سورۃ 6: مویشی(الانعام)
خدا کے نام سے جونہایت مہربان اور رحم کرنے والاہے ۔
[6:1] تعریف خدا کےلئے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوبنایا ،روشنی اور تاریکی پیدا کی، اسکے باوجودجواپنے خدا کا انکار کرتے ہیں وہ روگردانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
[6:2] وہ وہ ہے جس نے تم کو کیچڑ سے پیدا کیا اورتمہاری زندگی کی مدت پیش معین کردی ۔یہ مدت صرف وہی جانتا ہے ۔اس کے باوجو د تم شک کئے جارہے ہو۔
[6:3] آسمانوں اورزمین میں صرف وہی ایک خدا ہے ۔اوروہ تمہاری چھپی اور ظاہری باتیں جانتا ہے اور جوکچھ تم کماتے ہو وہ جانتا ہے ۔
[6:4] ان کے پاس خدا کی طرف سے خواہ کیسا ثبوت ہی کیوں نہ آجائے وہ وہ بیزاری سے پرے مڑ جاتے ہیں۔
[6:5] چونکہ انہوں نے حق کو اس وقت جھٹلایا ہے جب وہ ان کے پاس آچکا تھااس لئے وہ اپنی بے توجہی کے نتائج بھگتیں گے ۔
[6:6] کیاانہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کتنی نسلوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ؟۔ہم نے ان کو زمین پر تم سے زیاد ہ بہتر آباد کیا تھا اورہم نے ان پر نعمتو ں کی کھلی بارش کی تھی اورانہیں بہتی ہوئی نہریں فراہم کیں۔اورپھر ان کے گناہوں کے باعث انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ نئی نسل لے آئے ۔
[6:7] اگر ہم ان پرمادی شکل میں کتاب بھی نازل کردیتے، جو کاغذ پر لکھی ہوتی اوریہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوبھی لیتے تو بھی جوکفرکرنے والے ہیں وہ یہی کہتے ،’’یہ صریح جادو کے سوا کچھ نہیں ۔‘‘
[6:8] انہوں نے یہ بھی کہا ،’’ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ اتا راجاتا تو کیاتھا !‘‘اگر ہم فرشتہ بھیج دیتے تو اب تک تمام معاملہ ختم ہوچکا ہوتا اورانہیں کوئی مہلت نہیں دی جائیگی ۔
امتحان کے تقاضے
[6:9] اگر ہم فرشتہ بھی بھیجتے تو اسے انسان کی شکل میں بھیجتے اور ان کو اسی طر ح شک میں مبتلا رکھتے جیسے یہ اب مبتلا ہیں ۔
[6:10] تم سے پہلے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔اوریہ وہ تھے جنہوں نے پیغمبروں کاٹھٹہ اڑایا اور پھر اپنے مضحکہ کا نتیجہ بھی بھگتا۔
[6:11] کہہ دیجیے ،’’زمین پر چل پھر کر دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتاہے۔‘‘
[6:12] ان سے پوچھیئے ،’’زمین وآسمانوں میں جو کچھ ہے وہ کس کی ملکیت ہے ؟‘‘کہہ دیجیے ،’’سب کچھ خدا کا ہے ۔‘‘رحم کرنا اس نے اپنا شیوہ بنالیا ہے ۔قیامت کے دن ،جس کا آناناگزیر ہے ، وہ تم سب کو ضروراپنے سامنے طلب کریگا۔جولوگ اپنی روحیں کھو دیتے ہیں وہ وہ ہیں جو کفر کرتے ہیں ۔
[6:13] رات اور دن میں جو کچھ ہے وہ سب خدا کا ہے۔وہ سننے والا اورجاننے والا ہے ۔
[6:14] کہہ دیجیے،’’کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب اورمالک تسلیم کرلوں جبکہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے ۔وہ سب کوروزی دیتا ہے لیتا نہیں ؟‘‘کہہ دیجیے، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا سب سے زیادہ فرمانبرداربن جائو ں اورشرک کرنے والا نہ بنوں۔‘‘
[6:15] کہہ دیجیے،’’اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو ڈرتا ہوں ایک خوفناک دن کی سزا سے۔
[6:16] ’’اس روز جو( سزا سے) بچ گیا اس نے خدا کا کرم حاصل کرلیا۔اوریہی عظیم ترین کامیابی ہے۔‘‘
خوشی صرف خدا کے اختیار میں ہے
[6:17] اگر خدا تمہیں مصیبت میں مبتلا کردے تو اس کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا اوراگر وہ نعمت بخشتاہے تو وہ قادرمطلق ہے۔
[6:18] وہ اپنی مخلوق پربالاتر ہے ۔وہ دانا اورسب کچھ جاننے والا ہے۔
قرآن،پورا قرآن اور قران کے علاوہ کچھ نہیں مگر قرآن
[6:19] ان سے پوچھیئے ،کس کی گواہی سب سے بہتر ہے ؟‘‘کہہ دیجیے ،’’خدا کی ۔میرے اور تمہارے درمیان وہ ہی گواہ ہے اوریہ قران *مجھ پر وحی کیا گیا ہے تاکہ تمہیں اورجس جس کو یہ پہنچے اس کی تعلیم دوں ۔ بےشک تم گواہی دےتے ہو کہ خدا کے ساتھ دیگر خدا* بھی ہیں ۔‘‘کہہ دیجیے،جو کچھ تم کرتے ہو میں اس کی تصدیق نہیں کرتا؛خدا صرف ایک ہے اور میں تمہارے شرک سے لاتعلق ہوں۔‘‘
[6:20] جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ اس کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بچوں کو ۔اورجن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں مبتلا کرلیاہے وہ اس بات کو نہیں مانتے ۔
[6:21] اور اس سے برا کون ہے جو خدا کے متعلق جھوٹ بولتاہے اور اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے ؟تجاوز کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
مشرک اپنے شرک کا انکار کرتے ہیں
[6:22] اوراس دن جب ہم سب کو حاظر کرینگے ہم مشرکو ں سے پوچھیں گے ،’’تمہارے وہ شریک کہاںہیں جنہیں تم نے بنارکھا تھا ؟‘‘
[6:23] ان کاشامت زدہ جواب ہوگا ،"ہمارے مالک تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے ۔‘‘*
[6:24] دیکھو ان لوگوں نے اپنے آپ سے کس طر ح جھوٹ بولا ہے اور جن کو انہوں نے شریک ٹھہرایا تھا وہ کیسے انہیں چھوڑ گئے ہیں۔
[6:25] ان میں سے کچھ غور سے تمہاری بات سنتے ہیں لیکن ہم ان دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ سمجھ نہ سکیں اور ان کے کان بہرے کردیتے ہیں ۔اس لئے وہ جو بھی نشانی دیکھ لیں ایمان نہیں لاسکتے۔اورجب وہ تمہارے پاس بحث کےلئے آتے ہیں تو کافر یہی کہتے ہیں،’’یہ سب ماضی کے قصے ہیں۔’’
[6:26] وہ دوسروں کواس ( قرآن)سے اس طرح روکتے ہیں جس طرح وہ خود اس سے دور رہتے ہیں اور اس طرح وہ ناسمجھی میں صرف اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں ۔
[6:27] کاش تم ان کو اس حالت میں دیکھ سکتے جب انہیں جہنم کی آگ کا سامنا کرناپڑیگا۔اس وقت وہ کہیں گے ،افسوس ہم پر ،کاش ہم واپس جاسکتے تو ہم خد ا کی آیات کو کبھی نہ جھٹلاتے اور ایمان والوں میں شامل ہوجاتے۔‘‘
[6:28] حقیقت یہ ہے کہ (وہ ایسا اس لئے کہتے ہیںکیونکہ )انہوں نے جو کچھ چھپا رکھا تھا وہ ظاہر ہوگیا ہے ۔اگر وہ دوبارہ واپس بھیجے گئے تو پھر وہی جرائم کرینگے *۔وہ جھوٹے ہیں۔
[6:29] وہ (تحت الشعُوری طورپر)کہتے ہیں،ہم صرف اس دنیا میں رہتے ہیں اور ہم مرنے کے بعد زندہ نہیں کئے جائیں گے ۔‘‘
[6:30] کاش تم انہیں اس حالت میں دیکھ سکتے جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونگے ۔وہ فرمائے گا ،’’کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟‘‘تو وہ جواب دیں گے ،’’ہاں،ہمارے رب ایسا ہی ہے ۔‘‘خدا فرمائے گا تم اپنے انکار کے نتیجے میں عذاب کے مستحق ہو۔‘‘
[6:31] بےشک وہ لوگ خسارے میں ہیں جو اپنے رب سے ملاقات کا انکارکرتے ہیں اورجب وہ گھڑ ی اچانک ان پر آجاتی ہے تو کہتے ہیں ،’’ہمیں اس دنیا میں اپنی زندگیاں ضائع کرنے کا سخت افسوس ہے ۔وہ اپنے گناہوں کا بوجھ پیٹھ پر اٹھائیں گے ۔کیسا برا بوجھ ہے یہ !
اپنی ترجیحات کا دوبارہ تعین کریں
[6:32] اس دنیا کی زندگی ایک فریب اوردکھاوے سے زیادہ نہیں ہے جبکہ نیکوکاروں کےلئے آخرت کا ٹھکانا اس سے کہیں زیادہ بہترہے ۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟!
[6:33] ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس سے آپ پریشان ہوتے ہیں ۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے ؛یہ خدا کی آیات ہیں جن سے یہ فاسد بے اعتنائی کرتے ہیں ۔
[6:34] تم سے پہلے پیغمبربھی جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن انہوں نے اس کفر کے مقابلے میں ثابت قدمی دکھائی ۔ان پیغمبروں کو اذیتیں دی گئیں حتی ٰ کہ ان کو ہماری مدد پہنچ گئی ۔یہ خدا کا نظام ہے جو کبھی نہیں بدلے گا۔ اس طرح میرے پیغمبروں کی تاریخ تمہارے لئے مثالیں قائم کرتی ہے ۔
[6:35] اگر تمہیں ان کا انکاربہت ہی گراں گزرتا ہے تو تمہیں معلو م ہونا چاہیے کہ اگر تم زمین میں سرنگ کھودلیتے یا آسمان پر سیڑھی لگالیتے اوران کےلئے کیساہی معجزہ کیوں نہ دکھاتے (وہ پھربھی ایمان نہ لاتے)۔اگر خدا چاہتاتو ان سب کو ہدایت کی راہ دکھا دیتا ۔لہذا نادانوں جیسے نہ بنو۔
[6:36] جواب صرف وہی لوگ دیتے ہیں جو سنتے ہیں ۔خدا مردوں کوزندہ کرتاہے ؛اورآخر کار وہ خدا ہی کی طرف لوٹ کرجاتے ہیں ۔
[6:37] وہ کہتے ہیں ،’’اس پر اسکے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی !کہہ دیجیے،’’خدا نشانی اتارنے کی قدرت رکھتا ہے ،لیکن ان میں سے بیشتر جانتے نہیں ۔‘‘
جانوراورپرندے :فرمانبردار مخلوق *
[6:38] زمین پر موجود تمام مخلوق اور تما م پرندے جو پروں سے اڑتے ہیںوہ بھی تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ۔ہم نے اس کتاب سے باہر کوئی چیز نہیں چھوڑی ۔**اورتمام مخلوق کو ان کے مالک کی طرف بلایا جائیگا۔
قران کا زبر دست معجزہ
[6:39] جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ گونگے اور بہرے ہیں،وہ مکمل اندھیرے میںہیں۔خدا جسے چاہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہے سیدھے راستے پر راہنمائی کرتا ہے ۔
[6:40] کہہ دیجیے،’’جب خدا کی طرف سے تم پر کوئی مصیبت یا گھڑی آجائے تو کیا تم اس وقت خدا کے علاوہ کسی اور سے التجا کرو گے ،اگر تم سچے ہوتو ؟‘‘
[6:41] حقیقت یہ ہے تم صرف اسی کے آگے گڑگڑاتے ہو اوروہی تمہاری دعائوں کا جواب دیتا ہے، اگر وہ ایسا چاہے تو، اورتم اپنے شریکوں کوبھول جاتے ہو۔
[6:42] تم سے پہلے والی قوموں کی طرف بھی ہم نے( پیغمبر) بھیجے ہیںاوران کو مصائب اور سختیوں سے آزمایا تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔
[6:43] جب ہم نے ان پر آزمائش کی تو پھر انہوں نے کیوں عاجزی اختیار نہ کی ؟ان کے دل مزید سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے اعمال خوشنما بنادیئے ۔
نظام *
[6:44] جب انہوں نے اس پیغام کو جو انہیں دیا گیا تھا ،سے اس طرح لاپرواہی کی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے ۔ پھر جب وہ اس چیز سے لطف اندوز ہو رہے تھے جو انہیں دی گئی تھی تو ہم نے انہیں اچانک سزا دی ؛اورچکراکر رہ گئے ۔
[6:45] فاسدوں کو اس طرح مٹادیا جاتا ہے ۔تعریف خدا کےلئے ہے جو کائنات کا مالک ہے۔
صرف خدا ہی عبادت کے لائق ہے
[6:46] کہہ دیجیے،’’اگر خدا تمہاری سماعت اوربصارت چھین لے اور تمہارے قلوب پر مہر لگادے تو کونسا ’خدا ‘سوائے خدا تعالی ٰکے یہ تمہیں لوٹاسکتا ہے ؟‘‘دیکھو ہم کس طرح تمہارے لیے آیات کی وضاحت کرتے ہیں اور دیکھو کہ پھر بھی وہ کس طرح روگردانی کرتے ہیں!
[6:47] کہہ دیجیے ،’’اگر تم پراچانک یا کسی اعلان کے بعدخدا کا عذاب آجائے تو فاسدوں کے علاوہ ہلاکت کا مستحق کون ہوگا؟‘‘
پیغمبروں کا کردار
[6:48] ہم پیغمبروںکو بطور خوشخبریاںسنانے اورخبردار کرنے والے کے علاوہ نہیں بھیجتے ۔جولوگ ایمان لاتے ہیں اور اصلاح کرتے ہیں ان کےلئے کوئی خوف نہیں اور نہ ہی وہ غم زدہ ہونگے۔
[6:49] اورجوہماری آیات کا انکار کرتے ہیں تو انہیں انکے جرم کی سزا ملے گی۔
[6:50] کہہ دیجیے،’’میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں۔نہ ہی مجھے مستقبل کا علم ہے۔میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں ہو جو مجھ پر وحی کیا گیا ہے ۔‘‘کہہ دیجیے ،’’کیا اندھا اور بینا برابر ہیں؟کیا تم سمجھتے نہیں؟‘‘
[6:51] اوران لوگوں کو اس (قران)کے ذریعے تبلیغ کروجوخدا کے سامنے حاظر کئے جانے کا اقرار کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ ان کا کوئی مالک اور آقا اور شافع نہیں۔تاکہ وہ نجات حاصل کرسکیں ۔
[6:52] اوران لوگوں کو خود سے دور نہ کرو جو دن رات خدا کو یاد کرتے ہیں اورانہوںاپنے آپ کو صرف خدا کےلئے وقف کررکھا ہے۔تم ان کے اعمال کے جوابدہ ہو نہ وہ تمہارے اعمال کے جوابدہ ہیں ۔اگر تم ان کو دور کرو گے تو تم تجاوز کرنے والے ہوگے۔
[6:53] اس طرح ہم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے آزماتے ہیں ،تاکہ وہ( طنزیہ )کہہ سکیں ،’’کیا ہم میںیہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے رحمت کی ہے ۔کیا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں ہے؟
[6:54] وہ جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں جب تمہارے پاس آئیں تو کہو ،’’سلامن علیکم(تم پر سلامتی ہو)تمہارے آقا نے لکھ دیا ہے کہ رحم اس کی خصوصیت ہے ۔اسلئے،تم میں سے جو بھی کوئی بھولے سے خطا کرئے اوربعد ازاں اس پر توبہ کرئے اور اصلاح کرلے تو خدا معاف کرنیولا اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[6:55] اس طرح ہم آیات کی وضاحت کرتے ہیں اور فاسدوں کے طریقوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
[6:56] کہہ دیجیے،’’مجھے اس کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کی تم خدا کے علاوہ عبادت کرتے ہو۔‘‘کہہ دیجیے ،’’میں تمہاری آرائ کی پیروی نہیں کروں گا ورنہ میں بھٹک جائوں گا اور مجھے ہدایت نہیں ملے گی ۔‘‘
[6:57] میرے پاس خدا کی طرف سے ٹھوس ثبوت موجود ہے،اورتم نے اس کو جھٹلا دیا ہے ۔تم جس عذاب کو لانے کےلئے مجھے چیلنج کرتے ہو و ہ میرے کنٹرول میں نہیں ۔فیصلے کا تعلق صرف خدا سے ہے ۔وہ سچ بیان کرتا ہے اور وہی بہترین منصف ہے ۔‘‘
[6:58] کہہ دیجیے ،’’اگر وہ عذاب میرے اختیار میں ہوتا جوتم لانے کا چیلنج دیتے ہوتو تمام معاملہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہوتا ۔خدا کو خوب معلوم ہے کہ فاسد کون ہیں۔‘‘
قادرمطلق خدا
[6:59] غیب کی چابیاں اسی کے پاس ہیں ؛اس کے علاوہ انہیں کوئی نہیں جانتا۔وہ زمین پر اور سمندر میں موجود ہر چیز کو جانتا ہے ۔اس کے علم کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں گرتا اور نہ ہی کو ئی زمین کی گہرایوں میں کوئی دانہ ہے ۔نہ ہی کوئی تر اور خشک ہے جو ایک جامع دستاویز میں درج نہ ہو۔
موت اور حشر :روزانہ*
[6:60] وہ وہی ہے جورات کو تمہیں موت دیتا ہے اوردن میں تمہارے معمولی سے معمولی اعمال بھی کا علم رکھتا ہے۔وہ ہرصبح تمہیں دوبارہ اٹھاتا ہے حتی ٰ کہ تمہاری زندگی کی مدت پوری ہوجاتی ہے،اورآخراسی کی طرف تمہیں جانا ہے۔تب وہ تمہیں ہراس کام سے آگاہ کریگا جو تم نے کیا ہوگا۔
[6:61] وہ اپنی مخلوق پر سب سے بالاتر ہے اوروہی تمہیں بچانے کےلئے محافظ مقرر کرتاہے ۔جب تم میں سے کسی پر موت کا مقررہ وقت آجاتا ہے ہے تو ہمارے ہرکارے بلا تاخیر اس کی جان لے لیتے ہیں۔
[6:62] پھر ہرکوئی اپنے خدا کی طرف لوٹتا ہے ،جو ان کا سچا آقااورمالک ہے ۔بے شک ،وہی حتمی منصف ہے ؛وہ سب سے بہتر حساب دان ہے ۔
[6:63] کہہ دیجیے،’’کون تمہیں زمین اور سمندر کی تاریکی میں بچا سکتا ہے؟‘‘تم دل میں اور باآواز بلند اسی کو پکارتے ہو:’’اگر وہ اس وقت ہمیں بچالے تو ہم ہمیشہ کےلئے شکر گزار بن جائیں گے ۔‘‘
[6:64] کہہ دیجیے،’’خدا تمہیں اس موقع پر اور بعدازاں بھی بچالیتا ہے پھر بھی تم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔‘‘
[6:65] وہ یقینا اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے اوپر سے انعام برسائے یا تمہارے پائو ں کے نیچے سے ۔وہ تمہیں دھڑوں میں تقسیم کرسکتا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کے جبر کا مزہ چکھو۔دیکھو ہم کس طرح آیات کی وضاحت کرتے ہیں ،تاکہ وہ سمجھ سکیں ۔‘‘
[6:66] تمہاری قوم نے اس کاانکار کردیا ہے حالانکہ یہ سچ ہے۔کہہ دیجیے،’’میں تم پر نگران نہیں ہوں۔‘‘
[6:67] اس میں درج ہر پیش گوئی پوری ہوکر رہے گی اور تمہیں بھی یقینا اس کا پتہ چل جائیگا۔
خدا کے فرمان کی تعظیم کرو
[6:68] اگر تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات کا مذاق اڑاتے ہیں تو تم ان سے دور ہوجائو حتی ٰ کہ و ہ کوئی دوسرا موضوع اپنا لیں ۔اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو پھر جونہی تمہیں یاد آئے ،ان برے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔
[6:69] صالح افراد ان لوگوں کی باتوں کے ذمہ دار نہیں ،لیکن یہ انہیں یادآوری میں مدد دے سکتی ہیں؛شاید کہ وہ بچ جائیں ۔
[6:70] ان لوگوں کی پرواہ مت کرو جو اپنے مذہب کوبے فائدہ اور ایک سماجی تقریب کی طر ح سمجھتے ہیں اورپوری طرح اس دنیاوی زندگی میں گم ہیں ۔اس (قرآن)کے ذریعے یاد دہانی کرائو ،مبادہ کسی کو اپنی کمائی ہوئی برائیوں کے نتائج بھگتنے پڑیں ۔خدا کے سوا کوئی اس کا مالک اور آقا نہیں اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہے ۔اگر وہ فدیہ دینا چاہے گا تو وہ بھی قبول نہیں کیا جائیگا۔وہ اپنے کمائے ہوئے برے اعمال کے نتائج بھگتیں گے،انہیں جہنم کے مشروبات پینے کو ملیں گے اوران کے کفر کی بدولت دردناک عذاب ۔
[6:71] کہہ دیجیے،’’کیا ہم خدا کے سوا کسی ایسی ہستی کے سامنے گڑ گڑائیں جوہمیں فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتی ہے نہ نقصان کی ،اور کیا ہم اس وقت پھر جائیں جب خدا ہمیں ہدایت دے چکا ہے ؟ا س صورت میں ہمار اشمار ان لوگوں میں ہوگا جن کو شیطان نے گھیر رکھا ہے اورجونہایت تذبذب کا شکار ہیں جبکہ ان کے دوست ان کو بچانا چاہتے ہیں:'ہمارے ساتھ سیدھے راستے پر قائم رہو۔'‘‘کہہ دیجیے،’’خدا کی ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے ۔ہمیں کائنات کے مالک کے سامنے سرجھکانے کا حکم دیا گیا ہے ۔
[6:72] ’’اورنمازقائم کرنے اوراس کی تعظیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔وہ وہی ہے جس کے سامنے تم (حساب کتاب کےلئے) حاظر کیے جائو گے ۔‘‘
[6:73] وہ وہ ہے جس نے آسمان اورزمین حق کے ساتھ پیدا کئے ۔وہ جب بھی ’’ہوجا‘‘ کہتاہے تو وہ ہوجاتی ہے ۔اس کا قول قطعی حق ہے ۔جس روز صور پھونکا جائیگا اس کی تمام بادشاہی بھی اس کے پاس ہوگی ۔وہ تمام غائب اورظاہر کاجاننے والاہے ۔وہ حکیم اور خبیر ہے۔
مشرکوں کے ساتھ ابراہیم کا مباحثہ
[6:74] یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ،’’آپ بتوں کی خدا کے طورپر عبادت کیوں کرتے ہو؟میں دیکھتا ہوں کہ آپ اور آپکی قوم گمراہی میں پڑ چکی ہے۔ ‘‘
[6:75] ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھائے اور اس کو یقین عطا کیا :
[6:76] جب رات پڑ گئی تو اس نے ایک چمکتا سیارہ دیکھا اورکہا’’ ہوسکتا ہے یہ میرا خدا ہو،‘‘اورجب وہ غائب ہوگیا تو اس نے کہا ،’’میں ایسے (خدائوں )کوپسند نہیں کرتا جو غائب ہوجاتے ہیں ۔‘‘
[6:77] جب اس نے چاند کو چڑھتے دیکھا تواس نے کہا ،’’کیا یہ میرا خدا ہے !‘‘اورجب وہ غائب ہوگیا تو کہا ،’’جب تک میرا خدا میری راہنمائی نہیں کرتا میراشمار گمراہوں میں ہوگا۔‘‘
[6:78] جب اس نے سورج کوطلوع ہوتے دیکھا تو اس نے کہا یہ تو لازمی میرا خدا ہے۔یہ سب سے بڑا ہے۔لیکن جب وہ ڈوب گیا تو کہا ،’’اے میری قوم ،میں تمہارے شرک سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔
[6:79] میں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کےلئے وقف کردیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کوبنایا ہے ۔میں کبھی بھی بتوں کی پوجا کرنے والا نہیں بنوں گا۔‘‘
[6:80] اس کی قوم نے اس سے بحث کی۔اس نے کہا ،’’کیا تم خدا کے بارے میں مجھے سے بحث کرتے ہو جبکہ وہ مجھے ہدایت دے چکا ہے؟تم نے جوبت قائم کررکھے ہیں مجھے ان کا کوئی خوف نہیں ۔جب تک میرا آقانہیں چاہے گا مجھے کچھ نہیں ہوگا۔میرے آقا کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے۔ کیا تم ہوش نہیں کرو گے؟
[6:81] ’’میں تمہارے بتوں سے کیوں ڈروں؟تمہیں ہی ان سے ڈرنا چاہیے کیونکہ تم ہی خدا کی بجائے بتوں کی عبادت کرتے ہو جو تمہاری مدد کرنے کی ہر گز طاقت نہیں رکھتے ۔کونسا فریق سلامتی کا زیادہ مستحق ہے‘کاش تمہیں جانتے؟‘‘
اہل ایمان کےلئے مکمل تحفظ
[6:82] جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان کو بتوں کی پوجا سے آلودہ نہیں کرتے ،وہ مکمل طور پر سلامتی کے مستحق ہیںاوروہی اصلی ہدایت یافتہ ہیں ۔
[6:83] ایسی تھی ہماری دلیل جس کے ذریعے ہم نے ابراہیم کی اس کی قوم کے مقابلہ میں مدد کی ۔خدا جس کو چاہے عظیم رتبے عطا کرتا ہے۔تمہارا آقانہایت دانا اور ہمہ بین ہے۔
[6:84] اورہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے،اورہم نے ان دونوں کو ہدایت بخشی ۔اسی طرح اس سے قبل ہم نے نوح کو ہدایت دی تھی اوراس کی اولاد میں سے (ہم نے ہدایت دی ) دائود ، سلیمان ، ایوب ، یوسف ، موسیٰ اور ہارون کو۔اس طرح ہم راست بازوں کو صلہ دیتے ہیں۔
[6:85] اورزکریا،یحییٰ،عیسیٰ اورالیاس بھی ؛سب صالح تھے ۔
[6:86] اوراسماعیل ،الیسیع،یونس اورلوط؛ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دوسرے لوگوں پر فضیلت بخشی۔
[6:87] ان کے باپ دادا،ان کی اولاد اور بہن بھائیوں میں سے ہم نے بہت سوں کو منتخب کیا اورانہیں سیدھے راستہ پر ہدایت دی ۔
[6:88] یہ ہے خدا کی راہنمائی جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ہدایت دیتاہے ۔اگر ان میں سے کوئی بھی شرک کا مرتکب ہوتا تو اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ۔
[6:89] یہ وہ تھے جن کو ہم نے کتاب ،حکمت اور نبوت عطا کی تھی ۔اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو ہم ان کی جگہ دوسروں کو لے آئیں گے اوروہ نئے لوگ منکر نہیں ہونگے۔
[6:90] یہ وہ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی ہے ؛تم کو ان کے نقش قدم پر ہدایت دی جائیگی۔کہہ دیجیے،’’میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔یہ پیغام توسب لوگوں کےلئے ہے۔
دنیا کےلئے خدا کے پیغامات
[6:91] انہوں نے خدا کی کبھی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدرہونی چاہیے ۔اس طرح،انہوں نے کہا،’’خدا کبھی کسی انسان پر کوئی وحی نہیں بھیجتا۔‘‘کہہ دیجیے،اگر یہ بات ہے تو موسیٰ جو کتاب لایا تھا وہ کس نے بھیجی تھی ،جس میں لوگوں کےلئے راہنمائی اورروشنی تھی ؟‘‘تم نے اس کا اعلان کرنے کےلئے کاغذ پر لکھ لیا جبکہ اس کا زیادہ تر حصہ خفیہ رکھا۔تمہیں وہ کچھ پڑھایا گیا جو تم کبھی نہیں جانتے تھے ۔تم اور تمہارے والدین ۔کہہ دیجیے،’’خدا(واحد ہے جس نے یہ نازل کیا) ،‘‘پھر انہیں غفلت میں کھیلتا چھوڑ دو۔
[6:92] یہ بھی متبرک کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے ،یہ سابق کتابوں کی تصدیق کرتی ہے،تاکہ تم سب سے اہم قوم* کو تنبیہ کرسکو اوران سب کو جواطراف میں ہیں ۔جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس (کتاب)پر بھی ایمان لائیں گے اور نماز قائم کرینگے۔
جھوٹے پیغمبروں کی مذمت
[6:93] اس سے برا کون ہے جو جھوٹ گھڑتا ہے اور پھر انہیں خدا سے منسوب کرتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ ،’’مجھے خدا کی طرف سے القا ہوا ہے،’’جبکہ اس کو اس قسم کا کوئی القا نہیں کیا گیا ،یا وہ یہ کہتا ہے کہ، ’’جو کچھ خدا نے وحی کیا ہے میں بالکل اس جیسا لکھ سکتا ہوں؟‘‘ کاش تم ان فاسدوں کو ان کی موت کے وقت دیکھ سکتے !فرشتے یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ ا ن کی طرف بڑھاتے ہیں کہ ،’’چلو اپنی جانیں نکلنے دو۔آج تمہارے لیے ذلت ناک سزاہے کیونکہ تم خدا کے بارے میں حق کے علاوہ باتیں کرتے تھے اوراس قدر متکبر تھے کہ اس کی آیات کوقبول نہیں کرتے تھے ۔
[6:94] تم ہمارے پاس اسی طرح اکیلے واپس آئے ہوجس طرح ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اورتم وہ پیچھے چھوڑ آئے ہوجو ہم نے تمہارے لیے فراہم کیا تھا ۔ہمیں تمہارے ساتھ وہ سفارشی بھی نظر نہیں آرہے جن کو تم نے شریک ٹھہرایا تھا اور دعویٰ کرتے تھے کہ وہ تمہاری مدد کرینگے۔تمہارے درمیان تمام رابطے منقطع کردیئے گئے ہیں؛تم نے جو شریک ٹھہرائے تھے انہوں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے ۔‘‘
خدا کی عظمت
[6:95] خدا وہ ہستی ہے جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتااوراگاتا ہے۔وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو پیدا کرتا ہے ۔ ایسا ہے خدا؛تم کیسے روگردانی کرسکتے ہو!
[6:96] جب پو پوٹھتی ہے تو وہ صبح کو نمودار کرتا ہے ۔اس نے رات کو ساکن بنایا ،اورسورج اور چاند کو گنتی کے ذرائع بنایا۔ایسا ہے بندوبست قادرمطلق اور عالم الغیب کا ۔
[6:97] اوروہ وہ ہے جس نے سمندراورزمین پر تاریکی میں تمہاری راہنمائی کےلئے ستارے بنائے ۔اس طرح ہم آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کےلئے جو جانتے ہیں ۔
[6:98] اس نے تمہیں ایک فرد سے پیدا کیا ،تمہارا راستہ مقرر کیا اور تمہاری آخری منزل بھی۔اس طرح ہم آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کےلئے جو سمجھتے ہیں۔
[6:99] وہ وہ ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے ،جس کے ذریعے ہم ہرقسم کے پودے اگاتے ہیں۔ہم پیدا کرتے ہیں سبز مادے سے کئی تہہ والے مرکب دانے،کجھور کے درخت جن پر گچھے لٹکتے ہیں،انگور کے باغات،زیتون اور انار ؛ایسے پھل جو ایک جیسے ہوتے ہوئے بھی مختلف ہیں ۔دیکھو ان کے پھلوں کو جب وہ بڑھتے اورپکتے ہیں ۔یہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کےلئے جو ایمان لاتے ہیں۔
[6:100] اس کے باوجود یہ خدا کے ساتھ جنوں میں سے شریک ٹھہراتے ہیں حالانکہ وہ ایسی ہستی ہے جس نے ان کو تخلیق کیا ہے ۔حتی ٰ کہ یہ کسی علم کے بغیر بیٹوں اوربیٹیوں کو بھی خدا سے منسوب کرتے ہیں ۔عظیم ہے وہ ذات ۔وہ ان کے دعووں سے کہیں زیادہ بلند و بالاترہے۔
[6:101] آسمانوں اور زمین کی ابتدائ کرنے والا۔جب اس کا کبھی کوئی ساتھی ہی نہیں تھا تو اس کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے ۔اس نے سب چیزیں تخلیق کیں،اوروہ تما م چیزوں سے مکمل آگاہ ہے۔
خدا
[6:102] ایسا ہے خدا تمہارا مالک ،اس کے سوا کوئی خدا نہیں ،سب چیزوں کا خالق ۔تم صرف اسی کی عبادت کرو۔سب چیزیں اسی کے اختیار میں ہیں۔
[6:103] کوئی نگاہ اس کا احاطہ نہیں کرسکتی ،لیکن وہ سب نگاہوں کا احاطہ کرسکتا ہے ۔وہ ترس کھانے والا اور باخبر ہے۔
[6:104] تمہارے مالک کی طرف سے تمہارے پاس روشنیا ںآگئی ہیں۔وہ جو د یکھ سکتے ہیں وہ اپنے ہی بھلے کےلئے کرتے ہیں اور جو اندھے ہوجاتے ہیں ، اپنے ہی نقصان کےلئے ایسا کرتے ہیں۔میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔
[6:105] اس طرح ہم آیات کی وضاحت کرتے ہیں یہ ثابت کرنے کےلئے کہ تم علم حاصل کرچکے ہواوران لوگوں پر واضح کرنے کےلئے جوجانتے ہیں۔
[6:106] تمارے مالک کی طرف سے جوکچھ تم نازل کیا گیاہے اس کی پیروی کرو، اس کے سوا کوئی خدا نہیں،اوربت پرستوں کی پرواہ مت کرو۔
[6:107] اگر خدا چاہتا تو وہ بتوں کی پوجا نہ کرتے ۔ہم نے تمہیں ان کا نگہبان مقرر کیاہے نہ ہی تم ان کے وکیل ہو ۔
[6:108] ان لوگوں نے خدا کے ساتھ جوشریک ٹھہرا رکھے ہیں ان پر لعن طعن نہ کرو مبادہ وہ جہالت کے باعث خدا کی بے ادبی کریں اور برا بھلا کہیں۔ہم نے ہر گروہ کے اعمال ان کی نگاہوں میں خوشنما بناد یئے ہیں۔آخر کار وہ اپنے خدا ہی کی طرف پلٹے گیں تب وہ انہیں ہر وہ چیز بتائے گا جو انہوں نے کی تھی ۔
[6:109] انہوں نے خدا کی پکی قسم کھائی تھی کہ اگر ان کی طرف کوئی معجزہ آیا تو وہ یقینا ایمان لے آئیں گے ۔کہہ دیجیے،’’معجزات توصرف خدا کی طرف سے آتے ہیں ۔‘‘تم خوب جانتے ہو کہ اگر کوئی معجزہ ان کی طرف آ جاتا تو بھی وہ اپناکفر جاری رکھتے ۔
[6:110] ان کے دماغ اور دل پر ہمارا ختیار ہے ۔چونکہ انہوں نے کفر کا فیصلہ کرلیا ہے ،ہم انہیں ان کی سرکشیوں اور خطائوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔
ان کے اپنے ہی فیصلہ کا نتیجہ
[6:111] خواہ ہم ان پر فرشتے بھیجیں یا مردے ان سے باتیں کرنے لگیں یا ہم ہرمعجزہ ان کے سامنے لے آئیں وہ یقین نہیں لاسکتے جب تک خدایسا ا نہ چاہے۔بےشک ان میں سے اکثر غافل ہیں ۔
حدیث اورسنت :نبی کے دشمنوں کی اختراعات
[6:112] ہم نے ہر نبی کے دشمنوں۔انسان اورجن شیطانوں۔ کو ایک دوسرے کے دل میں خوشنماالفاظ القا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے تاکہ وہ دھوکہ دے سکیں ۔اگر تمہارا خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے ۔تم ان اور انکی اختراعات کی پرواہ نہ کرو۔
اہم کسوٹی
[6:113] یہ اس لیے ہے کہ وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ایسی اختراعات سنیں اوران کو قبول کریں ،اسطرح ان کے اصل ارادے* ظاہر ہوجائیں گے ۔
قرآن :مکمل طور پر تفصیلی*
[6:114] کیا میں خدا کے علاوہ قانون کا ذریعہ تلاش کروں،جبکہ اس نے تم پر یہ مکمل مفصل کتا ب بھیجی ہے ۔جن کو کتاب ملی ہے وہ پہچانتے ہیں کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کی گئی ہے ۔تم کوئی شک نہ کرو۔
[6:115] تمہارے رب کا فرمان سچائی اور انصاف میں مکمل* ہے۔اس کا فرمان کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔وہ سننے والا، سب جاننے والا ہے۔
[6:116] اگر تم زمین پر لوگوں کی اکثریت کی اطاعت کرو گے تووہ تمہیں خدا کے راستہ سے پھیر دینگے۔وہ صرف اٹکل پچوکی پیروی کرتے ہیں اور اندازے لگاتے ہیں۔
[6:117] تمہارا خدا ان سے پوری طرح واقف ہے جو خدا کے راستہ سے دور رہتے ہیں اور ان سے بھی پوری طر ح واقف ہے جو ہدایت یافتہ ہیں ۔
[6:118] تم اس میں سے کھائو جس پر خدا کا نام لیا گیا ہو،اگر تم صحیح معنوں میں اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہوتو ۔
خدا کو یاد کرنے کا موقع : تم کھانے سے پہلے خدا کا نام لو
[6:119] تم اس میں سے کیوں نہیں کھاتے جس پر خدا کا نام لیا گیا ہے؟جو کچھ منع کیا گیا ہے اس کی تفصیل اس نے تمہارے لیے بیان کردی ہے بشرطیکہ تم مجبور نہ ہو۔بے شک بہت سے لوگ کسی علم کے بغیر دوسروں کو اپنی ذاتی آرائ کے ذریعے گمرا ہ کرتے ہیں۔تمہارا رب تجاوز کرنے والوں سے بخوبی آگاہ ہے۔
[6:120] تم ظاہری اورخفیہ گناہوں سے بھی اجتناب کرو۔جنہوں نے گناہ کمائے ہیں یقیناوہ اپنی زیادتیوں کا بدلہ بھگتیں گے ۔
[6:121] اس میں سے مت کھائوجس پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو،کیونکہ یہ حقارت آمیز ہے۔شیطان اپنے ساتھیوں کو تمہارے ساتھ بحث پر اکساتے ہیں۔اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم شرک کرنے وا لےہو جاوٴگے ۔
[6:122] کیا وہ جو مردہ تھا اور اس ہم نے زندگی اورروشنی عطا کی ہے جس کی مدد سے وہ لوگوں کے درمیان چلتاپھرتا ہے اس کے برابر ہوسکتا ہے جو مکمل تاریکی میں ہے اور جس سے و ہ کبھی نہیں نکل سکتا؟کافروں کے اعمال اس طرح ان کی آنکھوں میں خوشنمابنادیئے جاتے ہیں ۔
[6:123] ہم ہر قوم کے بڑے مجرموں کو سازشیں اور تدبیر یں کرنےکی چھٹی دیتے ہیں ۔لیکن وہ صرف اپنے نفسوں کے خلاف ہی سازشیں اورتدبیریں کرتے ہیں ،سوچے سمجھے بغیر ۔
خدائی حکمت کے بارے میں سوال وجواب کرنا *
[6:124] جب ایک طاقتورثبوت ان کی طرف آجاتا ہے ،تو وہ کہتے ہیں،’’ہم اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک ہمیں وہ کچھ نہ دیا جائے تو پیغمبروں کو دیا گیا ہے!‘‘ خدا بخوبی جانتا ہے کہ کون اس کا پیغام پہنچانے کا اہل ہے ۔*اس قسم کے مجرم خدا کے ہاں بے قدری اوراپنی بری سکیموں کی عبرتناک سزا بھگتیں گے ۔
قرآن کا علم انسانی ترقی سے کہیں زیادہ آگے ہے *
[6:125] خدا جس کو ہدایت دینا چاہے اس کا سینہ فرمانبرداری کےلئے کھول دیتا ہے ۔اورجس کوگمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ بھینچ اورتنگ کردیتا ہے ،اس کی طرح جو آسمان کی طرف چڑھتا ہے۔*ا س طرح خدا ان پر لعنت کرتا ہے جو ایمان لانے سے انکارکرتے ہیں ۔
[6:126] یہ تمہارے خدا کا سیدھا راستہ ہے۔وہ لوگ جو غور کرتے ہیں ان کےلئے ہم نے آیات کی وضاحت کردی ہے ۔
[6:127] وہ خدا کے ہاں امن کے ٹھکانے کے حقدار ہیں؛وہ ان کا مالک اور آقا ہے۔ اپنے اعمال کے بدلے۔
[6:128] وہ دن ضرور آئیگا جب وہ ان سب کو بلائے گا(اور فرمائے گا ):اے جنو،تم نے بےشمار انسانوں کو گمراہ کیا ہے ۔‘‘ان کے ساتھی انسان کہیں گے ،’’اے ہمارے رب ہم ایک دوسرے کے ساتھ لطف اندوز ہوتے رہے ہیں حتی ٰ کہ وہ عرصہ حیات ہم نے ضائع کر دیا جو تم نے ہمارے لیے مقرر کررکھا تھا ۔‘‘وہ فرمائے گا ،’’تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ۔‘‘وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ،خدا کی منشا ئ کے مطابق ۔ تمہارا رب دانا اورعلیم ہے ۔
[6:129] اس طرح ہم فاسدوں کو ایک دوسرے کا ساتھی بناتے ہیں،ان کی زیادتیوں کی سزا کے طور پر ۔
[6:130] اے جن وانس ،کیاتم نے تم میں سے پیغمبر نہیں پائے جنہوں نے تمہیں میری آیات سنائیں اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے خبردار کیا ؟وہ کہیں گے ،’’ہم اپنے آپ کے خلاف گواہی دیتے ہیں ۔‘‘وہ مکمل طورپر دنیاوی زندگی میں کھوئے ہوئے تھے ،اور وہ اپنے خلاف گواہی دینگے کہ وہ انکار کرنے والے تھے ۔
[6:131] اس سے ظاہرہوگا کہ تمہارا رب کسی قوم کو ناحق تباہ نہیں کرتا جبکہ اس کے لوگ بے خبر ہوں۔
[6:132] ہر ایک کو ان کے اعمال کے مطابق درجہ ملے گا ۔تمہارارب ہرگز ایسی کسی چیز سے بے خبر نہیں جو یہ کرتے ہیں۔
[6:133] ۔تمہارا رب غنی ہے ؛تمام رحمدلی اسی کے پاس ہے ۔اگر وہ چاہے تو تمہیںہٹا سکتا ہے اور تمہاری جگہ جس کو چاہے لاسکتا ہے ،بالکل اسی طر ح جیسے اس نے تمہیںپیدا کیا دوسری قوموں کی نسل سے ۔
[6:134] جس چیز کا تم سے وعد ہ کیا گیاہے وہ ہو کر رہے گی ،اور تم اس سے ہر گز بچ نہ پائو گے ۔
[6:135] کہہ دیجیے ،’’اے میری قوم،تم اپنی پور ی کوشش کرلو ،اسی طر ح میں بھی کروںگا۔ تمہیں یقینا معلوم ہوجائیگا کہ حتمی فاتح کون ہیں ۔‘‘یقینا فاسد کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔
خدا کے رزق کا غلط استعمال
[6:136] وہ اپنی فصلوں او ر مویشیوں میں سے خدا کا حصہ الگ کردیتے ہیں یہ کہتے ہوئے ’’ یہ حصہ خدا کا ہے ،‘‘ان کے دعوے کے مطابق ،’’اوریہ حصہ ہمارے بتوں کا ہے ۔‘‘تاہم جو کچھ خدا کے لئے الگ رکھا گیا تھا وہ کبھی خدا کو نہیں پہنچتاجبکہ جو حصہ انہوں نے خدا کےلئے الگ کیا تھا وہ کسی کمی بیشی کے بغیر انکے بتوں کو پہنچ جاتا ہے ۔بے شک ان کا فیصلہ براہے ۔
[6:137] اس طرح بت پرستوں نے اپنے بتوں کے ہاتھوں دغا کھایا ،اس حد تک کہ انہوں نے اپنے بچے بھی ماردیئے*۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے بتوں نے ان پر بہت بڑا دکھ مسلط کردیا اور ان کا مذہب ان کےلئے الجھا دیا ۔اگر خدا چاہتا تووہ ایسا نہ کرتے ۔تم ان کی اور ان کی اختراعات کی پرواہ نہ کرو۔
مذہبی بدعات کی مذمت
[6:138] انہوں نے کہا ،’’یہ مویشی اور فصلیں ہیں جو منع کی گئی ہیں ؛ان کو سوائے اس کے کوئی نہ کھائے جس کو ہم اجازت دینگے ،‘‘یہ تھا ان کا دعوی ٰ۔انہوں نے بعض جانور وں پر سواری سے بھی منع کردیا ۔حتی ٰ کہ جن مویشیوں کو یہ کھاتے تھے ان کو قربان کرتے وقت کبھی ان پر خدا کا نام نہ لیتے تھے ۔یہ ہیں بدعات جو اس کے نام منسوب کی جاتی ہیں ۔یقینا وہ ان کی بدعات کا بدلہ دیگا۔
[6:139] وہ یہ بھی کہتے تھے ،‘‘ان مویشیوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ صرف ہم مردوں کےلئے مختص ہے اورہماری بیویوں کےلئے ممنوع ہے ۔‘‘لیکن اگر مردہ پیدا ہوتو وہ اپنی بیویوں کو اس میں حصہ دار بنالیتے تھے ۔وہ یقینا ان کی بدعات کا بدلہ دیگا۔وہ سب سے زیادہ حکمت والا اور ہمہ دان ہے ۔
[6:140] بے شک وہ خسارے میں ہیں جنہوں نے بے وقوفی میں اپنے بچوں کو قتل کیا ،اپنی کم علمی کی وجہ سے اور ان اشیائ سے منع کرتے رہے جو خدا نے انہیں عطا کی تھیں اور خدا سے منسوب بدعات کی پیروی کرتے رہے ۔وہ گمراہ ہو چکے ؛وہ ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔
زکواۃ ’’کٹائی کے دن ‘‘*ادا کرنا لازمی ہے
[6:141] وہ وہ ہے جس نے باغ قائم کئے ،جالی دار اور جالی کے بغیر ،کھجور کے درخت ،اورمختلف ذائقے والی فصلیں،اور زیتون، اورانار۔پھل جوایک جیسے ہونے کے باوجود مختلف ہیں ۔ان کے پھلوں میں سے کھائو ،اورکٹائی* کے روز جو جائزہو خیرات دو اورکوئی چیز ضائع نہ کرو۔وہ ضائع کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
[6:142] کچھو مویشی تمہیں سواری اوربستروںکا ما ل بھی فراہم کرتے ہیں۔خدا نے جو اشیائ تمہیں دی ہیں ان میں سے کھا ئواورشیطان کے قدموں پر نا چلو؛وہ تمہارا سرگرم دشمن ہے ۔
تجددانہ خورد و نوش پابندیوں کی مذمت
[6:143] مویشیوں کی آٹھ اقسام :دو بھیڑوں کی اقسام سے ،اوردو بکریوں کی اقسام سے متعلق ،کہیے ،’’کیا دو نراس نے منع کیے ہیں یا دو مادہ ،یا وہ جو دو مادائوں کی کوکھ میں ہیں ؟بتائو مجھے جو تم جانتے ہو،اگر تم سچے ہو تو۔
[6:144] اونٹوں کی دو اقسام سے متعلق ،اور مویشیوں کی دو اقسام ،کہیے،’’کیا یہ دو نر ہیں جو اس نے منع کئے ہیں ،یا دو مادہ ،یا دو مادائوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ ؟کیا تم اس وقت موجود تھے جب خدا نے تمہارے لئے ان ممنوعات کا حکم دیا تھا ؟ان سے برا کون ہے جو اس قسم کے جھوٹ گھڑتے اور انہیں خدا سے منسوب کرتے ہیں ۔اسطرح یہ لوگوں کو علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں ۔خدا ایسے برے لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتا ۔‘‘
خوراک سے متعلق ممانعتیں صرف یہ ہیں*
[6:145] کہہ دیجیے،’’جوآیات مجھے دی گئی ہیں ان میں مجھے کوئی خوراک ایسی نظر نہیں آتی جو کسی کھانے والے کےلئے منع ہو سوائے :(1)مردار،(2)بہتا خون،(3)سور کا گوشت *،کیونکہ یہ غلیظ ہوتا ہے،اور(4)ایسے جانوروںکا گوشت جو کفریہ طورپرخدا کے علاوہ کسی اور سے منسوب کئے گئے ہوں۔‘‘اگر کوئی بدنیتی اور ارادے کے بغیر (ان کو کھانے پر )مجبور ہوتو پھر تمہارا خدا معاف فرمانے والا اور نہایت رحم والا ہے ۔
[6:146] جویہودی ہیں ہم نے ان پر غیر منقسم کھروں والے جانور حرام قرار دیئے ؛اورمویشی اور بھیڑوںکی ہم نے چربی حرام قرار دی سوائے اس کے جو ان کی پشت پرہوتی ہے یا آنت میں یا ہڈیوں کےساتھ مکس ہوتی ہے ۔یہ سزا تھی ان کی زیادتیوں کی ،اورہم حق پر ہیں ۔
[6:147] اگر وہ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو فرمادیجیے ،’’تمہارا خدا لامحدود رحمت کا مالک ہے ،لیکن گناہ گاروں کےلئے اس کی سزا اٹل ہے۔‘‘
[6:148] بتوں کی پوجا کرنے والے کہتے ہیں ،’’اگر خدا چاہتا تو ہم بت پرستی کرتے اور نہ ہی ہمارے والدین ،ناہی ہم کوئی چیز منع کرتے ۔‘‘ان سے پہلے والوں نے بھی ایسے ہی انکار کیا تھا حتی ٰ کہ ان پر ہمارا عذاب آگیا ۔کہہ دیجیے،’’کیا تمہارے پاس کوئی مصدقہ علم ہے جو تم ہمیں دکھا سکتے ہو؟تم صرف قیاس آرائیوں کی پیروی کررہے ہو؛تم صرف اندازے لگاتے ہو۔‘‘
سب سے طاقتور دلیل*
[6:149] کہہ دیجیے’’خدا کے پاس سب سے طاقتور دلیل ہے ؛اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دے سکتا ہے ۔‘‘
[6:150] کہہ دیجیے،’’لائو اپنے گواہ جو تصدیق کریں کہ خدا نے یہ یہ چیزحرام کی ہے ۔‘‘اگر وہ تصدیق کریں تو ان کے ساتھ تصدیق نہ کرو۔نا ہی تم ان کے خیالات کی پیروی کرنا جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ،اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ،اوروہ جواپنے مالک سے دور بھٹک گئے ہیں ۔
اہم احکامات
[6:151] کہہ دو،’’آئو میں تمہیں بتا ئوں تمہارے ر ب نے اصل میں تمہارے لئے حرام کیا ہے :تم ا س کے ساتھ شر یک نہ ٹھہرائو۔اپنے والدین کا احترام کرو۔اپنے بچوں کو غربت کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی ۔تم چھپ کر یا ظاہری صریح گنا ہ نہ کرنا ۔قتل مت کرنا ۔خدا نے زندگی کو مقدس بنایا ہے ۔سوائے انصاف کی راہ میں ۔یہ اس کے احکامات ہیں تمہارے لئے شاید کہ تم سمجھ جائو ۔‘‘
اضافی احکامات
[6:152] یتیموں کے پیسوں کو ہاتھ نہ لگانا سوائے نہایت راست بازی کے انداز میں ،حتیٰ کہ وہ بلوغت کو پہنچ جائیں ۔جب تم کاروبار کرو توانصاف سے وزن اور پیمائش پوری کرو۔ہم کسی نفس پر اس کے وسائل سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ۔جب گواہی دو تو مکمل انصاف کرو،خواہ تمہارے رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔تم خدا کے ساتھ اپنا عہد پورا کرو۔یہ احکامات ہیں تمہارے لئے ،شاید کہ تم دھیان دو ۔
[6:153] یہ میرا راستہ ہے ۔سیدھا سادا۔تم اس پرچلواوردوسرے راستے اختیار نہ کرو مبادہ وہ تم کو اس کے راستہ سے پھیر دیں ۔یہ اس کے احکامات ہیں تمہارے لئے ،شاید کہ تم نجات پائو۔
[6:154] اورہم نے موسی ٰ کو کتاب دی جوبہترین احکامات سے پر تھی ،اوراس میں ہرچیز کی تفصیل تھی،اوررحمت اورمینارہ نور ،شاید کہ وہ اپنے مالک سے ملاقات پر ایمان لائیں ۔
[6:155] یہ کتاب بھی متبرک ہے جو ہم نے نازل کی ہے ؛تم اس کی پیروی کرو اورراستبازی کی زندگی گزارو،شاید کہ تم رحم پا سکو ۔
[6:156] اب تم ہرگز یہ نہیں کہ سکتے کہ’’ کتاب ہم سے پہلے دو گروہوں پر اتاری گئی تھی اور ہم ان کی تعلیمات سے بے خبر تھے۔‘‘
حساب :حتمی ثبوت *
[6:157] ناہی تم یہ کہہ سکتے ہو،’’اگر کتاب صرف ہماری طرف نازل ہوتی تو ہم ان سے بہتر ہدایت پاتے ۔‘‘تمہارے رب کی طرف سے ایک مصدقہ کتاب تمہاری طرف آچکی ہے جو مینارہ نوراوررحمت ہے۔اب اس سے برا کون ہے جوخدا کے یہ ثبوت جھٹلاتا ہے ،اوران کی پرواہ نہیں کرتا ؟جو ہمارے ثبوت جھٹلاتے ہیں ہم انہیں ان کی بے توجہی کی بدترین سزا دینگے۔
امتحان کے تقاضے
[6:158] کیا وہ منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں ،یا تمہارا آقا ،یا خدا کسی جسمانی شکل میں؟جس دن ایسا ہوا تو وہ کسی کو ایمان کا فائدہ نہیں ہوگا اگر وہ اس سے قبل ایمان نہ لایا اورنیک زندگی گزار کرایمان کے ثمرات نہ سمیٹے *۔کہہ دیجیے ،"انتطار کرتے رہو؛ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔"*
مذہبی فرقوں کی مذمت
[6:159] جو اپنے آپ کوفرقوں میں تقسیم کرتے ہیں ان کا تم سے کوئی تعلق نہیں ۔ان کا فیصلہ خدا کے پاس ہے ،تب وہ انہیں ہر اس چیز سے مطلع کریگا جو انہوں نے کی ہوگی ۔
[6:160] جو بھی نیک کام کرتا ہے اسکو دس گنا بدلہ ملتا ہے اور جو گناہ کرتا ہے اس کو صرف ایک گنا بدلہ ملتا ہے ۔ کسی سے ذرہ بھر ناانصافی نہیں کی جاتی ۔
[6:161] کہہ دیجیے،’’میرے رب نے مجھے بالکل سیدھے راستہ پر راہنمائی کی ہے ۔ابراہیم کے مکمل دین توحید پر ۔وہ ہر گز بت پرست نہ تھا ۔‘‘
[6:162] کہہ دیجیے ،’’میری نمازیں،میری عبادات ،میری زندگی اور موت ،تما م مطلق خدا ہی کےلئے وقف ہیں ،جوکائنات کا مالک ہے ۔
[6:163] ’’اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔یہ وہ ہے جس پر مجھے ایمان لانے کاحکم دیا گیا ہے ،اورمیں پہلا فرمانبرداری کرنے والاہوں۔‘‘
[6:164] کہہ دیجیے ،’’کیا میں خدا کے علاوہ کوئی مالک تلاش کروں،جبکہ وہ سب چیزوں کا مالک ہے ؟کسی فرد کو فائدہ نہیں پہنچتا سوائے اس کے اپنے اعمال کا ،اورکوئی کسی دوسرے کابوجھ نہیں اٹھاتا۔آخرکار ،تم اپنے مالک کی طرف پلٹو گے ،تب وہ تمہیں تمام جھگڑوں کے بارے میں آگاہ کرے گا۔
[6:165] وہ وہ ہے جس نے تم کو زمین کا وارث بنایا ،تم میں سے بعض کو دوسروں سے زیادہ رتبے دیئے ،تاکہ اس نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس کے مطابق تمہاری آزمائش کرے۔یقینا تمہارا خدا سزا دینے میں بہت تیز ہے ،وہ معاف کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔