قرآن 9:46 — آخری انتباہ(براءة)
اگر وہ واقعی جنگ پر جانا چاہتے تو وہ اس کی بھرپورتیاری کرتے ۔لیکن خدا کو ان کی شرکت نا پسند تھی ،چنانچہ اس نے انہیں دل شکستہ کر دیا :انہیں بتایا گیا ،’’پیچھے بیٹھے رہو ان کے ساتھ جو پیچھے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔‘‘
[9:45] عذر کی خواہش صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو حقیقی معنوں میں خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ان کے دل شک سے بھرے ہوتے ہیں،اور ان کے شکو ک انہیں متزلزل کرتے ہیں ۔
[9:47] اگر وہ تمہارے ساتھ چل پڑتے ،تو فتورپیدا کرتے ،اور تم میں جھگڑے اور تفرقہ ڈالتے ،تم میں سے بعض ان کی باتیں سننے پر مائل تھے ،خدا تجاوز کرنے والوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔