قرآن 2:266 — بچھیا(البقرة)
کیا تم میں سے کوئی یہ خواہش رکھتاہے کہ وہ کجھوروں اور انگوروں کے باغ کا مالک ہو جس میں نہریں بہتی ہوں اور بہت ساری فصلیں ہوں۔ پھر جیسے ہی وہ بوڑھا ہو جاتا ہے اور جب کہ اس کے بچے ابھی تک اس پر انحصار کرتے ہیں تو ایک بڑی بربادی اس کے باغ کو جلا دیتی ہے؟ خدا اس طرح تمہارے لیے آیات کو کھول کر بیان کرتا ہے ، تاکہ تم غوروفکر کرو۔
[2:265] جو لوگ خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے پورے خلوص سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال زرخیز زمین پر لگے اس باغ کی سی ہے جس پرتیز بارش پڑے تو دوگنا زیادہ پھل دیتا ہے۔ اگر تیز بارش نہ ہوتو چند بوندیں بھی کافی ہوتی ہیں ۔تم جو بھی اعمال کرتے ہو خدا ان سے باخبر ہے۔
[2:267] اے ایمان والو، تم اپنی کمائی ہوئی اچھی چیزوں میں سے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے، اس میں سے خیرات دو۔ ان میں سے خراب چیزیں خیرات میں مت دو جو تم خود اپنے لیے قبول نہیں کرتے، جب تک کہ تمہاری آنکھیں بند نہ ہوں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا غنی، قابل تعریف ہے۔