قرآن 2:265 — بچھیا(البقرة)
جو لوگ خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے پورے خلوص سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال زرخیز زمین پر لگے اس باغ کی سی ہے جس پرتیز بارش پڑے تو دوگنا زیادہ پھل دیتا ہے۔ اگر تیز بارش نہ ہوتو چند بوندیں بھی کافی ہوتی ہیں ۔تم جو بھی اعمال کرتے ہو خدا ان سے باخبر ہے۔
[2:264] اے ایمان والو، اپنی خیراتوں کو ملامت اور توہین کر کے ظائع مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے ،جبکہ وہ خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایک ایسے پتھر کی طرح ہے جو مٹی کی پتلی تہہ سے ڈھکا ہواہے۔ جیسے ہی تیز بارش اس پر گرتی ہے وہ مٹی کو دھو دیتی ہے، اسےایک بیکار پتھر بنا کر چھوڑتے ہوئے۔ وہ اپنی کوششوں سے کچھ حاصل نہیں کرتے۔ خدا کافر لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا۔
[2:266] کیا تم میں سے کوئی یہ خواہش رکھتاہے کہ وہ کجھوروں اور انگوروں کے باغ کا مالک ہو جس میں نہریں بہتی ہوں اور بہت ساری فصلیں ہوں۔ پھر جیسے ہی وہ بوڑھا ہو جاتا ہے اور جب کہ اس کے بچے ابھی تک اس پر انحصار کرتے ہیں تو ایک بڑی بربادی اس کے باغ کو جلا دیتی ہے؟ خدا اس طرح تمہارے لیے آیات کو کھول کر بیان کرتا ہے ، تاکہ تم غوروفکر کرو۔