Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 7: برزخ(الاعراف)

خدا کے نام سے ،جو نہایت ہی مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔

[7:1] ا۔ل۔م۔ص۔*

[7:2] یہ کتاب تم پر نازل کی گئی ہے۔اپنے دل میں اس کے بارے میں کوئی شک نہ لائو۔تاکہ تم اس کے ذریعے تنبیہ،اورایمان والوں کویاد دہانی کراسکو ۔

[7:3] تم سب اس کی پیروی کرو جو تمارے مالک کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ؛اس کے سو ا دوسرے شریکوں کی پیروی نہ کرنا ۔تم غور کم ہی کرتے ہو۔

[7:4] بہت سی قومیں ہم نے تباہ کردیں ؛ ہمار ا عذاب ان پر آگیا جب وہ سو رہے تھے ،یاخوب جاگ رہے تھے ۔

[7:5] جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو ان کے منہ سے نکلا :’’بے شک ہم تجاوز کرنے والے تھے ۔‘‘

[7:6] جن لوگوں نے ہمار اپیغام وصول کیا ان سے یقینا ہم پرسش کرینگے اورہم پیغام پہنچانے والوں سے بھی پرسش کرینگے ۔

[7:7] ہم انہیں حاکمانہ طور پر مطلع کرینگے،کیونکہ ہم کبھی غائب نہیں رہے۔

[7:8] اس روز ترازو قائم ہونگے ،انصاف کے ساتھ ۔جن کے وزن بھاری ہونگے وہ جیتنے والے ہونگے ۔

[7:9] اورجن کے وزن کم ہونگے ،وہ وہ ہونگے جو اپنی روحیں کھو چکے ہیں *ہماری آیات کی ناحق ،پرواہ نہ کرنے کے نتیجے میں ۔

[7:10] ہم نے تم کو زمین پر ٹھہرایا ہے ،اورا س پر ہم نے تمہارے لئے رزق کے وسائل بھی مہیا کئے ہیں ۔تم قدر کم ہی کرتے ہو ۔

[7:11] ہم نے تمہیں پیدا کیا ،پھر تمہیں شکل دی ،پھر ہم نے فرشتوں سے کہا ،’’آدم کے سامنے سجدہ ریز ہوجائو۔‘‘و ہ سجدے میں پڑ گئے سوائے ابلیس(شیطان ) کے؛وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ تھا ۔

امتحان شروع ہوتا ہے

[7:12] اس نے فرمایا،’’جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تمہیں سجدہ کرنے سے کس نے روکا ؟‘‘اس نے کہا،’’میں اس سے بہتر ہوں؛تم نے مجھ آگ سے پیدا کیا اور اس کو کیچڑسے پیدا کیا ۔‘‘

[7:13] اس لئے تم لازمی نیچے چلے جائو ،کیو نکہ تم یہاںمتکبر نہیں بن سکتے ۔ باہر نکل جائو ۔تم ذلیل ہو۔‘‘

[7:14] اس نے کہا،’’ مجھے یوم حشر تک مہلت دو۔‘‘

[7:15] اس نے فرمایا ،’’تمہیں مہلت دیدی گئی ۔‘‘

[7:16] اس نے کہا ،’’چونکہ تو نے چاہا ہے کہ میں گمراہ ہوجائوں ،*میں بھی تیرے سیدھے راستہ پر ان کےلئے گھات لگائو ں گا ۔

[7:17] ’’میں ان کے سامنے سے ،ان کے پیچھے سے ،ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے آئوں گا اور تم دیکھو گے کہ ان میں سے اکثر بے قدرے ہیں ۔‘‘

[7:18] اس نے فرمایا ،’’نکل جائو یہاں سے ،حقارت زدہ اور شکست خوردہ۔ان میں سے جوتمہاری پیروی کریں گے ،میںتم سب سے دوزخ بھروںگا ۔

[7:19] ’’اور تم ،آدم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں رہو،اور جو چاہو وہاں کھائو ،لیکن اس ایک درخت کے پاس نہ جانا مبادہ تم گنا ہ میں پڑ جائو ۔‘‘

[7:20] شیطان نے ان سے سر گوشی کی ،ان کے جسم ظاہر کرنے کےلئے جو ان سے پوشیدہ تھے، اس نے کہا ،’’تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لئے کہ تم کو فرشتے بننے اورابدی حیات حاصل کرنے سے روکا جائے ۔

[7:21] اس نے ان سے قسم کھائی ،’’میں تمہیں اچھا مشورہ دے رہاہوں ۔‘‘

[7:22] اس طرح اس نے اپنے جھوٹ سے انہیں ورغلالیا ۔جونہی انہوں نے درخت کو چکھا،ان کے اجسام ان پر ظاہر ہوگئے ،اورانہوں نے انہیں جنت کے پتوں سے ڈھانپنے کی کوشش کی ۔ان کے رب نے ان کو پکارا :’’کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا ،اورتمہیں متنبہ کیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟‘‘

[7:23] انہوں نے کہا ،’’ہمارے رب ،ہم نے اپنے نفسوں کو غلط کرلیا ،اورجب تک تم ہمیں معاف اورہم پر رحم نہیں کرتے ہم خسارے والے رہیں گے ۔‘‘

[7:24] اس نے فرمایا،’’اتر جائو ایک دوسرے کے دشمن کی طرح ۔تمہارا مسکن زمین پر ہوگا اوررزق بھی ،تھوڑے عرصے کےلئے۔‘‘

[7:25] اس نے فرمایا،’’اسی پر تم رہوگے ،اسی پر تم مرو گے ،اوراسی سے تمہیں نکالا جائیگا۔‘‘

[7:26] اے بنی آدم ،ہم نے تمہیں جسم ڈھانپنے کےلئے ملبوسات مہیا کیے ہیں ،اورتمہاری راحت کےلئے بھی ۔لیکن سب سے بہتر پہناوا راست بازی ٰ کا پہناواہے ۔ یہ خدا کی چند نشانیاں ہیں ،شاید کہ وہ دھیان دیں ۔

[7:27] اے بنی آدم،شیطان کے ورغلانے میں نہ آنا ،جیساکہ اس نے اس وقت کیا تھا جب تمہارے والدین کی جنت سے بیدخلی اور ان کے ملبوسات ہٹانے کا باعث بنا تھا تاکہ ان کے جسم ظاہر ہوجائیں ۔وہ اوراس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے لیکن تم اس کو نہیں دیکھتے ۔جو ایمان نہیں لاتے ہم شیطانوں کو انکے ساتھی مقرر کردیتے ہیں ۔

تمام موروثی معلومات کا جائزہ لیں

[7:28] وہ کبیرا گناہ کرتے ہیں ،پھر کہتے ہیں،’’ہم نے اپنے والدین کو یہی کرتے پایا تھا ،اورخدا نے ہمیں یہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔کہہ دیجیے ،’’خدا کبھی گناہ کی تلقین نہیں کرتا ۔کیا تم خدا کے بارے میں وہ کچھ کہہ رہے ہو جو تم نہیں جانتے ؟‘‘

[7:29] کہہ دیجیے ،میرا رب ،’’انصاف کی تلقین کرتا ہے اورعبادت کی ہر جگہ پر صرف اسی کےلئے وقف رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔تم اپنی عبادت صرف اسی کےلئے خالص کرلو،بالکل اس طرح جیسے اس نے تمہاری ابتدا ئ کی تھی ،تمہیں آخر کار اسی کی طرف پلٹنا ہے ۔‘‘

خبردار رہو:انہیں یقین ہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔

[7:30] بعض کو اس نے ہدایت دی ،جبکہ دوسروں نے بھٹکنے کاتہیہ کررکھاہے ۔انہوں نے خدا کی بجائے شیطانوں کو اپنا آقا بنالیا ہے ،اس کے باوجو د انہیں یقین ہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔

مسجد کےلئے عمد ہ لباس پہنو

[7:31] اے بنی آدم،جب مسجد جائو تو صاف ہوکر اور عمدہ لباس پہن کرجائو۔اورمیانہ روی سے کھائو اورپیو؛یقینا وہ پیٹو لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔

نئی ممنوعات کی مذمت

[7:32] کہہ دیجیے،’’کس نے منع کی ہیں وہ اچھی چیزیں جو خدا نے اپنی مخلوق کےلئے پیدا کی ہیں ،اور اچھی اشیائے خوردونوش؟‘‘کہہ دیجیے ،’’ایسی اشیائے خوردو نوش سے اس دنیا میں وہی لطف اندوز ہونگے جو ایمان لائیں گے ۔علاوہ ازیں اچھی اشیائے خوردونوش یوم حشر کو صرف ان کی حاصل ہونگی ۔‘‘اس طرح ہم آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کےلئے جو جانتے ہیں ۔

[7:33] کہہ دیجیے،’’میرا رب صرف برے اعمال سے منع کرتا ہے ،خواہ وہ خفیہ ہوں یا ظاہر ،اورگناہوں سے اور بلاجواز جارحیت سے ،اورخدا کےساتھ بے اختیار شریک ٹھہرانے سے ،اور خدا کے بارے میں وہ بات کہنے سے جو تم نہیں جانتے ۔‘‘

[7:34] ہرقوم کےلئے ، پیش معینہ عرصہ حیات ہے ۔جب ان کی عارضی مدت اختتام کو پہنچتی ہے تو ،وہ اس کو ایک گھنٹہ موخرکرسکتے ہیں اورنہ اس کو بڑھا سکتے ہیں ۔

پیغمبر تم میں سے

[7:35] اے بنی آدم، جب تم میں سے پیغمبر تمہاری طرف آئیں اور قرآن کی آیات سنائیں تو جو لوگ غور کرینگے اورراست بازی کی زندگی گزاریں گے، انہیں کسی چیز کا خوف ہوگا اور نہ ہی غم ۔

[7:36] اوروہ جو ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں ،اور اس قدر متکبر ہیں کہ ان کو قائم نہیں رکھتے ،وہ جہنم کے مستحق ہیں ،جہاںوہ ہمیشہ رہیں گے ۔

[7:37] ان سے برا کون ہے جو خدا کے بارے میں جھوٹ گھڑتے ہیں،یا اس کی آیات کا انکار کرتے ہیں ؟یہ اپنا حصہ لیں گے ،کتاب کے مطابق ،پھر ،جب ہمارے قاصد ان کی زندگیاں ختم کرنے کےلئے آئیں گے ،وہ کہیں گے ،کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کے آگے تم خدا کی بجائے التجا کرتے تھے؟‘‘وہ کہیں گے ،’’انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے ۔‘‘وہ اپنے خلاف ہی گواہی دینگے کہ وہ بے ایمان تھے ۔

ایک دوسرے پر الزام تراشی

[7:38] وہ فرمائے گا ،’’جنوں اور انسانوں کی پہلی قوموں کے ہمراہ جہنم میں داخل ہوجائو ۔‘‘جب بھی کوئی گروہ داخل ہوگا ،تو وہ اپنے آبائی گروہ پر لعنت بھیجے گا ۔جب وہ سب اس میں آ جائیں گے ،توسب سے آخر والا پہلے والے کے بارے میں کہے گا ،’’اے ہمارے رب ،یہ وہ ہیں جنہوں نے ہمیں گمرا ہ کیا تھا ۔انہیں جہنم کی دگنی سزا دو۔‘‘وہ فرمائے گا ،’’ہر ایک دگنی پا تا ہے مگر تم نہیں جانتے ۔‘‘

[7:39] پیشرو گروہ بعد والے گروہ سے کہے گا ،چونکہ تمہیں ہم پر فوقیت حاصل تھی ،اسلئے اپنے گناہوں کا مزہ چکھو۔‘‘

خدا کی آیات کا انکار:ناقابل معافی گناہ

[7:40] یقینا وہ جو ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں اوراس قدر متکبر ہیں کہ ان کو قائم نہیں رکھتے،ان کےلئے آسمان کے دروازے کبھی نہیں کھلیں گے ،اورنہ ہی و ہ جنت میں داخل ہونگے جب تک اونٹ سوئی کے نکے میں سے نہیں نکل جاتا۔ہم اس طرح گناہگاروں کو بدلہ دیتے ہیں ۔

[7:41] انہوں نے جہنم کو اپنا ٹھکانا بنالیا ہے ؛ان کے آگے اونچی رکاوٹیں ہونگی ،اس طر ح ہم تجاوز کرنیوالوں کو بدلہ دیتے ہیں ۔

[7:42] اور وہ جو ایمان لاتے ہیں اور راست بازی کی زندگی گزارتے ہیں۔ہم کبھی کسی پراس کی طاقت سے بڑھ کربوجھ نہیں ڈالتے ۔ وہ جنت کے باسی ہونگے، وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے ۔

خدا کی مہربانی سے

[7:43] ہم ان کے دلوں سے تمام وسواس ختم کردینگے۔ان کے نیچے دریا بہیں گے ،اور وہ کہیں گے،’’تعریف خدا کی جس نے ہمیں ہدایت دی ۔اگر خدا نے ہماری راہنمائی نہ کی ہوتی تو ہمیں ہدایت نہیں مل سکتی تھی ۔ہمارے خدا کے پیغمبر حق لائے تھے۔ ‘‘ان سے کہا جائیگا،’’یہ ہے تمہاری جنت ۔تم نے اس کو پایا ہے ،اپنے اعمال کے بدلے میں ۔‘‘

[7:44] جنت کے باسی دوزخ کے باسیوں کو پکاریں گے :’’ہم نے اپنے مالک کے وعدے کو سچا پایا ہے ؛کیا تم نے بھی اپنے مالک کے وعدے کو سچا پایاہے؟‘‘وہ کہیں گے ،’’ہاں۔‘‘ان کے درمیانے ایک آواز دینے والا پکارے گا :حدسے بڑھنے والوں پر خدا کی لعنت پڑ گئی ہے ؛

[7:45] جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں ،اور اس کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،آخرت کے لحاظ سے ،وہ بے ایمان ہیں ۔‘‘

[7:46] ایک باڑھ ان کو جدا کرتی ہے ،جبکہ برزخ* ان لوگوں سے آباد ہے جو دونوں اطراف کو ان کے حلیے سے پہچانتے ہیں ۔وہ جنت کے رہائشیوں سے کہیں گے ؛تم پر سلامتی ہو ۔‘‘وہ من پسند سوچ کے ذریعے (جنت) میں داخل نہیںہوئے۔

[7:47] جب وہ اپنی آنکھیں دوزخیوں کی طرف موڑیں گے ،وہ کہیں گے ،ہمارے رب ،ہمیں ان فاسد لوگوں میں نہ رکھیو۔‘‘

اکثریت کوسزا کا حکم

[7:48] برزخ کے لوگ جن کو حلیے سے پہچانےںگے ان کو پکار کرکہیں گے ،تمہاری بھاری تعداد نے تمہیں کسی طرح فائدہ نہیں پہنچایا اورنہ ہی تمہارے تکبر نے ۔

[7:49] کیا یہ وہ لوگ ہیںجن کے بارے میں تم قسم کھاتے تھے کہ خدا انہیں رحمت کے ساتھ نہیں چھوئے گا ؟۔‘‘(پھر برزخ کے لوگوں سے کہا جائیگا، )’’جنت میں داخل ہوجائو؛تمہیں کو ئی خوف ہوگا نہ غم ۔‘‘

[7:50] دوزخ کے رہائشی جنتیوں کو پکار کر کہیں گے ،’’پانی اور نعمتیں جو خدا نے تمہیں دی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف بھی آنے دو ۔‘‘وہ کہیں گے ،خدا نے یہ چیزیں بے ایمانوں کےلئے منع کی ہیں ۔‘‘

[7:51] جو اپنے مذہب کو سنجیدگی سے نہیں لیتے،اور مکمل طورپر اس دنیاوی زندگی میں گم رہتے ہیں ،اس روز ہم انہیں بھلا دیتے ہیں ،کیونکہ انہوں نے اس دن کو بھلا دیا تھااور اس لیے بھی کہ انہوں نے ہماری آیات کو حقارت سے رد کردیا تھا ۔

قرآن :مکمل مفصل

[7:52] ہم نے انہیں کتاب دی ہے جومکمل مفصل ہے ،علم سے ،ہدایت سے ،اوررحمت ہے ان لوگوں کےلئے جو ایمان رکھتے ہیں ۔

[7:53] کیا وہ اس وقت کے منتظر ہیں جب تمام (پیش گوئیاں) پوری ہو جائیں گی ۔جب یہ دن آن پہنچے گا تو جن لوگوں نے ماضی میں اس کی پرواہ نہیں کی ہوگی ،کہیں گے ،’’ہمارے رب کے قاصد حق لائے ہیں ۔کیا ہیں کوئی سفارش کرنے والے جوہماری طرف سے سفارش کریں ؟کیا آپ ہمیں واپس بھیجیں گے تاکہ ہم اپنا رویہ تبدیل کرسکیں اوربہتر عمل کریں ان سے جو ہم نے پہلے کیے تھے ۔‘‘وہ اپنی روحیں کھو چکے ہیں ،اوران کی اپنی بدعات نے ان کا یہ حال کیا ہے ۔

[7:54] تمہارارب ہی واحد خدا ہے ،جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا ،*اورپھر تمام اختیارسنبھال لیا ۔رات دن کو ڈھانپ لیتی ہے ،کیونکہ وہ مسلسل اس کا تعاقب کرتی ہے ،اور سورج ،چاند،اورستارے اس کاحکم پورا کرنے کے پابند ہیں۔بلاشبہ ،وہی تمام خلق اور احکامات کو کنٹرول کرتا ہے ۔نہایت عظمت والاہے خدا،کائنات کا مالک ۔

[7:55] تم اجتماعی اور انفرادی طورپر اپنے خدا کی عبادت کرو ؛وہ تجاوز کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

[7:56] زمین کو خراب نہ کرو جب اس کو بالکل سیدھا کیا جا چکا ہے ،اورعبادت کرواس کی تعظیم اور امید کے ساتھ ۔یقینا خدا کی رحمت متقی لوگوں کےلئے قابل رسائی ہے ۔

[7:57] وہ وہ ہے جو ہوائوں کو اچھے شگون کے ساتھ بھیجتا ہے ،اپنے ہاتھوں سے بطور رحمت ۔جب وہ بھاری بادل اکٹھے کرلیتی ہیںتو ہم انہیں مردہ زمینوں کی طرف موڑ دیتے ہیں ،اوران سے پانی برساتے ہیں ،تاکہ اس سے ہر قسم کے پھل پیدا ہوں ۔اس طرح ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں شاید کہ تم غور کرو۔

[7:58] اچھی زمین فوری پودے اگاتی ہے رب کے حکم سے،جب کہ خراب زمین مشکل سے کوئی مفید چیز پیدا کرتی ہے ۔ اس طرح ہم اپنی آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کےلئے جو قدر کرنے والے ہیں ۔

نوح

[7:59] ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ،اس نے کہا ،’’اے میری قوم ،خدا کی عبادت کرو؛تمہارا کوئی دوسرا خدا نہیں سوائے اس کے ۔میں تمہارے لئے ایک ہیبت ناک دن کی سزا سے ڈرتا ہوں۔‘‘

[7:60] اس کی قوم میں سرکردہ افراد نے کہا ،’’ہم دیکھتے ہیں کہ تو بہت گمراہ ہے ۔‘‘

[7:61] اس نے کہا ،اے میرے لوگو،’’میں گمراہ نہیں ہوں؛میں کائنات کے رب کی طرف سے پیغمبر ہوں ۔

[7:62] ’’میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں،اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں،اورمیں خدا کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔

[7:63] ’’کیا یہ بہت زیادہ حیران کن ہے کہ خدا کی طرف سے تم کو یاددہانی کرائی جائے ،تم میں سے ایک شخص کے ذریعے ،تمہیں متنبہ کرنے کےلئے اور تمہیں تقوی ٰ کا راستہ دکھانے کےلئے ،شاید کہ تم رحم پا سکو ؟‘‘

[7:64] انہوں نے اسے جھٹلا دیا ۔چانچہ ہم نے اسے اور اسکے ساتھ کشتی میں موجود افراد کو بچا لیا ،اور ہم نے ان کو ڈبودیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔وہ اندھے تھے ۔

ہود

[7:65] قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کوبھیجا ۔اس نے کہا ،’’اے میرے لوگو،خدا کی عبادت کرو؛اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ۔کیا پھر تم تقوی ٰ اختیار کرو گے؟‘‘

[7:66] اس کی قوم کے سردار جو بے ایمان تھے ،کہنے لگے ،ہم دیکھتے ہیں کہ تم بے وقوفی برت رہے ہو ،اور ہم سمجھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘

[7:67] اس نے کہا ،اے میری قوم ،مجھ میں کوئی بے وقوفی نہیں ،میں رب کائنات کا پیغمبر ہوں۔

[7:68] میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں،اورمیں ایمانداری سے تمہیں نصیحت کررہا ہوں۔

[7:69] ’’اس میں زیادہ حیرانی کی کیا بات ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں پیغام پہنچایا جائے ،تم جیسے شخص کے ذریعے ،تمہیں متنبہ کرنے کےلئے ؟یاد کرو اس نے تمہیں نوح کی قوم کے بعد وارث بنایا ،اورتمہاری تعداد میں کئی گنا اضافہ کیا ۔خدا کی نعمتیں یا دکر و،شاید کہ تم کامیاب ہوسکو۔‘‘

والدین کی اندھی تقلید :ایک انسانی المیہ

[7:70] وہ بولے،’’کیا تم ہمیں صرف اکیلے خدا کی عبادت کرانے آئے ہو،اور جو عبادت ہمارے والدین کرتے تھے وہ چھڑانے ؟ہم تمہیں چیلنج کرتے ہیں لائو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔اگر تم سچے ہو۔‘‘

[7:71] اس نے کہا ،’’تم نے اپنے رب کی لعنت اور عذاب اپنے اوپر لے لیا ۔ کیاتم اپنی بدعات کے دفاع میں مجھ سے بحث کرتے ہو،جو تم نے گھڑ رکھی ہیں ۔تم اور تمہارے والدین۔جن کی خدا نے کبھی اجازت نہیں دی ؟لہذا، انتظارکرواورمیں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا ۔‘‘

[7:72] اس کے بعد ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ،اپنی رحمت سے بچالیا،اوران کو تباہ کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ایمان والے بننے سے انکار کیا ۔

صالح

[7:73] ثمود کی طرف ہم ان کا بھائی صالح بھیجا ۔اس نے کہا ،’’اے میرے لوگو،خدا کی عبادت کرو؛اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ۔خدا کی طرف سے تمہیں ثبوت مہیا کیا جا چکا ہے :یہ ہے خدا کی اونٹنی ،جوتمہارے لئے ایک نشانی ہے ۔اسے خدا کی زمین پر کھانے دو،اوراس کو کوئی گزند نہ پہنچانا ،مبادہ تمہیں دردناک سزا ملے ۔

[7:74] ’’یاد کرواس نے عاد کے بعد تمہیں وارث بنایا اورتمہیں زمین پر آباد کیا ،اس وادی میں تم نے محل بنائے ،اوراسکے پہاڑوں کو کھود کر گھر بنائے ۔تم خدا کی نعمتیں یاد رکھو،اورزمین پرفاسدطریقے سے سے نہ چلو۔‘‘

پیغام :پیغمبری کا ثبوت

[7:75] اس کی قوم کے متکبرسرداروں نے عام لوگوں سے ،جو ایما ن لے آئے تھے ،کہا ،’’تم کیسے جانتے ہوکہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے ؟‘‘انہوں نے کہا ،’’جو پیغام وہ لایا ہے اس نے ہمیں ایمان والا بنایا دیا ہے ۔‘‘

[7:76] ان متکبر لوگوں نے کہا ،’’ہم نہیں مانتے اس کو جس پر تم ایمان لائے ہو۔‘‘

[7:77] چنانچہ انہوں نے اونٹنی کو ذبح کرڈالا ،اپنے رب کے حکم کےخلاف سرکشی کی،اورکہا ’’اے صالح،لائو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو ،اگر تم واقعی پیغمبر ہو۔‘‘

[7:78] چنانچہ زلزلے نے انہیں مٹا کررکھ دیا ،وہ اپنے گھروں میں مردہ پڑے رہے۔

[7:79] اس نے ان سے رخ پھیر لیا ،یہ کہتے ہوئے ،اے میری قوم ،میں نے تمہیںاپنے رب کاپیغام پہنچا دیا ،اورتمہیں نصیحت کی ،لیکن تمہیں کوئی ناصح پسند نہیں ۔

لوط : ہم جنسی کی مذمت

[7:80] لوط نے اپنے لوگوں سے کہا،’’تم اس قدر مکروہ کام کرتے ہو؛جو اس سے قبل دنیا میں کسی نے نہیں کیا !

[7:81] ’’تم مردوں کے ساتھ سیکس کرتے ہو،عورتوں کی بجائے ۔بے شک تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو ۔‘‘

[7:82] اس کے لوگوں نے یہ کہہ کر جواب دیا ،’’ان کو اپنے شہر سے نکال دو ۔یہ وہ لوگ ہیں جو پا ک بازی کے خواہش مند ہیں ۔‘‘

[7:83] چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے خاندان کو بچالیا ،لیکن اس کی بیوی کو نہیں ،وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ تھی ۔

[7:84] ہم نے ان پر ایسی بارش برسائی؛مجرموںکے انجام کار پر غور کرو ۔

شعیب: دھوکہ دہی او ر خیانت کی مذمت

[7:85] مدائن کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ۔اس نے کہا ،’’اے میرے لوگو،خدا کی عبادت کرو؛اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ۔تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف ثبوت آ چکا ہے۔جب تجارت کرو تو ناپ اور تول پورا کرو ۔لوگوں کو انکے حقوق میںدھوکہ مت دو ۔جب زمین بالکل ہموارہو چکی ہو تو اس کو خراب مت کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم ایمان والے ہو۔

[7:86] ’’جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں ان کو خدا کی راہ سے موڑنے کےلئے ہر راستہ بند کرنے سے باز رہو،اوراس کو پیچیدہ مت بنائو ۔یاد کرو تم چندلوگ ہوتے تھے اور اس نے تم کو کئی گنا بڑھا دیا ۔یاد کرو فاسدوں کا انجام کار ۔

[7:87] ’’اب جب کہ تم میں سے بعض اس پر ایمان لے آئے ہیں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ،اور بعض ایمان نہیں لائے ،انتظار کروحتیٰ کہ خدا ہم میں اپنا فیصلہ جاری کردے ؛وہ بہترین منصف ہے۔‘‘

[7:88] اس کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا ،’’اے شعیب ہم تمہیںاور ان کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ،اپنے شہر سے نکال دینگے ،اگر تم نے ہمارے دین کی طرف رجوع نہ کیا تو۔‘‘اس نے کہا ،’’کیا تم ہمیں مجبور کرو گے ؟

[7:89] ’’ہم خدا کا کفر کرینگے اگر ہم نے تمہارے دین کی طرف رجوع کیا جبکہ و ہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔اپنے رب کی مرضی کے بر خلاف ہم کس طرح اس کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ؟ ہمارے رب کا علم تما م چیزوں پر محیط ہے ۔ہم خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ہمارے رب ،ہمارے لوگوں پر ہمیں فیصلہ کن فتح عطا کر۔تم سب سے بہتر ین حامی ہو۔‘‘

[7:90] اس کی قوم میں ایمان نہ لانے والے سرداروں نے کہا ،’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی ،تو تم خسارے میں رہو گے۔‘‘

[7:91] زلزلے نے انہیں مٹا کر رکھ دیا ،اوروہ اپنے گھروں میں مردہ پڑے رہے۔

[7:92] وہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹ گئے ،جیسے کبھی تھے ہی نہیں ۔وہ جنہوںکو جھٹلایا ،وہ خسارے میں رہے۔

[7:93] اس نے ان سے رخ پھیر لیا ،یہ کہتے ہوئے ،’’اے میری قوم میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے ،اور میں نے تمہیں نصیحت کردی ہے ۔ایمان نہ لانے والوںپر میں کیسے افسوس کرسکتا ہوں۔‘‘

پردے میں چھپی رحمت

[7:94] جب کبھی ہم نے کسی معاشرے کی طرف پیغمبر بھیجا تو ہم نے اسکے لوگوں پر مصیبت اورسختی طاری کی ،تاکہ و ہ گڑ گڑائیں ۔

[7:95] اس کے بعد ہم نے سختی کو امن اور خوشحالی سے بدل دیا۔مگر افسوس ،وہ بے پروائی سے پھر گئے اور کہا ،’’وہ ہمارے والدین تھے جنہوں نے خوشحالی سے پہلے سختی جھیلی تھی ۔‘‘اس کے نتیجے میںہم نے ان کو فوری سزا دی ،جب انہیں قطعی توقع نہ تھی ۔

بیشتر لوگ غلط انتخاب کرتے ہیں

[7:96] اگر ان معاشروں کے لوگ ایمان لاتے اورراستباز بن جاتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے رحمت برساتے ۔چونکہ انہوںنے ایمان نہ لانے کا فیصلہ کیاتھا ،اسلئے ہم نے انہیں ان کی کمائی کے مطابق سزا دی ۔

[7:97] کیا موجود معاشروں کے لوگوں نے ضمانت دی تھی کہ ہمارا عذاب رات کو ان پر نہیں آئیگا جبکہ وہ سو رہے ہوں گے ؟

[7:98] کیا موجودہ معاشروں کے لوگوں نے یہ ضمانت دی تھی کہ ہمارا عذاب دن کے وقت ان پر نہیں آئیگا جب کہ وہ کھیل رہے ہونگے ؟

[7:99] کیا انہوں نے خدا کے منصوبے کومعمولی سمجھا تھا۔خدا کے منصوبے کوئی معمولی نہیں سمجھتا سوائے خسارہ اٹھانے والوں کے۔

[7:100] کیا پچھلی نسلوں کے بعد زمین کا وارث بننے والوں کبھی یہ خیال نہیں آیاکہ ،اگر ہم چاہیں،توہم انہیں ان کے گناہوں کی سزا دے سکتے ہیں ،اوران کے دلوں پر مہرلگا سکتے ہیں ،جس سے وہ بہرے ہوجائیں گے ۔؟

[7:101] ہم تمہیں ان معاشروں کی تاریخ بتارہے ہیں :ان کے پیغمبر صاف ثبوت لے کر ان کی طرف گئے ،لیکن انہوںنے اس کو نہ مانا جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے ۔اس طرح خدا ایمان نہ لانے والے کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے ۔ ٰ

[7:102] ہم ان میں سے بیشتر کو اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرنے والا پاتے ہیں ؛ہم ان میں سے بیشتر کو مفسد پاتے ہیں *۔

موسی

[7:103] (ان پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسی ٰ کو اپنی نشانیوں کےساتھ فرعون اوراس کی قوم کی طرف بھیجا ،لیکن وہ حد سے گزر گئے ۔فاسدوں کے انجام کار پر غور کرو۔

[7:104] موسی ٰ نے کہا ،اے فرعون،میں رب کائنات کی طرف سے پیغمبر ہوں۔

[7:105] ’’مجھ پر لازم ہے کہ میں خدا کے متعلق حق کے سواکچھ نہ کہوں۔میں تمہارے پاس مالک کی نشانی لے کر آیا ہوں؛بنی اسرائیل کو جانے دو۔‘‘

[7:106] اس نے کہا ،’’اگر تمہارے پاس کوئی نشانی ہے، تو سامنے لائو،اگر تم سچے ہو۔‘‘

[7:107] اس نے اپنا عصا نیچے پھینک دیا اوروہ ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا ۔

[7:108] اس نے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لئے سفید تھا ۔

[7:109] فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا ،’’یہ کچھ نہیں مگر کھلا جادوگر۔

[7:110] یہ تمہیں تمہارے وطن سے نکالنا چاہتا ہے ؛تمہاری رائے کیا ہے ؟‘‘

[7:111] انہوں نے کہا ،’’اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دو اورہرشہر میں منادی کرنے والے بھیج دو ۔

[7:112] ’’انہیں ہر تجربہ کار جادوگر کوبلانے دو۔‘‘

[7:113] جادوگر فرعون کے پاس آئے اور کہا ،’’اگر ہم جیت گئے تو کیا ہمیں معاوضہ ملے گا ؟‘‘

[7:114] اس نے کہا ،’’ہاں بے شک ؛بلکہ تم میرے قریب ہو جائو گے ۔‘‘

[7:115] وہ بولے ،’’اے موسی ٰ،یا تم پھینکو ،یا پھر ہم پھینک رہے ہیں۔‘‘

[7:116] اس نے کہا ، ’’تم پھینکو۔‘‘جب انہوں نے پھینکے ،انہوں نے لوگوں کی آنکھوں کو دھوکہ دیا ،انہیں ڈرادیا ،اور زبردست جادو دکھایا ۔

[7:117] ہم نے پھر موسی ٰ کو القا کیا ؛’’اپنا اعصا پھینک دو ،‘‘جس پر اس نے وہ سب کچھ نگل لیا جو انہوں نے اخترا ع کیا تھا ۔

ماہرین نے سچ پہچان لیا

[7:118] اس طرح حق برقراررہا ،اور جو انہوں نے کیا تھا ضائع ہوگیا ۔

[7:119] ان کو وہیں اوراسی وقت شکست ہوگئی ؛ان کو ذلت اٹھانی پڑی

[7:120] جادوگر سجدے میں پڑ گئے۔

[7:121] وہ بولے ،ہم ایمان لائے رب کائنات پر ۔

[7:122] موسی ٰ اور ہارون کے رب پر۔‘‘

[7:123] فرعون بولا ،’’کیا تم میری اجازت کے بغیر اس پر ایمان لائے ہو؟یقینا یہ سازش ہے جو تم نے شہر میں کی ہے تاکہ اس کے لوگوں کو نکال کرلے جاسکو ۔تمہیں یقینا پتہ چل جائیگا۔

[7:124] ’’میں تمہارے ہاتھ اور پائو ں الٹی سمت سے کاٹوں گا،پھر میں تم سب کوپھانسی دو ں گا ۔‘‘

[7:125] وہ بولے ،’’ہم پھر اپنے رب کی طرف پلٹیں گے ۔

[7:126] تم صرف اس لئے ہمیں قتل کرنا چاہتے ہوکہ ہم اپنے رب کے ثبوتوں پر ایمان لائے ہیں،جب وہ ہمارے پاس آئے۔‘‘’’ہمارے رب ،ہمیں استقامت عطا فرما ،اورہمیں فرمانبرداروں کی طرح موت آئے ۔‘‘

[7:127] فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا ،’’کیا تم موسی ٰ اور اس کے لوگوں کو زمین خراب کرنے ،اور تمہیں اورتمہارے خدائوں کو چھوڑ نے کی اجازت دو گے ؟‘‘اس نے کہا ،’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل کردینگے ،اوربیٹیوں کو چھوڑ دینگے ۔ہم ان سے کئی گنا طاقتور ہیں ۔‘‘

[7:128] موسی ٰ نے اپنے لوگوں سے کہا ،’’خدا سے مدد طلب کرو،اورثابت قدمی سے ڈٹے رہنا۔زمین خدا کی ہے ،اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے یہ عطا کرتا ہے۔حتمی فتح متقی لوگوں کی ہے ۔‘‘

[7:129] وہ بولے،’’تمہارےآنےسےقبل بھی ہم پرظلم ڈھایاجاتاتھااورآنےکےبعدبھی۔‘‘اسنےکہا،’’تمہارارب تمہارےدشمنوں کومٹادیگااورتمہیں زمین پرآبادکریگا،پھروہ دیکھےگاکہ تم کیارویہ اختیارکرتےہو۔‘‘

آفات

[7:130] پھر ہم نے فرعون کے لوگوں پر خشک سالی اور قحط مسلط کیا تاکہ شاید وہ غور کریں ۔

[7:131] جب انہیں کوئی اچھا شگون ملتا تو وہ کہتے ،ہم اس کے مستحق ہیں ،‘‘لیکن جب ان پر مصیبت آتی تو موسی ٰ اور اسکے ساتھیوں کو مودرد الزام ٹھہراتے ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے شگونوں کافیصلہ صرف خدا کرتا ہے ،مگر ان میں سے بیشتر جانتے نہیں ۔

[7:132] انہوں نے کہا ،’’تم خواہ جس قسم کی بھی نشانی ہمیں دکھائو ،اپنے جادو سے ہمیں فریب دینے کےلئے ،ہم ایمان نہیں لائیں گے ۔‘‘

تنبیہ بے اثر رہی

[7:133] چنانچہ ہم نے ان پر سیلاب ،ٹڈیاں ،جوئیں ،مینڈک اورخون برسایا ۔جوبھاری نشانیاں تھیں ۔لیکن انہوںنے اپنی اکڑ برقرار رکھی ۔وہ برے لوگ تھے۔

[7:134] جب کبھی ان کو طاعون لاحق ہوا ،انہوں نے کہا ،’’اے موسی ٰ ،اپنے خدا سے دعا کرو،تم اس کے قریب ہو۔اگر تم یہ طاعون دور کردو تو ،ہم تم پر یقین کرینگے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دینگے۔‘‘

[7:135] پھر ،جب ہم نے ایک خاص مدت کےلئے طاعون دور کردیا ،تو بھی انہوں نے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی ۔

اٹل سزا

[7:136] چنانچہ ہم نے ان کے اعمال کا بدلہ لیا ،اور انہیں سمندر میں غرق کردیا ۔یہ اس لئے تھا کہ انہوں نے ہماری نشانیاں جھٹلائی تھیں ،اورقطعی طور پر ان سے بے پرواہ تھے ۔

[7:137] ہم نے مظلوم قوم کو زمین ،مشرق اور مغرب کا وارث بنایا اور اس کو نوازا۔اسطرح بنی اسرائیل سے متعلق تمہارے خدا کے متبرک احکام پورے ہوگئے،انکی استقامت کا صلہ دینے کےلئے ،اور ہم نے فرعون اوراس کے لوگوں کے کام اور جو کچھ بھی انہوں نے کمایاتھا، مٹا کر رکھ دیا ۔

تمام معجزوں کے بعد

[7:138] ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار پہنچا دیا ۔جب وہ ان لوگوں کے پاس سے گزرے جو بتوں کی عبادت کررہے تھے ،تو بولے،’’اے موسی ٰ،جیسے خدا ان کے پاس ہیںویسا خدا ہمارے لئے بنائو۔‘‘اس نے کہا ،’’بے شک تم جاہل لوگ ہو۔

[7:139] ’’یہ لوگ کفر کے مرتکب ہورہے ہیں،کیونکہ جو کچھ یہ کررہے ہیں ان کےلئے تباہ کن ہے ۔‘‘

[7:140] ’’کیا میں تمہارے لئے خدا کے علاوہ کوئی خدا تلاش کروں،جبکہ اس نے تمہیں دنیا میں ہر کسی سے زیادہ عطا کیا ہے؟‘‘

بنی اسرائیل کو یاد دہانی

[7:141] یاد کروکہ ہم نے تمہیں فرعون اور اس کے لوگوں سے نجات دلائی تھی ،جو تم پر بدترین ظلم ڈھاتے تھے ،تمہارے بیٹوں کوقتل کرتے تھے اورتمہاری بیٹیوں کو چھوڑ دیتے تھے ۔تمہارے رب کی طرف سے وہ تمہاری زبردست آزمائش تھی ۔

ہماری دنیا خدا کے جسمانی وجود کی متحمل نہیں ہوسکتی

[7:142] ہم نےموسی ٰکو*تیس راتوں کےلئےبلایا،اوران کو*دس ملاکرمکمل کیا۔اس طرح اس کی خداکےساتھ باریابی*چالیس راتیں رہی۔موسی ٰنےاپنےبھائی ہارون سےکہا،یہاںمیرےلوگوں کےساتھ مقیم رہو،تقوی ٰبرقراررکھنااورفسادی لوگوں کی راہ پرنہ چلنا۔‘‘

[7:143] جب موسی ٰ ہمارے مقررہ وقت پر آیا ،اس کے رب نے اس سے کلام کیا ،اس نے کہا،’’میرے رب ،’’مجھے اپنا جلوہ دکھا۔‘‘اس نے فرمایا،’’تم مجھے نہیں دیکھ سکتے ۔دیکھو اس پہاڑ کی طرف؛اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا ،تب تم مجھے دیکھ سکو گے ۔‘‘تب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی ،جس کے نتیجے میں وہ ریزہ ریزہ ہوگیا ۔موسی ٰ بے ہوش ہوکر گر پڑے۔جب وہ ہوش میں آئے تو کہا ،’’عظیم ہے تیری ذات ،میں تم سے استغفار کرتا ہوں،اورمیں سب سے زیادہ قائل ایمان والا ہوں۔‘‘

[7:144] اس نے کہا ،’’اے موسی ٰ میں نے تمہیں سب لوگوں میں سے چن لیا ہے ،اپنے پیغام کے ساتھ اورتمہارے ساتھ کلام کرکے۔اسلئے جو میں نے تمہیں دیا ہے وہ لے لواورشکر گزار رہو ۔‘‘

[7:145] ہم نے اس کےلئے تختیوں پر ہر قسم کی بصیرتیںاور تفصیلات لکھ دیں :’’ان تعلیمات کو مضبوطی سے قائم رکھنا ،اوراپنے لوگوں کو بھی انہیں قائم رکھنے کی تلقین کرنا ۔یہ بہترین تعلیمات ہیں ۔میں تمہیں فاسد لوگوں کی قسمت کی نشاندہی کردوں گا ۔‘‘

آسمانی مداخلت ،منکروں کو اندھیرے میں رکھتی ہے

[7:146] میں انہیں اپنی آیات سے پھیر دوں گا جو زمین پر متکبر ہیں کسی جواز کے بغیر ۔چنانچہ ،جب وہ ہرقسم کا ثبوت دیکھ لیں گے ،وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔جب وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں گے تو وہ اسے اپنا راستہ سمجھ کر نہیں اپنائیں گے ،لیکن جب وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں گے تو اس کو اپنا سمجھ کر اپنا لیں گے ۔یہ نتیجہ ہے ان کی طرف سے ہمارے ثبوتوں کو جھٹلانے کا اور ان سے مکمل بے پروائی کا ۔

[7:147] جو ہماری آیات کواور آخرت میں ملاقات کو جھٹلاتے ہیں ،ان کے اعمال ضائع کردیئے جاتے ہیں ۔کیا انہیں اس کے سوا بدلہ ملا ہے جو انہوں نے کیا تھا ؟

سونے کا بچھڑا

[7:148] اس کی عدم موجودگی میں ،موسی ٰ کے لوگوں نے اپنے زیوارت سے بچھڑے کا مکمل بت بنا لیا جس کی آواز بھی بچھڑے* کی تھی ۔کیا انہیں نظر نہیں آتا تھا کہ وہ ان سے بول نہیں سکتا اورنہ ہی انہیں کوئی راہ دکھاسکتا ہے ؟انہوں نے اس کو پوجا اور اس طرح مفسد بن گئے ۔

[7:149] آخر کار ،جب وہ اپنے کئے پر پچھتائے اور محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے تھے ،انہوں نے کہا،’’اگر ہمارے رب نے اپنی رحمت سے ہمیں معاف اورہم سے درگزر نہ کیاتوہم خسارے میں رہیں گے ۔‘‘

[7:150] جب موسی ٰ اپنے لوگوں میں واپس آیا ،غصے اورمایوسی میں ،اس نے کہا ،’’تم نے میری عدم موجودگی میں کیا خوفناک حرکت کی ہے !کیا تم اپنے خدا کے احکامات کا انتظا رنہیں کرسکتے تھے ؟‘‘اس نے تختیاں پھینک دیں ،اوراپنی طرف کھینچتے ہوئے اپنے بھائی کا سر پکڑ لیا ۔(ہارون)نے کہا،’’میرے ماں جائے ،لوگوں نے میری کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور تقریباًمجھے مار چکے تھے ۔میرے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع نہ دو ،اورمجھے حدسے تجاوز کرنے والوں میں شمار نہ کرو۔‘‘

[7:151] موسی ٰ نے کہا ،’’میرے خدا مجھے اورمیرے بھائی کومعاف کردے ،اورہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلو۔سب رحم کرنے والوں میں ،تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔‘‘

[7:152] یقیناجنہوں نے بچھڑے کو شریک بنایا ،انہوں نے اپنے رب کا غضب کمایا ،اوراس زندگی میں ذلت حاصل کی ۔ہم اس طرح بدعت کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں ۔

[7:153] اوروہ جنہوں نے گناہ کیے،اوربعدازاں پچھتائے اور ایمان لائے ،تو ،اس کے بعد،تمہارا رب معاف کرنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔

[7:154] جب موسی ٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا،اس نے تختیاں اٹھا لیں،جن میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کےلئے جواپنے رب کی تعظیم کرتے ہیں ۔

[7:155] تب موسی ٰ نے 70آدمیوں کا انتخاب کیا ،ہم سے مقررہ باریابی کےلئے ۔ جب زلزلے نے انہیں ہلا ڈالا،اس نے کہا ،’’میرے رب ،تو چاہتا تو ان کو میرے سمیت ماضی میں مٹا سکتا تھا ۔کیا تو ہمیں ان لوگوںکے اعمال کی وجہ سے مٹا دیگا جو ہم میں نادان ہیں ؟یقینا یہ ایک آزمائش ہے جو تو نے ہمارے لئے شروع کی ہے ۔اس کے ساتھ تو جس کو چاہے سزا دے،اور جس کو چاہے ہدایت دے ۔تو ہمارا رب اور آقا ہے ،لہذا ہمیں معاف کر،ہم پر رحمت برسا ؛تو سب سے بہتر معاف کرنے والا ہے ۔

خدا کی رحمت حاصل کرنے کی تقاضے زکواۃ کی اہمیت

[7:156] ’’اور ہمارے لئے اس دنیا میں اورآخرت میں راستبازی لکھ دے ،ہم تجھ سے نادم ہیں۔‘‘اس نے کہا ،‘‘میرا عذاب اس پر پڑتا ہے جس پر میں چاہوں۔لیکن میری رحمت سب چیزوں پر محیط ہے ۔تاہم میں اسے ان کےلئے مختص کردوں گا جو (1)جو راستبازی کی زندگی گزارتے ہیں ،(2)زکواۃ* دیتے ہیں ،(3)ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں ،اور

[7:157] ’’(4)پیغمبر کی پیروی کرتے ہیں ،غیر مسیحی نبی (محمد)،جن کا نام وہ توریت اورانجیل میں پاتے ہیں *،وہ انہیں راست بازی کی تلقین کرتے ہیں ،برائی سے باز رکھتے ہیں ،تمام اچھی چیزیںکھانے کی اجازت دیتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں جو بری ہے،اوران کا بوجھ اور ان کولگی بیڑیاں اتارتے ہیں ۔اور جو ان پر ایمان لاتے ہیں،ان کی تکریم کرتے ہیں ،ان کی حمایت کرتے ہیں ،اوراس روشنی کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ آئی ہے وہ کامیاب ہیں ۔‘‘

[7:158] کہہ دیجیے،’’اے لوگو،میں تم سب کی طرف خدا کا پیغمبر ہوں۔آسمانوں اورزمین کی حاکمیت اسی کے پاس ہے ۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔زندگی اور موت پر اسی کا کنٹرول ہے ۔‘‘اسلیے تم خدا پر ایمان لائو اوراس کے پیغمبر پر ،غیر مسیحی نبی پر ،جو خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے ارشادات پر ۔اس کی پیروی کرو ،تاکہ تم کو ہدایت مل سکے ۔

ہدایت یافتہ یہودی

[7:159] موسی ٰ کے پیروکاروں میں ایسے بھی ہیں جو حق کے مطابق ہدایت کرتے ہیں اور حق ان کو راست باز بناتاہے ۔

سینا میں معجزہ

[7:160] ہم نے ان کو بارہ قبائلی بستیوں میں تقسیم کیا ،اورہم نے موسیٰ کو وحی کی جب اس کے لوگوں نے اس سے پانی کے بارے میں دریافت کیا: ،’’اپنا عصا پتھرپر مارو،‘‘جس پر وہاں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ۔اسطرح ،ہربستی اپنے پانی کے بارے میں جان گئی ۔اورہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا اور اوران پر من و سلوی ٰ اتارا :جو اچھی چیزیں ہم نے تمہیں فراہم کی ہیں ان میں سے کھائو۔‘‘انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا ۔

معجزاتکےباوجودسرکشی

[7:161] یا د کرو ،انہیں کہا گیا تھا ،’’اس قصبے میں چلے جائو رہنے کےلئے ،اور وہاں جو چاہو کھائو،لوگوں سے دوستانہ برتائو کرو،اور دروازے میںعاجزی سے داخل ہونا ۔پھر ہم تمہاری زیادتیاں معاف کردینگے۔ہم راست بازوں کا صلہ کئی گنا بڑھا دینگے۔‘‘

[7:162] لیکن ان میں سے جوبرے تھے انہوں نے جو احکامات ان کو دیئے گئے تھے ان کو دوسر ے احکامات سے بدل دیا ۔چنانچہ ہم نے آسمان سے ان پر پھٹکارڈالی ،ان کی خباثت کی وجہ سے ۔

احکامات پر عمل سے خوشحالی آتی ہے

[7:163] انہیں سمندر کے ساتھ اسی بستی کی یاد دہانی کرائو ،جس نے سبت کی خلاف ورزی کی تھی ۔جب وہ سبت کی پابندی کرتے تھے تو وافر مقدار میں مچھلی ان کے پاس آتی تھی ۔اورجب انہوںنے اس کی خلاف ورزی کی تو مچھلی نہ آئی ۔اس طرح ہم نے ان پر غضب نازل کیا ،ان کی زیاتی کے نتیجے میں ۔

خدا کے کلام کی نقل اتارنا اور مضحکہ اڑانا

[7:164] یاد کروکہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا ،’’تم کیوں ان لوگوں میں تبلیغ کرتے ہو جن کو خدا نے لازمی مٹانا اور سخت سزا دینی ہے ؟‘‘انہوں نے جواب دیا ،’’اپنے رب سے معافی طلب کرو،‘‘تاکہ وہ نجات پاسکیں ۔

[7:165] جب انہوں نے اس سے بے پروائی کی جس کی انہیں یاد دہانی کرائی گئی تھی ،ہم نے ان کو بچا لیا جوبرائی سے روکتے تھے ،اور ظلم کرنے والوں پر ان کی خباث کی وجہ سے خوفناک عذاب نازل کیا ۔

[7:166] جب انہوں نے احکامات سے سرکشی جاری رکھی ،ہم نے ان سے کہا ،’’تم حقیر بندر بن جائو ۔‘‘

[7:167] علاوہ ازیں ،تمہارے رب نے لکھ دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جو انہیں سخت ظلم کا نشانہ بنائیں گے، قیامت کے دن تک۔ تمہارا رب سزادینے میں بہت ہی تیز ہے ،اوروہ یقینا معاف کرنے والا اور سب سے زیادہ رحم کرنیوالا ہے ۔

[7:168] ہم نے انہیں پوری زمین پر کئی بستیوں میںمنتشر کردیا ۔ ان میں سے کچھ پاکباز اور کچھ پاکبازوں سے کم تھے ۔ہم نے خوشحالی اور سختیوں سے ان کی آزمائش کی تاکہ شاید وہ باز آجائیں ۔

[7:169] ان کے بعد،وہ ان کی جگہ نئی نسلیں لے آیا جو کتاب کے وارث بنے ،لیکن انہوں نے اس کے باوجود دنیا وی زندگی کا انتخاب کیا ،یہ کہتے ہوئے ،ہم معاف کردیئے جائیں گے ۔‘‘لیکن پھر بھی انہوں نے اس دنیا کی مادی چیزوں کو ترجیح دینا جاری رکھی ۔کیا انہوں نے کتاب کو قائم رکھنے اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہنے کا عہد نہیں کیا تھا ؟کیا انہوں نے کتاب کا مطالعہ نہیں کی تھا ؟یقینا آخرت کا ٹھکانا ان کےلئے کہیں زیادہ بہتر ہے جو پا کبازی برقرار رکھتے ہیں ۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟

[7:170] جو کتاب کو قائم ،اورنماز(صلواۃ) ادا کرتے ہیں ،ہم نیکو کاروں کا بدلہ دینے میں کبھی نہیں چوکتے ۔

[7:171] ہم نے ان کے سامنے پہاڑ کو کھڑا کردیا چھتری کی مانند،اورانہوں نے محسوس کیا کہ وہ ان پر گرنے والا ہے :’’جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اسکو مضبوطی سے تھامے رکھو ،اور اس کے مندرجات یاد رکھو ،شاید کہ تم نجات پاسکو ۔‘‘

ہم خدا کے بارے میں جبلی علم کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں *

[7:172] یا دکرو،تمہارے رب نے آدم کے تمام جانشینوں کو بلایا ،اور ان سے انہی کےلئے گواہ لی :’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟‘‘ان سے نے کہا ،’’ہاں۔ہم گواہی دیتے ہیں ۔‘‘لہذا تم قیامت کے روز یہ نہیں کہہ سکتے ،’’ہم اس سے باخبر نہیں تھے ۔‘‘

[7:173] تم یہ بھی نہیں کہہ سکتے ،’’کہ وہ تمہارے والدین تھے جو شرک کرتے تھے ، اورہم توصرف ان کے نقش قدم پر چلتے تھے ۔ کیاتم ہمیں اس کی سزا دو گے جو دوسروں نے اخترا ع کیا ہے؟‘‘

[7:174] ہم اسطر ح آیات کی وضاحت کرتے ہیں ،تاکہ لوگ اپنی تلافی کرسکیں * ۔

[7:175] انہیں اس شخص کی خبر پڑھ کرسنائو جسے ہمارے ثبوت دیئے گئے تھے ،مگر اس نے اس نے ان سے بے پروائی کا انتخاب کیا ۔چانچہ ،شیطان نے اس کا تعاقب کیا ،حتی ٰ کہ وہ گمراہ ہو گیا۔

[7:176] اگر ہم چاہتے تو ہم اس کا رتبہ فوری بڑھا دیتے ،اس نے زمین سے چمٹے رہنے پر اصرار کیا ،اور اپنے خیالات کی پیروی کی ،اس طرح ،وہ ایک کتے کی مانند ہے ،خواہ تم اس کو پچکارویا دھتکارو،وہ ہانپتا ہے ۔یہ ہے ان لوگوں کی مثال جو ہمارے ثبوت مسترد کرتے ہیں۔یہ آیات ان کو سنائو شایدوہ پلٹ آئیں ۔

[7:177] ان لوگوں کی مثال یقینا بری ہے جو ہمارے ثبوت مستر د کرتے ہیں ؛وہ اپنی جانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔

[7:178] جس کو خدا ہدایت دیتا ہے وہ اصل ہدایت یافتہ ہوتا ہے ،اور جس کو وہ گمراہ کرتا ہے،وہ خسارہ اٹھاتے ہیں ۔

شیطان اپنے حواریوں کو مسحور کرلیتا ہے

[7:179] ہم نے بے شمار جن اورانسان جہنم ہی کےلئے بنائے ہیں۔ان کے پاس دماغ ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ،آنکھیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں ،اور کان جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں ۔وہ جانوروں جیسے ہیں ؛نہیں ،وہ اس سے بھی کہیں زیادہ برے ہیں۔ وہ مکمل طور پر بے خبر ہیں ۔

[7:180] سب سے زیادہ خوبصورت نا م خدا کے ہیں ؛اسے انہی کے ساتھ پکارو،اوران کی پرواہ مت کرو جو اس کے ناموں کو الٹتے پلٹتے ہیں ۔انہیں ان کے گناہوں کا بدلہ دیا جائیگا ۔

[7:181] ہماری مخلوقات میں سے ،وہ بھی ہیںجوحق کے ساتھ راہنمائی کرتے ہیں ،اورحق انہیں راستباز بنا تا ہے۔

[7:182] اورجو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ،ہم انہیں اسی طرف چلاتے ہیں ،ان کو مطلق احساس دلائے بغیر ۔

[7:183] میں ان کی حوصلہ افزائی کروں گا ؛میری تدبیر کا مقابلہ ناممکن ہے ۔

[7:184] وہ کیوں اپنے دوست (پیغمبر )کے بارے میں نہیں سوچتے ؟وہ جنونی نہیں ۔وہ توصرف زبردست تنبیہ کرنے والا ہے ۔

[7:185] کیا انہوں نے آسمانوں اورزمین کی بادشاہت کو نہیں دیکھا،اور وہ تمام چیزیں جو خدا نے پیدا کی ہیں ؟کیا کبھی ان کو یہ خیال آیا ہے کہ ان کی زندگی کا خاتمہ قریب ہی ہے ؟اس کے علاو ہ کونسی حدیث ہے ،جس پر وہ ایمان رکھتے ہیں ؟

[7:186] جس کو خدا بھٹکا دے ،ا س کو ہرگز کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ۔وہ انہیں ان کے گناہوں میں ،فاش غلطیاں کرتے چھوڑ دیتا ہے ۔

[7:187] وہ آپ سے دنیا کے خاتمہ (گھڑی )*کے بارے میں پوچھتے ہیں ،اوریہ کب آئیگی۔کہہ دیجیے،’’اس کا علم میرے رب کو ہے ۔صرف وہ ہی اس کا وقت *منکشف کرتا ہے ۔*یہ آسمانوں اور زمین پر بھاری ہے ۔وہ تم پر نہیں آئیگی مگر اچانک۔‘‘**وہ پوچھتے ہیں کہ کیا اس پر تمہارا کنٹرول ہے ۔کہہ دیجیے ،’’اس کا علم خدا کوہے،‘‘مگر بیشتر لوگ نہیں جانتے ۔

پیغمبر بے اختیار ہیں ؛ وہ مستقبل کو نہیں جانتے

[7:188] کہہ دیجیے،’’مجھے اپنے آپ کو فائدہ پہنچانے یا اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں۔ جو خدا چاہتا ہے میرے ساتھ وہی ہوتا ہے ۔اگر میں مستقبل کو جانتا ،میں اپنی دولت بڑھا لیتا ،اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔میں تنبیہ کرنے والے سے زیادہ نہیں ،اور خوشخبری دینے والا ہوں ان کو جو ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘

ہمارے بچے بھی شریک ہوسکتے ہیں

[7:189] اس نے تمہیں ایک فرد (آدم )سے پیدا کیا ۔بعدازاں ،وہ ہر مرد کو ساتھی(عورت) دیتا ہے تاکہ اس کے ساتھ سکو ن پاسکے ۔پھروہ ہلکا سا بوجھ اٹھاتی ہے جس کا اسے احساس ہی نہیںہوتا۔جب بوجھ بھاری ہوتا ہے تو وہ خدا اپنے رب سے التجا کرتے ہیں :’’اگر تم ہمیں اچھا سا بچہ دو گے تو ہم قدردان ہونگے ۔‘‘

[7:190] لیکن جب وہ انہیں اچھا بچہ دیتا ہے ،وہ اس کے عطیہ کو شریک بنالیتے ہیں جو اس کی ہمسری کرتا ہے ۔عظیم ہے خدا ،کسی بھی شراکت سے بہت بالاتر ۔

[7:191] کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ ان شریکوں کو شریک بنا رہے ہیںجو کچھ تخلیق نہیں کرتے ،اور خود خلق کئے جاتے ہیں ؟

[7:192] شریک جو نہ تو ان کی مدد کرسکتے ہیں، اور نہ ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں ؟

[7:193] جب تم انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہو،تو وہ تمہاری بات نہیں سمجھتے ۔لہذا ،ان کے لئے برابر ہے ،تم انہیں دعوت دو ،یا خاموش رہو۔

[7:194] خدا کے علاوہ جن شریکوں سے تم رجوع کرتے ہو وہ تمہاری طرح پیدائش ہیں ۔جائو اور جاکر انہیں بلاو؛اوروہ تمہیں جواب دیں ،اگر تم سچے ہو۔

[7:195] کیا ان کی ٹانگیں ہیں جن پر وہ چل سکتے ہیں ؟کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ اپنا دفاع کرسکتے ہیں ؟کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھ سکتے ہیں ؟کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سن سکتے ہیں ؟کہہ دیجیے،’’بلائو اپنے شریکو ں کو ،اوران سے کہو کہ وہ بلاتاخیر مجھے مار ڈالیں ۔

[7:196] ’’صرف خدا ہی میرا رب اورآقا ہے ؛وہ جس نے یہ کتاب نازل کی ۔وہ راستبازوں کی حفاظت کرتا ہے ۔

[7:197] جو شریک تم اس کے ساتھ ٹھہراتے ہو،وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے ،نہ ہی وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔‘‘

[7:198] جب تم انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہو،وہ نہیں سنتے ۔اور تم دیکھتے ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں ،لیکن وہ نہیں دیکھتے ۔

[7:199] تم درگزر اختیار کرو،رواداری کی تلقین کرواور غافلوں کی پرواہ مت کرو۔

[7:200] جب شیطان تمہارے کان میں کوئی سرگوشی کرئے تو خد ا کی پناہ مانگو،وہ سننے والا اورہمہ بین ہے۔

[7:201] جو راستباز ہیں جب شیطان ان کے پاس کوئی خیال لے کر آتا ہے تو،وہ یاد کرتے ہیں،جس پر وہ اہل بصیرت بن جاتے ہیں ۔

[7:202] ان کے بھائی مسلسل انہیں گمراہی پر اکساتے ہیں ۔

[7:203] جب آپ وہ معجزہ نہیں دکھاتے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں ،’’اس کے بارے میں کیوں نہ پوچھیں؟‘‘کہہ دیجیے،’’میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میرے خدا کی طرف سے مجھ پر وحی کیاگیا ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے روشنیاں، اورہدایت اوررحمت ہے ،ان لوگوں کےلئے جو ایمان لاتے ہیں ۔

[7:204] جب قرآن پڑھا جائے تو تم توجہ سے سنو اور غور کروتاکہ تم رحم پاسکو۔

[7:205] خدا کو یاد کرو تنہائی میں،جلوت میں ،خلوت میں اور خاموشی سے دن رات ؛غافل مت ہونا۔*

[7:206] اورجو تمہارے رب پر کبھی اتنے متکبر نہیں ہوتے کہ اس کی عبادت کریں ؛وہ اس کی کبریائی بیان کرتے ہیں اور اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔