سورۃ 4: خواتین(النساء)
خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
[4:1] اے لوگو،خدا کوکی طرف دھیان رکھو؛ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اوراس سے اس سے ساتھی بنایا اور پھردو سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔اس خداتعظیم کرو جس کے نام کی تم قسم کھاتے ہو۔اوروالدین کی عزت کرو،خدا تم پر نظر رکھے ہوئے ہے *۔
یتیموں کا خیال رکھو
[4:2] یتیموںکی جائز جائیدادیں انہیں واپس کردواوربرے کو اچھے سے نہ بدلو اورانکی جائیداوں کو اپنی جائیدادوں کےساتھ ملاکر استعمال نہ کرو۔یہ بہت بڑی بے انصافی ہے ۔
ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے جواز*
[4:3] اگر تم یتیموں کے لیے بہتر سمجھو تو ان کی مائوں سے شادی کرلو۔تم دو تین اور چار شادیاں کرسکتے ہو۔اگر تمہیں یہ خدشہ ہوکہ تم انصاف نہیں کرپائو گے تو ایک ہی شادی پر اکتفا کرویا اس پر جوپہلے ہی تمہارے پاس ہے۔اس طرح تم مالی مشکلات سے بچ جائوگے۔
[4:4] عورتو ں کے مہر عدل سے ادا کرو،اگر وہ خود اپنی مرضی سے کچھ معاف کرنا چاہیں تو تم اس کو قبول کرسکتے ہو؛یہ تمہارے لیے بالکل جائز ہوگا۔
[4:5] اورنادان یتیموں کو وہ جائیداد نہ دو جس کا خدا نے تمہیں بطورسرپرست سپرد کی گئی ہیں ،تم اس میں سے ان کے لئےفراہم کرو اور انہیں کپڑے پہناؤ اور ان کے ساتھ شفقت سے پیش آؤ۔
[4:6] جب یتیم بلوغت کو پہنچ جائیں تو ان کی آزمائش کرو۔جونہی تم سب سمجھو کہ وہ اب کافی پختہ ہوگئے ہیں تو ان کی جائیدا ان کے حوالے کردو ۔اس سے پہلے کہ یہ بڑے ہو جائیں، اسے جلدی سے فضول خرچ کرنے کی کوشش نہ کرنا ۔سرپرست اگر امیر ہوتو اس کو چاہیے کہ کسی قسم کا معاوضہ نہ لے ،تاہم غریب سرپرست معروف طریقے سے اپنا معاوضہ لے سکتا ہے ۔جب یتیموں کو مال واپس کرو تو اس پرگواہ بنالو۔حساب لینے کےلئے خدا کافی ہے۔
خواتین کے موروثی حقوق
[4:7] جو والدین اور رشتہ دار پیچھے چھوڑتے ہیںاس میں مردوںکا حصہ ہے اور اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہے جو والدین اور رشتہ دار پیچھے چھوڑتے ہیں۔ خواہ وراثت چھوٹی ہو یا بڑی (عورت کولازمی)مخصوص حصہ ملنا چاہیے۔
[4:8] وراثت کی تقسیم کے وقت اگر رشتہ دار ، یتیم اورحاجت مند موجود ہوں، توتم انہیں بھی اس میں سے دواوران کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔
[4:9] جن لوگوں کوصرف اپنے بچوں کی فکرہو،اگر وہ اپنے پیچھے انہیں چھوڑ دیں توخدا کی طرف دھیان رکھیں اور انصاف کریں ۔
[4:10] جولوگ یتیموں کا مال ناجائز کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اورجہنم کی سزا بھگتیں گے ۔
اگر وصیت نہ کی گئی ہوتو *
[4:11] 11. خدا تمہارے بچوں کے فائدہ کےلئے وصیت کرنے کا حکم دیتا ہے ؛مرد کو عورت کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا ۔*اگر وارث صرف عورتیں ہوں، ایک سے زیادہ ،تو انہیں ترکے کا دوتہائی حصہ ملے گا۔اگر وارث صرف ایک بیٹی ہوتو اس کا آدھا حصہ ہے ۔متوفی کے والدین کو وراثت میںفی کس چھٹا حصہ ملے گابشرطیکہ اس نے بچے چھوڑے ہوں۔اگر فوت ہونے والا کوئی بچہ پیچھے نہ چھوڑے اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو ایک تہائی حصہ ملے گا ۔اگر اس کے بہن بھائی موجود ہوں تو پھر ماں کو چھٹا حصہ ملے گا ۔یہ سب میت کی چھوڑی ہوئی وصیت پوری اوراس پر واجب الادا قرض ادا کرنے کے بعدکیا جائیگا۔جہاں تک تمہارے والدین اور بچوں کا تعلق ہے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون حقیقی طورتمہارے لئے سب سے بہتر اور نفع بخش ہے ۔یہ خدا کاقانون ہے ۔اورخدا سب کچھ جانتا ہے اور دانا ہے ۔
ازواج کےلئے وراثت
[4:12] تمہاری عورتیں جوکچھ چھوڑیں گی اس میں سے تمہیں نصف ملتا ہے اگر وہ بے اولاد ہوں ۔اگر ان کے بچے ہوتو تمہیں ایک چوتھائی ملتا ہے اس میں جو کہ یہ چھوڑ جائیں۔یہ سب کچھ تب جب وصیت پوری کر دی جائی اور تمام قرضے ادا کردیے جانے کے بعد ۔انہیں ایک چوتھائی حصہ ملتا ہے اس میں جو کہ تم چھوڑ جاوٴاگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو تو ۔اگر تمہاری اولاد ہوتو ان کو آٹھواں حصہ ملتا ہے اس میں جو کہ تم چھوڑ جاوٴ۔یہ سب حصے تمہاری وصیت پوری اورقرض ادا کرنے کے بعد ۔اگرمرحوم مرد یا عورت اکیلا ہواور دو بہن بھائی چھوڑ جائے ،مرد یا عورت ،توان میں سے ہر ایک کو وراثت کا چھٹا حصہ ملتا ہے۔اگر بہن بھائی زیادہ ہوں تووہ وراثت کے ایک تہائی حصہ میں برابر کے شریک ہونگے۔یہ سب کچھ تب جب وصیت پوری کر دی جائی اور تمام قرضے ادا کردیے جانے کے بعد تاکہ، تاکہ کسی کوٹھیس نہ پہنچے۔یہ ایک وصیت ہے جس کا حکم خدا نے جاری کیا ہے۔خدا سب کچھ جاننے والا اور بردبار ہے۔
خدا پیغمبر کے ذریعے ہم سے کلام کرتا ہے ۔
[4:13] یہ خدا کے قوانین ہیں ۔جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ،خدا انہیں ایسے باغوں میں داخل کریگا جن میں نہریں بہتی ہونگی اور وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے ۔یہ عظیم ترین کامیابی ہے۔
[4:14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کریگااوراور اس کے قوانین سے تجاوز کریگا خدا اسے جہنم میں داخل کریگا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔اور اس کے لئے شرمناک سزا ہے ۔
طِبّی قید
[4:15] تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں ان کے خلاف تم اپنے لوگوں میں سے چار آدمیوں کی گواہی لے لو۔اگر وہ گواہی دیدیں تو ان عورتوں کو انکے گھروں میں رکھو حتی ٰ کہ انہیں موت آجائے یا خدا ان کےلئے کوئی راستہ نکال دے*۔
[4:16] اورجو جوڑا بدکاری کا مرتکب ہو اس کو سزا دی جائے ،اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں تنہا چھوڑ دو ۔خدا توبہ قبول فرمانے والااور رحم فرمانے والا ہے ۔
توبہ
[4:17] خدا کے ہاں ان لوگوں کی توبہ قابل قبول ہے جو نادانی میں گناہ کرتے ہیںاوراس کے فوری بعد توبہ کرلیتے ہیں۔خدا انہیںمعاف کردیتا ہے ۔خدا ان کی طرف دوبارہ متوجہ ہوجاتا ہے ۔خداہر چیز کی خبر رکھنے والا ،دانا اور حکمت والاہے ۔
[4:18] ان لوگوں کی توبہ قابل قبول نہیں جواس وقت تک گنا ہ کرتے رہتے ہیں حتی ٰ کہ ان کو موت آجاتی ہے ۔وہ کہتے ہیں،’’اب میں نے توبہ کرلی۔‘‘ان لوگوں کی توبہ بھی قابل قبول نہیں جوکافروں کے طورپر مریں،ان کےلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
[4:19] اے لوگوجوایمان رکھتے ہو،تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ عورتوں کی وصیت کے بغیر ان کی چھوڑی ہوئی چیزوں کے وارث بنو۔اورتم ان کو وہ چیزچھوڑنے پر مجبور نہ کرو جوتم انہیں دے چکے ہوجب تک وہ واضح بدچلنی کی مرتکب نہ ہوں۔ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئو۔اگر تم کو وہ ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تمہیں کوئی چیز پسند نہ ہو اور خدا نے اس میں بہت سی بھلائی رکھ دی ہو۔
خواتین کےلئے تحفظ
[4:20] اور اگر تم موجودہ بیوی کی جگہ دوسری سے شادی کرنے کا ارادہ کرلو تو خواہ تم نے ان میں سے کسی کو کتناہی زیادہ مال کیوںنہ دے رکھا ہو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔کیا تم وہ چیزیں فراڈ ،بہتان اور ظلم کرکے واپس لو گے ؟
[4:21] تم ان سے کس طرح واپس لو گے جبکہ تم ایک دوسرے سے خوب بے تکلف رہ چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد بھی لے چکی ہیں؟
باپ کا احترام
[4:22] جن عورتوں سے تمہارے باپ پہلے شادی کرچکے ہوں ان سے شادی نہ کرو۔جوشادیاں پہلے ہوچکی ہیں وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں اور وہ برقرار رہیں گی۔درحقیقت یہ بہت بڑا گناہ اور قابل نفرت فعل ہے ۔
محرمات سے شادی کی ممانعت (Incest Forbidden)
[4:23] تمہارے لئے (شادی کرنا)منع ہے مائوں ،بیٹیوں،بہنوں،پھوپھیوں،خالائوں،بھتیجیوں،بھانجیوں اور ان مائوںسے جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہواور تمہاری دودھ شریک بہنوں سے ،تمہاری بیویوں کی مائوںسے اور جن بیویوںسے تم میاں بیوی کا تعلق قائم کرچکے ہوان کی لڑکیوں سے،ہاں اگر میاں بیوی کا تعلق قائم نہیں ہوا تو ان کی بیٹی سے شادی کرسکتے ہو۔اسی طرح ان عورتوں سے بھی شادی کرنا منع ہے جو تمہارے سگے بیٹوں کی بیویاں ہوںاوریہ کہ تم ایک ساتھ دو بہنوں سے بھی شادی نہ کرنا ۔لیکن موجودہ شادیوں کو ختم مت کرنا،خدا معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والاہے ۔
باہمی کشش اور مہر کی حد
[4:24] اور ان عورتو ں سے شادی بھی منع ہے جو پہلے سے شادی شدہ ہوں اور جن کے خاوند تم سے حالت جنگ *میں ہوں جب تک ایسی عورتیں اپنے کافر خاوندو ں کو چھو ڑ کر نہ آجائیں۔یہ تمہارے لئے خدا کے احکامات ہیں ۔تمام دوسری اقسام تمہارے لیے جائزہیں بشرطیکہ جائز مہر ادا کرو۔ بدکاری سے باز رہ کر تم اچھا کردار قائم رکھنا۔ان عورتوںمیں سے جو بھی تمہیں پسند ہوتم انہیں حق مہر ادا کرو گے جس کا حکم دیا گیا ہے ۔اگر تم مہر میں کمی بیشی کے سلسلے میں باہمی طورپر کوئی معاہدہ کرلیتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔خدا علیم اور دانا ہے ۔
[4:25] تم میں سے وہ لوگ جوآزاد مومن خواتین سے شادی کی سکت نہ رکھتے ہوں وہ مومن لونڈیوں سے شادی کرلیں خدا تمہارے ایمان کاحال سب بہتر جانتا ہے اور جہاں تک ایمان کا تعلق ہے تم ایک دوسرے کے برابر ہو۔ان سے شادی کرنے سے پہلے ان کے سرپرستوں سے اجازت حاصل کرو اور انہیں معروف طریقے سے حق مہر ادا کرو۔وہ اپن اخلاقی رویہ برقرار رکھیں ،بدکاری کی مرتکب نہ ہوں اور نہ ہی خفیہ آشنا بنائیں۔ جب وہ شادی کے ذریعے آزاد ہو جائیں اورپھر بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد عورتوں سے نصف ہوگی *۔جو لوگ انتظار نہیں کرسکتے،لونڈیوں کےساتھ شادی ان کا آخری چارہ ہوگا۔صبر کرنا تمہارے لیے بہتر ہے۔خدا معاف فرمانے والا اور رحیم ہے ۔
[4:26] خدا تم پر چیزیں واضح کرناچاہتا ہے اور ماضی کی مثالوں سے تمہیں ہدایت دینا چاہتا ہے اور تمہیں معاف کرنا چاہتا ہے ۔خدا ہرچیز پر قادراورداناہے ۔
خدا کا رحم
[4:27] خدا تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے لیکن جو لوگ اپنی خواہش نفس کا پیچھا کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم پھر کر بہت دور نکل جائو۔
[4:28] خدا تمہار ابوجھ کم کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔
قتل ،خودکشی اور ناجائز منافع خوری کی ممانعت
[4:29] اے لوگو جو ایمان لائے ہو،ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو ۔ صرف باہمی رضامندی سے ہی لین دین کی اجازت ہے ۔ اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔خدا تم پر مہربان ہے ۔
[4:30] تم میں سے جو بھی جان بوجھ کر اور بدنیتی سے اس قسم کی زیادتیاں کریگا ہم اسے دوزخ میں ڈالیں گے ۔ایسا کرنا خدا کے لئے آسان ہے ۔
[4:31] اگر تم بڑے گناہوں سے ،جن سے تم کو منع کیا گیا ہے ، باز رہوگے تو ہم تمہارے گناہ معاف فرمادینگے اور تمہیں عزت والی جگہ میں داخل کرینگے۔
مردوں اور عورتوں کو مساوی صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں
[4:32] خدا نے تم میں سے ہرایک کو جو خوبیاںزیادہ عطا کی ہیں ان کی حرص نہ کرو؛بعض خوبیوں سے مرد لطف اندوز ہوتے ہیں اوربعض خوبیوں سے خواتین ۔تم خدا سے یہ التجا کرسکتے ہوکہ وہ تم پر اپنے فضل کی بارش کرے۔خداسب چیزوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔
خدا کے تجویز کردہ وراثت کے قوانین پر اعتراض مت کرو
[4:33] ہم نے تم میں سے ہر ایک کےلئے والدین اور رشتے داروں کے چھوڑے ہوئے مال میںحصے مقرر کردیئے ہیں ۔اوران کے لئے بھی جو شادی کے ذریعے تم سے متعلق ہیں انہیں ان کا جائز حق دو۔خدا سب چیزوں کا گواہ ہے۔
اپنی بیوی کو مت پیٹو *
[4:34] آدمی عورتوںکے ذمہ دار بنائے گئے ہیں**،خدا نے انہیں مخصوص خوبیاں عطا کی ہیں،انہیں روزی کمانے والا بنایا ۔راست باز خواتین اس قانون کو ہنسی خوشی قبول کرلیں گی ،کیونکہ یہ خداکا حکم ہے اور وہ اپنے خاوندکی عدم موجودگی میں ان کی عزت کا خیال رکھیں گی ۔اگر وہ سرکشی پر اتر آئیں تو پہلے ان سے بات کرو،اس کے بعد(تم منفی حربے استعمال کرسکتے ہومثال کے طورپر) انہیں بستر پر تنہا چھوڑ دو، اسکے بعد(آخری حربے کے طور پر) تم ان کو پیٹ سکتے ہو اور اگر وہ تمہاری بات مان جائیں تو تمہیں ان سے زیادتی کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔خدا سب سے بالا اور اعلی ٰ ہے ۔
شادی کی ثالثی
[4:35] اگر میاں بیوی کو علیحدگی کا خدشہ ہوتو ایک ثالث خاوند کے رشتہ داروں میں سے او ر ایک بیوی کے رشتہ داروں میں سے مقررکرو ؛اگر وہ مصالحت کا فیصلہ کریں تو خداا نہیں مل بیٹھنے میں مدددیگا۔خداسب کچھ جانتا اور باخبر ہے۔
اہم احکامات
[4:36] تم سب خدا کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کونہ ملائو۔اپنے والدین ،رشتہ داروں،یتیموں،غریبوں ،قریبی ہمسایوں اور دورکے ہمسایوں،قریبی ساتھیوں، اجنبی مسافروںاور اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔خدا تکبر والی شیخیاں پسند نہیں کرتا ۔
[4:37] جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروںکو بھی کنجوسی کی ترغیب دیتے ہیں اورجو کچھ خدا نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ہم نے ایسے کافروں کےلئے عبرتناک سزا تیار کررکھی ہے۔
[4:38] وہ خیرات کےلئے پیسے دیتے ہیں تو صرف دکھاوے کےلئے ،جب کہ خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔اگر کسی انسان کا ساتھی شیطان ہو تو وہ سب سے برا ساتھی ہے۔
[4:39] یہ لوگ خدا اوریوم آخرت پر ایمان کیوں نہیں رکھتے اور خدا نے انہیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کیوں نہیں کرتے ؟خدا ان سے خوب واقف ہے۔
خدائی انصاف
[4:40] خدا کسی سے ذرہ برابر ناانصافی نہیں کرتا ۔اس کے برعکس وہ نیک کام کا بدلہ کئی گنا بڑھا چڑھا کردیتا ہے اوراپنی طرف سے عظیم بدلہ عطا فرماتا ہے ۔
[4:41] جب (حساب کا) دن آئیگا تو ہم ہر معاشرے میں سے ایک گواہ بلائیں گے اور آپ(پیغمبر)بھی ان لوگوں میں گواہی دینگے۔
[4:42] اس دن پیغمبر پر ایمان نہ لانے والے اور اس کی نافرمانی کرنے والے یہ خواہش کرینگے کہ کاش وہ زمین کا حصہ بن جائیں؛وہ اپنی کوئی بھی بات خدا سے چھپا نہ سکیںگے۔
وضو کن باتوں سے ٹوٹتا ہے
[4:43] اے لوگو،جو ایمان لائے ہو ،نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو،تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔اورجنابت کے بعد غسل کئے بغیر بھی ،سوائے اس کے کہ تم سڑک پر سفر میں ہو؛یا تم بیمار ہویاسفر میں ہویا تمہیں پیشاب کا عارضہ لاحق ہویا رفع حاجت کرکے آئے ہویا پیٹ میں گیس کی تکلیف ہویا عورت سے جنسی لمس کیا ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک خشک مٹی پر ہاتھ لگا کر چہرے اورہاتھوں پر پرپھیر کر تیمم (خشک وضو)کرلو۔خداخطائیں معاف کرنے والا اور بخشش کرنے والاہے ۔
[4:44] کیا تم نے ان لوگوں کا حال دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا اور انہوں نے کس طرح گمراہی کا راستہ اختیار کیا اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جائو؟
[4:45] خدا خوب جانتا ہے کہ تمہارے دشمن کون ہیں ۔صرف خدا ہی مالک اور آقا ہے ۔خدا واحد مددگارہے۔
[4:46] جو یہودی ہیں ان میں سے بعض الفاظ کو توڑ موڑ کر سچ کو اوجھل کردیتے ہیںاور وہ کہتے ہیں ،’’ہم نے سنا لیکن مانتے نہیں ‘‘اور’’ تمہاری باتیں بہرے کانوں سے ٹکر ارہی ہیں،‘‘اور راعنا* (ہمارے گڈریا بن جائیے)،’’اس طرح وہ اپنی زبان کو پھیر کر مذہب کا مذاق اڑاتے ہیں ۔اگر وہ یہ کہتے ،’’ہم نے سنا اور ہم مانتے ہیں ،‘‘اور ہم آپ کی بات سن رہے ہیں ،‘‘اور ’’انظرنا‘‘(ہم پر نگاہ رکھیں)تو یہ ان کےلئے ہی بہتر اور اچھاتھا ۔اس کی بجائے ان کے کفر کی بدولت ان پر خدا کی پھٹکار پڑ گئی ہے ۔
[4:47] اے لوگوجن کو کتاب ملی ہے ،جوکچھ اس میں نازل ہوا ہے اس پر ایمان لائو،یہ اس کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے قبل اس کے کہ ہم بعض چہروں کو شہر بدر کردیں یا اس طرح ان پر لعنت کردیں جس طرح سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کی تھی۔خدا کا حکم نافذ ہوکر رہتا ہے ۔
ناقابل معافی گناہ
[4:48] خدا شرک کو معاف نہیں کرتا ، *البتہ وہ جس کے چاہے چھوٹے گنا ہ معاف کردے ۔اور جس نے بھی خدا کے ساتھ کسی کوشریک ٹھہرایا اس نے بہت ہی سنگین جرم کیا ۔
[4:49] کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا جو اپنی پاکیزگی کا دعوی کرتے ہیں؟حالانکہ خداہی کسی ناانصافی کے بغیر جسے چاہے پاکیزگی عطا کرتا ہے ۔
[4:50] دیکھو یہ لوگ خدا کے بارے میں کیسی جھوٹی باتیںگھڑتے ہیں ؛کیسا گھنائونا ہے یہ جرم!
[4:51] کیا تم نے ان لوگوں کا حال دیکھا جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا تھا اور وہ کس طرح شرک اور جھوٹے عقیدے کو مانتے ہیں اور کہتے ہیں ،’’ایمان لانے والوں سے بہتر ہدایت تو کافروں کو ملتی ہے ؟!‘‘
[4:52] یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا کی لعنت ہوتم اس کا کوئی مدد گار نہیں پائو گے۔
[4:53] کیا ان کاحاکمیت میں کوئی حصہ ہے ؟اگر ان کا کوئی حصہ ہوتا تووہ کسی کودانہ برابر بھی نہ دیتے ۔
[4:54] کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ خدا نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے ؟ہم نے ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی ؛اورانہیں عظیم اختیار دیا ۔
[4:55] مگر ان میں سے بعض لوگ اس پر ایمان لائے اور بعض پیٹھ پھیرتے ہیں ؛ایسے لوگوں کی صحیح سزا صرف دوزخ ہی ہے ۔
دوزخ کا تمثیلی بیان
[4:56] بے شک جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم انہیں جہنم کی آگ میں پھینکیں گے ۔جب ان کی کھال جل جائے گی تو ہم ان پر نئی کھال چڑھا دیں گے ۔اس طرح وہ مسلسل عذاب میں رہیں گے۔خدا بڑی قدرت والا اور دانا ہے ۔
[4:57] اورجو لوگ ایما ن لائیں گے اور پاکیزہ زندگی گزاریں گے ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کرینگے جن میں نہریں بہتی ہونگی ؛جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہاںان کو پاک بیویاں ملیں گی ۔اورہم انہیںنعمت بھری چھائوں میں رکھیں گے۔
ایمانداری اور انصاف کی تلقین
[4:58] خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کی امانتیں واپس کردو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔اور سب سے اچھی نصیحت وہی ہے جو خدا تم کو کرتا ہے ۔خدا سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔
[4:59] اے ایمان والو،خدا اور اسکے رسول کی اطاعت کرواور ان لوگوں کی جو تم میں انچارج ہوں۔اور جب کسی معاملہ میں تنازع کھڑا ہوجائے تواسے خدا اور رسول کی طرف پھیر دو۔اگر تم خداا ور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو ۔یہ تمہارے لیے بہترہے اوریہی تمہارے لیے سب سے بہتر ین حل ہے ۔
اہل ایمان یا منافق
[4:60] کیا تم نے ان لوگوں کا حال دیکھا جو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے جو تم پر نازل ہوا ہے اور تم سے پہلے نازل ہوچکا ہے اور پھر جن کوشریک ٹھہراتے ہیں ان کے غلط قوانین کو اپناتے ہیں؟انہیں ایسے قوانین کومسترد کرنے کا حکم دیاگیا تھا ۔بے شک شیطان کی خواہش ہے کہ انہیں دورتک بھٹکا دے۔
[4:61] جب ان سے کہا جاتا ہے ،’’اس چیز کی طرف آئو جو نازل کی گئی ہے اور اس پیغمبر کی طرف،‘‘تومنافقین تم سے مکمل کنارہ کشی کرلیتے ہیں ۔
[4:62] اس وقت کیا بنے گا جب ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے تباہی ان پر ٹوٹ پڑے گی ؟اورپھریہ تمہارے پاس آئیں گے او رخدا کی قسم کھا کرکہیں گے:،’’ ہمارا ارادہ درست اور بھلائی کا تھا !‘‘
[4:63] خدا ان کے دلوں کا حال خوب جانتا ہے ۔تم ان سے درگزر کرو،انہیں سمجھائو اور انہیں ایسی نصیحت کرو جو ان کے نفسوں کو بچالے ۔
غیر مشروط فرمانبرداری : سچے اہل ایمان کی خوبی
[4:64] ہم نے کوئی ایسیا پیغمبر نہیں بھیجا سوائے اس مقصد کے کہ خدا کے حکم کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے۔اگر وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے کے بعد تمہارے پاس آتے اور خدا سے معافی کی دعا کرتے اور رسول بھی ان کےلئے معافی کی درخواست کرتا تو وہ خدا کو معاف کرنے والا اورنہایت رحم کرنے والا پاتے ۔
[4:65] تمہارے رب کی قسم یہ لوگ کبھی اہل ایمان نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافات کا فیصلہ کرانے تمہارے پاس نہ آئیں اور پھر اس فیصلے کو تسلیم کرنے کےلئے اپنے دلوں میں کوئی بھی جھجک محسوس نہ کریں ۔انہیں مکمل فرمانبرداری کرنی چاہیے۔
خدا کی آزمائش حکمت سے خالی نہیں ہوتی
[4:66] اگر ہم انہیں حکم دیتے :’’تم اپنی جانیں قربان کرو،‘‘یا’’اپنا گھربار چھوڑ دو ،‘‘توان میں سے چند ایک کے علاوہ دوسرے یہ کام نہ کرتے۔(اگر یہ حکم جاری بھی کردیا جاتا ) اوریہ اس پر عمل کرتے جس کا حکم دیا گیا تھاتو یہ ان کےلئے بہتر ہوتااوران کے ایمان میںمزید پختگی ثابت ہوجاتی۔
[4:67] اور ہم انہیں عظیم بدلہ دیتے ۔
[4:68] اور ہم انہیں راہ راست کی ہدایت دیتے ۔
اہل ایمان کے درمیان مساوات
[4:69] جو لوگ خدا اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ ہونگے جن پر خدا نے انعام کیا ہے یعنی پیغمبروں،بزرگوں،شہیدوںاورصالحین کے ساتھ۔ اور ان کی رفافقت سب سے اچھی ہے۔
[4:70] یہ ہے خدا کی طرف سے فضل ؛خدا سب سے زیادہ جاننے والاہے۔
[4:71] اے ایمان والو،مقابلے کےلئے تیا ررہو۔دستوں کی شکل میں یا پھر اکٹھے حرکت میں آئو۔
[4:72] بے شک تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو قدم کھسکائیں گے اور اگر تمہیںدھچکا لگے تو کہیںگے ،’’خدانے مجھ پر کرم کیا جو میں ان کے ساتھ شہید نہیں ہوا ۔‘‘
[4:73] اور اگر تم پر خدا کافضل ہوتووہ کہیں گے،’’ تمہارے اور ہمارے درمیان کبھی بھی رفاقت نہیں رہی ،’’کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا اور مجھے بھی اس عظیم فتح میں کوئی حصہ مل جاتا ۔‘‘
[4:74] جولوگ خدا کی راہ میں بخوشی لڑتے ہیںوہ آخرت کے بدلے اس دنیا سے دستبردار ہوجاتے ہیں ۔جو بھی خدا کی راہ میں لڑتا ہے اورپھر مارا جاتا ہے یافتح حاصل کرتا ہے تو ہمیں اس کو اجر عظیم دینگے۔
اہل ایمان بے خوف ہوتے ہیں
[4:75] تم خدا کی راہ میں کیوں جنگ نہیں کرتے ،جب کمزورمرد،عورتیں اور بچے خدا سے یہ التجا کررہے ہوں :’’اے خدا ہمیں اس معاشرے سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں ،تو ہی ہمارا رب اور آقا ہے ۔‘‘
[4:76] جو لوگ ایمان والے ہیں وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ جبر کی خاطر لڑتے ہیں۔لہذا تم شیطان کے ساتھیوں کیخلاف لڑو؛شیطان کی طاقت کچھ نہیں ۔
[4:77] کیا تم نے ان لوگوں کا حال دیکھا جنہیں کہا گیا تھا ،’’تمہیں لڑنے کی ضرورت نہیں؛تمہارے لیے نماز قائم کرنا اور فرض خیرات (زکواۃ) دینا ہی کافی ہے ،‘‘پھر جب انہیں جنگ کرنے کا حکم دیا گیاتو وہ لوگوں سے ایسے ڈرے جس طرح خدا سے ڈرا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔انہوں نے کہا،’’اے ہمارے مالک تم نے ہم پر جنگ کیوں مسلط کردی ؟کیا توہمیں لمحہ بھر مہلت نہیں دے سکتا!کہہ دیجیے،’’اس دنیا کی چیزیں کچھ بھی نہیں ، نیکو کاروں کےلئے آخرت اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔اور تم سے کبھی بھی چھوٹی سی ناانصافی نہیں ہوگی۔‘‘
خدا ہی سب کچھ کرنے والا ہے *
[4:78] تم جہاں بھی ہوگے موت تمہیں آ لے گی خواہ تم کتنے ہی مضبوط قلعے میں کیوں نہ ہو۔اگر انہیں کوئی فائدہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں،’’یہ خدا کی طرف سے ہے‘‘اور جب کسی چیز سے نقصان پہنچتا ہے تو تمہیں ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔کہہ دیجیے،’’سب کچھ خدا کی طرف سے ہے۔‘‘یہ لوگ کیوں تقریباًہر بات کو غلط سمجھتے ہیں؟
کوئی بری چیز خدا کی طرف سے نہیں ہے
[4:79] تمہیں جو بھی فائدہ ہوتا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچتا ہے وہ تمہاری طرف سے ہوتا ہے ۔ہم نے تمہیں پیغمبر بنا کر لوگوں کی طرف بھیجا ہے* اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے۔
[4:80] جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ خدا کی اطاعت کرتا ہے ۔اورجن لوگوں نے منہ موڑ لیا ہم نے تمہیں ان کا نگران بنا کرنہیں بھیجا ۔
[4:81] وہ اطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن جب وہ تمہیں چھوڑ کر جاتے ہیں تو ان میں سے بعض اپنی کہی ہوئی باتوں کے برعکس ارادے کرتے ہیں ۔خدا ان کے خفیہ حال ریکارڈ کررہا ہے ۔تم ان کی پرواہ نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو۔خدا وکالت کےلئے کافی ہے۔
خدائی تصنیف کا ثبوت
[4:82] یہ لوگ احتیاط سے قرآن کیوں نہیں پڑھتے ،اگر یہ خدا کی بجائے کسی اور کی طرف سے ہوتا تو انہیں اس میں کئی تضادات نظر آجاتے* ۔
شیطان کی افواہوں سے خبردار رہو
[4:83] یہ لوگ جب بھی سلامتی کےلئے خطرے کی افواہ پاتے ہیںتو اس کو پھیلا دیتے ہیں ۔اگر وہ اس کو رسول یا صاحب امر افراد کے پاس لے آتے جوان معاملات کو سمجھتے ہیں تو وہ ان کو مطلع کردیتے ۔اگر تم پر خدا کا فضل نہ ہوتا تو سوائے چند ایک کے تم لوگ شیطان کے پیچھے لگ جاتے ۔
[4:84] تم خدا کی راہ میں لڑو،تم اپنی ذات کے لئے ذمہ دا ر ہو۔اوراہل ایمان کوبھی ایسا ہی کرنے کی ترغیب دو۔خدا کافروں کی طاقت بے اثر کردیگا۔خدا سب سے زیادہ طاقتور اور اثرو رسوخ والاہے۔
ذمہ داری
[4:85] جوکوئی بھلائی کا واسطہ بنے گا اس کو اس کا اجر ملے گااور جوبرائی کا واسطہ بنے گااس میں حصہ پائیگا۔خدا تمام چیزوں پر قادر ہے۔
مروت سے پیش آئو
[4:86] جب تمہارا خیر مقدم کیا جائے تو اس کا جواب میں تم زیادہ اچھا خیر مقدم کرو سے دو یا کم ازکم اس کے برابر ۔خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
[4:87] خدا:خدا کے سوا دوسرا کوئی خدا نہیں ۔یقینا وہ قیامت کے دن ،جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ،تم کو بلائے گا۔خدا کے بیان سے زیادہ سچا اور کس کا بیان ہوسکتا ہے ؟
منافقوں سے کس طرح پیش آیا جائے
[4:88] منافقین کے بارے میں تم لوگ کیوں (آپس میں)دو گروپوں میں بٹ گئے ہو؟ خدا وہ ہےہ جو ان کے اپنے رویے کے باعث ان کو رد کرچکا ہے۔کیا تم ان کو ہدایت دینا چاہتے ہوجنہیں خدا نے گمراہ کردیا ہے ؟جن کو خدا بھٹکا دیتا ہے ان کے لئے تم ہدایت کا کبھی کوئی راستہ نہیں پاسکتے ۔
[4:89] وہ چاہتے ہیںتم بھی اس طرح کفر کرو جس طر ح انہوں نے کفر کیا ہے ،پھر تم برابر ہوجائو گے ۔ان کو اس وقت تک دوست مت سمجھو جب تک وہ خدا کی راہ میں تمہارے ساتھ حرکت میں نہیں آتے۔ اگر وہ تمہارے خلاف ہوجائیں تو ان سے جنگ کرواور جب جنگ میں ان کا تمہارے ساتھ آمنا سامنا ہو تو انہیں قتل کرو۔انہیں دوست او ر اتحاد ی کے طور پر قبول نہ کرو*۔
[4:90] اس حکم سے وہ مستثنیٰ ہیں جو ان لوگوں سے مل جائیںجن کے ساتھ تم امن کامعاہدہ کرچکے ہو۔اور وہ لوگ بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پا س اس لئے آجائیں کہ نہ تم سے لڑیں گے اور نہ اپنے رشتہ داروں سے ۔خدا چاہتا توانہیں تمہارے خلاف لڑائی کی اجازت دے دیتا ۔ لہذا اگر وہ تم کو اکیلا چھوڑ دیں اور تمہیں امن کی پیشکش کریں اورلڑائی سے باز رہیں توخدا تمہیں ان کے ساتھ لڑائی کا کوئی جواز نہیں دیتا ۔
[4:91] اس کے علاوہ تم ایسے لوگ بھی پائو گے جو تمہارے ساتھ امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لوگوں سے بھی ،لیکن جونہی جنگ چھڑتی ہے تو وہ تمہارے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔ایسے لوگ جب تک تم کو اکیلا نہ چھوڑ دیں ،امن کی پیشکش نہ کریں اور لڑائی بند نہ کریں ،جب ان سے سامنا ہوتو تم ان سے جنگ کرو۔ان لوگوں کے خلاف ہم تمہیں کھلا اختیا ر دیتے ہیں۔
تم قتل نہ کرنا
[4:92] کوئی مومن کسی دوسرے مومن کوقتل نہ کرئے الا ّ یہ کہ حادثاتی طورپر ایسا ہوجائے ۔اگر کوئی شخص حادثاتی طورپر کسی مومن کو قتل کردے تو کفارے میں ایک مومن غلام آزاد کرئے اور مقتول کے خاندان کومعاوضہ ادا کرئے الایہ کہ وہ معاوضہ خیرات کے طور پر معاف کردیں۔لیکن اگر مقتول مومن اور کسی ایسی قوم سے ہو جس کے ساتھ تمہاری جنگ ہوتو اس کا کفارہ مومن غلام کو آزاد کرنا ہے ۔اور اگر اس کا تعلق ایسی قوم سے ہو جس کےساتھ تمہار ا امن معاہدہ طے پایا ہو تو اس کا کفارہ مومن غلام کو آزاد کرنے کے علاوہ معاوضہ ادا کرنا ہے ۔اوراگر تمہیں آزاد کرنے کےلئے کوئی غلام نہ ملے تو خدا سے معافی طلب کرنے کےلئے مسلسل دو ماہ تک روزے رکھو* ۔خدا علیم اور دانا ہے۔
ناقابل معافی جرم
[4:93] جو کوئی جان بوجھ کرکسی مومن کو قتل کرئے گاتو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔خدا اس سے ناراض ہے اور اس پر لعنت کرتا ہے اور اس کےلئے اس نے خوفناک عذاب تیارکررکھا ہے۔
[4:94] اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اگر تم خدا کی راہ میںوارکرو تو تمہیں مکمل یقین ہونا چاہیے۔جو کوئی امن کی پیشکش کرے تو دنیاوی مال غنیمت حاصل کرنے کےلئے اسے یہ مت کہو کہ’’ تم مومن نہیں ہو‘‘۔خدا کے پاس بے انتہا اموال غنیمت موجود ہیں ۔یاد رکھو تم خود بھی ان کی طرح تھے پھر خدا نے تم پر نعمت کی،لہذا (وار کرنے سے پہلے )تمہیں مکمل یقین ہونا چاہیے ۔تم جوکچھ کرتے ہو خدا اس سے باخبر ہے۔
جدوجہد کرنے والوں کے لئے اعلی ٰ رتبے
[4:95] مومنوں میں وہ لوگ بیٹھے رہتے ہیں اور جو معذور نہیں وہ ان کے برابر نہیں جو خدا کی راہ میں مال اورجان سے جہد کرتے ہیں۔خدا کے جان ومال سے جہد کرنے والوںبیٹھے رہنے والوں سے زیادہ درجہ دیتا ہے ۔دونوں کےلئے خدا نے بخشش کا وعدہ کررکھا ہے لیکن خدا جہد کرنے والوں کادرجہ بیٹھے رہنے والوں سے بلندکرتا ہے عظیم صلہ کے ساتھ۔
[4:96] اس کی طرف سے اعلی ٰ رتبے ملتے ہیں،مغفرت اور رحمت بھی ۔خدا معاف کرنے والااوررحم کرنے والا ہے۔
ظلم کی مذمت
[4:97] اورجن کی جان فرشتے اس حالت میں نکالیں گے کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم میں مصروف تھے تو فرشتے ان پوچھیں گے ،’’تمہارے ساتھ کیا مسئلہ تھا ؟تو وہ جواب دیں گے ،’’ہم زمین پر مجبور تھے ۔‘‘فرشتے جواب دینگے،’’کیا خدا کی زمین اتنی وسیع نہ تھی کہ تم کہیں ہجرت کرجاتے ؟‘‘ان لوگوں کا آخری ٹھکانا جہنم ہے ،بہت ہی بر ا ٹھکانا۔
[4:98] وہ کمزور مرد،عورتیں اوربچے مستثنیٰ ہیں جونکل جانے کےلئے طاقت اوروسائل نہیں رکھتے ۔
[4:99] خدا انہیں معاف کردیگا ۔خدابخشش کرنے والا اور رحیم ہے۔
[4:100] جو کوئی خدا کی راہ میں ہجرت کرتا ہے اس کو زمین پر عظیم نعمتیں اور خزانے ملیں گے ۔اور جو خدا اوررسول کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑتا ہے اوراسی حالت میں اس کی موت آجائے تو اس کا صلہ خدا کے ہاں محفوظ ہے۔خدا معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔
[4:101] جنگ کے دوران جب تم سفر پر ہو ،اگر تمہیں خطرہ ہوکہ دشمن حملہ کردینگے، ا س صورت میںاگر تم نمازیں مختصر کرلو تو کوئی حرج نہیں۔یقینا کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
جنگ سے متعلق احتیاطی تقاضے
[4:102] اور جب تم ان کے ساتھ ہو اور نماز کی امامت کرنے لگو تو چاہیے کہ تم میں سے بعض بطور محافظ کھڑ ے ہوجائیں،وہ ہتھیار پکڑے پیچھے کھڑے رہیںجبکہ تم نماز میں مصروف ہو ۔اور اس کے بعد دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز ادا نہیں کی وہ اپنی باری پرتمہارے ساتھ نماز پڑھے اور دوسرے ان کی حفاظت کریں اور ہتھیار پکڑے رکھیں ۔جولوگ کافر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیار اور سامان سے غافل ہوجائوتاکہ وہ تم پر یکبار حملہ کردیں۔اگر تم بارش یا زخم کی وجہ سے دقت محسوس کروتواسلحہ رکھ دینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تم خبردار رہو۔خدا نے کافروں کےلئے شرمناک سزا تیار کررکھی ہے ۔
نمازیں
[4:103] جب تم نماز پڑھ چکو تو خدا کو کھڑے ،بیٹھے اورلیٹے ہوئے یاد کرو*۔اور جب جنگ ختم ہوجائے تو نماز ادا کرو؛اہل ایمان کےلئے مقررہ اوقات پر نماز ادا کرنا فرض کی گئی ہے ۔
[4:104] دشمن کا پیچھا کرتے وقت کمزوری نہ دکھائو اگر تم تکلیف میںہوتو وہ بھی تکلیف میں ہیں تاہم تم خدا سے اس چیز کی توقع کرتے ہوجس کی وہ کبھی توقع نہیں کرسکتے ۔خدا سب کچھ جانتا اور دانا ہے۔
[4:105] ہم نے کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جوکچھ خدا نے تم کو دکھایا ہے اس کے مطابق لوگوں میں فیصلہ کرو۔دغابازی کرنے والوں کا ساتھ نہ دینا۔
[4:106] خدا سے مغفرت کی التجا کرو۔خدا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔
ظالموں کا دفاع مت کرو
[4:107] جن لوگوں نے خود اپنے نفسوں پرظلم کیا ہے ان کی طرف سے دلائل نہ دو؛خدا کسی دغاباز اور گناہ گار کوپسند نہیں کرتا ۔
[4:108] یہ لوگ انسانوں سے چھپتے ہیں اور خدا سے چھپنے کی پرواہ نہیں کرتے حالانکہ جب وہ خدا کو ناپسندیدہ خیالات چھپاتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ۔خدا ہر اس بات سے باخبر ہے جویہ لوگ کرتے ہیں۔
’نرم خو ‘ بن کرکے تم ان کی مدد نہیں کرتے
[4:109] اس دنیا میں تم ان کی حمایت میں بحث کر رہے ہو لیکن قیامت کے دن خدا کےساتھ ان کی طرف سے کون بحث کرے گا؟اس دن ان کا وکیل کون ہوگا؟
[4:110] جوکوئی بدی کرتا ہے یا اپنے نفس کو خراب کرتا ہے اورپھر خدا سے معافی طلب کرتا ہے تووہ خدا کومعاف کرنے والا اورنہایت رحیم پائے گا۔
[4:111] اورجوکوئی گناہ کماتا ہے تووہ اپنے نفس کے نقصان کےلئے ہی کماتا ہے ۔خدا ہر چیزکی خبر رکھنے والا اور دانا ہے۔
[4:112] اورجوکوئی خود گناہ کرکے اس کا الزام کسی معصوم شخص پر لگاتا ہے تو اس نے بہتان اور بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ۔
[4:113] اگر تم پر خدا کافضل اور رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے بعض تمہیںگمراہ کرچکے ہوتے ۔درحقیقت وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں اوریہ لوگ کبھی بھی تمہیںکوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔خدا نے تمہاری طرف کتاب اور حکمت نازل کی ہے،اوراس نے تمہیں وہ کچھ سکھایا جو تم کبھی نہیں جانتے تھے۔بے شک تم پر خدا کافضل عظیم ہے ۔
[4:114] ان لوگوں کی خفیہ ملاقاتوں میں کوئی اچھائی نہیں، سوائے ان کے جو خیرات ،نیک کاموں اور لوگوں میں صلح کی وکالت کریں۔جو کوئی خدا کی تعلیمات کے جواب میں ایسا کریگا اس ہم عظیم صلہ دینگے۔
[4:115] اورجوشخص رسول کی مخالف کریگا، ہدایت کی طرف راہنمائی ملنے کے باوجو د، اوراہل ایمان کے راستے کے علاوہ کوئی راستہ اپنائے گا تو ہم اس کو اسی سمت چلائیں گے جس سمت کا اس نے خود انتخاب کیا ہے اور اس کو جہنم میں ڈالیں گے ؛اورجہنم کیا ہی برا ٹھکانا ہے !
ناقابل معافی گناہ
[4:116] خدا شرک کو کبھی معاف نہیں کرتا (اگر مرتے دم تک برقراررکھا جائے )،*اور وہ جس کے چاہے چھوٹے گناہ معاف کردیتا ہے اورجس نے خدا کے ساتھ کسی اور(Idol) کوشریک ٹھہرایا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔
[4:117] یہ لوگ خدا کے علاوہ دیویوں کو پوجتے ہیں ؛حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف شیطان باغی کی پوجا کرتے ہیں ۔
[4:118] خدا نے اس پر لعنت کردی ،اس نے کہا ،’’میں یقیناتمہارے بندوں* سے ایک مقررہ حصہ بھرتی کروں گا۔
[4:119] ’’میں انہیں بہکائوں گا اور انہیںآرزئوں میںالجھائوں گااور جانوروں کے کانوں پر نشان لگا کر(بعض قسم کا گوشت کھانے سے منع کروںگا)اورخدائی تخلیق میں ردو بدل کا حکم دوں گا۔‘‘جس کسی نے خدا کی بجائے شیطان کو آقا تسلیم کیا تو اس نے شدیدنقصان اٹھایا ۔
[4:120] وہ ان سے وعدے کرتا ہے اور انہیں ورغلاتا ہے ؛لیکن شیطان کے وعدے فریب کے سوا کچھ نہیں ۔
[4:121] انہوں نے جہنم کو اپنا آخری ٹھکانا بنالیا ہے جس سے وہ کبھی بچ نہیں سکیں گے۔
[4:122] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو خدا انہیں ایسے باغات میں داخل کریگا جن میں نہریں بہتی ہونگی اوروہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔یہ ہے خدا کا سچا وعدہ۔خدا کی بات سے بڑھ کر اور کس کی بات سچی ہوسکتی ہے؟
قانون
[4:123] یہ نہ تمہاری خواہش کے مطابق ہے نہ اہل کتاب کی؛جو بھی برائی کریگا وہ اس کا بدلہ پائے گا اور خدا کے مقابلہ میں وہ کوئی مددگار اور حامی نہیں پائے گا۔
[4:124] جو نیک عمل کرینگے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرط ایمان،وہ جنت میںداخل ہونگے؛ ان سے ذرہ برابر ناانصافی نہیں ہوگی۔
ابراہیم :اسلام کا بانی پیغمبر*
[4:125] اس سے بڑھ دین میں ہدایت یافتہ کون ہے جو خدا کے سامنے مکمل طور پر سر جھکا دیتا ہے۔اورابراہیم کے عقیدے کے مطابق بھلائی کی زندگی گزارتا ہے :صرف واحد خدا کی عبادت ۔خدا نے ابراہیم کواپنا پیارادوست چن لیا ہے۔
[4:126] آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے۔ خدا کوسب چیزوں پر مکمل قابو حاصل ہے ۔
[4:127] وہ تم سے عورتوں کے بارے میں مشورہ کرتے ہیں :کہہ دیجیے ،’’خدا تمہیں ان کے بارے میں باورکراتاہے ،جیسا کہ کتاب میںتمہارے لیے بیان کیا گیا ہے ۔تم یتیم لڑکیوں کے حقوق بحال کروکیونکہ جب تم ان سے شادی کرنا چاہتے ہوتو حق مہر میں انہیں دھوکہ دیتے ہو:تم ان سے فائدہ نہ اٹھائو۔اسی طرح یتیم بچوں کے حقوق کا بھی لازمی تحفظ کیا جائے ۔یتیموں کے ساتھ عدل سے پیش آئو۔تم جو بھی نیکی کرتے ہوئے خدا کو اس کی پوری خبر ہے۔‘‘
طلاق کی حوصلہ شکنی
[4:128] اگر کوئی عورت خاوند کی طرف سے ظلم اورعلیحدگی کا خطر ہ محسوس کرئے ہوتو،جوڑا اپنے اختلافات دور کرنے کی کوشش کرے،مصالحت انکے لئے بہترین ہے ۔خود غرضی انسانی صفت ہے اور اگر تم بھلائی کرو اور بھلی زندگی گزارو تو تم جوکچھ بھی کرتے ہو خدا کو اس کی پوری خبر ہے۔
ایک سے زیادہ شادیوں کی حوصلہ شکنی*
[4:129] ایک سے زیادہ بیویوں سے سلوک میں تم کبھی انصاف نہیں کرسکتے ،خواہ تم کتنی سخت کوشش کرلو، ۔اس قدر طرفداری نہ کرو کہ ان میں سے کسی کو درمیان میں لٹکتا چھوڑ دو (نہ وہ شادی کا مزہ اٹھاسکے اور نہ کسی اورسے شادی کرسکے)اگر تم اس صورتحال کی اصلاح کرلو اور بھلائی برقرار رکھو تو خدا معاف فرمانے والااورنہایت رحم کرنے والا ہے۔
[4:130] اگر میاں بیوی علیحدہ ہونے کافیصلہ ہی کرلے تو خدا ان میں سے ہر ایک کو اپنے فضل سے نوازے گا ۔خدا فضل کرنے والا اور دانا ہے۔
[4:131] آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ خدا کا ہے اورتم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہیں ہدایت کی گئی تھی اور تمہیں بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ خدا کو تعظیم کرو۔اگر تم کفر کرتے ہو تو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے۔خداکو کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔وہ تعریف کے قابل ہے۔
[4:132] آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے اورخدا واحد محافظ ہے۔
[4:133] اگروہ چاہے تو اے لوگو ،تمہیں مٹا کر تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے۔خدا یقیناایسا کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔
[4:134] اورجوبھی اس دنیا کی مادی اشیائ کی خواہش کرتا ہے وہ جان لے کہ خدا ہی کی قبضے میں ہیں اس دنیا کی چیزیں اور آخرت کی چیزیں ۔خدا سمیع وبصیر ہے ۔
جھوٹی گواہی نہ دو
[4:135] اے لوگو جوایمان لائے ہو،انصاف پر پوری طرح قائم رہو،اور گواہی دیتے وقت خداکوحاظر ناظر سمجھو،خواہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ،تمہارے والدین اور رشتہ داروں کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو۔ملزم خواہ امیر ہویا غریب،خدا دونوں کا خیرخواہ ہے۔ذاتی خواہشات کی وجہ سے تعصب نہ برتنا۔اگر تم نے (اس حکم سے) انحراف کیایا جھٹلایا تو یاد رکھوتم جو کچھ بھی کرتے ہو خدا کو اس کی خبر ہے۔
[4:136] اے لوگوجوایمان لائے ہو،خدا پر اور اسکے پیغمبر پر ایمان لائواور اس کتاب پر جو اس نے اپنے پیغمبر پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس سے قبل اتاری گئی ۔جس نے خدا ،اسکے فرشتوں،کتابوں،اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے انکار کیا ہے وہ گمراہی میں بہت دور چلا گیا ۔
[4:137] جو لوگ ایمان لاتے ہیںپھر کفر کرتے ہیں پھر ایمان لاتے ہیں اور پھر کفر کرتے ہیںاورپھر کفر میں گہرے مبتلا جاتے ہیں تو یقینا خدا ان کومعاف نہیں کریگااورنہ ہی انہیں کسی طرح ہدایت دیگا ۔
[4:138] منافقوں کو بتادوکہ انہوں نے دردناک سزا اپنے سرلے لی ہے ۔
[4:139] یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کا ساتھ دیتے ہیں۔کیا یہ ان کے ساتھ مل کر شان و شوکت حاصل کرناچاہتے ہیں؟حالانکہ ساری شان وشوکت خدا ہی کی ہے۔
[4:140] خدا تمہیں کتاب میں ہدایت کر چکا ہے :اگر تم خدا کی آیات کا مذاق کرتے یا مضحکہ اڑاتے سنو تو ان کے ساتھ مت بیٹھوجب تک وہ لوگ موضوع بدل نہ لیں ۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم بھی انہی کی طرح گناہ گار ہوگے۔خدا منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کریگا۔
منافقین
[4:141] وہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں ؛اگر تم کوفتح نصیب ہوتو (تمہیں)کہتے ہیں،‘‘کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟‘‘اوراگر کافروں کی باری آئے تو انہیں کہتے ہیں ،’’کیا ہم نے تمہار اساتھ نہیں دیااور تمہیں اہل ایمان سے نہیں بچایا ؟‘‘تمہارے مابین اس بات کافیصلہ خدا قیامت کے دن کریگا۔خدا کبھی ایمان والوں کی بجائے کافروں کو غالب نہیں ہونے دیگا۔
[4:142] منافقین سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن خدا وہ ہے جو انہیں آگے بڑھا رہا ہے۔جب وہ نماز کےلئے کھڑے ہوتے ہیں توسستی سے،کیونکہ وہ لوگوں کے سامنے دکھاوا کرتے ہیں اور خدا کے بارے میں وہ کم ہی سوچتے ہیں۔
[4:143] وہ درمیان میں ڈانواں ڈول رہتے ہیں ،نہ اس گروپ کےساتھ نہ اس گروپ کے ساتھ ۔جس کو خدا بھٹکا دے تم اس کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں پاسکتے ۔
[4:144] اے لوگوجو ایمان لائے ہو ،مومنوں کی بجائے کافروں کو دوست مت بنائو۔کیا تم خدا کو اپنے خلاف صاف ثبوت دینا چاہتے ہو؟
وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایمان والے ہیں
[4:145] منافقین کو جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں پھینکا جائیگا اور تم ان کا کوئی مدد گار نہیں پائو گے ۔
[4:146] صرف وہ لوگ جو توبہ کرلیں،اپنی اصلاح کرلیں اورخدا کا دامن مضبوطی سے تھام رکھیں اور اپنے مذہب کوخدا کے لئے وقف کردیں تو ان کا شمار اہل ایمان کے ساتھ ہوگا۔خدا ایمان لانے والوں کو عظیم اجرسے سرفراز فرمائے گا۔
[4:147] اگر تم شکر گزار اورایمان والے ہو تو خدا کو تمہیں سزا دے کر کیا ملے گا؟خدا بڑاقدر دان اور سب کے حال سے واقف ہے۔
بیہودہ الفاظ استعمال مت کرو
[4:148] خدابیہودہ الفاظ کا بولنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ کسی کے ساتھ بہت بڑی بے انصافی ہوئی ہو۔خدا سننے والا، جاننے والاہے۔
[4:149] اگر تم نیکی کرو۔کھلے او ر چھپے ۔یا برائی سے درگزر کرو ۔ خدا معاف کرنے والا اور سب پر قادر ہے۔
خدا کے پیغمبروں میں کو ئی فرق نہ کرنا
[4:150] جوخدا اور اسکے پیغمبروں پر ایمان نہیں لاتے اورخدا اوراسکے پیغمبروں میں فرق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورکہتے ہیں ،’’ہم کچھ کو مانتے ہیں اورکچھ کوجھٹلاتے ہیں اورکفراورایمان کے بیچ کوئی راستہ نکالنا چاہتے ہیں؛
[4:151] یہی لوگ اصلی کافر ہیں۔ہم نے کافروں کےلئے شرمناک سزاتیار کررکھی ہے۔
[4:152] اور جو لوگ خدا اور اسکے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیںاوران میں تفریق نہیں کرتے،ان کا اجرخداان کو دیگا۔خدا معاف کرنے والا اور نہایت رحم فرمانے والاہے۔
اسرائیل سے سبق
[4:153] یہ اہل کتاب تم کو چیلنج کرتے ہیں کہ ان پر آسمان سے کوئی کتاب نازل کرائو!ان لوگوں نے موسی ٰ سے اس سے زیادہ مطالبے کیے ہیں۔کہتے ہیں،’’ہمیںخدا مجسم دکھائو۔‘‘اوران کی اس گستاخی کے نتیجے میں ان پر بجلی ٹوٹ پڑی ۔اسکے علاوہ انہوں نے بچھڑے کی پوجا بھی کی حالانکہ وہ کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے ۔اس کے باوجودہم نے ان سب باتوں سے درگزر کیا ۔ہم نے موسیٰ کی زبردست معجزات سے مددکی ۔
[4:154] اورہم نے کوہ طور کوان پر اٹھا کران سے عہد لیا اورہم نے ان سے کہا،’’دروازے میںجھک کر داخل ہوجائو‘‘۔اورہم نے ان سے کہا،’’سبت کی خلاف ورزی نہ کرنا۔‘‘بے شک ہم نے ان سے پختہ عہد لیا ۔
[4:155] عہد کی خلاف ورزی ،خدا کی آیات کو جھٹلانے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے سے(ان پر خدا کی لعنت پڑی)۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ ہمارے ارادے پختہ ہیں‘‘۔حقیقت یہ ہے کہ خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے انکے کفر کی وجہ سے او ر اسلئے ہی وہ ایمان نہیں لاتے مگربہت کم۔
[4:156] (ان پر لعنت ہے)کفر کرنے اورمریم پرسخت بہتان لگانے کی وجہ سے۔
عیسیٰ *کے ’’جسم‘‘ کو سولی دینا
[4:157] اور یہ دعوی ٰ کرنے کے باعث کہ انہوں نے مسیح،عیسیٰ ابن مریم، پیغمبر خداکو قتل کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے عیسیٰ کوقتل نہیں کیا اورنہ ہی انہوں نے اسے صلیب چڑھایا ۔ان کے ذہن میں یہ ڈال دیا گیا کہ انہوں نے ایسا کیا ۔اس معاملہ پر بحث کرنے والے تمام گروہ اس مسئلہ کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔انہیں کوئی علم نہیں ؛وہ صرف قیاس آرائی کررہے ہیں۔انہوں نے یقینا مسیح کوقتل نہیں کیا *۔
[4:158] اس کے برعکس خدا نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا ؛خدا طاقت والا اور دانا ہے ۔
[4:159] اہل کتاب میں سے ہر ایک پر لازم تھا کہ اس کی موت سے قبل اس پر ایمان لائے ۔قیامت کے روز وہ ان کیخلاف گواہی دیگا۔
[4:160] ان کی ان زیادتیوں کے نتیجے میں ،ہم نے ان پر وہ اشیائ حرام قرار دیدیں جو پہلے ان کےلئے حلال تھیں ؛اسلئے بھی کہ وہ مسلسل خدا کے راستے سے روکتے تھے۔
[4:161] اورسود لیتے تھے جو انہیں منع کیا گیا تھا اورلوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے تھے۔ان میں سے جو لوگ کافر ہیں ہم نے ان کےلئے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
[4:162] اور ان میں سے وہ لوگ جو علم میں پختہ اور ایمان والے ہیں،جو اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے اتاری گئی تھی ۔وہ نماز قائم کرتے ہیںاو ر فرض خیرات (زکواۃ) دینے والے ہیں ؛یہی وہ لوگ ہیں جو خدا اورروز آخرت پر ایمان لانے والے ہیں ہم انہیں عظیم صلہ دینگے۔
خدا کے پیغمبر
[4:163] ہم نے تم پر اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور بعد کے پیغمبروں پر بھیجی تھی ۔اور ہم نے ابراہیم ،اسماعیل،اسحاق،یعقوب،یعقوب کی اولاد،عیسیٰ،ایوب،یونس ،ہارون اورسلیمان پر بھی وحی بھیجی۔اورہم نے دائود کو زبوردی ۔
[4:164] ان پیغمبروں پر بھی جن کاہم نے تم کوبتایا ہے اور ان پر بھی جن کا ذکر ہم نے تم سے کبھی نہیں کیا ۔اور خدا نے موسیٰ سے براہ راست کلام کیا ۔
[4:165] پیغمبر خوشخبری دینے والے اورتنبیہ والے ۔لہذا جب لوگ خدا کے سامنے پیش ہوں گے تو ان کے پاس کوئی بہانا نہیں ہوگا کیونکہ یہ پیغمبر ان کے پاس آچکے ہیں۔خدا غالب اورسب سے دانا ہے ۔
[4:166] خدا اس کی گواہی دیتا ہے کہ جوکچھ اس نے تم پر نازل فرمایا ہے ؛اپنے علم سے نازل فرمایااوراس پر فرشتے بھی گواہ ہیں مگر خدا کا گواہ ہونا کافی ہے۔
[4:167] بے شک جو لوگ کفر کرتے ہیں اور خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ خدا کے راستہ سے دور بھٹک گئے ہیں۔
[4:168] جو لوگ کفر اور زیادتی کرتے ہیں خدا انہیں معاف نہیں کریگااور نہ ہی انہیں کوئی راستہ دکھائے گا؛
[4:169] بجز جہنم کے راستے کے،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ایسا کرنا خدا کےلئے آسان ہے۔
[4:170] اے لوگو،رسول تمہارے پاس خدا کی طرف سے حق لے کر آیا ہے۔ایمان لاؤ اپنے بھلے کی خاطر ۔اگرتم نے کفر کیا تو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے۔خدا ہرچیز پر قادر اوردانا ہے۔
تثلیث :ایک جھوٹا نظریہ
[4:171] اے اہل کتاب ،اپنے مذہب کی حدود سے تجاوز نہ کرو،اورخدا سے متعلق سچ کے سوا کچھ نہ کہو۔مسیح عیسیٰ ابن مریم خدا کے پیغمبر تھے اور خدا کافرما ن جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا ،اورایک وحی تھی خدا کی طرف سے ۔اس لئے تم خدا پراوراس کے پیغمبر پر ایمان لائو ۔اور’’تثلیث ‘‘نہ کہو۔ایسا کرنے سے باز رہو اسی میں تمہارا بھلا ہے۔خدا صرف ایک ہی خدا ہے۔وہ عظیم ہے ؛وہ اس پاک ہے اس سے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے۔خدا مالک اور رب ہونے کےلئے کافی ہے۔
[4:172] عیسیٰ نے خدا کابندہ ہونے میں کبھی عار محسوس نہیں کی اور نہ ہی مقرب فرشتوں نے ایساکیا ہے۔جو خدا کی عبادت کرنے کو عار سمجھتے ہیں اور جوفرمانبرداری میں تکبر کرتے ہیں تو خدا ان سب کو اپنے سامنے حاظر کریگا۔
[4:173] اورجولوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں خدا ان کو بھرپورصلہ دیگا اور ان رحمت کی بارش کریگا۔جن لوگوں نے عار محسوس کی اور تکبر کیا ،خدا نہیں دردناک سزا دیگا۔اورو ہ خدا کے سوا کوئی آقا اورنجات دلانے والا نہیں پائیں گے۔
قرآن کا حسابی کوڈ: واضح،اورناقابل تردیدثبوت
[4:174] اے لوگو ،تمہارے رب کی طرف سے واضح ثبوت آگیاہے؛اور ہم نے تمہاری طرف زبردست روشنی بھیج دی ہے۔
[4:175] جو لوگ خدا پر ایمان لاتے ہیں اوراس سے پختہ تعلق قائم رکھتے ہیںخدا انہیں اپنی رحمت اور فضل کے دامن میں لے لے گااور انہیں اپنی طرف سیدھا راستہ دکھائے گا۔
[4:176] لوگ تم سے مشورہ مانگتے ہیں؛کہہ دیجیے،’’خدااکیلے آدمی کے بارے میں تمہیں مشورہ دیتا ہے کہ اگر وہ مرجا ئے اور بچے نہ چھوڑے تو اس کی ایک بہن ہوتو اس کو وراثت میں سے نصف ملے گا۔اگر وہ پہلے مرجائے اور پیچھے بچے نہ چھوڑے تو بھائی اس کا وارث ہوگا۔اوراگر وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں دو تہائی پائیں گی ۔اگر کئی بھائی اور بہنیں ہوں تو بھائی کوبہن سے دو گنا حصہ ملے گا۔‘‘اس طرح خدا تمہارے لیے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم بھٹک نہ جائو۔خدا سب چیزوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔