قرآن 2:188 — بچھیا(البقرة)
تم ایک دوسرے کا پیسا ناجائز طور سے نہ کھاؤ ، اور نہ ہی حکام کو دوسرں کو ان کے کچھ حقوق سے محروم کرنے کیلئے رشوت دینا، اب جب کہ تم جانتے ہو ۔
[2:187] رمضان کی راتوں میں تمہیں اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کرنے کی اجازت ہے ۔وہ تمہاری راز داں ہیں اور تم ان کے راز داں ہو۔خدا کومعلوم تھا کہ تم اپنی روحوں کے ساتھ دھوکہ دھی کرتے تھے اور اس نے تمہیں بخشا اور تم سے درگز ر کیا ۔اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت کر سکتے ہو ، اس کے حصول میں جس کی خدا نے تمہیں اجازت دی ہے۔تم کھا اور پی سکتے ہو تب تک کہ صبح کی دھاری اندھیرے کی دھاری سے الگ نظر آنے لگے ۔اسکے بعد، تم سورج غروب ہونے تک روزہ رکھنا۔اگر تم مسجد میں اعتکاف کرنے کافیصلہ کرو تو تمہارے لیۓ مباشرت ممنوع ہے (رمضان کے آخری دس دنوں کیلئے ) ۔یہ خدا کے قوانین ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرنا۔اس طرح خدالوگوں کیلئے اپنے انکشافات کو واضع کرتا ہے تاکہ وہ نجات حاصل کر سکیں ۔
[2:189] وہ تم سے چاند کی منزلوں کے متعلق پوچھتے ہیں !کہو’’یہ انسانوں کو وقت کا پتہ دینے کا ایک آلا ہے اور حج کا وقت متعین کرنے کے لیۓ ‘‘۔گھما پھرا کر بات کرنا نیکی نہیں ہے *نیکی تو احکامات پر عمل کرنے اور صاف گوئی کرنے سے حاصل ہو تی ہے ۔تم خدا سے ڈرو ،تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔