قرآن 7:149 — برزخ(الاعراف)
آخر کار ،جب وہ اپنے کئے پر پچھتائے اور محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے تھے ،انہوں نے کہا،’’اگر ہمارے رب نے اپنی رحمت سے ہمیں معاف اورہم سے درگزر نہ کیاتوہم خسارے میں رہیں گے ۔‘‘
[7:148] اس کی عدم موجودگی میں ،موسی ٰ کے لوگوں نے اپنے زیوارت سے بچھڑے کا مکمل بت بنا لیا جس کی آواز بھی بچھڑے* کی تھی ۔کیا انہیں نظر نہیں آتا تھا کہ وہ ان سے بول نہیں سکتا اورنہ ہی انہیں کوئی راہ دکھاسکتا ہے ؟انہوں نے اس کو پوجا اور اس طرح مفسد بن گئے ۔
[7:150] جب موسی ٰ اپنے لوگوں میں واپس آیا ،غصے اورمایوسی میں ،اس نے کہا ،’’تم نے میری عدم موجودگی میں کیا خوفناک حرکت کی ہے !کیا تم اپنے خدا کے احکامات کا انتظا رنہیں کرسکتے تھے ؟‘‘اس نے تختیاں پھینک دیں ،اوراپنی طرف کھینچتے ہوئے اپنے بھائی کا سر پکڑ لیا ۔(ہارون)نے کہا،’’میرے ماں جائے ،لوگوں نے میری کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور تقریباًمجھے مار چکے تھے ۔میرے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دو ،اورمجھے حدسے تجاوز کرنے والوں میں شمار نہ کرو۔‘‘