قرآن 4:90 — خواتین(النساء)
اس حکم سے وہ مستثنیٰ ہیں جو ان لوگوں سے مل جائیںجن کے ساتھ تم امن کامعاہدہ کرچکے ہو۔اور وہ لوگ بھی مستثنیٰ ہیں جو تمہارے پا س اس لئے آجائیں کہ نہ تم سے لڑیں گے اور نہ اپنے رشتہ داروں سے ۔خدا چاہتا توانہیں تمہارے خلاف لڑائی کی اجازت دے دیتا ۔ لہذا اگر وہ تم کو اکیلا چھوڑ دیں اور تمہیں امن کی پیشکش کریں اورلڑائی سے باز رہیں توخدا تمہیں ان کے ساتھ لڑائی کا کوئی جواز نہیں دیتا ۔
[4:89] وہ چاہتے ہیںتم بھی اس طرح کفر کرو جس طر ح انہوں نے کفر کیا ہے ،پھر تم برابر ہوجائو گے ۔ان کو اس وقت تک دوست مت سمجھو جب تک وہ خدا کی راہ میں تمہارے ساتھ حرکت میں نہیں آتے۔ اگر وہ تمہارے خلاف ہوجائیں تو ان سے جنگ کرواور جب جنگ میں ان کا تمہارے ساتھ آمنا سامنا ہو تو انہیں قتل کرو۔انہیں دوست او ر اتحاد ی کے طور پر قبول نہ کرو*۔
[4:91] اس کے علاوہ تم ایسے لوگ بھی پائو گے جو تمہارے ساتھ امن قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لوگوں سے بھی ،لیکن جونہی جنگ چھڑتی ہے تو وہ تمہارے ساتھ جنگ کرتے ہیں۔ایسے لوگ جب تک تم کو اکیلا نہ چھوڑ دیں ،امن کی پیشکش نہ کریں اور لڑائی بند نہ کریں ،جب ان سے سامنا ہوتو تم ان سے جنگ کرو۔ان لوگوں کے خلاف ہم تمہیں کھلا اختیا ر دیتے ہیں۔