قرآن 2:60 — بچھیا(البقرة)
یاد کرو جب موسی ٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے کہا’’ اپنا اعصا اس پتھر پرمارو‘‘۔اس کے بعد وہاں سے پانی کے بارہ چشمیں پھوٹ پڑے۔ان میں سے ہر قبیلے کے لوگوں نے جان لیا کہ اس کے حصے کا پانی کونسا ہے ۔خدا کی نعمتوں میں سے کھاؤ پیو اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ۔
[2:59] لیکن ان میں سے جو ظالم تھے انہوں نے ان احکامات کے علاوہ دیگر احکامات پر عمل کیا ۔ان حد سے گزرنے والے لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے آسمان سے ان پر عذاب نازل کیا۔
[2:61] یاد کرو جب تم نے کہا تھا اے موسی ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر قناعت نہیں کرسکتے ۔اپنے رب سے کہوکہ ہمارے لیے زمین کی پیداوارلوبیا ،کھیرا،ککڑی،گہیوں،لہسن اورپیاز وغیرہ پیدا کرے۔تو موسی ٰ نے کہا ’’کیا تم ایک بہتر چیز کی بجائے ادنی ٰچیز لینا چاہتے ہو؟مصر چلے جاؤ وہاں تمہیں ہر وہ چیز ملے جائیگی جس کی تم خواہش کررہے ہو‘‘۔اورپھر ان پر ذلت ،پستی ،خواری اوربدحالی ان پر مسلط ہوگئی اور خدا کے غضب آگئے۔یہ اسلئے ہوا کیونکہ انہوں نے خدا کی آیات کو جھٹلایا اور پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ۔انہوں نے نافرمانی کی اور ظلم کیا ۔