قرآن 2:272 — بچھیا(البقرة)
تم کسی کو ہدایت دینے کے ذمہ دار نہیں ہو۔صرف خدا ہی ہے جو ہدایت دیتا ہے ان کو جو (ہدایت) پانا چاہتے ہیں۔ تم جو بھی خیرات دیتے ہو وہ تمہارے اپنی ہی بہتری کے لئے ہے۔ تم جو بھی خیرات دینا وہ خدا کی رضا کے لیے ہونی چاہیے ۔ اور تم جو بھی خیرات دو گے اس کا تمہیں بدلہ ملے گا ، بغیر کسی ناانصافی کے ۔
[2:271] اگر تم اپنی خیراتوں کو ظاہر کرتے ہو تو پھر بھی وہ اچھی ہیں۔ لیکن اگر تم انہیں بےنام رکھو اور غریبوں کو دو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اس سے تمھارے زیادہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔تم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا اس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
[2:273] خیرات ان غریبوںں کو جانی چاہیے جو خدا کی راہ میں تکلیف اٹھا رہے ہیں، اور ہجرت بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے وقار کے باعث بے خبر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ امیر ہیں۔ لیکن تم انہیں خاص نشانیوں سے پہچان سکتے ہو ۔ وہ لوگوں سے مسلسل طور پربھیک نہیں مانگتے۔ تم جو بھی خیرات دیتے ہو ، خدا اس سے مکمل طور پر باخبر ہے۔