قرآن 2:75 — بچھیا(البقرة)
کیا تم ان سے یہ توقع کرتے ہو کہ وہ ایمان لائیں گے تمہاری طرح جبکہ ان میں سے بعض خدا کاکلام سنتے تھے، پھر اسے بگاڑ دیتے تھے، پوری طرح سمجھ لینے کے بعد، اور جان بوجھ کر؟۔
[2:74] اسکے باوجود، تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔کیونکہ پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے دریا بہتے ہیں،دوسرے پتھر پر شگاف ہوتے ہیں اورآہستہ ندیاں نکالتےہیں۔اوردیگر پتھر خدا کے خوف سے کانپتے ہیں۔خدا اس سے ہرگز بے خبر نہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔
[2:76] اورجب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں’’ہم ایمان لائے‘‘لیکن جب وہ آپس میں اکھٹے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں’’جو علم خدانے تمہیں دیا ہے اس سے(ایمان والوں کو) آگاہ نہیں کرنا، ورنہ ایسا نہ ہو جاۓ کہ تم ا اپنے پروردگار کے بارے میں ان کےدلائل کی حمایت فراہم کرو ۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟‘‘۔