم ہوتا ۔
دعا کے الفاظ کو بگاڑنا
[2:104] اے ایمان والوں، ” راعنا (ہمارے چرواہے بنو)“ مت کہوبلکہ،” انظرنا(ہماری طرف دیکھو) “ کہا کرو۔اورغورسے سنوکافروں نے دردناک عزائم مول لیا ہے۔
حسد کی مذمت
[2:105] نہ خدائی کتاب کی پیروی کرنے والوں میں شامل کافر اور نہ ہی مشرک یہ چاہتے ہیں کہ تم پر خدا کی طرف سے کوئی نعمت نازل ہو حالانکہ خدا جس کو چاہے اس پر اپنی نعمتیں نچھاور کرتا ہے ،بیشک اس کے فضل کی کوئی انتہا نہیں۔
آخری اور حتمی معجزہ قرآن کا حسابی کوڈ*
[2:106] ہم جس معجزے کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم ازکم ویسا ہی لاتے ہیں ۔کیا تم اس حقیقت سے آگا ہ نہیں ہو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
[2:107] کیاتم اس حقیقت کو نہیں جانتےکہ زمین وآسمان کی بادشاہت خداکے پاس ہے؛ اوراس کے علاوہ کوئی تمہارا پروردگار اور مالک نہیں ہے۔
[2:108] کیا تم اپنے پیغمبر سے اسی چیز کا مطالبہ کروگے جوماضی میں موسی ٰ سے طلب کیا گیا تھا ۔یقیناًجس نے بھی ایمان کی بجائے کفر کا انتخاب کیا وہ راہ راست سے بھٹک چکا ہے۔
[2:109] اب جبکہ تم ایمان لے آئے ہو بہت سے الہامی کتاب کے پیروکارچاہتے ہیں کہ تم دوبارہ کفر کی طرف مڑ جاؤ۔یہ سب کچھ ان کے اندر پائے جانیوالے حسد کی وجہ سے ہے اب جبکہ سچ ان پر واضع ہوچکا ہے۔ان لوگوں کو معاف کردو اور انہیں اکیلا چھوڑ دو حتی ٰ کہ خدا کافیصلہ آ جائے ۔ خدا قادر مطلق ہے۔
[2:110] تم نماز پڑھو اور واجب خیرات (زکواۃ )ادا کرو۔جوبھی نیکی کرکے تم آگے بھیجو گے اسے اپنے خدا کے ہاں موجو د پاؤ گے۔خدا وہ سب کچھ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
تما م اہل ایمان بخشے جاتے ہیں خواہ ان کے مذہب کا نام جوبھی ہو
[2:111] کچھ نے یہ کہا،” یہودیوں او عیسائیوں کے علاوہ کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ “یہ ان کی دل پسند سوچ ہے ۔انہیں کہو ،’’اگر تم سچے ہوتو ہمیں اپنا ثبوت دکھاؤ‘‘۔
فرمانبرداری :واحد مذہب
[2:112] درحقیقت، وہ جو مکمل طور پر خدا کے فرمانبردار ہو جاتےدیتے ہیں اور نیکی کی زندگی گزارتے ہیں، انہیں ان کے پروردگار کی طرف سے صلہ ملے گا ان کونہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی غم*۔
[2:113] یہودیوں نے کہا ہے کہ، ’’ عیسائی بے بنیاد ہیں‘‘،عیسائیوں نے کہا ہے کہ، ’’یہودی بے بنیاد ہیں ‘‘حالانکہ دونوں الہامی کتاب پڑھتے ہیں ۔اسی طرح ہوتا ہے ان لوگوں کا بیان جن کے پاس کوئی علم نہیں ہے ۔وہ جس بات پر تنازہ کرتے ہیں اس کا فیصلہ خدا قیامت کے دن کردے گا۔
تم بسا اوقات مسجد میں جانا
[2:114] اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو خدا کی مسجدوں کابائیکاٹ کرتا ہے جہاں اس کا ذکر ہوتا ہے اورانہیں ویران کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ انہیں چاہیۓکہ یہ اس میں داخل نہ ہوں سواۓ ڈرتے ڈرتے ۔یہ لوگ اس دنیا میں ذلت اٹھائیں گے اور آخر میں انہیں درد ناک عذاب ہوگا۔
[2:115] خدا ہی کی ملکیت ہیں مشرق اور مغرب؛ تم جہاں بھی جاؤ گے، تم خدا کووہاں موجود پاؤ گے۔خدا ہر جگہ موجود اور قادر مطلق ہے ۔
حد درجے کی بے حرمتی
[2:116] انہوں نے کہا کہ، ’’خدا کا ایک بیٹا ہوا ہے “،خدا کی تعریف ہو؛ کبھی نہیں ! خدا ہی کی ملکیت ہے زمین وآسمان میں جوکچھ بھی ہے ؛ سب اس کے مطیع ہیں۔
[2:117] آسمان اور زمین کا آغاز کرنے والا ۔جب وہ کوئی چیز تخلیق کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہوجا ‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے ۔
[2:118] وہ جن کے پاس کوئی علم نہیں کہتے ہیں کہ، ’’کاش خدا ہم سے کوئی بات کر سکتا یا ہمارے پاس معجزہ آ سکتا ‘‘۔ایسی ہی باتیں ان سے پہلے والے بھی کرتے تھے ۔ان کے ذہن ایک جیسے ہیں۔ ہم دکھاتے ہیں معجزے ان لوگوں کو جنہیں یقین حاصل ہو چکا ہے۔
[2:119] ہم نے تمہیں*سچ کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ تم ان کی طرف سے جوابدہ نہیں ہو جنہوں نے جہنم کو مول لیا ہے۔
[2:120] نہ یہودی اور نہ ہی عیسائی تمہیں اس وقت تک قبول کرینگے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہ کروگے۔کہہ دو کہ، ” خدا کی ہدایت ہی سچی ہدایت ہے ‘‘۔اگر تم نے اس علم کے باوجود ،جوتمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہیں خدا کے مقابلے میں کوئی حامی اور مدد گار نہیں ملے گا۔
[2:121] وہ جنہیں آسمانی کتاب موصول ہوئی ہے اورا س کو اس طرح جانتے ہیں جیساکہ جاننے کاحق ہے وہ اس پر ایمان لائیں گے ۔رہے وہ جو کفر کرنے والے ہیں، وہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
[2:122] اے بنی اسرائیل، یاد کرو میری وہ نعمت جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا، اور تم پرتمام قوموں سے زیادہ رحمت کی تھی ۔
[2:123] اور اس دن سے خبردا ررہو جب کوئی کسی دوسرے کے کام نہ آئے گا اور نہ ہی فدیہ قبول کیا جاۓ گا، نہ ہی کوئی شفاعت فائدہ دیگی اور نہ ہی کوئی کسی کی مدد کی جاۓ گی ۔
ابراہیم
[2:124] یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے پروردگار کی طرف سےآزماۓش میں ڈالا گیا تھا، دیگر احکامات کے ذریعے اور اس نے انہیں پورا کیا تھا۔(خدانے) کہا کہ،”میں تمہیں سب لوگوں کا امام مقرر کر رہا ہوں‘‘۔ابراہیم نے کہا کہ، ’’ اور میری اولاد سے بھی؟ “۔ خدا نے کہا ، ’’میرے عہد میں ظالم شامل نہیں ہیں “۔
[2:125] ہم نے اس مقبرے (کعبہ) کو لوگوں کیلئے مرکزِنگاہ اور محفوظ جاۓامان بنادیا ۔تم ابراہیم کے مقبرے کو عبادت گاہ بنا سکتے ہو۔ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو حکم جاری کیا تھا: ’’ تم میرے گھر کو پاک رکھو ان کے لیۓ جو اس کی سیاہت کریں, اور جو وہاں مقیم ہوں ،اوررکوع وسجود کرنے والوں کے لیۓ‘‘۔
[2:126] ابراہیم نے دعا مانگی کہ،” میر ے پروردگار ،اسے امن کی جگہ بنا اوریہاں کے لوگوں کو پھل فراہم کر۔ ان لوگوں کے لیۓفراہم کر جو خدا اور آخرت پر ایمان لائیں‘‘۔(خدا نے )فرمایا کہ، ’’میں ان لوگوں کوبھی رزق دوں کا جو کفر کریں گے ۔ میں انہیں مزے کرنے دوں گا، عارضی طور پر،اورپھر انہیں دوزخ کے عذاب کا مرتکب کر دوں گا، ایک آفت زدہ تقدیر ۔
ابراہیم نے فرمانبرداری ( اسلام ) کی تمام رسومات کو پہنچایا
[2:127] جب ابراہیم کعبے کی بنیادیں ڈال رہا تھا، اسماعیل کے ساتھ، تو اس نے دعا مانگی کہ، ’’ ہمارے پروردگار، اس کو ہم سے قبول فرما ،تم سننے والے ہو ، ہمہ دان ہو ۔
[2:128] ہمارے پروردگار ،ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دو ،اور ہماری نسل میں سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تمہاری فرمانبردار ہو،ہمیں اپنے مذہب کی رسومات سکھا دو ،اور ہمیں نجات عطا کرو ،تو نجات دینے والے ہو، اور سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہو ۔
[2:129] ’’ ہمارے پروردگار ،اور ان میں سے ایک پیغمبر کو کھڑا کرنا ، جو تمہاری انکشافات یوحنا پڑھ کر سنائے، ان کو آسمانی کتاب اورحکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرئے۔ تم قادرِ مطلق اور سب سے زیادہ حکمت والے ہو‘‘۔
[2:130] کون ہو گا جو ابراہیم کے مذہب کو فراموش کرے گا ، سوائے اس کے جو خود اپنی ہی روح کو بیوقوف بناتا ہو؟ ہم نے اسے اس دنیا میں چن لیا ہے اور وہ آخرت میں نیکو کاروں میں ہوگا۔
[2:131] جس اس کے پروردگار نے اسے کہا، ’’فرمانبردار ہوجاؤ‘‘، تو اس نے کہا کہ،’’میں کائنات کے پروردگار کی فرمانبردار ی کرتاہوں‘‘۔
[2:132] اس کے علاوہ، ابراہیم نے اپنی اولاد کو یہی کرنے کی نصیحت کی اور یعقوب نے بھی : ’’اے میر ی اولاد، خدا نے تمہارے لیے مذہب کی نشاندہی کردی ہے؛مرنا تو صرف فرمانبردار ہی۔‘‘
[2:133] اگر تم نے یعقوب کو بستر مرگ پر دیکھا ہوتا، اس نے اپنے بچوں سے کہا ، ’’میرے انتقال کے بعد تم کس کی عبادت کروگے؟‘‘انہوں نے کہا ’’ہم آپ کے خدا کی عبادت کرینگے اس خدا کی جو آپ اورآپ کے آ باؤں ابراہیم ،اسماعیل اور اسحاق کا خدا، واحدخدا ۔ ہم اسی کے فرمانبردار ہیں‘‘۔
[2:134] اس طرح ہی تھی ماضی کی قوم ۔جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ اس کے ذمہ دار ہیں، اور جو کچھ تم نے کیا تم اس کے ذمہ دار ہو۔ جو کچھ انہوں نے کیا ہے تم اس کے جوابدہ نہیں ہو۔
فرمانبرداری (اسلام):دین ُِابراہیم *
[2:135] انہوں نے کہا کہ ،’’تمہیں یہودی یا عیسائی ہونا پڑے گا اگر تم ہدایت پانا چاہتے ہوتو ‘‘۔کہہ دو کہ،’’ہم تو ابراہیم کے دین کا پیروکار تھا— توحید پرستی— وہ کبھی بھی مشرک نہیں تھا‘‘۔
خدا کے پیغمبروں میں کوئی تفریق نہیں
[2:136] کہو ’’ ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر جو ہماری طرف بھیجی گئی تھی اور اس پر جو ابراہیم،اسماعیل ،اسحاق، یعقوب اور آبائی بزرگوں کی طرف بھیجی گئی تھی اورجوموسی ،عیسیٰ، اور تمام انبیاء کی طرف ان کے پروردگار کی طرف سے بھیجی گئی تھی اور ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے ۔ ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں‘‘۔
[2:137] اور اگر وہ تمہاری طرح ایمان لےآئیں، تو وہ ہدایت پر ہیں ۔ لیکن اگر وہ منہ موڑ لیں تو وہ حزب اختلاف میں ہیں ۔خدا ان کی مخالفت سے تمہیں محفوظ رکھے گا؛ وہ سب کچھ سننے والا ہے، ہمہ دان ہے۔
[2:138] ایسا ہی ہے خدا کا نظام اور خدا کے نظام سے بہتر کس کا نظام ہو سکتا ہے ’’ہم صرف اسی ہی کی عبات کرتے ہیں‘‘۔
[2:139] کہو ’’کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے بحث کرتے ہو ،حالانکہ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمار ا بھی۔ہم اپنے اعمال کیلئے جوابدہ ہیں اور تم اپنے اعمال کے جوابدہ ہواورہم اکیلے اسی ہی کے جان نثار ہیں‘‘۔
[2:140] کیا تم یہ کہتے ہوکہ ابراہیم، اسماعیل ،اسحاق ،یعقوب اور آبائی بزرگ یہودی یا عیسائی تھے؟ کہوکہ،”کیا تم خدا سے بہتر جانتے ہو؟ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو جو خدا کی طرف سے دی گئی گواہی کو چھپاتا ہے؟ خدا کبھی بھی غافل نہیں ہے ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو ‘‘۔
[2:141] یہ ماضی کی ایک قوم تھی۔وہ اس کے ذمہ دار ہیں جو انہوں نے کمایا اور تم اسکے جوابدہ ہو جو تم نے کمایا ہے ۔تم ان لوگوں کے کسی عمل کے جوابدہ نہیں ہو‘‘۔
تفاخر اورتعصب کی منسوخی
[2:142] ان لوگوں میں جو نادان ہیں وہ کہتے ہیں’’انہوں نے اپنے قبلہ* کا رخ کیوں تبدیل کیا ہے ؟ “ کہہ دو’’مشرق اور مغرب خدا ہی کی ملکیت ہے اور وہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھاتا ہے ‘‘۔
[2:143] اس طرح ہم نے تمہیں ایک غیر جانبدا ر امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے گواہ رہواور پیغمبر تمہارے درمیان گواہ ررہے۔ہم نے قبلہ کارخ اس لیے تبدیل کیا ہے کہ ان میں فرق کیا جا سکے جو پیغمبر کی فوری پیروی کرتا ہے ان میں سے جو الٹے قدموں پھر جائیں ۔یہ ایک سخت آزمائش تھی مگر ان کیلئے نہیں جن کو خدا نے ہدایت دی ہے ۔خدا کبھی تمہاری عبادت ضائع نہیں کرتا۔خدا لوگوں کے حق میں نہایت شفیق اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
مکہ کی طرف قبلہ بحال کردیا گیا
[2:144] ہم نے تمہارا چہرہ آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھا ہے(درست رخ کی تلاش میں)۔اب ہم تم کووہی قبلہ عطا کرتے ہیں جو تم کو پسند ہے ۔اب اس کے بعد،تم مقدس مسجد کی طرف اپنا رخ پھیر لینا ۔ تم جہاں بھی ہو، تم سب اپنا رخ اس کی طرف کرلینا۔وہ جنہیں پچھلی آسمانی کتاب موصول ہوئی تھی جانتے ہیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سےسچ ہے۔یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں خدا اس سے ہر گز بے خبر نہیں ۔
[2:145] اگر تم ان اہل کتاب کو ہرقسم کا معجز ہ بھی دکھا دو تب بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہیں کرینگے ۔نہ ہی تم ان کے قبلے کی پیروی کرنا۔وہ تو ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی بھی نہیں کرتے ۔اگر تم نے اس علم کے باوجود جوتمہارے پاس آچکا ہے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔
کتاب کاناجائز استعمال; انتخابی دباؤ اور پوشیدگی
[2:146] جن لوگوں کو کتاب موصول ہوئی ہے وہ اس میں موجود سچ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طر ح اپنے بچوں کو ۔اس کے باوجود، ان میں سے بعض سچ کو چھپاتے ہیں، جان بوجھ کر۔
[2:147] یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے سچ ہے ۔ اس میں کوئی بھی شک نہ کرو۔
[2:148] تم میں سے ہر کوئی پیروی کیلئے رخ کا انتخاب کرتا ہے :تم نیکوکاری کی طرف دوڑو۔تم جہاں بھی ہوگے، خدا تمہیں طلب کرے گا۔خدا قادر مطلق ہے۔
مکے کی طرف قبلہ بحال
[2:149] تم جہاں بھی جاؤ (نماز کے دوران ) مقدس مسجد *کی طرف رخ مو ڑ لینا۔یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے سچ ہے ۔تم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا اس سے ہر گز بے خبر نہیں ہے ۔
[2:150] تم جہاں بھی جانا،اپنا رخ (نماز کے دوران ) مقدس مسجد کی طرف پھیرلینا۔تم جہاں بھی ہو ، اپنا رخ اس کی طرف ہی پھیرا کرو (نماز کے دوران )۔ اس طرح، لوگوں کوتمہارے خلاف کوئی حجت نہیں ملے گی سوائے ان کے جو ظالم ہونگے ۔ان سے مت ڈرنا، اور مجھ سے ڈرو اس کے بجاۓ ۔ میں پھر تم پر اپنی نعمت پوری کردوں گا،تاکہ شائد تم ہدایت حاصل کرو۔
[2:151] (نعمتیں) جیسے کہ تمہارے درمیان تم میں سے ایک پیغمبر کو بھیجنا جو تمہیں ہمارے انکشافات سنانے کے لیۓ ،تمہاری پاک کرنے کے لیۓ اور تمہیں آسمانی کتاب اور حکمت سکھانے کے لیۓ ،اور تمہیں وہ سکھانے کے لیۓ جو تم کبھی نہیں جانتے تھے ۔
[2:152] تم مجھے یاد رکھو تاکہ میں تمہیں یاد رکھوں اور میری شکر گزاری کرو؛ ناشکرے مت بن جاؤ۔
[2:153] اے ایمان والو، رابطہ نماز(صلات) اور صبر کے ذریعے مدد حاصل کرو۔خدا ان کے ساتھ ہے جو ثابت قدمی کے ساتھ صبر کرتے ہیں ۔
ہم یہاں سے کہاں جاتے ہیں؟
[2:154] جولوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت کہووہ اپنے خدا کے پاس زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے*۔
[2:155] ہم ضرور تمہیں خوف،بھوک، اور جان اور مال اور فصلوں کے نقصان کے ذریعے آزمائیں گے ۔ان لوگوں کو خوشخبری سناؤ جو ثابت قدم ہیں*۔
[2:156] جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے، تو کہتے ہیں،’’ ہم خدا ہی کی ملکیت ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔‘‘
[2:157] یہ اپنے پروردگار کی نعمتوں کے مستحق ہوگۓہیں اور رحمت کے ۔ یہی ہدایت یافتہ ہیں ۔
حج کی زیارت
[2:158] صفا اور مرو ہ کی پہاڑیاں خدا کی نشانیوں میں سے ہیں. جو کوئی بھی حج یا عمرہ کرتا ہے تو ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرکے وہ کوئی گناہ نہیں کرتا ۔اگر کوئی اپنی مرضی سے مزید نیک کام کریگا، تو پھر خدا شکرگزار اور عالم کل ہے ۔
گناہ عظیم
[2:159] وہ جو کہ ہماری آیات اورہدایت کو چھپاتے ہیں اسے کے بعد کہ انہیں لوگوں کے لیئے آسمانی کتاب میں بیان کیا جا چکا ہے ،خدا ان پر لعنت بھیجتا ہے ؛ سارے لعنت بھیجنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں ۔
[2:160] رہے وہ جو توبہ کریں ،اصلاح کرلیں اورپھر ان کا بیان کردیں تو میں انہیں نجات دے دیتا ہوں ۔میں نجات دے دینے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔
[2:161] اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور اسی حالت میں مرگئے تو ان پر خدا ،فرشتوں اورتمام لوگوں کی (قیامت کے دن)لعنت ہے ۔
[2:162] اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کبھی کمی نہیں ہوتی اور نہ انہیں مہلت دی جاتی ہے ۔
[2:163] تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے؛ اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ، نہایت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ۔
خدا کی بے پناہ نشانیاں
[2:164] آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں،رات اور دن کے بدلنے میں اوران کشتیوں میں جو سمندروں میں لوگوں کے فائدہ کے لئے چلتی ہیں ،اور اس پانی میں جو خدا آسمان سے برساتا ہے مردہ زمین کو زندہ کرنے کیلئے اور پھر زمین میں ہر قسم کی مخلوق پھیلاتا ہے،ہواؤں کی گردش اور آسمان اور زمین کے درمیان رکھے گئے بادلوں میں ان لوگوں کیلئے کافی نشانیاں موجود ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں ۔
شرکاء مشرکوں سے لاتعلقی کرلیتے ہیں*
[2:165] اس کے باوجو د، کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا کے مقابلے میں شریک مقرر کرتے ہیں اور ان سے اس طرح محبت کرتے ہیں جیسے وہ خدا ہیں۔جو ایمان رکھتے ہیں وہ خدا سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔کاش یہ ظالم اپنے آپ کو دیکھ سکتے جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے ۔انہیں تم معلوم ہوجائے گا کہ تما م طاقت صرف اکیلے خدا ہی کے پاس ہے اور یہ کہ خدا کا عذاب زبردست ہے ۔
[2:166] وہ جن کی یہ پیروی کی جاتی تھی، وہ ان سے جو ان کی پیروی کرتے تھے * قطع تعلق ہوجائیں گے۔وہ سزا کو دیکھ لیں گے اور ان کے درمیان تمام رابطے منقطع کردئیے جائیں گے۔
[2:167] وہ جنہوں نے پیروی کی وہ کہیں گے، ’’اگر ہمیں دوسرا موقع ملے ، تو ہم بھی ان سے لاتعلق ہوجائیں گے ،جس طرح انہوں نے ہم سے لاتعلقی کی ہے اب ‘‘۔اس طرح خدا انہیں ان کے اعمال نتائج دکھاتا ہے سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ؛ وہ دوزخ سے کبھی خارج نہیں ہوں گے۔
شیطان حلال اشیاء کو حرام کرتا ہے
[2:168] اے لوگوں زمین کی پیداوار میں سے کھاؤ اس کو جو حلال اور اچھا ہے، اورشیطان کے نقش قدم پر مت چلو:وہ تمہار سب سے بڑا دشمن ہے۔
[2:169] وہ تمہیں صرف برائی اور اور بد عملی کاارتکاب کرنے کا حکم دیتا ہے، اور خدا کے بارے میں وہ کہنے کا جسے تم نہیں جانتے ۔
حالت موجودہ کو برقرار رکھنا :ایک انسانی المیہ
[2:170] جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ،”اس کی پیروی کرو جسے خدا نے اس میں نازل کیا ہے “، تو کہتے ہیں کہ،’’ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے والدین کو عمل کرتے پایا ہے ‘‘۔کیا اگر ان کے والدین کو سمجھ نہیں تھی یا وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے ؟
[2:171] ایسے کافروں کی مثال ان طوطوں جیسی ہے جو سنی سنائی آوازوں اور پکار کو دہراتے رہتے ہیں سوچے سمجھے بغیر ۔ بہرے ،گونگے اور اندھے ہیں:وہ سمجھ نہیں سکتے ۔
صرف چار قسم کے گوشت حرام *
[2:172] اے ایمان والا، ان اچھی چیزیں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہارے لیۓ فراہم کی ہیں ، اور خدا کے شکر گزار بنو، اگر تم واقعہ ہی صرف اس کی عبادت ہی کرتے ہو۔
[2:173] وہ صرف تمہارے لیۓ ان جانور وں کوجو خود مرجائیں ( انسان کے دخل کے بغیر)،خون ،سور کا گوشت اور ایسے جانور جنہیں خدا کے علاوہ کسی اور کی نظر کیا گیا ہو، انہیں کھانے سے منع کرتا ہے ۔اگر کوئی مجبورہو(انہیں کھانے پر )بَدخَواہی سے یا جان بوجھ کر نہیں تو اس پر کچھ گنا ہ نہیں ،خدا معاف کرنے والا ، سب سے زیادہ مہربان ہے ۔
بدعنوان مذہبی رہنما قرآن کا معجزہ چھپاتے ہیں*
[2:174] وہ جو خدا کے انکشافات کو جو آسمانی کتاب میں موجود ہے، چھپاتے ہیں معمولی مادی فائدے کے بدلے میں ، وہ اپنے پیٹ میں محض آگ بھرتے ہیں ۔قیامت کے دن خدا ان سے نہیں بولے گا، اور نہ ہی وہ انہیں پاک کرے گا۔ انہوں نے درد ناک عذاب مول لیا ہے ۔
[2:175] یہی ہے وہ جو ہدایت کے بجاۓ گمراہی کو مول لیتے ہیں، اورمغفرت کی بجائے عذاب کو۔اس کے نتیجے میں، انہیں دوزخ کا عذاب بھگتنا پڑیگا۔
[2:176] یہ اس لیۓ کہ خدانے اس آسمانی کتاب کو نازل کیا ہے، سچائی کو لیۓ ہوۓ، اور وہ جو آسمانی کتاب میں جھگڑتے ہیں وہ سب سے بڑے مخالف ہیں ۔
نیکی کے معنی
[2:177] اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف موڑنا نیکی نہیں ۔نیک تو وہ ہیں جو خدا ،روزآخرت ،فرشتوں،آسمانی کتاب اور نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں ؛اور یہ خوشی سے پیسہ رشتے داروں،یتیموں،ضرورت مندوں،مسافروں ،بھکاریوں کودیتے ہیں اور غلاموں کو آزاد کرانے پر خرچ کرتے ہیں ؛وہ رابطہ نماز (سلات)قائم کرتے ہیں اور واجب خیرات (زکواۃ )ادا کرتے ہیں اور جب بھی کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں؛ اور آزار رسانی ،مصیبت اور جنگ کے دوران ثابت قدم رہتے ہیں ۔یہی سچے ہیں ؛ یہی نیکو کار ہیں۔
سزائے موت کا استرداد *
[2:178] اے ایمان والو، قتل سے نمٹنے کے لیۓ تمہارے لیۓ قصاص کا قانون جاری کیا گیا ہے ،آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام ،عورت کے بدلے عورت ۔ہاں اگر مقتول کے رشتہ دار قاتل کو معاف کردیں تو معروف طریقے سے اس کا معقول ازالہ کیا جائے ۔یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ۔اور جو بھی اس سے تجاوز کرتا ہے دردناک عذاب مول لیتا ہے ۔
[2:179] قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے، اے عقل والو ،تا کہ شاید تم نیکو کار بنو ۔
وصیت لکھو
[2:180] یہ حکم جاری کیا گیا ہے کہ جب موت قریب آنے لگے، تو تم وصیت لکھنا والدین اور رشتہ داروں کے بھلے کے لیۓ،منصفانہ طور پر۔یہ نیکوکاروں کی ذمہ داری ہے۔
[2:181] اوراگر کوئی وصیت کو سننے کے بعد اس کو بدل ڈالے، تو اس کوبدلنے کاگناہ ان پر ہوگا جو اس کو بدلنے کے مرتکب ہونگے۔خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
[2:182] اگر کوئی دیکھے کہ وصیت کرنے والے نے جان بوجھ کرحق تلفی کی ہے اور وصیت میں انصاف کی بحالی کیلئے اصلاحی اقدام اٹھائے تو اس پر کوئی گنا ہ نہیں ہوگا۔خدا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
روزے کی تاکید اور ترمیم
[2:183] اے ایمان والو،روزے تم پر فرض کئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ شاید تم نجات حاصل کرلو ۔
[2:184] مخصوص دن (روزوں کیلئے مقرر ہیں) ؛اگر کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو ،دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد متبادل کرسکتا ہے ۔جولوگ روزہ رکھ سکتے ہوں ،مگر سخت مشکل کے ساتھ، تو وہ ہر روزے کے توڑنے کے بدلے ایک غریب کوکھانا کھلائیں ۔اوراگر کوئی اپنی مرضی سے( زیادہ نیک کام کرئے)، تو یہ بہتر ہے ۔لیکن روزہ رکھنا تمہارے لیۓ بہترین ہے، اگر کہ تم جانتے۔
[2:185] رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا تھا، لوگوں کیلئے ہدایت ، واضع تعلیمات اور ایک قانونی کتاب فراہم کرتے ۔تم میں سے جو کوئی بھی اس مہینے کو پاۓ، وہ اس میں روز ے رکھے ۔وہ جو بیمار ہوں یا سفر میں ہوں تو وہ اتنے روزوں کی تعداد دوسرے دنوں میں متبادل کرسکتے ہیں ۔خدا تمہارے لیۓ آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں ،تاکہ تم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکو،اور خدا کی تعریف کرو تمہیں ہدایت دینے کے لیۓ، اور اپنی شکرگذاری کا اظہار کرنے کے لیۓ۔
خدا’’ اپنے بندوں‘‘ کی دعائیں سنتا ہے
[2:186] جب میر ے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں، میں ہمیشہ قریب ہوں۔ جب وہ دعائیں کرتے ہیں تو میں انہیں سنتا ہوں۔اگر لوگ ہدایت چاہتے ہیں تو وہ میری (دعوت) کا جواب دیں اور مجھ پر ایمان لائیں ۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ میری سنیں اور مجھ پر ایمان لائیں ہدایت حاصل کرنے کے لیۓ۔
[2:187] رمضان کی راتوں میں تمہیں اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کرنے کی اجازت ہے ۔وہ تمہاری راز داں ہیں اور تم ان کے راز داں ہو۔خدا کومعلوم تھا کہ تم اپنی روحوں کے ساتھ دھوکہ دھی کرتے تھے اور اس نے تمہیں بخشا اور تم سے درگز ر کیا ۔اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کر سکتے ہو ، اس کے حصول میں جس کی خدا نے تمہیں اجازت دی ہے۔تم کھا اور پی سکتے ہو تب تک کہ صبح کی دھاری اندھیرے کی دھاری سے الگ نظر آنے لگے ۔اسکے بعد، تم سورج غروب ہونے تک روزہ رکھنا۔اگر تم مسجد میں اعتکاف کرنے کافیصلہ کرو تو تمہارے لیۓ مباشرت ممنوع ہے (رمضان کے آخری دس دنوں کیلئے ) ۔یہ خدا کے قوانین ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرنا۔اس طرح خدالوگوں کیلئے اپنے انکشافات کو واضع کرتا ہے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکیں ۔
رشوت ،بدعنوانی کی مذمت
[2:188] تم ایک دوسرے کا پیسا ناجائز طور سے نہ کھاؤ ، اور نہ ہی حکام کو دوسرں کو ان کے کچھ حقوق سے محروم کرنے کیلئے رشوت دینا، اب جب کہ تم جانتے ہو ۔
گھما پھرا کر بات مت کرنا
[2:189] وہ تم سے چاند کی منزلوں کے متعلق پوچھتے ہیں !کہو’’یہ انسانوں کو وقت کا پتہ دینے کا ایک آلا ہے اور حج کا وقت متعین کرنے کے لیۓ ‘‘۔گھما پھرا کر بات کرنا نیکی نہیں ہے *نیکی تو احکامات پر عمل کرنے اور صاف گوئی کرنے سے حاصل ہو تی ہے ۔تم خدا سے ڈرو ،تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
جنگ کے اصول *
[2:190] تم خدا کی راہ میں ان لوگوں سے لڑ سکتے ہو جو تم پر حملہ کرتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرنا۔خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
[2:191] جو تمہار ے خلاف جنگ کریں تم ان کو قتل کر سکتے ہو، اور تم انہیں بے گھر کر سکتے ہو جہاں سے انہوں نے تمہیں بے گھر کیا تھا۔جبر قتل کرنے سے بھی زیادہ برا ہے ۔مقدس مسجد میں ان سے مت لڑو ،جب تک وہ وہاں تم پر حملہ نہ کردیں ۔اگر و ہ حملہ کریں، تو تم انہیں قتل کر سکتے ہو ۔یہ ان کافروں کے لیۓ منصفانہ عذاب ہے ۔
[2:192] اگر وہ باز آجائیں تو خدا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والاہے ۔
[2:193] تم جبر کو ختم کرنے کے لیۓ اور آزادی سےخدا کی عبادت کرنے کیلئے ان سے لڑ سکتے ہو۔اگر وہ بازرہیں تو تم جارحیت نہ کرنا؛ جارحیت کی اجازت صرف ان کے خلاف ہیں جو جارح ہوں۔
[2:194] مقدس مہینوں کے دوران، جارحیت کا برابری سے جواب دیا جاسکتا ہے ۔اگر وہ تم پر حملہ کریں، تو تم بھی بدلے میں ان کو اتنی ہی سزا دے سکتے ہو۔خدا کے فرماں بردار بنو او رجان لو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔
[2:195] تمہیں خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہیۓ ؛ تم اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے تباہی میں مت ڈالو۔ تمہیں خیرات کرنے والا بننا چاہیۓ؛ خدا خیرات کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔
حج اور عمرہ کی زیارت*
[2:196] خدا کیلئے حج اور عمر ہ کے تمام ارکان پورے کرو۔اگر تمہیں روکا جاۓ تو تم قربانی بھیجو، اور اپنے بال اس وقت تک کاٹنا شروع نہ کرو جب تک قربانی اپنی منزل پر نہ پہنچ جائے ۔اگر تم بیمار ہو، یا تمہارے سر میں کوئی زخم ہو (اور تمہیں لازمی بال کاٹنے پڑیں)تو تم روزے رکھ کریاصدقہ دے کر یاکوئی اور عبادت کر کے کفارہ ادا کرو ۔عام حج کے دوران اگر احرام کی حالت (تقدس)ٹوٹ جائے،عمرہ اور حج کے دوران ، تو تم جانور کی قربانی دے کر کفارہ ادا کرو۔اوراگر تم استطات نہیں رکھتے، تو تم دوران حج تین اور گھر لوٹ کر سات روزے رکھو_اس طرح پورے دس ہوتے ہیں_بشرطیکہ تم مقدس مسجد کے پاس نہیں رہتے ہو۔ خدا کا تقوی اختیار کرو اور جان لو کہ خدا سزا مسلط کرنے میں بہت سخت ہے ۔
حج کے چار مہینے (ذی الحج ،محرم،صفر اور ربیع الاول )
[2:197] حج مخصوص مہینوں* میں ادا کیا جائے ،اور جوکوئی حج کرنےکیلئے نکلے توحج کے پورے عرصے میں جنابت ،بدعملی اوربحث کرنے سے باز رہے ۔تم جو بھی نیکی کرو گے خدا اس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔جب سفرکیلئےاپنا سامان تیارکرنے لگو، تو سب سے اچھی چیز پرہیز گاری ہے ۔اے عقل والو، تم میرا تقوی اختیار کرو۔
[2:198] اگر تم اپنے پروردگار کی طرف سے (تجارت کے ذریعے) رزق تلاش کر تے ہو تو اس میں کوئی غلطی نہیں ۔جب تم عرفات سے روانہ ہو تو تم(مزدلفہ کی) مقدس جگہ پر خداکو یا د کرو۔اس کو اس ہدایت کیلئے یاد کرو جو اس نے تم کو دی ہے؛ تم اس سے پہلے بھٹکے ہوئے تھے ۔
[2:199] تم اکٹھے روانہ ہونا باقی تمام لوگوں کے ساتھ جو روانہ ہوں اور خدا سے معافی طلب کرو۔ خدا معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
[2:200] جب تم اپنے ارکان ادا کر لو تو اپنے خدا کی یاد جاری رکھو جس طرح تم خوداپنے والدین کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ کچھ لوگ کہیں گے، ”اے ہمارے رب، ہمیں دنیا میں عطا کر،“ جبکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
[2:201] بعض یہ کہیں گے کہ، ’’اے خدا ،ہمیں اس دنیا میں بھی راستبازی دو اور آخرت میں بھی راستبازی عطا کرو اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالو‘‘۔
[2:202] ان میں سے ہر کوئی اپنی کمائی کے مطابق حصہ پائے گا . خدا حساب چکانے میں بہت مفید ہے ۔
منا:حج کے آخری ارکان
[2:203] تم کچھ دنوں کے لیۓ( مینامیں) خدا کا ذکر کرنا : کوئی اگر جلدی میں دو دن میں یہ کام کرلیتا ہے تو کوئی گنا ہ نہیں کرتا اور اگر کوئی اس سے زیادہ دیر ٹھہرتا ہے تو بھی کوئی گناہ نہیں کرتا بشرطیکہ پرہیز گاری کو برقرار رکھا جاۓ۔ تم خدا کا تقوی اختیار کرنا ،اور جان رکھو کہ تم سب کو اس کے سامنے جمع کیا جائیگا ۔
صورتیں دھوکہ دے سکتی ہیں
[2:204] لوگوں میں، کوئی ایسا ہوتا ہے جو تمہیں اس دنیا کے بارے میں اپنی گفتگو سے متاثر کرے اور یہاں تک کہ وہ اپنی نیک نیتی کو ثابت کرنے کے لیۓ خدا کو گواہی کے لیۓ پکارے مگر حقیقت میں وہ ایک انتہائی سرگرم مخالف ہے ۔
[2:205] جیسے ہی وہ روانہ ہوتا ہے تو وہ زمین پر فساد پھیلاتا ہے اور مالوں اور زندگیوں کو تباہ کرتا ہے ۔خدا بدعنوانی کو پسند نہیں کرتا ۔
[2:206] جب اسے کہا جاتا ہے کہ,’’ خدا سے ڈرو “، تو وہ تکبر کے ساتھُ ناراض ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ، اس کا ٹھکانہ صرف جہنم ہی ہے اور و ہ کیا ہی آفت ذدہ ٹھکانا ہے ۔
[2:207] پھر وہ لوگ بھی ہیں جو اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں وقف کردیتے ہیں ۔خدا ایسے عبادت گزاروں کی طرف بہت مہربان ہے ۔
[2:208] اے ایمان لانے والو، تم مکمل طور پر فرمانبرداری کو اپنا لو اورشیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو، کیونکہ وہ تمہارا انتہائی سرگرم دشمن ہے۔
[2:209] اگر تم صاف ثبوت آنے کے باوجود تم پیچھے مڑ گئے، تو یاد رکھو خدا انتہائی طاقتور ، انتہائی حکمت والا ہے ۔
[2:210] کیا یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ خد ا خود ہی گھنے بادلو ں میں سے فرشتوں سمیت نمودا ر ہوجائے؟اگر ایسا ہوا تو تما م معاملہ پھر ختم کر دیا جائیگا اور ہر چیز خدا کی طرف واپس *لوٹ جائیگی ۔
معجزات بھاری ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں *
[2:211] تم اسرائیل کی اولاد سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کیسے واضع معجزے انہیں دکھائے ہیں !وہ جو خدا کی دی گئی نعمتوں کو نظرانداز کرتے ہیں جو انہیں عنایت کی گئی ہیں ، خدا انہیں عزاب دینے میں انتہائی سخت ہے ۔
تنگ نظری
[2:212] کافروں کی نظروں میں یہ دنیاوی زندگی پوری طرح سجی ہے اور یہ ان کامذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔لیکن، قیامت کے دن یہ ان سے کہیں زیادہ بلند ہونگے۔خدا جس کو چاہے نعمت دیتا ہے، بے حساب ۔
تباہ کن حسد
[2:213] لوگ ایک معاشرے کی طرح تھے جب خدا نے نبی بھیجے خوشخبریاں لانےوالوں کے طور پر اور ساتھ ساتھ ڈر سنانے والوں کے طور پر ۔ اس نے ان کے ساتھ آسمانی کتاب اتاری ، جس میں سچائی موجود تھی ، لوگوں کے درمیان جھگڑوں کافیصلہ کرنے کیلئے۔ حیرت انگیز طور پر ، وہی جن کوپہلےآسمانی کتاب دی گئی تھی ، انہی نے واضح ثبوت ملنے کے باوجود نئی آسمانی کتاب کو جھٹلایا ۔ یہ ان کے درمیان باہمی حسد کی وجہ سے تھا ۔خدا ان کو ہدایت دیتا ہے جو سچائی پرایمان لاتے ہیں ، جس میں دوسرے تمام لوگ اختلاف کرتے ہیں ،خدا کی مرضی کے مطابق ۔ خدا اس کی راہنمائی کرتا ہے، جو چا ہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ۔
[2:214] کیا تم امید رکھتے ہو کہ بغیر کسی آزمائش کے جنت میں داخل ہو جاؤ گے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی گی تھی ۔ ان کو سختیوں اور مصیبتوں سے آزمایا گیا اور ہلا کر رکھ دیا گیا تھا حتی کہ پیغمبر اور اہل ایمان نے کہا کہ کہاں ہے خدا کی فتح ؟ خدا کی فتح قریب ہے۔
خیرات کے مستحقین
[2:215] وہ تم سے پوچھتے ہیں دینے کے بارے میں ؟ کہو کہ ،” خیرات والدین ، رشتہ داروں ، یتیموں ، غریبوں ، اور مسافروں کو دینی چاہیے “ ۔ تم جو بھی نیکی کرتے ہو خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
مومنین :حتمی فاتح
[2:216] تم پر لڑائی مسلط کی جا سکتی ہے خواہ تم اسے ناپسند کرو ، لیکن ہو سکتا ہے تمھیں ایک ایسی چیز ناپسند ہو جو تمھارے لیے اچھی ہو اور ہو سکتا ہے تم کو ایک چیز پسند ہو جو تمھارے لیے اچھی نہ ہو ۔ خدا جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔
ظلم کی مذمت
[2:217] وہ تم سے مقدس مہینوں اور ان میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں: کہہ دو کہ اس میں لڑنا بے ادبی ہے، تاہم خدا کے راستے سے روکنا اور خدا کو نہ ماننا اور مقدس مسجد کی بے حرمتی اور اس کے لوگوں کو بے دخل کرنا۔ خدا کی نظر میں سب سے بڑی بے ادبی ہے۔ ظلم قتل سے بھی بدتر ہے۔"اگر ہو سکے تو وہ تمہیں تمہارے دین سے ہٹانے کے لیے ہمیشہ تم سے لڑیں گے۔ تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پھر گئے اور کفر کی حالت میں مر گئے ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے۔ یہ جہنم کے باشندے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے"۔
[2:218] وہ لوگ جو ایمان لائے، اور جنہوں نے ہجرت کی اور خدا کی راہ میں جدوجہد کی ،وہ خدا کی رحمت کے مستحق ہیں۔ خدا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
نشہ آور اشیاء اور جواء کی ممانعت *
[2:219] وہ تم سے نشہ اوراشیاء اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں،" کہہ دو کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے، بھی ،لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ تم سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ خیرات میں کیا دیا جائے: کہو، ” جو زائد ہے “۔ خدا اس طرح اپنی آیات کو واضع کرتاہے، تاکہ تم غور و فکر کرسکو۔
[2:220] دنیا اور آخرت پر۔ اور وہ تم سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دو کہ جو سب سے بہتر تم ان کے لیے کر سکتے ہو وہ ہے نیک انسان کے طور پر ان کی پرورش کرنا۔اگر تم ان کی جائیداد کو اپنے ساتھ ملا دو تو ان کے ساتھ خاندان کے فرد کی طرح سلوک کرو۔ خدا نیک اور بدکار کو جانتا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو وہ تم پر سخت قوانین بھی مسلط کر سکتا تھا۔ خدا قادر مطلق، حکمت والا ہے۔
مشرکوں سے شادی مت کرنا
[2:221] مشرکوں سے شادی مت کرنا جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ مومن عورت مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ تم اسے پسند کرو۔ اور نہ تم اپنی بیٹیوں کا نکاح مشرک مردوں سے کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ۔ ایک ایمان والا مرد مشرک مرد سے بہتر ہے خواہ تم اسے پسند کرو۔ یہ جہنم کی طرف دعوت دیتے ہیں، جبکہ خدا جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے، جیسے وہ چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کے لیے اپنی آیات کو واضح کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
حیض
[2:222] وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں: کہہ دو کہ یہ نقصان دہ ہے، حیض کے دوران عورتوں سے مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے، جب تک وہ اس سے چھٹکارا حاصل نہ کر لیں ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ اس حالت سے باہر نہ آ جائیںں اور جب وہ حیض کی حالت سے نکل آہیں پھر خدا کے بنائے ہوئے طریقے سے ان کے ساتھ ہمبستری کرسکتے ہو خدا توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اور وہ پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے ‘‘۔
[2:223] تمہاری عورتیں تمھارے بیج کی علمبردار ہیں اس طرح تم اس شرف سے لطف اندوز ہو سکتے ہو جیسا کہ تم چاہو جب تک کہ تم نیکی کو برقرار رکھتے ہو۔تمھیں خدا کا مشاہدہ کرنا چاہیے اور جان لو کہ تم ان سے ملو گے مومنوں کو خوشخبری سنا دو۔
اللہ کا نام فضول میں استعمال نہ کرو
[2:224] اپنے آپ کو نیک ، پرہیزگار اور لوگوں میں اعتبار جمانے کے لیے خدا کے نام کی قسمیں مت اٹھاؤ - خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
[2:225] خدا تم کو محض قسمیں کھانے کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا ہے۔ وہ تمہیں تمہارے اندرونی ارادوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ خدا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
طلاق کے قوانین
[2:226] جو لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہتے ہیں وہ چار مہینے انتظار کریں (سوچنے سمجھنے کے لیے) اگر وہ اپنا ارادہ بدل لیں اور صلح کر لیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
[2:227] اگر وہ طلاق لے لیں تو خدا سننے والا، جاننے والا ہے۔
[2:228] طلاق یافتہ عورتیں تین حیض کا انتظار کریں (دوسرے مرد سے شادی کرنے سے پہلے)۔ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ چھپائیں جو خدا ان کے کوکھ میں پیدا کرتا ہے، اگر وہ خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ (حمل کی صورت میں) شوہر کی خواہش بیوی کی خواہشات پر غالب ہو گی، اگر وہ ان سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے۔ عورتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض بھی برابر ہیں۔ تاہم مرد کی خواہشات (حمل کی صورت میں) غالب رہتی ہے - خدا قادر مطلق، حکمت والا ہے۔
[2:229] طلاق دو بار واپس لی جا سکتی ہے۔ طلاق یافتہ عورت کو اجازت دینی چاہیے کہ وہ اسی گھر میں خوش اسلوبی سے رہے یا خوش اسلوبی سے چھوڑ کر چلی جاے۔شوہر کے لیے جائز نہیں کہ اس نے جو کچھ اسے دیا ہوا ہے اسے واپس لے۔ تاہم، جوڑے کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے قانون کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔ اگر خدشہ ہے کہ وہ خدا کے قانون کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں، تو وہ کوئی غلطی نہیں کریں گے اگر بیوی اپنی مرضی سے جو کچھ چاہے اسے واپس کر دے۔ یہ خدا کے قوانین ہیں؛ ان سے تجاوز نہ کرو. جو لوگ خدا کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہی ظالم ہیں۔
[2:230] اگر وہ اسے (تیسری بار) طلاق دے دے تو اس کے لیے اس سے دوبارہ شادی کرنا حرام ہے، جب تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرے، پھر وہ اسے طلاق دے دے۔ پہلا شوہر پھر اس سے دوبارہ شادی کر سکتا ہے، جب تک کہ وہ خدا کے قوانین پر عمل کریتے ہیں یہ خدا کے قوانین ہیں؛ وہ ان کی وضاحت کرتا ہے ان لوگوں کے لیےجو جانتے ہیں۔
طلاق شدہ کو گھر سے بے دخل مت کرو
[2:231] اگر تم عورتوں کو طلاق دیتے ہو ایک بار جب وہ اپنا وقفہ (تین حیض ) کی عدت پوری کر لیں تو تم انہیں ایک ہی گھر میں خوش اسلوبی سے رہنے دو یا انہیں خوش اسلوبی سے چھوڑ دیو ۔ انہیں انتقام کے طور پر ان کی مرضی کے خلاف رہنے پر مجبور نہ کرو جو کوئی ایسا کرتا ہے وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔ خدا کی آیات کو کھیل نہ بناؤ ۔ خدا نے جو نہمتیں تم پر کیں ہیں ان کو یاد رکھو ۔اس نے تم کو کتاب اور حکمت دی ہے تاکہ تم روشنی پاو ۔ خدا سے ڈرواور جان لو کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔
[2:232] اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو، ایک بار جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں، تو انہیں اپنے شوہروں سے دوبارہ شادی کرنے سے نہ روکو، اگر وہ آپس میں راضی ہوں ۔ اس پر تم میں سے وہ لوگ غور کریں جو خدا اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ پرہیزگار ہے۔ خدا جانتا ہے، جبکہ تم نہیں جانتے۔
[2:233] طلاق شدہ مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں، اگر باپ چاہے۔ باپ ماں کا کھانا اور لباس منسفانہ طور پر مہیا کرے گا۔ کسی پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے ۔ کسی ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان نہیں پہنچایا جائے ۔اور نہ ہی اس کے بچے کی وجہ سے باپ کو نقصان پہنچایا جاۓ ۔(اگر باپ کا انتقال ہو جائے) تو اس کا وارث یہ ذمہ داریاں سنبھالے گا ۔ اگر شیر خوار کے والدین باہمی مشاورت کے بعد علیحدہ ہونے پر متفق ہو جائیں، تو وہ ایسا کرنے سے کوئی غلطی نہیں کریں گے۔ تم کچھ غلط نہیں کرتے اگر تم دودہ پلانے والی دائوں کو مقرر کر لو جب تک کہ تم ان کو انصاف کے ساتھ معاوضہ ادا کرو ۔ تم خدا کی تعظیم کرو جان لو خدا وہ سب کچھ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔
تم شادی سے پہلے کے وقفہ کا احترام کرنا
[2:234] جو لوگ مر جا ٗئیں اور بیویاں چھوڑ جا ئیں ہیں، ان کی بیواؤں کو (دوسری شادی کرنے سے پہلے) چار مہینے اور دس دن انتظار کرنا چاہیے۔ ایک بار جب وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تووہ جو بھی نیک کام کرنا چاہیں تم انہیں اجازت دینے میں کوئی غلطی نہیں کرتے ۔خدا تمہارے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے۔
[2:235] تم عورتوں سے اپنی منگنی کا اعلان کرنے یا اسے خفیہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں کرتے۔ خدا جانتا ہے کہ تم ان کے بارے میں سوچو گے۔ ان سے چھپ کر نہ ملو، جب تک کہ تمہارے پاس کوئی نیک بات کرنے کو نہ ہو۔ شادی کی تکمیل اس وقت تک نہ کرو جب تک ان کی عدت پوری نہ ہو جائے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا تمہارے اندرونی خیالات کو جانتا ہے، اور اس سے ڈرو۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
منگنی توڑنا
[2:236] تم عورتوں کو چھونے سے پہلے ،یا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے کر کوئی غلطی نہیں کرتے۔ ایسی صوررت میں تم ان کا ازالہ کرو —امیر آدمی اپنی استطاعت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی استطاعت کے مطابق — ایک منصفانہ ازالہ ۔ یہ نیکوکاروں پر فرض ہے۔
[2:237] اگر تم انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دو، مگراس کے بعد کہ تم ان کا مہر مقرر کر چکے ہو ،تو پھرازالہ آدھا مہر ہو گا، سوآئے اس کے کہ عورت اپنی مرضی سے اپنے حق سے دستبردار ہو جائے یا پھر جو فریق طلاق کا باعث بنے وہ خود اپنی مرضی سے مہر سے دستبردار ہو جاے ۔ دستبردار ہونا نیکی کے زیادہ قریب ہے۔تم آپس میں اچھے تعلقات برقرار رکھو ۔ خدا تمہارے ہر کام کو دیکھنے والا ہے۔
تم نمازیں قائم کرو*
[2:238] تم نمازوں کو تسلسل سے قائم رکھنا ، خاص طور پر درمیانی نماز، اور اپنے آپ کو مکمل طور پر خدا کے لیے وقف کر دو۔
[2:239] غیر معمولی حالات میں، تم نماز پیدل چلتے ہوئے یا سواری کرتے ہوئے پڑھ سکتے ہو۔ایک بار جب تم محفوظ ہو جاو، تو تم خدا کو یاد کرو کیونکہ اس نے تمہیں وہ سکھایا ہے جو تم کبھی نہیں جانتے تھے۔
بیواؤں اور طلاق یافتہ کے لیے خرچہ
[2:240] وہ جو مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں،ایک وصیت ان کی بیویوں کو ایک سال تک کفالت فراہم کرے گی، بشرطیکہ وہ اسی گھر میں مقیم رہیں۔ اگر وہ چلی جائیں تو تم اس میں تم کوہی گناہ نہیں کرتے کہ ان کو جو چاہے کرنے دو، جب تک کہ راستبازی برقرار رہے۔ خدا قادر مطلق،سب سے زیادہ حکمت والا ہے۔
[2:241] طلاق یافتہ کو بھی منصفانہ طور پرر فراہم کیا جائے۔ یہ نیکوکاروں پر فرض ہے۔
[2:242] خدا اس طرح تمہارے لیے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ سکو۔
خدا کی راہ میں جدوجہد کرنا
[2:243] کیا تم نے ان پر غور کیا جو اپنے گھروں سے بھاگ نکلے— حالانکہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے—موت کے خوف سے؟ خدا نے ان سے کہا، "مر جاؤ،" پھر انہیں زندہ کیا۔ خدا لوگوں پر اپنا فضل نچھاور کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نا شکرے ہیں۔
[2:244] تم خدا کی راہ میں لڑنا اور جان لو کہ خدا سننے والا، جاننے والا ہے۔
[2:245] کون خدا کو راستبازی کا قرض دے گا، تاکہ اس کو اس سےکئی گنا زیادہ ادا کیا جائے؟ خدا ہی ہے جو فراہم کرنے والا اور روکنے والا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
طالوت*
[2:246] کیا تم نے موسیٰ کے بعد اسرائیل کے قائدین پر غور کیاہے؟ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا، "اگر تم ہماری قیادت کے لیے ایک بادشاہ کو مقرر کرو گے، تو ہم خدا کی راہ میں لڑیں گے۔" اس نے کہا، ” کیا تمہارا یہ ارادہ ہے کہ اگر تم پر لڑائی کا حکم عائد ہو جائے تو تم نہیں لڑو گے؟ انہوں نے کہا ہم خدا کی راہ میں کیوں نہیں لڑیں گے جبکہ ہم اپنے گھروں اور بچوں سے مہروم ہو چکے ہیں؟ تاہم جب ان کو لڑای کا حکم دیا گیا، تو انہوں نے منہ موڑ گے، سوائے چند ایک کے۔ خدا ظالموں سے باخبر ہے۔
خدا کی حکمت پر شک کرنا
[2:247] ان کے پیغمبر نے ان سے کہا، "خدا نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے۔" انہوں نے کہا کہ،” وہ ہم پر بادشاہت کیسے کر سکتا ہے جبکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہت کے لائق ہیں اور وہ امیر بھی نہیں ہے؟ “۔ اُس نے کہا،” خدا نے اُسے تم میں سے چُن لیا ہے، اور اُسے علم اور جسمانت میں کثرت سے نوازا ہے۔ “ خدا اپنی بادشاہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ خدا فضل والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
عہد کا صندوق
[2:248] ان کے نبی نے ان سے کہا، ”اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ عہد کا صندوق تمہارے لیئے بحال کیا جائے گا، تمہارے رب کی طرف سے یقین دہانیاں لاتے ہوۓ، اور موسیٰ کی قوم اور ہارون کی قوم کے چھوڑے گئے تبرکات ۔اسے فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔اگر تم واقعی ایمان والے ہو تو یہ تمھارےلیےایک قائل کرنے نشانی ہونی چاہیے۔
داؤد اور جالوت
[2:249] جب طالوت نے فوجوں کی کمان سنبھالی تو اس نے کہا، ”خدا تمہیں ایک ندی کے ذریعے آزمائش میں ڈال رہا ہے، جو کوئی اس میں سے پانی پیۓ گا وہ میرے ساتھ نہیں ہے، صرف وہی جو اس میں سے نہیں چکھیں گے وہ میرے ساتھ ہیں سواۓ اس کے کہ صرف ایک گھونٹ ہو۔“ مگر چند کے علاوہ زیادہ تر نے اس میں سے پی لیا۔جب وہ ایمان والوں کے ساتھ اس سے گزرا تو انہوں نے کہا کہ ، ”اب ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ “ جن کو خدا سے ملاقات کا یقین تھا کہنے لگے، “کئی بار چھوٹی فوج نے خدا کی مرضی سے ایک بڑی فوج کو شکست دی۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں۔
[2:250] جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے آےتو انہوں نے دعا کی،” اے ہمارے پروردگار، ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، ہمارے قدم جما، اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما‘‘۔
[2:251] انہوں نے خدا کے حکم سے انہیں شکست دی اور داود نے جالوت کو قتل کیا۔ خُدا نے اُسے بادشاہت اور حکمت عطا کی، اور اُسے جیسے چاہا سکھایا۔ اگر خدا کی طرف سے بعض لوگوں کی دوسروں کے خلاف حمایت نہ ہوتی تو زمین پر فساد پھیل جاتا۔ لیکن خدا لوگوں پر اپنا فضل کرتا ہے۔
[2:252] یہ خدا کی آیات ہیں۔ہم انہیں تمھارے ذریعے* بیان کرتے ہیں، سچائی کے ساتھ ، کیونکہ تم پیغمبروں میں سے ایک ہو۔
پیغمبر بہت سارے / پیغام ایک
[2:253] ان پیغمبروں میں سے ہم نے کچھ کو دوسروں سے زیادہ نوازا ۔ مثال کے طور پر، خدا نے ایک سے بات کی، اور ہم نے ان میں سے کچھ کو اونچے مرتبے دیے۔ اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو افضل معجزات دیے اور روح القدس کے ساتھ اس کی مدد کی۔ اگر خدا چاہتا تو ان کے پیروکار واضح ثبوت آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے۔ اس کے بجائے انہوں نے آپسں میں جھگڑا کیا۔ ان میں سے کچھ ایمان لائے اور کچھ کافرہو گئے۔ اگر خدا چاہتا تو وہ جھگڑا نہ کرتے۔ سب کچھ خدا کی مرضی کے مطابق ہے۔
کوئی شفاعت نہیں*
[2:254] اے ایمان والو ، ہم نے تمہیں جو رزق دیا ہے تم اس میں سے خیرات دینا، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہو گی، نہ ہی کوی اقرباپروری، اور نہ ہی کوئی سفارش۔ بیشک کافر ناانصاف ہیں۔
[2:255] خدا: اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ، ہمیشہ رہنے والا۔ اس پر بے خبری یا نیند کا ایک لمحہ بھی نہیں آتا۔ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے سفارش کر سکے؟ وہ ان کے ماضی اور مستقبل کو جانتا ہے۔ کوئی بھی اس کی مرضی کے بغیر علم حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کی سلطنت آسمانوں اور زمین پر محیط ہے اور ان پر حکومت کرنا اس پر کبھی بوجھ نہیں بنتا۔ وہ سب سے بلند اور عظیم ہے۔
دین میں کوئی زبردستی نہیں
[2:256] دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ؛حق کا راستہ باطل راستے سے اب واضح طور پر الگ ہے ۔ جو کوی بھی شیطان کی ملامت کرتا ہے اور خدا پر یقین رکھتا ہے اس نے مضبوط ترین بندھن کو پکڑ لیا ہے؛وہ جو کبھی نہیں ٹوٹتا. خدا سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
[2:257] خدا ان لوگوں کا رب ہے جو ایمان لاتے ہیں؛ وہ ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ رہے وہ وہ جو انکار کرتے ہیں ،ان کے پروردگار ان کے بت ہیں؛ وہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں— یہ جہنم کے باشندے ہونگے؛ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
ابراہیم کی جرات مندانہ بحث
[2:258] کیا تم نے اس شخص پر غور کیا جس نے ابراہیمم کے ساتھ اس کے پروردگار کے بارے میں بحث کی، حالانکہ خدا نے اسے بادشاہی دی تھی؟ ابراہیم نے کہا ، ”میرا پروردگار زندگی اور موت دیتا ہے۔“ اس نے کہا، ”میں زندگی اور موت دیتا ہوں۔“ ابراہیم نے کہا، "خدا سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، کیا تم اسے مغرب سے نکال سکتے ہو؟" کافر سٹپٹا گیا۔ خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
موت کے بارے میں سبق
[2:259] اس شخص پر غور کریں جو ایک ویران بستی کے پاس سے گزرا ور اس نے سوچا کہ، "خدااسے مرنے کے بعد کیسے زندہ کر سکتا ہے؟" خدا نے پھر اسے سو سال کے لیے موت دے دی، پھر اسے دوبارہ زندہ کیا۔ اس نے کہا ، ”تم یہاں کتنی دیر ٹھہرے ہو؟“ اس نے کہا، ” میں یہاں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔“ اس نے کہا، "نہیں! تم یہاں ایک سو سال رہے ہو، تاہم اپنے کھانے پینے کو دیکھو؛ وہ خراب نہیں ہوئے۔ اپنے گدھے کو دیکھو— پس اس طرح ہم نے تمہیں لوگوں کے لیے ایک سبق بنا دیا ہے۔ اب ،غور کرو ہم کس طرح ہڈیوں کو بناتے ہیں پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں ۔" جب اسے احساس ہوا کہ کیا ہوا ہے، تو اس نے کہا، "اب میں جان گیا ہوں کہ خدا قادر مطلق ہے۔ “
ہر ایمان والے کو یقین دہانی کی ضرورت ہے
[2:260] ابراہیم نے کہا، ” اے میرے پروردگار، مجھے دکھاوٴ کہ تم مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہو۔ اس نے کہا، ” کیا تم یقین نہیں رکھتے؟ ” اس نے کہا، ” ہاں ،لیکن میں اپنے دل کی یقین دھانی چاہتا ہوں۔“ اس نے کہا، "چار پرندے لے لو، ان کے نشانات کا مطالعہ کرو، ہر پرندے کا ایک ایک ٹکڑا پہاڑی کی چوٹی پر رکھو، پھر انہیں اپنے پاس بلاؤ، وہ جلدی سے تمہارے پاس آئیں گے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ خدا قادرمطلق ،انتہای حکمت والا ہے۔“
بہترین سرمایہ کاری
[2:261] جو لوگ خدا کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جو سات گوشے پیدا کرتا ہے ، ہر گوشے میں سو دانے ہیں ۔خُدا جس کے لیے چاہتا ہے اس کے لئے کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ خدا فضل والا، جاننے والا ہے۔
[2:262] وہ جو اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،پھر اپنی خیرات کے بعد میں وہ نہ تو توہین کرتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچاتے ہیں، تو وہ اپنا اجر اپنے پروردگار کی طرف سے پاہیں گے؛ نہ انہیں کسی قسم کا خوف ہو نا چاہیئے ، اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
[2:263] نرم بول اور ہمدردی اس خیرات سے بہتر ہیں جس کے بعد بے عزتی کی جائے۔خدا بے نیاز اور بردبار ہے ۔
[2:264] اے ایمان والو، اپنی خیراتوں کو ملامت اور توہین کر کے ظائع مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے ،جبکہ وہ خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایک ایسے پتھر کی طرح ہے جو مٹی کی پتلی تہہ سے ڈھکا ہواہے۔ جیسے ہی تیز بارش اس پر گرتی ہے وہ مٹی کو دھو دیتی ہے، اسےایک بیکار پتھر بنا کر چھوڑتے ہوئے۔ وہ اپنی کوششوں سے کچھ حاصل نہیں کرتے۔ خدا کافر لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
خیرات
[2:265] جو لوگ خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے پورے خلوص سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال زرخیز زمین پر لگے اس باغ کی سی ہے جس پرتیز بارش پڑے تو دوگنا زیادہ پھل دیتا ہے۔ اگر تیز بارش نہ ہوتو چند بوندیں بھی کافی ہوتی ہیں ۔تم جو بھی اعمال کرتے ہو خدا ان سے باخبر ہے۔
[2:266] کیا تم میں سے کوئی یہ خواہش رکھتاہے کہ وہ کجھوروں اور انگوروں کے باغ کا مالک ہو جس میں نہریں بہتی ہوں اور بہت ساری فصلیں ہوں۔ پھر جیسے ہی وہ بوڑھا ہو جاتا ہے اور جب کہ اس کے بچے ابھی تک اس پر انحصار کرتے ہیں تو ایک بڑی بربادی اس کے باغ کو جلا دیتی ہے؟ خدا اس طرح تمہارے لیے آیات کو کھول کر بیان کرتا ہے ، تاکہ تم غوروفکر کرو۔
کیا دینا چاہیئے
[2:267] اے ایمان والو، تم اپنی کمائی ہوئی اچھی چیزوں میں سے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے، اس میں سے خیرات دو۔ ان میں سے خراب چیزیں خیرات میں مت دو جو تم خود اپنے لیے قبول نہیں کرتے، جب تک کہ تمہاری آنکھیں بند نہ ہوں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا غنی، قابل تعریف ہے۔
[2:268] شیطان تم سے غربت کا وعدہ کرتا ہے اور تمہیں برائی کرنے کا حکم دیتا ہے، جبکہ خدا تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ خدا سخی، اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
حکمت :ایک عظیم خزانہ
[2:269] خدا جس کو چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اسے حقیقت میں ایک بہت بڑا خزانہ مل گیا ۔صرف وہی جو عقل رکھتے ہیں نصیحت حاصل کریں گے۔
بےنام خیرات بہتر ہے
[2:270] تم جو بھی خیرات دیتے ہو، یا تم کوئی خیراتی عہد پورا کرتے ہو، خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ جہاں تک بدکاروں کا تعلق ہے تو ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
[2:271] اگر تم اپنی خیراتوں کو ظاہر کرتے ہو تو پھر بھی وہ اچھی ہیں۔ لیکن اگر تم انہیں بےنام رکھو اور غریبوں کو دو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اس سے تمھارے زیادہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔تم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا اس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
ہدایت صرف خدا دیتا ہے
[2:272] تم کسی کو ہدایت دینے کے ذمہ دار نہیں ہو۔صرف خدا ہی ہے جو ہدایت دیتا ہے ان کو جو (ہدایت) پانا چاہتے ہیں۔ تم جو بھی خیرات دیتے ہو وہ تمہارے اپنی ہی بہتری کے لئے ہے۔ تم جو بھی خیرات دینا وہ خدا کی رضا کے لیے ہونی چاہیے ۔ اور تم جو بھی خیرات دو گے اس کا تمہیں بدلہ ملے گا ، بغیر کسی ناانصافی کے ۔
[2:273] خیرات ان غریبوںں کو جانی چاہیے جو خدا کی راہ میں تکلیف اٹھا رہے ہیں، اور ہجرت بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے وقار کے باعث بے خبر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ امیر ہیں۔ لیکن تم انہیں خاص نشانیوں سے پہچان سکتے ہو ۔ وہ لوگوں سے مسلسل طور پربھیک نہیں مانگتے۔ تم جو بھی خیرات دیتے ہو ، خدا اس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
[2:274] جو لوگ رات دن، پوشیدہ اور علانیہ خیرات دیتے ہیں، اس کا اجر وہ اپنے پروردگار سے پاتے ہیں ؛ نہ انہیں کوئی خوف ہوگا، نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
سود حرام کر دیا گیا *
[2:275] وہ جو سود لیتے ہیں ، ان لوگوں کی طرح ہیں جو شیطان کے زیر اثر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ سود بھی تجارت کی طرح ہے۔ تاہم، خدا تجارت کی اجازت دیتا ہے، اور سود کو منع کرتاہے۔ پس جو کوئی اپنے رب کے اس حکم پر عمل کرتا ہے، اور سود سے باز رہتا ہے، وہ اپنی گزشتہ کمائی کو رکھ سکتا ہے، اور اس کا فیصلہ خدا کے سپرد ہے۔ جہاں تک وہ جو سود پر جمےرہتے ہیں وہ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
[2:276] خدا سود کی مذمت کرتا ہے، اور خیرات کو برکت دیتا ہے۔ خدا ہر کافر، مجرم کو ناپسند کرتا ہے۔
خدا کی ضمانت
[2:277] وہ جو ایمان لاتے ہیں اور نیک زندگی بسر کرتے ہیں اور نمازیں قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں، وہ اس کا اجر اپنے پروردگار سے پاتے ہیں۔ نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔
[2:278] اے ایمان والو، اگر تم مومن ہو تو خدا کی اطاعت کرو اور ہر قسم کے سود سے بچو۔
[2:279] اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر خدا اور اس کے پیغمبر سے جنگ کی توقع رکھو۔ لیکن اگر تم توبہ کر لو تو تم اپنا سرمایہ اپنے پاس رکھ سکتے ہو، بغیر کسی کے ساتھ ناانصافی کیے اور نہ ہی اپنے اوپر ناانصافی مول لیتے۔
[2:280] اگر قرض دار ادا کرنے کے قابل نہیں ہے تو بہتر وقت کا انتظار کرو ۔ اگرتم قرضے کو خیرات کے طور پر معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا، اگر تم جانو ۔
[2:281] اس دن سے خبردار رہو جب تم خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے، اور ہر روح کو بغیر کسی ناانصافی کے اس کے ہر کام کا بدلہ دیا جائے گا۔
مالی لین دین کولکھ لو
[2:282] اے ایمان والو جب تم کسی بھی مدت کے لیے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ ایک غیر جانبدار کاتب تحریر کرے گا۔ خدا کی تعلیمات کے مطابق، کوئی کاتب اس خدمت کو سرانجام دینے سے انکار نہیں کرے گا۔ وہ لکھے گا، جب کہ قرض لینے والا اپنی شرائط لکھواے گا۔ اسے خدا اپنے رب سے ڈرنا چاہیے ۔اور کبھی دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔ اگر مقروض ذہنی طور پر نا اہل ہو ، یا بے بس ہو، یا لکھوا نہیں سکتا تو پھر اس کا سرپرست انصاف کے ساتھ لکھواے گا۔ دو مرد گواہوں کے طور پر یہ خدمت سرانجام دیں گے۔ اگر دو مرد نہیں تو ایک مرد اور دو عورتیں ، جن کی گواہی سب کے لیے قابل قبول ہو۔ *اس طرح اگر ایک عورت متعصب ہو جائے تو دوسری اسے یاد دلائے گی۔ یہ گواہوں کی ذمہ داری ہے کہ جب انہیں ایسا کرنے کے لیے بلایا جائے تو وہ سچائی کے ساتھ گواہی دیں۔ معاملہ خواہ کتنا ہی لمبا کیوں نہ ہو اس کی تفصیلات جس میں قرض کی واپسی کی مدت بھی شامل ہو اس کو تفصیل کے ساتھ لکھنے سے نہ تھکیں ۔ یہ طریقہ خدا کی نظر میں زیادہ انصاف والاہے۰ اور بہتر گواہی کی یقین دہانی اور تمھارے ہر طرح کے شکوک وشبہات کو ختم کرتا ہے۔ جو کاروباری معاملات تم موقع پر مکمل کرتے ہو انہیں تحریر میں لانے کی ضرورت نہیں لیکن ان پر گواہ بنا لیا کرو۔ کسی کاتب یا گواہ کو اس کی خدمات کی وجہ سے نقصان نہ پہنچایا جاے، اگرتم ان کو نقصان پہنچاتے ہو تو یہ تمہاری طرف سے ظلم ہو گا۔ تم خدا سے ڈرو اور خدا تمہیں علم دے گا۔ خدا ہر چیز کا علم رکھنےوالا ہے۔
[2:283] اگر تم سفر کر رہے ہو، اور کوئی کاتب دستیاب نہیں ہے، تو ادائیگی کی ضمانت کے لیے کوئی چیز رہن رکھی جاے۔اگر اس معاملے میں کسی پر بھروسہ کیا جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ چیز مقررہ وقت پر واپس کر دے ۔اور اسے خدا اپنے رب سے ڈرنا چاہئے۔ جو کچھ تم نے دیکھا اسے چھپا کر کسی گواہی کو مت روکو۔جو کوئی بھی گواہی کو روکتا ہے وہ دل سے گنہگار ہے۔ خدا تمہارے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے۔
[2:284] آسمانوں اور زمین کی ہر چیز خدا کی ہے۔ چاہے تم اپنے اندرونی خیالات کا اعلان کرو ، یا انہیں پوشیدہ رکھو، خدا تمہیں ان کے لیے ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ خدا قادر مطلق ہے۔
تم خدا کے رسولوں میں کوئی تفریق نہیں کرنا
[2:285] پیغمبر اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوا اور مومنین بھی۔ وہ خدا پر ، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتاب پر، اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں: "ہم اس کے رسولوں میں سے کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے۔" وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی*۔ ہمارے پروردگار ہمیں معاف فرما، ہمارا اصل ٹھکانہ تیری ہی طرف ہے۔
[2:286] خدا کبھی کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا: اس کا اجر وہی ہے جو وہ کماتا ہے، اور اس کے خلاف وہی ہوتا ہے جو وہ کرتا ہے۔” ہمارے پروردگار، اگر ہم بھول جائیں یا غلطیاں کریں تو ہمیں رد نہ کرنا ۔ ہمارے پروردگار، اور ہمیں اپنے خلاف بےحرمتی کرنےسے بچا، جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں نے کیا تھا۔ ہمارے پروردگار، ہمیں گناہوں سے بچا اس سے پہلے کہ ہمارے لیے توبہ کا وقت گزر جائے۔ ہمیں معاف فرما اور ہمیں بخش دے، تو ہی ہمارا پروردگار اورآقاہے، ہمیں کافر لوگوں پر فتح عطا فرما “۔