سورۃ 9: آخری انتباہ(براءة)
بسمہ اللہ نہیں*
[9:1] خدا اور اس کے پیغمبر کی طرف سے ان شرک کرنیوالوں کو آخری تنبیہ کی جاتی ہے جو تمہارے ساتھ معاہدہ میں شریک ہیں۔
[9:2] لہذا ،زمین پر چار ماہ تک آزادی سے گھوم پھر لو ،جان رکھو کہ تم خدا سے نہیں بچ سکتے،اورخدا کافروں کو رسوا کرتا ہے ۔
[9:3] حج کے عظیم دن پر یہاں خدا اور اس کے پیغمبر کی طرف سے تما م لوگوں کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ خدا نے مشرکوں سے لاتعلقی کرلی ہے اور اس کے پیغمبر نے بھی اسی طرح کیا ہے ۔اسلیے اگر تم توبہ کرلو ،تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ۔اور اگر تم نے بے رخی کی ،تو جان رکھو تم خدا سے کبھی بچ نہیں پائو گے۔ جو کفر کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی وعید سنا دو ۔
[9:4] اگر مشرک تم سے کوئی امن معاہد ہ کریں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں اور نہ تمہارے خلاف دوسروں سے مل کر گٹھ جوڑ کریں تو تم بھی آخری تاریخ تک اپنے معاہد ہ کی پاسداری کرو ۔خدا راست بازوں سے محبت کرتا ہے ۔
[9:5] اور جب مقدس مہینے گزر جائیں،(اوروہ امن قائم کرنے سے انکار کریں )تو تم مشرکوں کو قتل کرسکتے ہوجب تمہارا ان سے مقابلہ ہو،ان کو سزا دو ،اور وہ جو بھی حرکت کریں اس کی مزاحمت کرو۔اگر وہ تائب ہوجائیں ،اورفرض نماز قائم کریں اور زکواۃ ادا کریں تو تم انہیں جانے دو۔خدا معاف کرنیوالا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
[9:6] اگر کوئی مشرک تم سے محفوظ راستہ طلب کرے تو تم اسے محفوظ راستہ دو ،تاکہ وہ خدا کا کلام سن سکے ،پھر اس کو ا س کی جائے پنا ہ پر واپس بھیج دو ۔کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو جانتے نہیں ہیں ۔
[9:7] مشرکین کس طر ح خدا اور اس کے رسول سے ضمانت طلب کرسکتے ہیں؟سوائے ان کے جنہوں نے مسجد مقدس میں تمہارے ساتھ معاہدہ پر دستخط کیے ہیں ۔اگر وہ ایسے معاہدے کی پاسداری کریں اور اسے قائم رکھیں تو تم بھی اس پر کاربند رہو۔خدا راستبازوں سے محبت کرتا ہے ۔
[9:8] وہ کیسے (ضمانت طلب کرسکتے ہیں)جبکہ انہوں نے کبھی تمہارے اور اپنے درمیان رشتہ داری کے حقوق کا کبھی خیال نہ رکھا ہواور نہ ہی کسی وعد ہ کا ،اگر کبھی انہیں تم پر سبقت کا موقع ملا۔ انہوں نے محض زبانی کلامی تمہار ی تسلی کردی جبکہ ان کے دل مخالف تھے ،اور ان میں سے بیشتر فاسد ہیں۔
[9:9] انہوں نے خدا کے کلام کو سستے داموں بیچ ڈالا ،چنانچہ انہوں نے لوگوں کو اس کی راہ سے ہٹادیا ۔یقینا جو انہوں نے کیا بہت برا کیا !
[9:10] انہوں نے کسی مومن سے رشتہ داری کے حقوق نبھائے اور نہ ہی کوئی وعدہ قائم رکھا ؛یہ لوگ حقیقی خطا وار ہیں ۔
توبہ :لوح کی صفائی
[9:11] اگر وہ توبہ کرلیںاور نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔ہم اس طرح اپنی آیات کی تشریح کرتے ہیں ان لوگوں کےلئے جو جانتے ہیں ۔
[9:12] اگر وہ اپنے عہد پورے کرنے کا وعدہ کرنے بعد اپنی قسمیں توڑیں ،تو تم ملحدوں کے سرداروں سے لڑ سکتے ہو۔تم ان سے کئے گئے عہد کے مزیدپابند نہیں ہو۔شاید کہ وہ باز رہیں ۔
[9:13] کیا تم ان لوگو ں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ،پیغمبر کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی ،اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جنگ میں پہل کی تھی ؟کیا تم ان سے خوفزدہ ہو؟وہ خدا ہی ہے جس سے تمہیں ڈرنا چاہیے ،اگر تم ایمان والے ہو۔
[9:14] تم ان سے جنگ کرو، کیونکہ خدا انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا،انہیں رسوا کریگا،تمہیں ان پر فتح نصیب کریگا ،اور ایمان والوں کے سینے مطمئن کردیگا۔
[9:15] وہ مومنوں کے دلوں سے غصہ بھی دور کردیگا۔خد ا جس کو چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے ۔خدا ہمہ بین اور نہایت دانا ہے ۔
ناگزیر آزمائش
[9:16] کیا تم سمجھتے ہوکہ خدا تمہیںتنہا چھوڑ دیگا بغیر فرق کئے تم میں سے ان کا جنہوں جدوجہد کی ،کبھی ساتھ نہ دیاخدا کے دشمنوں کا ،یا اسکے پیغمبر کے دشمنوں کا،یا ایمان والوں کے دشمنوں کا ؟تم جو کچھ کرتے ہوخدا اس سے پوری طرح آگاہ ہے ۔
[9:17] شرک کرنیوالے خد ا کی مساجد کی طرف باربار نہیں جاتے ،جبکہ وہ اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیں۔وہ اپنے اعمال تباہ کربیٹھے ہیں ،اوروہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔
[9:18] خدا کی مساجد میں باربار صرف وہ لوگ جاتے ہیں جو خدا پر اوریوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں،جو نمازقائم کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے خوف نہیں کھاتے ۔وہ یقینا ہدایت پانے والوں میں شامل ہونگے۔
اہل عرب سے سوال
[9:19] کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے ،مسجدحرام کا متولی ہونا، خدا اوریوم آخرت پر ایمان ،اور خدا کی راہ میں جدوجہد کا متبادل سمجھ رکھا ہے ؟یہ خدا کی نظر میں برابر نہیں ہیں۔خدا فاسدوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
خوشخبری
[9:20] جو ایمان لاتے ہیں اور خدا کی راہ میں جان ومال سے جدوجہد کرتے ہیں ،خدا کی نگاہ میں ان کا مرتبہ بہت بلندہے ۔ یہ ہیں کامیاب ۔
[9:21] ان کا خدا انہیں خوشخبری دیتا ہے :رحمت اوراس کی طرف سے رضا،اور باغات جہاں وہ ابدی راحت سے سرفراز ہوتے ہیں ۔
[9:22] وہ ان کا ابدی ٹھکانا ہے۔خدا کے پاس اجرعظیم ہے ۔
اگر آپ کو چوائس کرنا پڑے
[9:23] اے ایمان والو،اپنے والدین اوربہن بھائیوں کا بھی ساتھ نہ دو ،اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔تم میں سے جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ حد سے بڑھنے والے ہیں ۔
اہم جانچ کا اصول*
[9:24] اعلان کردو:’’اگر تمہارے والدین ،تمہارے بچے ،تمہارے بہن بھائی ،تمہاری بیویاں ،تمہارا خاندان ،دولت جو تم نے کمائی ہے ،کاروبار جس کی تمہیں فکر ہے ،اور گھر جو تمہیں بہت مرغوب ہیں خدا اور اس کے پیغمبر** سے زیادہ محبوب ہیں اور اس کی راہ میں جدوجہد سے ،تو بس انتظار کرو حتی ٰ کہ خدا اپنا فیصلہ لے آئے۔‘‘خدا فاسدلوگوں کو ہدایت نہیں بخشتا ۔
[9:25] خدا نے اکثر مواقع پر تمہیں فتح عطافرمائی ہے ۔لیکن حنین کے دن تم اپنی زیادہ تعداد پربہت زیادہ فخرمند ہوگئے تھے ۔چنانچہ یہ تمہارے ہرگز کچھ کام نہ آئی،اور وسیع زمین تمہارے لیے اسقدر تنگ ہوگئی کہ تم پسپا ہوکر بھاگ نکلے ۔
[9:26] خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی ۔اور اس نے غیر مری سپاہی بھیجے ؛اس طرح اس نے سزا دی ایمان نہ لانے والو ں کو ۔یہ بدلہ ہے کافروں کےلئے ۔
[9:27] آخر کار ،خدا جس کو چاہے بخش دیتا ہے ۔خدا معاف فرمانے والااور نہایت رحم کرنیوالا ہے۔
[9:28] اے ایمان والو،مشرکین آلودہ ہیں ؛اس سال کے بعد انہیں مسجد مقدس میں آنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اگر تمہیں آمدن کھونے کاخوف ہے ،خدا تم پر اپنی نعمتوں کی بارش کریگا،اپنے حکم کے مطابق ۔ خدا عالم الغیب اور نہایت دانا ہے ۔
[9:29] تم ان کے خلاف جوابی کارروائی کرو جو لوگ خدا پر ایمان نہیں رکھتے،نہ ہی یوم آخرت پر ،اور نہ ہی اس سے منع کرتے ہیں جو خدا اوراسکے پیغمبر نے ممنوع کررکھاہے ،اور نہ ہی وہ دین حق کی پابندی کرتے ہیں ۔ان میں سے وہ جن کو کتاب ملی ۔جب تک وہ واجب الاد ا ٹیکس نہیں دیتے ،مرضی سے یا بغیر مرضی ۔
کفریہ کلمات
[9:30] یہودیوں نے کہا،’’عزیر خدا کابیٹا ہے‘‘،جبکہ عیسائیوں نے کہا ،’’مسیح خدا کا بیٹا ہے!‘‘یہ کفریہ کلمات ہیں جو ان کی زبان سے نکلے ہیں ۔اس طرح یہ کفریہ کلمات ان سے ملاتے ہیں جنہوں نے ماضی میں کفر کیا تھا ۔خدا ان کو مسترد کرتا ہے ،یقینا یہ بھٹک چکے ہیں۔
خداکی تعلیمات کی بجائے مذہبی راہنمائوں کی تعلیمات کو تھامے رکھنا
[9:31] انہوں نے، خدا کی بجائے مذہبی راہنمائوںاور علما کو اپنا آقا بنا رکھا ہے *۔دوسروں نے مسیح ابن مریم خداکو بنالیا ۔ان تمام کو صرف واحد خدا کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔عظیم ہے اس کی ذات ۔وہ بالاتر ہے اس سے کہ اس کے شریک ہوں۔
[9:32] وہ خداکے چراغ کو پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں ،لیکن خدا ،منکرین کے باوجود،اپنی روشنی کی تکمیل پر زور دیتا ہے ۔
’’اسلام ‘‘کے مقدر میں قائم رہنا ہے*
[9:33] وہ وہ ہے جس نے اپنا پیغمبر* بھیجا ہدایت اور دین حق کے ساتھ ،اور اس کو تمام مذاہب پر غالب کریگا مشرکین کے باوجود۔
پیشہ ور مذہی افراد سے ہوشیا ررہیے
[9:34] اے لوگو جو ایمان لائے ہو،بہت سے مذہبی راہنمااور مبلغ لوگوں کی دولت ناجائز حاصل کرتے ہیں اور خدا کے راستے سے ہٹاتے ہیں ۔وہ جو سونے اور چاندی جمع کرتے ہیں ،اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،ان کو درد ناک عذاب کی وعید دو۔
[9:35] وہ دن ضرور آئیگا جب ان کا سونا اور چاندی جہنم کی آگ میں دہکائے جائیں گے اور ان سے ان کے ماتھے ،اطراف اور پیٹھ کو داغا جائیگا :یہ ہے وہ جو تم نے اپنے آپ کے لئے سنبھال کررکھا تھا ،چنانچہ مزہ چکھو اس کا جو تم نے ذخیرہ کیا تھا ۔‘‘
خدا کا نظام :ایک سال میں بارہ ماہ*
[9:36] مہینوں کی گنتی ،جہاں تک خدا کا تعلق ہے ،12*ہے۔یہ اس وقت سے خدا کا قانون چلا آرہاہے جب سے اس نے زمین اور آسمان خلق کئے ہیں ۔ان میں چار حرام ہیں ۔یہ دین مکمل ہے ؛تم ان مقدس مہینوں میں( لڑ ائی کر کے) اپنے نفوس کو خراب نہ کرو۔تاہم تم مشرکوں سے کھلم کھلی جنگ کا اعلان کرسکتے ہو(ان مقدس مہینوں میں بھی )اگر وہ تمہارے ساتھ کھلم کھلی جنگ کا اعلان کریں ،اور جان رکھو کہ خدا راستبازوں کے ساتھ ہے ۔
مقدس مہینوں میں ردوبدل کرنا*
[9:37] مقدس مہینوں کو بدلنا حددرجے انکار کی نشانی ہے۔یہ منکرین کی گمراہی میں مزیداضافہ کرتی ہے ۔وہ مقدس مہینوں اور عام مہینوں باہم بدلتے ہیں جبکہ خدا نے جتنے مہینوں کو مقدس ٹھہرایا ہے ان کی تعداد برقرار رکھتے ہیں ۔ا س طرح وہ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو خدا نے مقدس ٹھہرایا ہے ۔ان کے برے اعمال ان کی آنکھوں میں خوشنما بنادیئے گئے ہیں ۔خدا منکرین کو ہدایت نہیں دیتا ۔
[9:38] اے لوگو جوایمان لائے ہو،جب تمہیںکہا جائے ،’’خدا کی راہ میںجنگ کی تیاری کرو،‘‘تم کیوں زمین سے چمٹ جاتے ہو؟کیا تم نے آخرت کے بدلے اس دنیاوی زندگی کا انتخاب کرلیا ہے۔اس دنیا کا سازوسامان آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ۔
[9:39] اگر تم جنگ کےلئے تیار نہ ہوئے تو وہ تمہیں دردناک سزا دیگا اور تمہاری جگہ دوسروں لوگوں کولے آئیگا ؛تم اس کا کبھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔خدا قادر مطلق ہے ۔
خدا کے غیر مرئی سپاہی
[9:40] اگر تم اس کی (پیغمبر کی)مدد کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کی مددپہلے ہی کرچکا ہے۔اس طرح جب منکرین نے اس کا تعاقب کیا ،اور وہ غار میں دو میں سے ایک تھا ،اس نے اپنے دوست سے کہا ،’’فکرنہ کرو؛خدا ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘تب خدا نے اس پر سکون اور سلامتی نازل فرمائی اور غیر مرئی سپاہیوں سے اس کی مدد کی ۔اس نے منکرین کا بول نیچا کردیا ۔خدا کا بول سب سے غالب رہتاہے۔خدا قادرمطلق ہے، نہایت دانا ہے ۔
بہتر ایمان والے خدا کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں
[9:41] تم ہنسی خوشی جنگ کی تیاری کرو،کم یازیادہ،اوراپنےمالاورجان سےخداکی راہ میں جدوجہدکرو۔یہ تمہارےلئےبہترہے،کاش تم جانتے۔
کاہل لوگ
[9:42] اگر کوئی فوری فائدہ ہوتا اور سفر بھی کم ہوتا ،تو وہ تمہاری پیروی کرتے ۔لیکن جدوجہد کرنا ان پر بہت زیادہ بھاری ہے۔وہ خدا کی قسم کھائیں گے :’’اگر ہم کرسکتے ‘تو ہم تمہارے ساتھ چل پڑتے۔‘‘اس طرح وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ،اور خدا جانتا ہے کہ و ہ جھوٹے ہیں ۔
خدا کا نظام :ایک سال میں بارہ ماہ*
[9:43] خدا نے تمہیں معاف کردیا ہے :تم نے انہیں( پیچھے رہنے )کی اجازت کیوں دی ،قبل اس کے تم امتیاز کرتے ان کا جو حق پر ہیں جھوٹوں میں سے ؟
[9:44] جو خدا اور روز آخرت پر سچا ایمان رکھتے ہیں وہ خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے موقع سے بچنے کی تم سے اجازت طلب نہیں کرتے ۔خدا راستبازوں سے پوری طرح باخبر ہے ۔
[9:45] عذر کی خواہش صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو حقیقی معنوں میں خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ان کے دل شک سے بھرے ہوتے ہیں،اور ان کے شکو ک انہیں متزلزل کرتے ہیں ۔
[9:46] اگر وہ واقعی جنگ پر جانا چاہتے تو وہ اس کی بھرپورتیاری کرتے ۔لیکن خدا کو ان کی شرکت نا پسند تھی ،چنانچہ اس نے انہیں دل شکستہ کر دیا :انہیں بتایا گیا ،’’پیچھے بیٹھے رہو ان کے ساتھ جو پیچھے ٹھہرے ہوئے ہیں ۔‘‘
[9:47] اگر وہ تمہارے ساتھ چل پڑتے ،تو فتورپیدا کرتے ،اور تم میں جھگڑے اور تفرقہ ڈالتے ،تم میں سے بعض ان کی باتیں سننے پر مائل تھے ،خدا تجاوز کرنے والوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔
[9:48] انہوں نے ماضی میں تمہارے درمیان فتور پھیلانا چاہا اور تمہارے لیے معاملات گڑبڑ کردیئے ۔تاہم ،ان کے باوجود،حق آخرکار غالب آتاہے،اور خدا ئی منصوبہ پر عمل ہوکر رہتا ہے ۔
[9:49] ان میں سے کچھ کہیں گے ،’’مجھے اجازت دیجیے(پیچھے ٹھہرنے کی )مجھے پر ایسی مصیبت مسلط نہ کریں ۔‘‘؛درحقیقت اس طرح انہوں نے عبرتناک مصیبت مول لے لی ہے ؛جہنم منکرین کو گھیرے ہوئے ہے۔
[9:50] اگر تمہارا کوئی بھلا ہوتا ہے ،تو انہیں دکھ ہوتا ہے ،اور اگر کوئی مصیبت تم پر آن پڑے تو وہ کہتے ہیں ،’’ہم نے تمہیں یہی بتایا تھا ،‘‘ساتھ ہی وہ خوش خوش چلے جاتے ہیں ۔
[9:51] کہہ دیجیے،’’ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوتا سوائے اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے ۔وہ ہمارا آقا اوررب ہے ۔ایمان والے خدا پر بھروسہ رکھیں گے۔‘‘
[9:52] کہہ دیجیے ،’’تم ہمارے لیے دو اچھی چیزوں(فتح یا شہادت )کی توقع کرسکتے ہو،جبکہ ہم تم پر خدا کی طرف سے لعنت اور سزا کی توقع رکھتے ہیں ،یا ہمارے ہاتھوں سے ۔لہذا انتظارکرو،اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرینگے۔‘‘
[9:53] کہہ دیجیے،’’خرچ کرو،مرضی سےیامجبوری سے۔تمہاری طرف سےکچھ قبول نہیں کیاجائے گا،کیونکہ تم برےلوگ ہو۔‘‘
نمازیں محمد*سےپہلےبھی موجودتھیں
[9:54] ان کا مال اس لیے قبول نہیں ہوا کہ وہ خدا کے منکر تھے اور اس کے پیغمبر کے ،اور جب وہ نماز* پڑھتے تو کاہلی سے پڑھتے تھے ،اور جب خیرات کرتے تو بے دلی سے ۔
دنیا وی ظاہر ی کامیابی
[9:55] ان کے مال،یااولاد سے متاثر نہ ہو۔خدا ان کو ان کےلئے سزا کا باعث بناتا ہے اس زندگی میں ،اور(جب وہ مرتے ہیں)ان کی روحیں نکلتی ہیں جبکہ وہ کافر ہوتے ہیں ۔
[9:56] وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں جبکہ وہ تمہارے ساتھ نہیں ؛یہ تقسیم کرنے والے لوگ ہیں۔
[9:57] اگر انہیں پنا ہ مل جائے ،یا غاریں ،یا چھپنے کی جگہ ،تو وہ اس کی طرف جائیں گے ،بھاگ کر۔
[9:58] ان میں سے بعض تمہاری خیرات کی تقسیم پر تنقید کرتے ہیں ؛اگر اس میں سے انہیں دیدی جائے ،تو وہ مطمئن ہوجاتے ہیں ،اگر اس میں سے انہیں نہ دی جائے ،تو وہ معترض ہوتے ہیں ۔
[9:59] انہیں اس پر مطمئن ہونا چاہیے جو خدا اور اسکے پیغمبر نے انہیں دیا ہے ۔انہیں کہنا چاہیے تھا،’’خدا ہمارے لیے کافی ہے ۔خدا ہمیں اپنی نعمتوں میں سے نوازے گا ،اور اس کا پیغمبر بھی ۔ہم صرف خدا کی جستجو میں ہیں ۔‘‘
صدقات کی تقسیم کا نظام
[9:60] صدقات، غریبوں،ضرورت مندوں کو،ان ورکروںکو جو انہیں اکٹھا کرتے ہیں ،نو مسلموںکو،غلاموں کو آزاد کرانے کےلئے ،جن پر اچانک اخراجات کا بوجھ پڑ جائے ،خدا کی راہ میں اور اجنبی مسافروں کو دیئے جائیں ۔ایسے ہیں خدا کے احکامات ۔خدا عالم الغیب ،نہایت دانا ہے ۔
[9:61] ان میں سے کچھ نبی کو یہ کہہ کر دکھ پہنچاتے ہیں کہ ،’’وہ کانوں کا کچا ہے!‘‘کہہ دیجیے ،یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ وہ تمہاری بات سن لیتا ہے۔وہ خدا پر ایمان رکھتاہے اور مومنوں پر اعتماد کرتا ہے ۔ وہ تم میں سے ان کےلئے رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں ۔جو خدا کے پیغمبر کو دکھ دیتے ہیں ان کےلئے دردناک عذاب ہے ۔
[9:62] وہ تمہیں راضی کرنے کےلئے خدا کی قسم کھا تے ہیں ،جبکہ خدا اور اس کا پیغمبر راضی کرنے کے زیادہ لائق ہیں ،اگر وہ واقعی ایمان والے ہیں تو۔
خدا اور اسکے پیغمبر کی مخالفت کرنے کی سزا
[9:63] کیا انہیں معلوم نہیں تھاکہ جوکوئی خدا اور اس کے پیغمبر کی مخالفت کرتاہے ،اس کےلئے جہنم کی ابدی آگ ہے ؟یہ سب سے بری رسوائی ہے ۔
منافقین
[9:64] منافقین پریشان ہیں کہ ایک ایسی سورۃ نازل ہوسکتی ہے جو ان کے اندر کا حال ظاہر کردیگی۔کہہ دیجیے ،’’آگے بڑھو اور نقل اتارو ۔خدا ٹھیک وہی ظاہر کریگا جس سے تم خوفزدہ ہو۔‘‘
[9:65] اگر تم ان سے پوچھو ،تو وہ کہیں گے ،’’ہم تو صر ف ہنسی اور مذاق کررہے تھے ۔‘‘کہہ دیجیے ،’’کیا تمہیں احساس ہے کہ تم خدا ،اس کی آیات اور اس کے پیغمبر کی ہنسی اڑا رہے ہو؟‘‘
[9:66] عذر خواہی نہ کرو۔تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے ۔اگر ہم نے تم میں سے بعض کو معاف کردیا ،تو ہم تم میں سے دوسروں کو ضرور سزا دینگے ،انکے گنا ہ کی پاداش میں ۔
[9:67] منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ۔وہ برائی کی ترغیب دیتے ہیں اور پارسائی سے روکتے ہیں ،اور وہ بخیل ہیں ۔انہوں نے خدا کوبھلا دیا ،چنانچہ اس نے انہیں بھلا دیا۔منافقین صحیح معنوں میں برے ہیں ۔
[9:68] خدا وعدہ کرتا ہے منافق مردوں اور منافق عورتوں سے ،اور منکرین سے بھی ،جہنم کی آگ کا ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔یہ ان کے لئے کافی ہے ۔خدا نے ان کو مسترد کر دیا ہے؛انہوں نے ابدی عذاب مول لیا ہے ۔
خدا کا نظام تبدیل نہیں ہوتا
[9:69] تم سے پہلے والوں میں بعض تم سے زیادہ طاقتور تھے ،اور زیادہ مالدار اور عیال دار تھے ۔وہ اپنی مادی اشیائ میں کھو کررہ گئے ۔اسی طرح تم بھی اپنی مادی اشیائ میں کھو گئے ہو،بالکل اسی طرح جس طرح تم سے پہلے والے مگن تھے ۔تم مکمل طور پر غافل ہو چکے ہو ،بالکل ویسے جیسے وہ غافل تھے ۔ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اعمال برباد کرلیتے ہیں ،اس دنیا اور آخرت دونوں میں ؛وہی ہیں جو خسارے میں ہیں۔
خسارے والے
[9:70] کیا انہوں نے پچھلی نسلوں سے کچھ نہیں سیکھا ؛قوم نوح،عاد،ثمود،قوم ابراہیم ،مدائن کے رہنے والوں اور (سدوم اورگومارہ )کے بدکاروں سے ؟ان کے پیغمبر ان کے پاس صاف نشانیاں لے کر گئے ؛خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ؛انہوں نے خود ہی اپنے نفسوں پرظلم کیا ۔
کامیاب
[9:71] مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں ۔وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں ،وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں اور وہ خدا اور اسکے پیغمبر کی اطاعت کرتے ہیں ۔ان پر خدا کی رحمت برسے گی ۔خداقادرمطلق اور نہایت دانا ہے ۔
[9:72] خدا مومن مردوںاور عورتوں کےلئے باغوں کا وعدہ کرتا ہے جن میں نہریں بہتی ہونگی ۔جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ،اور جنت میں شاندر محلات کا ۔او ر خدا کی نعمت اور رضا اس سے بھی بڑھ کررہے ۔یہی عظیم ترین کامیابی ہے ۔
منکرین کے ساتھ سخت رہو
[9:73] اے نبی ،منکرین اور منافقین کےخلاف جدوجہدکرو،اور ان سے سختی سے پیش آئو۔انکی منزل جہنم ہے۔کیا ہی براٹھکانا ہے !
[9:74] وہ خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوںنے یہ کبھی نہیں کہا ،اگر چہ انہوں نے کلمہ کفر کہاہے ؛انہوں نے فرمانبردار بننے کے بعد کفر کیا ہے۔حقیقت میں انہوں نے وہ ترک کیا ہے جو ان کے پاس کبھی تھا ہی نہیں ۔انہوں نے سرکشی کی ہے اگر چہ خدا اور اس کے پیغمبر نے انکو اپنے فضل اور نعمتوں سے نوازا تھا ۔اگر وہ تائب ہو جائیں تو یہ ان کےلئے بہتر ہوگا ۔لیکن اگر انہوں نے بے رخی کی تو خدا انہیں اس دنیا میں اور آخرت میں دردناک عذاب دیگا ۔اور وہ زمین پر اپنا کوئی آقا اور مالک نہیں پائیں گے ۔
[9:75] ان میں سے کچھ نے وعدہ کیا تھا :’’اگر خدا نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا تو ہم خیرات دینگے اور راستباز ی کی زندگی گزاریں گے ۔‘‘
[9:76] لیکن جب اس نے اپنی نعمتوں سے نوازا تو وہ کنجوس بن گئے، اوربیزاری سے منہ پھیر لیا ۔
[9:77] چنانچہ اس نے ان کے دلوں کو منافقت میں مبتلا کردیا ،اپنی ملاقات کے دن تک ۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے خدا سے اپنے وعدے توڑے اور ان کی دروغ گوئی کی وجہ سے ۔
[9:78] کیا انہیں پتہ نہ تھا کہ خدا ان کے راز جانتا ہے اور ان کی سازشیں ،اور خدا سب پوشیدہ باتیں جاننے والاہے ؟
[9:79] جو لوگ سخی مومنوںپر بہت زیادہ خیرات کرنےکی وجہ سے تنقید کرتے ہیں اور غریب مومنوں کابہت کم خیرات کرنے پر مذاق اڑاتے ہیں ،خدا ان سے نفرت کرتا ہے ۔ان کےلئے دردناک عذاب ہے ۔
شیطان کا سب سے موثر حربہ سفارش* کا تصور
[9:80] خواہ تم ان کےلئے معافی طلب کرویا ان کےلئے معافی طلب نہ کرو۔خواہ تم ان کےلئے 70بار بھی معافی طلب کرو،خدا انہیں معاف نہیں کریگا۔کیونکہ وہ خدا اور اس کے پیغمبر کا انکار کرتے ہیں ۔خدا فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
[9:81] پیچھے بیٹھ رہنے والے خدا کے پیغمبر کے پیچھے ٹھہرے رہنے میں مگن رہے اور خدا کی راہ میںاپنی جان و مال سے جہاد کرنے سے نفرت کی۔انہوں نے کہا ،’’اس گرمی میں ہمیں جنگ کےلئے نہ نکالا جائے !‘‘کہہ دیجیے ،جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے ،‘‘کا ش انہیں شعورہوتا ۔
[9:82] انہیں تھوڑا ہنسنے اور بہت زیادہ رونے دو ۔یہ بدلہ ہے ان گناہوں کا جو انہوں نے کمائے ہیں ۔
[9:83] اگر خدا کی طرف سے دوبارہ وہ صورتحال آجائے جب وہ تمہارے ساتھ جانے کےلئے تمہاری اجازت طلب کریں ،تو انہیں کہو،’’تم ہرگز میرے ساتھ نہیں جاسکتے ،اور نہ ہی تم میرے ہمراہ دشمنوں سے جنگ کرو ۔کیونکہ تم نے قبل ازیں پیچھے ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا ۔اس لئے تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ ہی رہو۔‘‘
[9:84] تم ان میں سے کسی کی نمازجنازہ نہ پڑھنا جب وہ مرجائے ،نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہونا ۔وہ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہیں لائے ،اور فسق کی حالت میں مر گئے ۔
دنیاوی سامان کچھ بھی نہیں
[9:85] ان کے مال اور اولاد سے متاثر مت ہونا ؛خدا ان کو ان کےلئے اس دنیا میں مصیبت کا ذریعہ بنا دیتا ہے ،اور ان کی جانیں کافروں کی طرح نکلتی ہیں ۔
[9:86] جب کوئی سورۃ نازل ہوتی ہے جس میں کہا جاتا ہے :خدا پر ایمان لائو ،اور اس کے پیغمبر کےساتھ مل کرجہاد کرو،‘‘تو ان میں طاقتور بھی یہ کہتے ہیں ،ہمیں پیچھے ہی ٹھہرے رہنے دیں !‘‘
[9:87] انہوں نے بیٹھ رہنے والوں کےساتھ رہنا پسند کیا ۔چنانچہ،ان کے دل سر بمہر کردیئے گئے ،اور اس طرح ،وہ سمجھ نہیں سکتے ۔
اصلی مومن جہاد کے آرزومند ہوتے ہیں
[9:88] پیغمبر اوراس کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں ،خوشی سے اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرتے ہیں ۔سب بھلائیوں کے حقدار یہی ہیں ؛یہی فلاح پانے والے ہیں ۔
[9:89] خدا نے ان کےلئے بہتی نہروں والے باغات تیار کررکھے ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔یہ عظیم ترین کامیابی ہے ۔
[9:90] عربوں نے عذر کئے اور تم سے پیچھے ٹھہرنے کی اجازت طلب کرنے کےلئے آئے ۔یہ علامت ہے خدا اور اس کے رسول سے انکے انکار کی ۔وہ پیچھے ٹھہر تے ہیں ۔بے شک ،ان میں سے جو کفر کرتے ہیں ان کےلئے دردناک عذاب ہے ۔
[9:91] انکا کوئی قصور نہیں جو کمزور ہیں یا بیمار اور جن کے پاس دینے کو کچھ نہیں ،جب تک وہ خدا اور اس کے پیغمبر سے وابستہ رہتے ہیں ۔ان میں جو پرہیز گار ہیں ان کو قصور وار نہ سمجھا جائے ۔خدا معاف کرنیوالا اور نہایت رحم کرنیوالا ہے ۔
[9:92] وہ بھی معاف کردئیے گئے ہیں جو تمہارے ساتھ شامل ہونے کی خوہش لے کر تمہارے پاس آئے ،لیکن آپ نے ان سے کہہ دیا ،’’میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تمہیں ساتھ لے جا سکو ں ۔‘‘ تب وہ آنکھوں میں آنسو لیے واپس چلے گئے ۔انہیں اس بات کا حقیقی صدمہ تھا کہ ان کے پاس حصہ ڈالنے کو کچھ نہیں ۔
[9:93] قصور ان کا ہے جو پیچھے رہنے کےلئے تمہاری اجازت طلب کرتے ہیں ،جبکہ ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔انہوں نے پیچھے ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہنا پسند کیا ہے ۔چنانچہ خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے ،اسطرح ،ان کو کچھ پتہ نہیں چلتا ۔
مشکل وقت میں منافقوں کا پتہ چل جاتا ہے
[9:94] جب آپ(جنگ سے) واپس ان کی طرف آتے ہیں تو وہ آپ سے معذرت کرتے ہیں۔کہہ دیجیے ،’’معذرت مت کرو؛اب ہمیں تم پر کوئی اعتماد نہیں ۔خدا نے تمہارے بارے میں ہمیں مطلع کردیا ہے ۔‘‘خدا تمہارے اعمال پر نظر رکھے گا اور اس کا پیغمبر بھی ،پھر تم تمام خفیہ اور ظاہر ی باتیں جاننے والے کی طرف لوٹائے جائو گے ،تب وہ تمہیں ہر اس چیز آگاہ کریگا جو تم نے کی تھی۔
[9:95] جب تم ان کے پاس واپس آئو گے تو وہ تم سے خدا کی قسم کھائیں گے تا کہ تم ان سے صرف نظر کرو ۔تم ان سے لازمی صرف نظر کرو ۔وہ آلودہ ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ان کے گناہوںکا بدلہ،جو انہوں نے کمائے ہیں ۔
[9:96] وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم انہیں معاف کردو ۔اگر تم انہیں معاف کر بھی دو تو خدا ایسے فاسقوں کو معاف نہیں کرتا ۔
بدوی عرب
[9:97] بدوی عرب کفر ونفاق میں سب سے آگے ہیں اور یہ قوی امکان ہے کہ وہ ان قوانین کو نظر انداز کردیں جو اس نے اپنے پیغمبر پر نازل کئے ہیں ۔خدا عالم الغیب اور نہایت دانا ہے ۔
[9:98] بعض عرب (خدا کی راہ میں خرچ کرنا)خسارہ سمجھتے ہیں ،حتی ٰ کہ قیافہ میں انتظار کرتے ہیں کہ تم پر کوئی مصیبت آن پڑے ۔سب سے بری مصیبت ان پر ہی پڑے گی ۔خدا سب کچھ سننے والا اور ہمہ بین ہے ۔
[9:99] دوسرے عرب خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور یو م آخرت پر ،اور جو کچھ خرچ کرتے ہیںاسے خدا کے تقرب اور پیغمبر کی حمایت کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔بے شک اس سے انہیں تقرب حاصل ہوگا ؛خدا انہیں اپنی رحمت میں داخل کریگا ۔خدا معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
[9:100] اور مہاجرین میں جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی ،اور مدد گار جنہوں نے انہیں پنا ہ دی اور وہ جنہوں نے راستبازی میں ان کی پیروی کی ،خدا ا ن سے راضی ہے ،اور وہ خدا سے راضی ہیں ۔اس نے ان کےلئے بہتی نہروں والے باغ تیار کررکھے ہیں ،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ عظیم ترین کامیابی ہے ۔
منافقین کی سزا دو گناکردی گئی *
[9:101] تمہارے گرد جو بدوی عرب ہیں،ان میں منافقین ہیں۔اورشہرمیں رہنے والوں میں بھی کچھ ایسے ہیں جو منافقت کے عادی ہیں ۔تم انہیں نہیں جانتے ،لیکن ہم انہیں جانتے ہیں ۔ہم ان کےلئے سزا دو گنا کردینگے ،پھر ان کا خاتمہ خوفناک سزا کے ساتھ ہوگا۔
[9:102] اوردوسرے بھی ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے؛انہوں نے اچھے اعمال کو برے اعمال میں ملاد یا ہے ۔خدا انہیں معاف کردیگا ،کیونکہ خدا معاف فرمانے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
[9:103] ان کو پاک اورمتبرک کرنے کےلئے ان کی دولت سے صدقہ نکالو۔اور ان کی حوصلہ افزائی کرو ،کیونکہ تمہاری حوصلہ افزائی سے انکو تقویت ملتی ہے ۔خدا سب کچھ سننے والا او ر ہمہ بین ہے ۔
[9:104] کیا انہیں شعور نہیں کہ خدا اپنے عبادت گزاروں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات کوقبولیت بخشتاہے ،اور یہ کہ خدا معاف فرمانے والا اور نہایت رحم کرنیوالاہے ؟
[9:105] کہہ دیجیے ،’’نیک اعمال کرو؛خدا تمہارے اعمال دیکھے گا،اور اس کا پیغمبر اور ایمان والے بھی۔آخر کار تم تمام خفیہ اورظاہری امور جاننے والے کی طرف لوٹائے جائو گے ،پھر وہ تمہیں ہر اس چیز سے مطلع کریگا جو تم نے کی ہوگی ۔‘‘
[9:106] دوسرے خدا کے فیصلہ کے منتظر ہیں ؛چاہے وہ انہیں سزا دے ،یا انہیں معاف فرما دے ۔خدا ہمہ بین اور نہایت داناہے۔
مساجد جو خدا اور اسکے پیغمبر کی مخالف کرتی ہیں *
[9:107] اور ایسے بھی ہیں جو شرک اور ایمان والوں میں تفر قہ ڈال کرمسجد کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ان کو تسکین پہنچاتے ہیں جو خدا اور اسکے پیغمبر کے مخالف ہیں ۔وہ سنجیدہ قسم کھاتے ہیں :’’ہمارے ارادے اچھے ہیں !‘‘خدا گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔
ان مساجد میں نمازادا نہ کرو
[9:108] تم ایسی کسی مسجد میں ہرگز نماز ادا نہ کرنا۔وہ مسجد شروع دن سے تقویٰ کی بنیاد پر بنائی گئی ہووہ تمہاری نماز کے زیادہ لائق ہے ۔اس میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو پاکبازہونا پسند کرتے ہیں ۔خداانہیں پسند کرتاہے جو اپنے آپ کو پاک بناتے ہیں ۔
[9:109] وہ جو اپنی عمارت خدا کی تکریم اور رضا جوئی کےلئے بناتا ہے وہ بہتر ہے ،یا وہ، جو لرزتی چٹان کے کنارے بلڈنگ بناتا ہے ،جواس کے ساتھ ہی جہنم کی آگ میں گرپڑتی ہے ؟خدا تجاوز کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔
[9:110] یہ بلڈنگ جو انہوں نے بنائی ہے ان کے قلوب میں شک کا موجب بنی رہتی ہے ،حتی ٰ کہ ان کے دل ساکت ہوجاتے ہیں ۔خدا ہمہ بین اور نہایت دانا ہے۔
سب سے منافع بخش سرمایہ کاری
[9:111] خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اورمال جنت کے بدلے خرید لئے ہیں۔ا سطر ح ،وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں ،مارنے یا مرنے کےلئے ۔ایسا ہی سچا ہے اس کا وعدہ توریت میں ،انجیل اور قران میں ۔اور اس سے بڑھ کرکون اپنا وعدہ پورا کرتاہے ۔تم اس قسم کاسودا ہنسی خوشی کرو۔یہ عظیم ترین کامیابی ہے۔
مومنین
[9:112] وہ معافی طلب کرنیوالے ،عبادت گزار ،تسبیح کرنیوالے ،تدبر کرنیوالے،جھکنے والے،سجدہ کرنے والے،نیکی کی تلقین کرنیوالے ،برائی سے منع کرنیوالے اور خدائی قوانین کوقائم کرنیوالے ہیں۔خدا ایسے مومنوں کو خوشخبری دیتا ہے۔
خدا کے دشمنوں سے لاتعلق ہوجائو ابراہیم نے اپنے والد سے تعلقی کرلی تھی
[9:113] نبی اور نہ ہی وہ جوایمان رکھتے ہیں مشرکین کےلئے مغفرت طلب کریں ،خواہ وہ ان کے قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو،جبکہ انہیں احساس ہوچکا ہو کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہے ۔
[9:114] ابراہیم نے جو اپنے باپ کی مغفرت طلب کی تھی تو اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اس سے ایسا کرنے کا وعدہ کیا تھا ،لیکن جونہی انہیں احساس ہوا کہ وہ خدا کا دشمن ہے ،تو انہوں نے اس سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ابراہیم نہایت مہربان اور حلیم تھے ۔
[9:115] خدا کسی قوم کو گمراہ نہیں کرتا ،اسے ہدایت دینے کے بعد،قبل ازیں انکو نشاندہی کئے بغیر کہ وہ کیا چاہتاہے ۔خدا تمام چیزوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔
[9:116] آسمانوں اور زمین کی حاکمیت خدا کی ہے ۔زندگی اور موت پر اسی کا کنٹرول ہے ۔خدا کے علاوہ کوئی نہیں تمہارا آقا اور رب ۔
[9:117] خدا نے معاف کردیا نبی کو اور مہاجرین کو اور حامیوںکو جنہوں نے ان کی میزبانی کی اور انہیں پنا ہ دی(انصار) ،جنہوں نے مشکل اوقات میں اس کی پیروی کی ۔اور جب ان میں سے بعض کے دل تقریباً ڈول گئے تھے ۔لیکن وہ انہیں معاف کرچکا ہے کیونکہ وہ انکے لئے رحیم ہے ،نہایت مہربان۔
پیغمبر سے کنارہ کشی نہ کرو
[9:118] وہ تین بھی (معاف کردئیےگئے)جوپیچھے ٹھہر گئے تھے ۔وسیع زمین ان کےلئے اس قدر تنگ ہوگئی کہ وہ اپنے بارے میں تمام امیدیں کھو بیٹھے ۔آخرکار انہیں احساس ہوا کہ خدا سے کوئی مفر نہیں سوائے اس کے ۔اورپھر اس نے انہیں معاف کردیا تاکہ و ہ توبہ کریں۔خدا معاف کرنے والا،نہایت مہربان ہے ۔
[9:119] اے لوگو،جو ایمان لائے ہو،خدا کی تکریم کرو او ر ان میں رہو جو حق پر ہیں ۔
[9:120] شہروں میں رہنے والے اور نہ ہی ان کے اردگر دکے عرب نبی سے پیچھے رہیں (جب وہ جنگ کےلئے صف بندی کریں )۔نہ ہی وہ اس کی حمایت پر اپنے امور کوترجیح دیں ۔یہ اس لیے ہے کہ انہیں خدا کی راہ میں پیاس یا مشقت یابھوک کی تکلیف نہیں پہنچتی ،یا وہ ایک قدم اٹھاتے ہیں جن سے کافروں کو غصہ آتا ہے ،یا وہ دشمن کو کوئی گزند پہنچاتے ہیں تو یہ ا ن کےلئے اجرلکھے بغیر نہیں ہوتا۔خدا نیکو کاروں کا اجر دینے میں کبھی نہیں چوکتا ۔
[9:121] اور نہ ہی وہ کچھ خرچ کرتے ہیں ،کم یا زیادہ ،نہ کسی وادی سے گزرتے ہیں ،ان کے نامہ میں اجر کے لکھے بغیر ۔یقینا خدا ان کے اعمال کا بدلہ فراخی سے دیگا۔
دینی تعلیم کی اہمیت
[9:122] جب مومن نکل پڑتے ہیں ،تو، ان میں سے سب ایسا نہ کریں ۔ہر گروہ میں سے چند ایک اپنا وقت دینی تعلیم کےلئے وقف کرکے نکلیں۔اس طرح وہ اپنا علم دوسروں تک منتقل کرسکتے ہیں جب وہ واپس آئیں ،تاکہ وہ مذہب کے بارے میں آگاہ رہیں ۔
کافر
[9:123] اے لوگو ،جو ایمان لائے ہو،تم ان کافروں سے لڑو جوتم پر حملہ آور ہوں۔انہیں پتہ چل جائے کہ تم سخت ہو ۔اور جان رکھو کہ خدا نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔
منافقین
[9:124] جب کوئی سورۃ نازل کی جاتی تھی تو ان میں سے بعض کہتے تھے ،’’کیا اس سورۃ نے تم میں سے کسی کا ایمان مضبوط کیا؟‘‘یقینا ،اس نے ان کا ایمان مضبوط کیا جو ایمان والے تھے ،اور وہ ہر آیت پر خوش ہوتے ہیں ۔
[9:125] اور جنہوں نے اپنے قلوب میں شک پالے ،اس نے درحقیقت ان کی معصیت میںمزید معصیت کا اضافہ کیا ،اور وہ کافروں کی طرح مرے
[9:126] کیا یہ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر سال ایک یہ دوبار ضرورکسی نہ کسی مصیبت سے دوچا رہو جاتے ہیں؟ ۔اس کے باوجودبھی توبہ نہیںکرتے اور غور بھی نہیں کرتے ؟۔
تاریخی جرم افشا ہوگیا:خدا کے فرمان میں ردوبدل * خدا ناقابل تردید شہادت فراہم کرتا ہے
[9:127] جب بھی کوئی سورۃ نازل کی جاتی ،ان میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف یوں دیکھتے جیسے کہنا چاہتے ہوں :’’کیا تم کو کسی نے دیکھا ہے ؟‘‘پھروہ چلے گئے ۔اس طرخ خدا نے ان کے دل پھیر دیئے ہیں ،کیونکہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ۔