سورۃ 3: ٓعمران کی اولاد(آل عمران)
خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
[3:1] ا ۔ ل۔ م *۔
[3:2] خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں؛ زندہ اور دائمی ۔
[3:3] اس نے تم پر یہ آسمانی کتاب نازل کی، سچائی کے ساتھ، تما م پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتے ہوۓ، اور اسی نے توریت اور انجیل ناز ل کی تھی ۔
[3:4] اس سے قبل، لوگوں کی رہنمائی کےلئے، اور اس نے قانون۔ کی کتاب نازل کی ۔ وہ جو خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے اوپر سخت عذاب لے آتے ہیں۔ خدا قادر مطلق، بدلہ لینے والا ہے۔
[3:5] خدا سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، چاہے وہ زمین پر ہو، یا آسمان میں۔
[3:6] وہی ہے جو بچہ دانی میں تمہاری صورتیں جیسے چاہتا ہے بناتا ہے۔اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں۔ وہ قادرمطلق اورانتہائی حکمت والا ہے۔
[3:7] اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے ، جو سیدھی سیدھی آیات پر مشتمل ہے— جو کہ کتاب کا جوہر ہیں — اور اس کے ساتھ ساتھ متعدد معنی رکھنے والی یا تشبیہاتی آیات بھی ہیں۔ جو لوگ اپنے دلوں میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں تو وہ الجھن پیدا کرنے کے لیے متعدد معنی رکھنے والی آیات کا پیچھا کریں گے تاکہ وہ ان سے خاص معنی نکال سکیں۔ان کے حقیقی معنی کو خدا اور صیح علم رکھنے والوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا۔ وہ کہتے ہیں کہ،” ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ “ صرف وہی غور کریں گے جو ذہانت رکھتے ہیں۔
[3:8] ” ہمارے پروردگار، ہمارے دلوں کو ڈگمگائے نہ دیں ، اب جب کہ تم نے ہمیں رہنمائی عطا کی ہے۰ اپنی رحمتوں کو ہم پر نیچھاور فرما ، تو عطا فرمانے والا ہے ۔
[3:9] ”ہمارے پروردگار، تو یقیناً لوگوں کو اس دن جمع کرے گا جو کہ ناگزیر ہے۔ خدا کبھی اپنا وعدہ نہیں توڑتا۔ “
[3:10] وہ جو ایمان نہیں لاتے ، خدا کے مقابلہ میں ان کی دولت اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آیگی۔ وہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔
[3:11] فرعون کے لوگ اور ان سے پہلے کے لوگوں کی طرح ، جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور اس کے نتیجے میں خدا نے ان کو ان کے گناہوں کی سزا دی۔ خدا عذاب نافذ کرنے میں سخت ہے۔
[3:12] ایمان نہ لانے والوں سے کہ دو، “تمہیں شکست ہو گی پھر تم جہنم میں اکٹھے کیے جاؤ گے۔کیا ہی برا ٹھکانا ہے! “
مومنین: حتمی فاتح
[3:13] تمہارےلیے ان دو فوجوں کی ایک مثال قائم کی گئی ہے جو آپس میں لڑیں تھیں ۔ ایک فوج خدا کی راہ میں لڑ رہی تھی جبکہ دوسری کافر تھی۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ ان سے دوگنے تھے ۔ خُدا جس کو چاہتا ہے اسے اپنی فتح سے مدد دیتا ہے۔ اس سےیقین دہانی فرۂم ہونی چاہئے ان کے لیۓ جو بینائی رکھتے ہیں۔
مختلف ترجیحات
[3:14] لوگوں کے لیے دنیاوی آسائشیں سجا دی گی ہیں، جیسے کہ عورتیں، بچے ، سونے اور چاندی کے ڈھیر، تربیت یافتہ گھوڑے، مویشی اور فصلیں ۔ یہ اس دنیا کے مواد ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ بہتر ٹھکانہ خدا کے پاس محفوظ ہے۔
[3:15] کہو، ”میں تمہیں اس سے بہت بہتر سودے کے بارے میں بتاتا ہوں: جو لوگ نیک زندگی گزارتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ،بہتی ہوئی نہروں والے باغات ، اور پاکیزہ ازواج ،اور خدا کی رحمتوں میں خوشیاں محفوظ ہیں ۔ خدا اپنے عبادت گزاروں کو دیکھنے والا ہے۔ “
[3:16] وہ کہتے ہیں ،”ہمارے پروردگار، ہم ایمان لے آئے ہیں تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔‘‘
[3:17] وہ ثابت قدم، سچے، فرمانبردار، خیرات دینے والے، اور فجر کے وقت مراقبہ کرنے والے ہیں۔
اہم ترین حکم *
[3:18] خدا شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہی شہادت فرشتے اور اہل علم دیتے ہیں۔ سچائی اور انصاف کے ساتھ وہ حقیقی خدا ہے؛ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ قادرمطلق ، انتہای دانا ہے۔
فرمانبرداری: واحد مذہب
[3:19] ایک واحد مذہب جس کی خدا نے منظوری دی ہے ۰ وہ ”فرمانبرداری “ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ جن لوگوں کو کتاب ملی ہے وہی حسد کی وجہ سے علم ہونے کے باوجود اس حقیقت سے اختلاف کرتے ہیں۔ خدا کی آیتوں کے ایسے انکار کرنے والوں کے لئے، خدا حساب لینے میں انتہای سخت ہے۔
[3:20] اگر وہ تم سے بحث کریں تو کہو کہ میں خدا کے سامنے سر جھکا چکا ہوں ، میں اور وہ جو میری پیروری کرتے ہیں ۔تم ان لوگوں کو اعلان کردو جنہیں کتاب ملی ، اور ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی جنہیں نہیں ملی ، ”کیا تم فرمانبرداری کرو گے؟ “ اگر وہ فرمابرداری کرتے ہیں تو پھر وہ ہدایت پا چکے ہیں لیکن اگر وہ منہ پھیر لیتے ہیں تو پھر تمہاری واحد ذمہ داری اس پیغام کو پہنچانا ہے۔ خدا تمام لوگوں کو دیکھنے والا ہے۔
[3:21] جن لوگوں نے خدا کی آیات کو جھٹلایا، اور نبیوں کو ناحق قتل کیا، اور ان لوگوں کو قتل کیا جو انصاف کی ترغیب دیتے تھے، ان سے دردناک عذاب کا وعدہ کرو۔
[3:22] ان کے اعمال ضائع کر دیے گےہیں،اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔
[3:23] کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور کیا جہنیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا، اور کس طرح انہیں خدا کی اس کتاب کو تھام کر رکھنے اور اسے اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی دعوت دی گئی ، پھر ان میں سے کچھ نفرت سے پھر جاتے ہیں؟
[3:24] یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے کہا کہ،” ہمیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، سوائے چند دنوں کے۔ “ اس طرح وہ اپنے ہی گھڑے ہوۓ جھوٹ کی وجہ سے اپنے مذہب میں دھوکہ کھا گئے۔
[3:25] ان کا کیا حال ہوگا، جب ہم انہیں اس ناگزیر دن میں بلائیں گے؟ ہر روح کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ بھی اس نے کمایا ہوگا، بغیر کسی ناانصافی کے۔
خدا کی صفات
[3:26] کہو،’’اے پروردگار :تمام طاقتوں کے مالک ،تم جسے چاہے حاکمیت دیتےہو اور جس سے چاہے حاکمیت چھین لیتےہو ،تم جسے چاہے عزت دیتے ہو اور تم ہی جسے چاہے ذلت دیتے ہو ،سب کچھ تمہارے اختیار میں ہے ،تم سب پر قادر ہو ۔‘‘
[3:27] ’’تم رات کو دن میں ضم کرتے کو ،اور دن کو رات میں ضم کرتےہو ۔تم زندہ سے مردہ کو پیدا کرتے ہو اور تم مردہ سے زندہ کو پیدا کرتے ہو ،تم جسے کو چاہے دیتے ہو ، بغیر کسی بھی حد کے۔‘‘
اپنے دوستوں کا انتخاب احتیاط سے کرو
[3:28] اہل ایمان کافروں کو کبھی حامی نہیں بناتے، اہل ایمان کے بجائے۔ جو بھی ایسا کرتا ہے وہ خدا سے جلا وطن ہو جاتا ہے ۔ وہ اس سے بری ہیں جو ایذارسانی کے ڈر سے ایسا کرنے پر مجبورہوں ۔خدا تمہیں تنبیہ کرتا ہے کہ تم صرف اسی سے ڈرو کیونکہ حتمی منزل خدا ہی کی طرف ہے۔
[3:29] کہو،’’چاہےتم اپنے اندرون ترین خیالات کوچھپائو یا ظاہر کرو خدا ان سے پوری طرح واقف ہے ۔‘‘ زمین اور آسمان میں جو کچھ بھی ہے خدا ا س سے پوری طرح باخبرہے ،وہ سب پر قاد ر ہے۔
[3:30] وہ دن آکر رہیگا جب ہر شخص کے تمام اعمال اس کے سامنے لائے جائیں گے ۔جس نے برے عمل کیے ہونگے وہ خواہش کریگا کہ کاش اس نے یہ نہ کئے ہوتے ۔خدا تمہیں تنبیہ کرتا ہے کہ صرف اس کی بڑائی بیان کرو۔خدا اپنے بندوں کا نہایت خیرخواہ ہے ۔
[3:31] کہہ دیجیے،’’اگر تم خدا سے محبت کرتے ہوتو میری پیروی کرو ،خدا تم سے محبت کریگااور تمہارے گناہ معاف کردیگا ۔‘‘خدا بحشش والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
[3:32] کہہ دیجیے،’’خدا اور اس کے پیغمبرکی اطاعت کرو۔‘‘اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو خدا کافروں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔
مریم کی پیدائش
[3:33] خدا نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو لوگوں کے لیے (پیغمبر کے طور پر) چنا ہے۔
[3:34] ان کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے۔ خدا سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
[3:35] عمران کی بیوی نے کہا میرے پروردگار میرے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اسے میں نے مکمل طور پر تیرے نام کر دیاہے، تو مجھ سے قبول فرما، تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
[3:36] جب اس نے اسے جنم دیا تو اس نے کہا، "میرے پروردگار، میں نے ایک لڑکی کو جنم دیا ہے" - خدا اس سے پوری طرح واقف تھا کہ اس نے کیا جنم دیا ہے- "مرد عورت کی طرح نہیں ہے۔ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کے لیے اور اس کی نسل کے لیے شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتی ہوں۔‘‘
[3:37] اس کے پروردگار نے اسے شاندار قبولیت کے ساتھ قبول کیا، اور اسے زکریا کی سرپرستی میں ایک شاندار پرورش بخشی۔جب بھی زکریا اس کے حرم میں داخل ہوتا تو وہ اس کے پاس کھانے پینے کی اشیاء پاتا۰ وہ پوچھتا ، ”مریم، تم نے یہ کہاں سے لیا ہے؟“ وہ کہتی ،”یہ خدا کی طرف سے ہے۔ خدا جسے چاہتا ہے، اسےبے حساب دیتا ہے۔“
یحییٰ کی پیدائش
[3:38] تب زکریا نے اپنے پروردگار سے التجا کی:” اے میرے پروردگار ، مجھے ایسی اچھی اولاد عطا فرما؛ تو دعاؤں کا سننے والا ہے “۔
[3:39] فرشتوں نے اسے پکارا جب وہ حرم میں دعا کر رہا تھا: ”خدا تمہیں یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے؛ جو خدا کے کلام پر ایمان رکھنے والا، معزز، بااخلاق اور صالح نبیی ہو گا۔ “
[3:40] اس نے کہا، ”میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے، جب میں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں، اور میری بیوی بانجھ ہے؟“ اس نے کہا، ”خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“
[3:41] اس نے کہا،” اے میرے رب مجھے کوئی نشانی دیں اس نے کہا: “تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن تک بات نہیں کرو گے سوائے اشاروں کے، اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو، اور رات دن اس کی تسبیح کرو “۔
مریم اور عیسیٰ
[3:42] فرشتوں نے کہا، ”اے مریم، خدا نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے، اس نے تمہیں تمام عورتوں میں سے چن لیا ہے۔
[3:43] ”اے مریم ، تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو اور سجدہ کرو اور جھکنے والوں کے ساتھ جھک جاؤ۔“
[3:44] یہ ماضی کی خبریں ہیں جو ہم نے تم پر ظاہر کی ہیں۔ تم وہاں نہیں تھے جب وہ مریم کے سرپرست کو منتخب کرنے کے لیے قرعہ ڈال رہے تھے ۰ اور نہ تم اس وقت موجود تھے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ بحث کر رہےتھے۔
[3:45] فرشتوں نے کہا ،’’اے مریم ،خدا تم کو خوشخبری دیتا ہے :اس کا ایک فرمان جس کا نام’ مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔وہ دنیا اور آخرت میں ممتاز اورخدا کے مقرب ترین بندوں میں سے ہوگا۔‘
[3:46] وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کریگااوربالغ ہوکر بھی ؛اور وہ نیکوکاروں میں سے ہوگا۔‘‘
[3:47] مریم نے کہا ،’’اے میرے پروردگار ،جبکہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں ؟‘‘جواب ملا،’’خدا جس کو چاہے پیدا کرتا ہے ۔جب وہ کسی کا م کا فیصلہ کرلے تو صرف اتنا ہی کہتا ہے کہ ’ہوجا ‘اوروہ ہوجاتا ہے۔
[3:48] ’’خدا اسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دیگا اورتوریت اور انجیل کا علم سکھائے گا ۔‘‘
[3:49] بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر کی حیثیت سے :’’میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے ایک نشانی لیکر آیا ہوں۔میں تمہارے سامنے مٹی کا پرندہ بناتا ہو ں اور پھر اس پر پھونک مارتا ہوں وہ خدا کے حکم سے زندہ پرندہ بن جائیگا۔میں خدا کے حکم سے اندھوں کی بینائی بحال کرتا ہوں ،کوڑھیوں کوشفا دیتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو۔اگر تم ایمان والے ہو تو اس میں تمہارے لئے یہ نشانی کافی ہے۔
[3:50] ’’میں سابقہ کتاب ــ۔توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور تم پر لگائی گئی بعض پابندیاں ختم کرتا ہوں ۔میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس کافی ثبوت لے کرآیا ہوں لہذا خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘
[3:51] ’’خدا میرا پروردگار بھی ہے اورتمہار ا پروردگار بھی ۔تم صرف اسی کی عبادت کرو۔یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘
[3:52] جب عیسٰی نے ان کا کفر محسوس کیا تو کہا،’’خدا کی راہ میں میرے حامی کون ہیں ؟‘‘حواریوں نے جواب دیا،’’ہم خدا کے مددگار ہیں ؛ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں،اورآپ گواہ رہنا کہ ہم خدا کے فرمانبردار ہیں ۔‘‘
[3:53] ”ہمارے پروردگار، جو تم نے نازل کیا ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے پیغمبر کی پیروی کی ہے،ہمیں بھی گواہی دینے والوں میں شمار کرنا۔ “
عیسی کی موت*
[3:54] انہوں نے منصوبے بناۓ اور تجویزیں کیں ،لیکن خدا نے بھی ایسا ہی کیا اور خدا بہترین تجویز کرنے والا ہے۔
[3:55] اس طرح، خدا نے کہا، "اے عیسیٰ، میں تمھاری زندگی کو ختم کر رہا ہوں، اور تمہیں اپنی طرف اٹھا رہا ہوں، اور تمہیں کافروں سے نجات دلا رہا ہوں، جو لوگ تمہاری پیروی کرینگے انہیں قیامت تک کافروں کے مقابلے میں بلند رکھوں گا۔ پھر تم سب کو حتمی طور پر میری طرف آنا ہے، پھر میں تمہارے درمیان تمہارے جھگڑوں کا فیصلہ کروں گا۔
[3:56] "اور وہ جنہوں نے ماننے سے انکار کیا میں انہیں اس دنیا میں اور آخرت میں دردناک عذاب دوں گا، ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔"
[3:57] جہاں تک وہ جو ایمان لائے اور نیک زندگی گزاری، وہ انہیں اس کا پورا اجر دے گا۔ خدا بے انصاف کو پسند نہیں کرتا۔
[3:58] یہ وہ آیات ہیں جو ہم تمہیں بیان کر رہے ہیں، حکمت سے بھرے ہوے پیغام کے ساتھ۔
حسابی تصدیق*
[3:59] عیسٰی کی مثال, جہاں تک خدا کا تعلق ہے، آدم کی سی ہے ؛اس نے اسے مٹی سے تخلیق کیا، پھر اس سے کہاُ کہ’’ ہوجا‘‘،اوروہ ہوگیا ۔
[3:60] یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے سچ ہے ؛اس میں کسی قسم کا شک نہ کرو۔
کافروں کو للکار
[3:61] اگر تمہارے ساتھ کوئی بحث کرے ، تمہیں موصول ہوۓ علم کے باوجود، تو کہہ دو کہ ،”آؤ ہم اپنے بچوں اور تمہارے بچوں، اور اپنی خواتین اور تمہاری خواتین، اپنے آپ کو اور تمہیں جمع کریں، پھر جھوٹوں پر خدا کی لانت طلب کریں۔ “
[3:62] بالکل, یہ ایک سچائی کا بیان ہے ۔ بالکل خدا کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ۔ بالکل، خدا قادر مطلق اور سب سے زیادہ حکمت والا ہے۔
[3:63] اگر وہ منہ موڑ لیں، تو خدا گناہ گاروں سے پوری طرح واقف ہے ۔
تمام اہل ایمان کو دعوت
[3:64] کہہ دو کہ،’ ’اےآسمانی کتاب کے پیروکارو،آئو ہم اپنے اور تمہارے درمیان ایک معقول معاہدہ کرلیں :کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرینگے ؛کہ ہم کبھی بھی اس کے ساتھ کسی اور کوشریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور نہ ہی کسی انسانوں کو مولا بنائیں گے خدا کے ساتھ ۔‘‘اوراگر وہ منہ موڑ لیں لیں توکہہ دو کہ،’’گواہ رہنا کہ ہم فرمانبردار ہیں۔‘‘
[3:65] اے آسمانی کتاب کے پیروکارو ،تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو، جب کہ توریت اور انجیل تو نازل ہی نہیں ہوئیں تھیں تاوقتہ ابراہیم کے بعد؟کیا تم سمجھتے نہیں؟
[3:66] تم نے بحث کی ان چیزوں کے بارے میں جن کا تمہیں علم تھا؛ جن چیزوں کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں بحث کیوں کرتے ہو ؟خدا جانتا ہے ، جبکہ تم نہیں جانتے۔
[3:67] ابراہیم نہ تو یہودی تھا نہ ہی عیسائی ؛وہ ایک توحید پرست فرمانبردار تھا ۔ وہ کبھی بھی مشرک نہ تھا۔
[3:68] ابراہیم سے نسبت کا حق انہی کو حاصل ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی ،اوراب یہ نبی ،اوروہ جو ایمان لاتے ہیں ۔ خدا ایمان والوں کا پروردگار اور مالک ہے۔
[3:69] کچھ آسمانی کتاب کے پیروکار تمہیں گمراہ چاہتے ہیں مگر وہ صرف اپنے آپ ہی کو گمراہ کرتے ہیں، شعور نہ رکھتے ہوۓ۔
[3:70] اےآسمانی کتاب کی پیروی کرنے والو،تم کیوں خدا کے انکشافات کو مسترد کرتے ہوحالانکہ تم خود گواہی دیتے ہو(کہ یہ سچ ہے) ؟
[3:71] اےآسمانی کتا ب کی پیروی کرنے والو،تم کیوں سچ کو جھوٹ میں ملاتے ہو اور سچائی کو چھپاتے ہو، جان بوجھ کر؟
[3:72] آسمانی کتاب کی پیروی کرنے والوں میں سے بعض کہتے ہیں ،جو اہل ایمان پر نازل ہوا ہے اس پر صبح کو ایمان لائو اورشام کو اس سے انکار کردو۔شاید اس ترکیب سے یہ لوگ پھر جائیں ۔
[3:73] اور ایمان نہ لاؤ سوائے ان لوگوں کے جو تمہارے دین کی پیروی کرتے ہیں۔" کہو، "حقیقی ہدایت تو خدا کی ہدایت ہے۔" اگر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس بھی وہی ہدایت ہے، یا تم سے تمھارے خداکے بارے میں بحث کریں، تو کہہ دو، "سب فضل خداکے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔" خدا فیاض اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
[3:74] وہ جس کے لیے چاہتا ہے اپنی رحمت مخصوص کر دیتا ہے۔ خدا کے پاس لامحدود فضل ہے۔
تمام لوگوں کے ساتھ دیانتداری کرو
[3:75] اہل کتاب میں سے کچھ ایسے ہیں جن پر بہت زیادہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ تمہیں سب کچھ لوٹا دیں گے۔ ان میں سے دوسروں پر ایک دینار کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک تم ان کے پیچھے نہیں جاتے وہ تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، "جو اہل کتاب نہیں ہیں ان کے ساتھ لین دین کرتے ہوے ہمیں ایماندار ہونا ضروری نہیں ہے!* اس طرح، وہ جانتے بوجھتے خدا سے جھوٹ منسوب کرتے ہیں۔
[3:76] بے شک جو لوگ اپنی فرایض پورا کرتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں، خدا نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
[3:77] جو لوگ خدا کے عہد اور اپنے فرایض کو سستی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ خدا قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا۔ انہیں دردناک عذاب بھگتنا ہے۔
[3:78] ان میں سے وہ بھی ہیں جو کتاب کی نقل کرنے کے لیے اپنی زبانیں مروڑتے ہیں، تاکہ تم سمجھو یہ کتاب میں سے ہے، جب کہ یہ کتاب میں سے نہیں ہے، اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے، جب کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ اس طرح وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں اور انہیں خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
[3:79] کوئی انسان جسے خدا نےکتاب اور نبوت سے نوازا ہو وہ لوگوں سے نہیں کہے گا کہ "خدا کے ساتھ مجھے بھی شریک ٹھہراو ، اس کے بجائے، (وہ کہے گا)، "اپنے آپ کو مکمل طور پر اپنے ایک رب کے لیے وقف کر دو،” اس کتاب کے مطابق جس کی تم تبلیغ کرتے ہو اور جو تعلیمات تم سیکھتے ہو۔
[3:80] نہ ہی وہ تمہیں حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو اپنا خدا بنا لو ۔کیا وہ فرمانبردار بننے کے بعد تمہیں کفر کی تلقین کرے گا؟
ایک بڑی پیشین گوئی پوری ہوئی* خدا کا رسول میثاق
[3:81] خدا نے نبیوں سے عہد لیا اور کہا ، "میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا۔ اس کے بعد، ایک رسول آئے گا جو تمام موجودہ کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی حمایت کرنی ہو گی ۔” اس نے (خدا) نے کہا کیا تم اس سے راضی ہو اور اس عہد کو پورا کرنے کا اقرار کرتے ہو۔انہوں نے کہا “ ہم راضی ہیں” اس نے (خدا) کہا تم نے اس طرح گواہی دی اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں۔ “
خدا کے میثاق رسول کے منکر کافر ہیں
[3:82] جو اس (قرآنی پیشین گوئی) کا انکار کرتے ہیں وہ فاسق ہیں۔
[3:83] کیا وہ خدا کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں، جب کہ زمین و آسمان کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اسی کے تابع ہو چکی ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے؟
خدا کے پیغمبروں میں کوئی تفریق نہ کرو
[3:84] کہو، "ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم پر نازل کیا گیا، اور اس پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل کیا گیا ۔اور اس کو بھی مانتے ہیں جو موسی، عیسی اور دوسرے انبیاء پر اپنے خدا کی طرف سے نازل کیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی میں کوئی فرق نہیں کرتے، ہم صرف اسی (خدا)کے فرمانبردار ہیں۔
خدا کی طرف سے منظور شدہ صرف ایک مذہب
[3:85] جو کوئی بھی فرمابرداری کے علاوہ کسی اور دین کو مانے گا، وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں کے ساتھ ہوگا۔
[3:86] خدا ان لوگوں کو کیوں ہدایت دے جنھوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور حالانکہ انھوں نے پیغمبر کے سچ ہونے کی گواہی دی تھی اور انہیں ٹھوس ثبوت دیے جا چکے تھے؟ خدا ظالموں کو حدایت نہیں دیتا۔
[3:87] اور وہ خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے مذمت کے مستحق ہو چکے ہیں۔
[3:88] وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لیۓ نہ کبھی عذاب کو بدلا جائے گا، اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
[3:89] مستثنیٰ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اصلاح کی۔ خدا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
جب توبہ ناقابل قبول ہے
[3:90] جو لوگ ایمان لانے کے بعد کفر کرتے ہیں، پھر کفر کی گہرائی میں ڈوب جاتے ہیں، ان کی توبہ ان سے قبول نہیں کی جائے گی؛ یہی حقیقی گمراہ ہیں۔
[3:91] وہ جوکفر کرتے ہیں اور کفر کی حالت میں ہی مرتے ہیں، ان میں سے کسی سے بھی زمین بھر سونا قبول نہیں کیا جائے گا، یہاں تک کہ اتنا فدیہ ممکن ہی کیوں نہ ہوتا۔ان پر دردناک عذاب عائد ہو چکاہے ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
[3:92] تم اس وقت تک راستبازی حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اپنے پسندیدہ مال میں سے خیرات نہیں کرتے۔تم جو کچھ بھی خیرات میں دیتے ہو، خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
جو حلال ہے اس کی ممانعت نہ کرو
[3:93] بنی اسرائیل کے لیے تمام کھانا حلال ہوا کرتا تھا، حتی کہ اسرائیل نے تورات کے نازل ہونے سے پہلے خود پر کچھ پابندیں عائد کر دیں تھیں ۔ کہو کہ ،”تورات لاو اور اسے پڑھو اگر تم سچے ہو “۔
[3:94] وہ جو اس کے بعد جھوٹی ممانعتیں گھڑتے ہیں اور انہیں خدا سے منسوب کرتے ہیں، وہ واقعی فاسق ہیں۔
[3:95] کہو،” خدا نے سچائی کا اعلان کر دیاہے: تم ابراہیم کے مذہب یعنی توحید کی پیروی کرو گے۔ وہ کبھی بھی مشرک نہیں تھا۔ “
[3:96] سب سے اہم عبادت گاہ جو لوگوں کے لیے قائم کی گی ہے؛وہ بکہ میں ہے* تمام لوگوں کے لیے ایک مبارک روشنی ہے۔
[3:97] اس میں واضح نشانیاں ہیں: مقام ابراہیم۔ جو بھی اس میں داخل ہوتا ہے اسے محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ لوگوں پر خدا کا حق ہے کہ جب وہ استطاعت رکھتے ہوں تو وہ حج کریں۔ اور جو لوگ کفر کریں گے ، خدا کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔
[3:98] کہو،” اے اہل کتاب، تم خدا کے ان آیات کو کیوں جھٹلاتے ہو، جب کہ خدا تمہارے ہر کام کو دیکھ رہا ہے؟ “
[3:99] کہو ،” اے اہل کتاب ، تم ان لوگوں کو خدا کے راستے سے کیوں روکتے ہو جو ایمان لانا چاہتے ہیں اور اسے بگاڑنے کی کوشش کرتے ہو ،حالانکہ تم گواہ ہو؟ خدا تمہارے کسی کام سے بے خبر نہیں ہوتا۔ “
[3:100] اے ایمان والو ،اگر تم اہل کتاب میں سے بعض کی بات مانو گے تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں گے۔
[3:101] تم کیسے کفر کر سکتے ہو جب کہ یہ خدا کی آیات تمہیں پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے پاس اس کا پیغمبر آ چکا ہے؟ جو کوئی بھی خدا کو مضبوطی سے تھامے گا، اسے سیدے راستے کی طرف رہنمائی ملے گی۔
[3:102] اے ایمان والو، تم خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور فرمانبردار کے علاوہ اور کسی حالت میں نہ مرو۔”
ایمان والے متحد ہیں
[3:103] تم سب خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ تم پر خدا کی نعمتوں کو یاد کرو- تم دشمن تھے اور اس نے تمہارے دلوں میں مصالحت کی، اس کے فضل سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ کے گڑھے کے دہانے پر تھے اور اس نے تمہیں وہاں سے بچا لیا۔ خدا اس طرح تمہارے لیے اپنی آیات کو واضح کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پا سکو.
[3:104] اورتم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو اچھائی کی طرف دعوت دے ، نیکی کی تلقین کرے، اور برائی سے روکے۔یہی فاتح ہیں۔
[3:105] ان لوگوں کی طرح نہ بنو جو واضح نشانیوں کے باوجود تفرقہ اور اختلاف میں پڑ گئے۔ کیونکہ یہ خوفناک عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔
[3:106] وہ دن آئے گا جب کچھ چہرے (خوشی سے) روشن ہوں گے اور جبکہ دوسرے چہرے (تکلیف سے) سیاہ ہوں گے۔ جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے، ان سے پوچھا جائے گا کہ،” کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر نہیں کیا؟ اس لیے اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کو برداشت کرو۔ “
[3:107] جہاں تک وہ ہیں جن کے چہرے روشن ہوں گے، وہ خدا کی رحمت میں خوش ہوں گے؛ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
[3:108] یہ خدا کی آیات ہیں ؛ ہم انہیں تمہیں سنا رہے ہیں، سچائی کے ساتھ ۔ خدا لوگوں کے لیے کوئی مشکل نہیں چاہتا۔
[3:109] آسمانوں اور زمین میں ہر چیز خدا کی ملکیت ہے، اور تمام معاملات خدا کے اختیار میں ہیں۔
بہترین جماعت
[3:110] تم ایک بہترین جماعت ہو جو اب تک انسانیت کے لیۓ پیدا کیا گیا ہے : تم نیکی کی وکالت کرتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو ، اور تم خدا پر یقین رکھتے ہو۔اگر اہل کتاب ایمان لے آئیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہو گا۔ ان میں سے بعض تو ایمان لاتے ہیں، لیکن ان میں اکثر گناہگار ہیں۔
[3:111] سوائے ستانے کے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑسکتے۔اگر وہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔یہ لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
[3:112] تم ان کو جہاں بھی پائوگے ان پر ذلت پڑی ہوگی ،جب تک خدا کے ساتھ یا تمہارے ساتھ کئے گے وعدے پورا کرنہیں کرتے ۔یہ لوگ خدا کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں ذلت ان پر مسلط کردی گئی ہے۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے خدا کی آیات کو ماننے سے انکار اور نبیوں کو ناحق قتل کیا ۔یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے نافرمانی اور زیادتی کی ۔
نیک یہودی اور عیسائی
[3:113] یہ سب ایک جیسے نہیں ہیں؛اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں جو راہ راست پر ہیں۔وہ ساری رات خدا کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
[3:114] وہ خدااورقیامت کے دن پرایمان رکھتے ہیں،نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اوریہ نیک کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔یہ صالح لوگ ہیں ۔
[3:115] یہ لوگ جوبھی نیکی کرینگے اس کا صلہ ضرور ملے گا۔خداپرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔
[3:116] جن لوگوں نے کفر کیا ،خدا کے مقابلے میں ان کی دولت اور اولاد ان کے کسی کام نہیں آئیگی،یہ لوگ جہنم میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
[3:117] اور اس زندگی میں ان کی کامیابیوں کی مثال اس آندھی کی طرح ہے جو ان لوگوں کی کھیتی کو اجار دیتی ہے جنہوں نے اپنی روحوں پر ظلم کیا اور اس کا صفایا کردیتی ہے ۔خدا نے ان پر کبھی ظلم نہیں کیا ؛یہ خود ہی ہیں جنہوں نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔
منافقین کو دوست مت بنائو
[3:118] اے لوگوجو ایمان لائے ہو،ان غیر لوگوں کو دوست مت بنائو جو تمہیں نقصان پہنچانے کی خواہش سے کبھی نہیں رکتے ؛وہ تمہیں تکلیف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کی نفرت ان کے منہوں سے برستی ہے او روہ جو انہوں نے سینوں میں چھپایا ہوا ہے اس سے بھی بدتر ہے۔ہم اسی طرح تمہارے لیۓ اپنی آیات کی وضاحت کرتے ہیںجبکہ، اگر تم سمجھو تو۔
[3:119] یہاں تم ہو ان سے محبت کرتے ہوۓ جبکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے اور تم تمام کتاب پر ایمان رکھتے ہو ۔ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں،” ہم ایمان لاۓ “، مگر جیسے ہی جدا ہوتے ہیں تو تمہاری طرف غصے سے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ کہہ دو کہ ،”تمُ مت جاؤ اپنے طیش میں “۔ خدا تمہارے اندرون ترین خیالات سے پوری طرح آگاہ ہے ۔
[3:120] جب تمہاری طرف کوئی بھلائی آتی ہے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے اور جب تم پہ مصیبت آتی ہے تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں ۔ اگر تم صبر سے کام لو اور راہ راست پر قائم رہو تو ان کی کوئی بھی چال تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ خدا ان کے ہر عمل سےمکمل طور پر واقف ہے ۔
جنگ بدر
[3:121] یاد کرو تم (محمد) اپنے لوگوں کے درمیان تھے جب تم نکلے متعین کرنے ایمان والوں کو ان کے مورچوں میں جنگ کے لیے۔ خدا سننے والا اور عالم کل ہے۔
[3:122] تم میں سے دوگروہ قریباًناکام ہوچکے تھے لیکن خدا ان کا پروردگار تھا ۔ اہل ایمان کو خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
[3:123] تمہاری کمزوریوں کے باوجود خدا نے تم کو بدر میں فتح بخشی ، لہذا خدا کی اطاعت کرو شکرگزاری کااظہار کرنے کے لیے ۔
فرشتے مومنوں کی مدد کرتے ہیں
[3:124] تم نے اہل ایمان سے کہا ،’’کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تمہاراپروردگار تمہاری حمایت کرتا ہے تین ہزار فرشتوں کے ساتھ ، نازل کرتے ہوۓ ؟‘‘
[3:125] درحقیقت, اگر تم استقلال کے ساتھ ثابت قدم رہو اورنیکی کو برقرار رکھو ،پھر وہ تم پراچانک حملہ کریں ، تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار *فرشتوں سے تمہاری حمایت کریگا، بہت تربیت یافتہ ۔
[3:126] اس طرح خدا تمہیں مطلع کرتا ہے ، تمہیں خوشخبری دینے کے لیۓ، اور تمہارے دلوں کو مطمئن کرنے کے لیۓ ۔ فتح صرف خدا ہی کی طرف سے آتی ہے ، قادر مطلق ، انتہائی دانا ۔
[3:127] اس طرح وہ بعض کافروں کو برباد کر دیتا ہے ، یا ان کا زور توڑ دیتا ہے ؛وہ ہمیشہ شکت یاب ہوکر رہ جاتے ہیں۔
[3:128] یہ تمہارے بس میں نہیں ؛وہ شاید انہیں نجات دے دے یا انہیں سزا دے دے ان کے مظالم کے باعث ۔
[3:129] خدا کی ملکیت ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ موجود ہے ،وہ جس کو چاہے معاف کرتا ہے اور جس کو چاہے سزا دیتا ہے۔خدا معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
سود حرام کردیا گیا*
[3:130] اے ایمان والو،تم سود نہ لینا، بڑھا چڑھا کر۔خدا سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔
[3:131] دوزخ کی آگ سے خبردار رہو جو کافروں کی منتظرہے۔
[3:132] تم خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم ہو ۔
پرہیز گاروں کی خصوصیات
[3:133] تم سرگرمی کے ساتھ خدا کی بخشش اور جنت کی طرف دوڑ لگاؤ جس کی وسعت زمین اورآسمان پر محیط ہے؛ یہ نیکو کاروں کی منتظر ہے ،
[3:134] جو خوشحالی اور بدحالی میں بھی خیرات دیتے ہیں۔ وہ غصے کو دبانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دینے والےہیں۔خدا خیرات کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
[3:135] اگر ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے یا وہ اپنے نفس پرظلم کرتے ہیں تو وہ خدا کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں —اور کون ہے خدا کے سوا جو گناہ معاف کرنے والا ہے—اور وہ لوگ جان بوجھ کرگناہوں پر اصرار نہیں کرتے ۔
[3:136] ان کی جزا ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے اور بہتی نہروں والے باغات؛وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی پر نعمت بدلہ ہے نیکوکاروں کے لیے !
نیکو کاروں کی فتح
[3:137] تمہارے لئے ماضی کی کئی مثالیں موجود ہیں؛زمین پر گھوم پھر کے کافروں کا انجام دیکھ لو۔
[3:138] یہ لوگوں کےلئے واضح تنبیہ ہے اور نیکو کاروں کےلئے ہدایت اور روشنی ہے ۔
[3:139] تم دل نہ ہارو اور نہ ہی غم کرو ،تم ہی آخر کار غالب آئو گے اگر تم مومن ہو۔
[3:140] اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو تمہارے دشمن کو بھی ویسی ہی تکلیف پہنچی ہے ۔ہم فتح اور شکست کے دنوں کو لوگوں میں گردش دیتے رہتے ہیں ۔اس طرح خدا سچے ایمان والوں کو چھانٹ لیتا ہے اورتم میں سے بعض کوشہادت سے نوازتا ہے ۔خدا ناانصافی پسند نہیں کرتا ۔
[3:141] اس طرح خدا ان لوگوں کو مضبوط بناتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور کافروں کو ذلت دیتا ہے ۔
ہمارے دعووں کی تصدیق لازم ہے ۔
[3:142] کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ یونہی جنت میں چلے جائو گے حالانکہ ابھی خدا نے یہ تو پرکھا ہی نہیں کہ تم میں کون اس کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور کون ہے جوثابت قدم ہے ۔
[3:143] جب موت سامنے نہیں آئی تھی تو تم موت کی تمنا کرتے تھے ،اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے ،تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔
[3:144] محمداس کے سوا کچھ نہیں کہ بس خدا کے رسول ہیں ،جس طرح ان سے پہلے کے رسول تھے ۔اگر وہ انتقال کرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو کیا تم الٹے قدموں پھر جائوگے؟جوالٹا پھرے گا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑے گا ۔خدا ان کوجزا دیتا ہے جو شکر گزار ہیں۔
موت کا وقت پیش معین ہے
[3:145] خدا کے حکم کے بغیر کوئی نہیں مرتا ،مگر پیش معینہ وقت پر۔جو کوئی اس دنیا کے ثواب کی خواہش کریگا ہم اس کو دنیا ہی میں دیدیں گے اور جو کوئی آخرت میں طلب کریگا اس کوہم آخرت میںنوازیں گے۔اور ہم شکر گزاروں کوضرور جزا دینگے۔
[3:146] بہت سے پیغمبر ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کرخدا پرستوں نے جنگ کی ،انہوں نے خدا کی راہ میں مصیبتیں پڑنے کے باوجود حوصلہ نہ ہارا اور نہ ہی دل شکستہ ہوئے ۔خدا ثابت قدموں کو پسندفرماتا ہے ۔
[3:147] ایسے میں وہ ایک ہی دعا مانگتے تھے ،’’ہمارے مالک ،ہمارے گناہ اورزیادتیاں معاف فرمادے،ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہمیں فتح عطافرما۔‘‘
[3:148] آخر کا خدا نے انہیں دنیا کا ثواب عطا کیا اور آخرت کا بھی جو اس سے بہتر ہے۔خدا نیک عمل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔
[3:149] اے لوگوجو ایمان لائے ہو،اگر تم نے کافروں کی بات مان لی تو وہ تمہیں الٹا پھیر دینگے اور تمہارا شمار نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
[3:150] صرف خدا ہی تمہارا مالک اوررب ہے اوروہ ہی سب سے بڑا مددگارہے۔
خدا تمہارے دشمنوں کو کنٹرول کرتا ہے
[3:151] ہم کافروں کے دل میں رعب بٹھا دینگے ،کیونکہ انہوں نے خدا کے ساتھ بے اختیار شریک ٹھہرالیے ہیں۔ان کا ٹھکانہ جہنم ہے؛اورظالموں کےلئے وہ کیا ہی براٹھکاناہے!
جنگ احد
[3:152] اور خدا نے تمہارے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کردیا اور تم نے خدا کے حکم سے انہیں شکست دیدی ۔مگر اس وقت تم نے کمزوری دکھائی اور آپس میں اختلاف کیا اور جب اس نے تمہیں( فتح)دکھا دی جس کی تم خواہش کرتے تھے تو تم نے نافرمانی کی ۔اس کے بعد تم میںسے بعض دنیاوی چیزیں دیکھ کر ہمت ہارگئے جبکہ دوسرے آخرت کی فکر پرپوری طرح قائم رہے ۔تب خدا نے تمہیں آزمانے کےلئے پسپاکر دیا اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اورخدا اہل ایمان پر فضل کرنے والاہے۔
[3:153] یاد کرو جب تم (مال غنیمت کے پیچھے) بھاگ رہے تھے اورایک دوسرے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے تھے ،حتی کہ خدا کا رسول تمہارے پیچھے کھڑا تمہیں پکار رہا تھا ۔اس کے نتیجے میں خدانے تمہیں رنج پر رنج دیئے تاکہ تم کوئی چیز کھونے پر یا مصیب آنے پر ملول نہ ہو،خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
موت کا لمحہ پیش معین
[3:154] پسپائی کے بعد خدا نے تم پر اطمینان بخش حالت طاری کردی جس پر تم میں بعض کو اونگھ آگئی ۔تم لوگوں میں سے دوسرے صرف اپنے بارے میں فکر کرتے تھے خدا کے بارے میں طر ح طرح کے غلط گمان کرنے لگا ایسے گمان جو وہ زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے ۔انہوں نے کہا ،’’کیا اس میں ہمار ا بھی کوئی عمل دخل ہے؟کہو،’’سارا عمل دخل خدا کا ہے۔‘‘یہ لوگ اپنے دلوں میں جو کچھ چھپائے ہوئے تھے تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے ۔انہوں نے کہا،’’اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی اس جنگ میں مارا نہ جاتا۔‘‘کہہ دو،’’اگر تم گھروں میں ٹھہر جاتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔‘‘اس طرح خدا تمہارے اصل ارادے ظاہر کرنے کےلئے تمہیں آزماتا ہے اور اس لیے بھی کہ تمہارے دل میں جو کچھ ہے وہ معلوم ہوسکے ۔خدا تمہارے دلوں میں موجود خیالات کو خوب جانتا ہے ۔
[3:155] یقینادوفوجوں کے درمیان جنگ کے وقت جو لوگ پھر گئے تھے ان قدم شیطان نے ڈگمگا دیئے تھے ۔اسطرح ان کی کردہ بعض لغزشیں واضح ہوگئیں،خدا نے انہیں معاف کردیا ۔خدا معاف کرنے والا اور بردبار ہے۔
[3:156] اے لوگوجوایمان لائے ہو،’’ان لوگوں کی طرح مت ہوجاناجنہوں نے کفر کیا اورجن کے رشتہ دار سفر پر جاتے یا جنگ میں شریک ہوتے تو کہتے ،’’اگر یہ ہمارے پاس ٹھہرے رہتے تو انہیں موت آتی اور نہ یہ مارے جاتے ۔‘‘خدا اس قسم کی باتو ں کو ان کے دل میں غم کا ذریعہ بنادیتا ہے ۔خداہی کے اختیار میں ہے زندگی اور موت۔تم جو کچھ بھی کرتے ہوخدا اس کو دیکھ رہا ہے۔
[3:157] اگر تم خد ا کی راہ میںمارے جائو یا مرجائو تو خدا کی بخشش اور رحمت ان سب چیزوں سے بہتر ہے جو یہ جمع کرتے ہیں ۔
[3:158] تم مر جائو یا مارے جائو تمہیں پیش تو خدا کے سامنے ہی ہونا ہے۔
پیغمبر کی مہربانی
[3:159] یہ خدا کی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کےلئے نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔اگر تم سخت اور تنگ دل ہوتے تویہ لوگ تمہیں چھوڑ جاتے ۔ اسلئے ان کے قصور معاف کردو ان کےلئے خدا کی بخشش طلب کرواور ان سے مشور ہ کرو۔اور جب تم کسی کام کا فیصلہ کرلو تو پھر اس کو انجام دو اور خدا پر بھروسہ کرو۔خدا ان کو پسند کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں*۔
[3:160] اگر خدا تمہارا مددگارہوتو کوئی بھی تمہیں شکست نہیں دے سکتا ۔اور اگر خدا تمہیں چھوڑ دے تو اس کے علاوہ کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے ؟ایمان والوں کو خدا پرہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
قانون سے بالاتر کوئی نہیں
[3:161] پیغمبر بھی مال غنیمت سے اپنے حصے سے زیادہ مال نہیں لے سکتا ۔جوبھی اپنے حصے سے زیادہ مال لیتا ہے اسے قیامت کے دن اس کا حساب دینا ہوگا۔اس دن ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ ملے گا اور کسی سے کوئی ناانصافی نہیں ہوگی ۔
[3:162] کیا خدا کی رضا میں سرگرم رہنے والا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو خدا کے غضب میں گھر گیا ہو اورجس کا ٹھکانا جہنم ہو ۔اورجہنم بدترین ٹھکانا ہے؟
[3:163] ان دونوں کے خدا کے ہاں یقینامختلف درجے ہیں ۔خدا ان کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔
[3:164] اہل ایمان پر خدا کا یہ احسان ہے کہ اس نے انہی میں سے ایک پیغمبر اٹھایا جو خدا کی آیات سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ بناتا ہے اوران کو کتاب اورحکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔اس سے قبل یہ لوگ مکمل طورپر گمراہی میں پڑے تھے ۔
[3:165] اب جب تمہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے تو تم کہتے ہویہ کیسے ہوگیا حالانکہ اس سے قبل دوبار تمہارے دشمن تم سے ایسی ہی پسپائی اختیا ر کرچکے ہیں ۔کہہ دیجیے،’’یہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے ،خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
[3:166] دوگروہوں کے درمیان جنگ کے وقت تم کو جو نقصان پہنچا وہ خدا کی منشائ کے مطابق تھا اور اس لیے تھا کہ مومن دوسروں سے واضح ہوجائیں۔
[3:167] اوروہ منافق ظاہر ہوجائیں جنہیں کہا گیا تھا کہ آئو خدا کی راہ میں لڑائی کرو اور اپنا حصہ ڈالو ،تو انہوں نے جواب دیا ،’’اگر ہم جنگ کرنا جانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ شامل ہوجاتے ۔‘‘وہ اس وقت ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے اور اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے تھے جو ان کے دل میں نہیں تھیں ۔خدا جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں۔
[3:168] پیچھے بیٹھ کراپنے رشتہ داروں کے بارے میں انہوں نے کہا ،’’اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو مارے نہ جاتے ۔‘‘کہہ دیجیے،’’اگر تم سچے ہوتو اپنی موت کو ٹال کردکھادینا۔‘‘
نیکو کار کبھی نہیں مرتے *
[3:169] جولوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت سمجھو؛وہ خدا کے ہاں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں ۔
[3:170] وہ خدا کی رحمت سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور اپنے ان ساتھیوں کےلئے، جوان کےساتھ فوت نہیں ہوئے، ان کے پاس خوش خبری ہے کہ انہیںبھی کوئی غم اور خوف نہیں ہوگا ۔
[3:171] اوروہ خدا کی رحمت اور فضل پر خوش ہیں اور جانتے ہیں کہ خدا یمان والوں کواجرضرور دیتا ہے ۔
[3:172] وہ لوگ جنہوں نے ظلم سہنے کے باوجود خدا اور سول کی پکار پر لبیک کہا اور نیک اعمال کرتے رہے اورپرہیز گاری کی زندگی گزارتے رہے ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔
[3:173] جب ان سے کہا جاتا ہے،’’تمہارے خلاف لوگ جمع ہوگئے ہیں ان سے ڈرو‘‘تو اس ان کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں،’’ہمارے لیے خدا ہی کافی ہے؛اوربہترین محافظ ہے۔‘‘
[3:174] یہ لوگ خدا کی رحمت اور اسکے فضل کے حق دار ہیں ۔ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ خدا کی رضا انہیں حاصل ہے ۔خدا کے فضل کی کوئی حد نہیں ۔
خوف :شیطان کا حربہ
[3:175] یہ شیطان کا نظام دہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کے اندر خوف ڈالتا ہے ۔ان سے مت ڈرو۔ تم اس کی بجائے صرف مجھ سے ڈرنا اگر تم ایمان رکھتے ہو
[3:176] جو لوگ کفر کی راہ میں بھاگ دوڑ رہے ہیں ان سے پریشان نہ ہو،وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔خدا کا ارادہ یہ ہے کہ آخرت میں انہیں کوئی حصہ نہ ملے ۔ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
[3:177] جولوگ ایمان کی بجائے کفر اختیار کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ؛ان کے لئے درد ناک سزا تیا رہے ۔
[3:178] کافروں کو اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ ہم ان کو جو ڈھیل دے رہے ہیں ان کے فائدے میں ہے بلکہ ہم انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ انکی گناہ گاری ثابت ہوجائے۔ان کے لئے عبرتناک سزا تیار ہے۔
[3:179] خدا ایمان والوں کو اس حالت میں نہ رہنے دیگا جس میں وہ اس وقت ہیں ،وہ اچھے لوگوں کوبرے لوگوں سے الگ کرکے رہے گا۔خدا تمہیں غیب سے مطلع نہیں کرتا ،ایسا کرنے کےلئے وہ خدا اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے منتخب کرلیتا ہے *۔اسلیے خدا اور اسکے رسول پر ایمان رکھو۔اگر تم ایمان اور پرہیز گاری اختیار کروگے تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے ۔
[3:180] جولوگ خدا کی عطا کردہ چیزوں کو روکتے اور ذخیرہ کرتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ بات ان کےلئے بہتر ہے ،یہ ان کے بہتر نہیں ہے ۔قیامت کے دن یہ تما م چیزیں ان کے گلے میں لٹکائی جائیں گی ۔زمین اور آسمانوں کا وارث خدا ہی ہے اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو خدا اس سے خوب آگاہ ہے۔
انسان خدا کا انکار جاری رکھے ہوئے ہیں
[3:181] خدا نے ان کی بات سن لی ہے جو کہتے ہیں،’’خدا غریب ہے اور ہم امیر ہیں۔‘‘ان کی تمام باتیں ہم لکھ لیں گے جس طرح انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا وہ بھی لکھ لیا گیا ہے اور ہم ان سے کہیں گے ،’’اب دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو۔‘‘
[3:182] ’’یہ نتیجہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا۔‘‘خدا کبھی اپنے بندوں کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا۔
[3:183] یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں،’’ خدا نے ہم کو ہدایت کی ہے کہ ہم کسی پیغمبر کو اس وقت تک نہ مانیں گے جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرئے جس کو آگ کھا لے۔‘‘ کہہ دیجیے،’’مجھ سے پہلے بھی تمہارے پاس روشن نشانیوں کے ساتھ پیغمبر آچکے ہیں ان کے پاس وہ نشانی بھی تھی جس کا تم نے ابھی مطالبہ کیا ہے ،اگر تم سچے تھے تو تم نے انہیں کیو ں قتل کیا ؟‘‘
[3:184] اگر وہ تمہار انکار کردیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے بھی جھٹلائے جا چکے ہیںحالانکہ وہ صاف صاف نشانیاں،صحیفے اورروشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے ۔
عظیم کامیابی
[3:185] ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس کے بعد تم قیامت کے دن اجر ملے گا ۔وہاں جو دوزخ کی آگ سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہوگیا اس نے عظیم کامیابی حاصل کرلی ۔اس دنیا کی زندگی ایک فریب سے زیادہ نہیں ۔
ناگزیر آزمائش*
[3:186] تم یقینا جان اور مال کے ذریعے آزمائے جائو گے اور تم اہل کتاب اور مشرکو ں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے ۔اگر تم ثابت قدم رہے اور پرہیز گاری کی زندگی گزارتے رہے تو اس سے تمہارے ایمان کی مضبوطی ثابت ہوجائےگی ۔ *3:186آزمائش میں پورا اترنے کے بعد خدا ئے واحد کے پکے عبادت گزار اس دنیا میں اور آخرت میں بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔دیکھیے29:2-3،10:62اور24:55۔
[3:187] خدانے اہل کتاب سے عہد لیا تھا ،’’تم اس کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلائو گے اور اس کو چھپائو گے نہیں ۔‘‘لیکن ان لوگوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اس کا سودا کرلیا ۔کتنا ہی برا ہے یہ کاروبار۔
[3:188] اور جو لوگ اپنے کاموں پر شیخیاں بکھیر رہے ہیں اور ان کاموں کی تعریف حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں جو انہوں نے کیے ہی نہیں ۔ان کے بارے میں یہ نہ سمجھنا کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے ،انکے لیے دردناک عذاب ہے۔
[3:189] زمین اور آسمانوں کی بادشاہی خدا کے پاس ہے اور وہ سب پر قادر ہے۔ جو دانش مند ہیں
ذہانت رکھنے والے
[3:190] زمین اور آسمانوں کی پیدائش اور رات اور دن کی گردش میں ان لوگوں کےلئے نشانیاں ہیں جو دانش مند ہیں۔
[3:191] وہ لوگ اٹھتے ،بیٹھتے اورلیٹے ہوئے خدا *کو یاد کرتے ہیں اورزمین و آسمان کی ساخت پر غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں :اے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا ،تری ذات عظیم ہے ،ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا ۔ *3:191کوئی بھی بات یا چیز جو ہر وقت دل میں سمائی رہے وہ تمہارا خدا ہے ۔سچے ایمان والے خدا کو ہروقت یاد رکھتے ہیں۔دیکھیے23:84اورضمیمہ 27۔
[3:192] اے ہمارے رب، تو جس کو چاہے دوزخ میں ڈال دے ۔ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ۔
[3:193] اے ہمارے رب ،ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اورکہتا تھا :’تم اپنے خدا کومانو،اورہم نے مان لیا ۔اے ہمارے مالک ہمارے قصورمعاف اور برائیاں دور کردے اورہماراخاتمہ نیک لوگوں کی طرح کر۔
[3:194] ’’ہمارے مالک ،ہم پر ان عنایات کی بارش کرجس کا وعد ہ تو نے اپنے پیغمبروں کے سے کیا ہے اورقیامت کے دن ہمیں تنہا نہ چھوڑنا ،بے شک تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔‘‘ خدا کا جواب
خدا کا جواب
[3:195] جواب میں ان کے خدا نے فرمایا :’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔تم سب ایک دوسرے کے برابر ہو۔جن لوگوں نے میری خاطر ہجرت کی ،انہیں ستایاگیا اور وہ میری راہ میں لڑے اور مارے گئے ان کے سب قصور معاف کردوں گا اورانہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ۔‘‘یہ ہے خدا کے ہاں ان کی جزا اوربہترین جزا تو خدا کے پاس ہی ہے۔
[3:196] کافروں کی ظاہر ی کامیابی سے مثاثرمت ہونا ۔
[3:197] وہ عارضی طورپر لطف اندوز ہورہے ہیں، ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے ؛اور وہ کیا ہی عذاب ناک ٹھکانا ہے۔
[3:198] جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں ان کا ٹھکانا وہ باغ ہیں جن میں نہریں بہتی ہونگی اور وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔خدا کی طرف سے یہ ان کے لئے ضیافت کا سامان ہے ۔اورخدا کے پاس ایمان والوں کےلئے جو کچھ ہے وہ بہت ہی بہتر ہے ۔ نیک یہودی اور عیسائی
صالح یہودی اور عیسائی
[3:199] یقیناپہلی کتابوں کے ماننے والوں میں سے بعض خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر بھی جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور اس پر بھی جوان پر نازل کیا گیا تھا۔وہ خدا کے آگے جھکتے ہیں اور خدا کی آیات کو تھوڑی سے قیمت پر فروخت نہیں کرتے ۔وہ اپنا اجراپنے خدا سے پائیں گے اوراورخدا کو اجردینے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔
[3:200] اے لوگو جوایمان لائے ہو،ثابت قدم رہو،اپنے آپ کو سنبھالواور متحد رہواورخدا سے ڈروتاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔