Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 10: یونس(یونس)

خدا کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔

[10:1] ا۔ل۔ر۔*یہ(حروف)اس حکمت والی کتاب کےثبوت ہیں۔

[10:2] کیا لوگوں کےلئے یہ بات بہت حیرت والی ہے کہ ہم نے ان جیسے فرد پر وحی کی ؟(اسے وحی کی گئی کہ کہہ دو )،’’تم لوگوں کو خبردار کرو،اور ان کو خوشخبری دو جو ایمان رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کے ہاں نمایاں پوزیشن حاصل کرلی ہے ۔‘‘کافروں نے کہا ،’’یہ ہوشیا ر جادو گرہے!‘‘

[10:3] تمہارا واحد رب ہی خدا ہے ؛وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں خلق کیا ،اور پھر تمام اختیارات سنبھال لئے ۔سب معاملات وہی کنٹرول کرتا ہے ۔کوئی سفارش کرنیوالا نہیں ،سوائے اسکے حکم کے مطابق ۔ایسا ہے خدا تمہارا رب ۔تم اس کی عبادت کرو۔کیا تم غور نہیں کروگے ؟

[10:4] آخر کار تمہیں،سب کو، اسی کی طرف پلٹنا ہے ۔یہ خدا کا حق وعدہ ہے ۔وہ تخلیق کی ابتدا کرتا ہے ،پھر اس کو دہراتا ہے ،تاکہ ان کو اجر دے جو ایمان رکھتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں ،انصاف سے ۔اور جو کفر کرتے ہیں ان کےلئے کھولتے ہوئے مشروبات ہیں، اوران کے کفر کے بدلے دردناک عذاب۔

[10:5] وہی ہے جس نے سورج کو اجیالابنایا اور چاند کو روشنی بخشی ،اور اس نے مرحلے مقرر کئے تاکہ تم سالوں کاشمار کرسکو اور گنتی سیکھ سکو ۔خدا نے یہ سب کچھ نہیں پیدا کیا ،سوائے ایک خاص مقصد کے ۔وہ اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے ان لوگو ں کےلئے جو جانتے ہیں ۔

[10:6] بے شک ،رات اور دن کے الٹ پھیر میں ،اور جو کچھ خدا نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین میں ،ان لوگوں کےلئے نشانیاں ہیںجو راستباز ہیں ۔

اس دنیا میں مگن رہنا

[10:7] وہ جنہیں ہم سے ملاقات کی توقع نہیں ،اوراس دنیاوی زندگی میں مگن ہیں ،اور اس پرخوش ہیں ،اور ہماری نشانیوں پرغورسے منکر ہیں؛

[10:8] انہوں نے جہنم کو اپنا آخری ٹھکانا بنالیا ہے ،انکے اپنے ہی اعمال کے بدلے میں ۔

خدا ایمان والوں کی راہنمائی کرتا ہے

[10:9] اور وہ جوایمان رکھتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں ،انکا رب انہیں ہدایت بخشتا ہے ،ان کے ایمان کی بدولت ۔ بہشت کے باغات میں ان کے نیچے دریا بہیں گے۔

[10:10] وہاں ان کی تسبیح ہے :’’عظیم ہے تیری ذات ،ہمارے خدا،‘‘انکی زبان پر کلمہ ہے،’’امن،‘‘اور ان کی حتمی مناجات ہے:تعریف ہے خدا کی ،کائنات کے رب کی۔‘‘

[10:11] اگر خدا وہ عذاب جلد لے آئے جو لوگوں نے کمایا ہے ،جس طرح وہ نعمتیں طلب کرتے ہیں ،وہ بہت پہلے تباہ ہو چکے ہوتے ۔تاہم ہم انہیں ظلم اورخطا میں چھوڑ دیتے ہیں جو ہم سے ملاقات پر یقین نہیں رکھتے ۔

[10:12] جب انسان پر مصیبت آتی ہے تووہ ہم سے التجاکرتا ہے ،لیٹے ہوئے ،بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے ۔لیکن جونہی ہم اس کی مصیبت دور کرتے ہیں ،تو وہ یوں جاتا ہے جیسے اس نے ہم کو مصیبت سے نجات کےلئے کبھی پکارا ہی نہیں !اس طرح ظالموں کے اعمال ان کی ا ٓنکھوں میں خوشنما بنادیئے جاتے ہیں ۔

ماضی کے اسباق

[10:13] تم سے پہلے ہم بہت سی نسلیں تباہ کرچکے ہیں جب انہوں نے تجاوز کیا ۔ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر گئے ،لیکن انہوں نے ماننے سے انکار کردیا ۔اس طرح ہم مجرموںکوبدلہ دیتے ہیں ۔

اب تمہاری باری ہے

[10:14] پھر ہم نے تمہیں زمین کا وارث بنایا ان کے بعد ،یہ دیکھنے کےلئے کہ تم کیسے کرتے ہو۔

ہر حرف گنا چنا اورآفاقی ساختہ ہے

[10:15] جب ہماری آیات ان کوسنائی جاتی ہیں،جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے ، کہتے ہیں ،’’لاؤ کوئی قرآن* اس کے علاوہ یا اس کو بدل دو ! ‘‘ کہہ دیجیے ،’’میں اس کواپنے طو رپر بدل نہیں سکتا ،میں توصرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے ۔میں ڈرتا ہوں ،اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی ،ایک زبردست عذاب والے دن سے ۔‘‘

[10:16] کہہ دیجیے،’’اگر خدا چاہتا ،میں تمہیں یہ پڑھ کرنہ سناتا ،اور نہ ہی تمہیں اس بارے میں کسی چیز کا علم ہوتا ۔میں تمہارے ساتھ رہا ہوں عمر بھر ،اس سے پہلے(اور تم مجھے جانتے ہوبطور صادق اور عقل مند انسان کے)۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟‘‘

[10:17] اس سے برا کون ہے جو خدا کے بارے میں جھوٹ گھڑتا ہے ،یا اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے ۔یقیناتجاوز کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

[10:18] وہ خدا کے علاوہ شریکوں کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں فائدہ یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے ،اور وہ کہتے ہیں ،"خدا کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں ! "کہہ دیجیے ،"کیا تم خدا کو کسی ایسی چیز کی اطلاع دے رہے ہو جو وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا ؟"عظیم ہے اس کی ذات ۔وہ سب سے اعلی ٰ ہے ؛کسی شریک کی حاجت سے کہیںماورآئ ۔

[10:19] پہلے لوگ ایک ہی گروہ ہوا کرتے تھے ،پھر انہوں نے جھگڑا کیا ۔اگر تمہارے خدا کی طرف سے یہ حکم پیش معین نہ ہوتا تو ،انکے جھگڑوں کافیصلہ فوری ہوچکا ہوتا ۔

محمد* کے بعد قرآن کے معجزہ سے پردہ اٹھنا

[10:20] وہ کہتے ہیں ،اس کے پاس اس کے خدا کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں اترا؟‘‘کہہ دیجیے،‘‘مستقبل کا تعلق خدا سے ہے ؛لہذا انتظار کرو،اور میں تمہارے ساتھ انتظا ر کررہا ہوں۔‘‘

سرکش انسان

[10:21] جب ہم لوگوں پر رحم کرتے ہیں ،بعد ان پر مصیبت پڑنے کے ،تو وہ فوری ہماری آیات کے خلاف سکیم بنانا شروع کردیتے ہیں۔! کہہ دیجیے،’’ خدا کی سکیم کہیں زیادہ موثر ہے۔ کیونکہ ہمارے پیغمبر تمہاری سکیم کا ہر پہلو ریکارڈ کررہے ہیں۔‘‘

[10:22] وہی ہے وہ ذات جو تمہیں زمین اورسمندر میں لیے پھرتی ہے ۔تم جہازوں پر سوا ر ہوتے ہو اور وہ عمدہ ہوا میں ہموار چلتے ہیں۔جب تم اس سے لطف اندوز ہور ہے ہوتو وہ تند ہوائیں چلتی ہیں اور لہریں انہیں ہر طرف سے گھیر لیتی ہیں۔اس وقت وہ خدا کے آگے گڑگڑاتے ہیں،اور وہ پورے خلوص سے صرف خدا واحد سے دعا کرتے ہیں :’’اگر آپ اس وقت ہمیں بچا لو تو ہم ہمیشہ کے لیے شکرگزار بن جائیں گے۔‘‘

[10:23] لیکن جونہی وہ ان کو بچا لیتا ہے،وہ زمین پر سرکشی کرتے ہیں،اور حق کی مخالف کرتے ہیں ۔اے لوگو،تمہاری سرکرشی صرف تمہارے اپنے نفوس کے لیے ہی نقصان دہ ہے،تم اس دنیاوی زندگی میں مگن رہتے ہو،بالآخر تمہیں ہماری طرف ہی لوٹنا ہے ،پھر ہم تمہیں ہر اس چیز سے آگاہ کردینگے جو تم نے کی تھی ۔

[10:24] اس دنیاوی زندگی کی مثال کچھ ایسی ہے :ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں زمین پر اس سے ہرقسم کے پودے اگانے کےلئے،اور لوگوں اور حیوانوں کو خوراک فراہم کرنے کےلئے۔پھر ،جب زمین مکمل طور پر خوشنما بن جاتی ہے اور اس کے لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس پر ان کا کنٹرول ہے ،توہمارافیصلہ آجاتاہے رات کویا دن کو*،اوروہ مکمل طور پر بنجر ہوجاتی ہے جیسے ایک روز پہلے اس پر تھا ہی کچھ نہیں ۔اس طرح ہم اپنی آیات ان لوگوں کے لیے کھول کربیان کرتے ہیں جو غور کرتے ہیں۔

[10:25] خدا امن کے ٹھکانے کی طرف بلاتا ہے،اورہدایت دیتا ہے ہر اس کو جو طلب کرئے(ہدایت پانے کی ) سیدھے راستے کی ۔

جنت اور دوزخ ابدی ہیں

[10:26] نیکو کاروں کے لیے بدلہ کئی گنا زیادہ ہوگا۔ان کے چہرے پر کبھی محرومی اور ندامت نہیں ہوگی۔یہ جنت کے باسی ہیں ؛جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

[10:27] اور جنہوں نے گناہ کمائے ،ان کا بدلہ ان کے گناہوں کے برابر ہے۔ذلت ان کا مقدر ہے اور خدا کے علاوہ کوئی ان کو نہیں بچا سکے گا۔ان کے چہرے رات کی تاریکی کی گھٹائوں سے اٹکے ہوں گے۔وہ دوزخ کے باسی ہونگے؛وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

شریک اپنے پجاریوں سے لاتعلقی کرتے ہیں

[10:28] اس دن جب ہم سب کو حاظر کرینگے،جنہوں نے شریکوں کی عبادت کی ہوگی ہم ان سے کہیں گے ،’’ہم نے تمہیں حاظر کیا ہے،تمہارے شریکوں سمیت۔‘‘ہم ان کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرینگے،اور ان کے شریک ان سے کہیں گے،’’ہمیں اس کا کوئی گمان نہ تھا کہ تم نے ہمیں شریک بنا رکھا تھا۔

[10:29] ہمارے تمہارے درمیان خدا بطور گواہ کافی ہے ،کہ ہم مکمل طور پربے خبر تھے کہ تم ہماری عبادت کررہے تھے۔‘‘

[10:30] یہ وہ وقت ہوگا جب ہر روح اپنے ہر عمل کا تجزیہ کریگی۔وہ خدا کی طرف موڑے جائیں گے،ان کے حقیقی آقا اور مالک کی طرف ،اور جن کو انہوں نے شریک بنا رکھا تھا ،ان سے لاتعلقی کرلیں گے۔

[10:31] کہہ دیجیے،کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے فراہم کرتا ہے؟کون ہے جو کل سماعت اور بصارت کو کنٹرول کرتا ہے؟کون ہے جو مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے اور زندہ سے مردہ کو؟کون ہے جو سب اشیائ کو کنٹرول کرتا ہے؟تو وہ کہیں گے،’’خدا۔‘‘کہہ دیجیے ،پھر تم احکامات پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟‘‘

[10:32] ایسا ہے خدا،تمہارا حقیقی آقا۔حق کے سوا کیا ہے ،مگر باطل ؟تم ان سب کو کیسے جھٹلا سکتے ہو؟

[10:33] یہ ہے وہ جو تمہارے خدا کافیصلہ ان سے کرتا ہے جو برائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں:وہ ایمان نہیں لاسکتے ۔

اپنے شریکوں پر غور کرو

[10:34] کہہ دیجیے،’’کیا تمہارا کوئی شریک پیدائش کا عمل شروع کرسکتا ہے،اورپھر اس کو دہرا سکتا ہے ؟‘‘ کہہ دیجیے،’’خدا پیدائش کا آغاز کرتا ہے اور پھر اس کو دہراتا ہے۔‘‘

[10:35] کہہ دیجیے،’’کیا تمہار ا کوئی شریک حق کی طرف رہنمائی کرتاہے؟‘‘کہہ دیجیے،’’خدا حق کی طرف ہدایت دیتا ہے ۔کیا وہ جو حق کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ عبادت کے لائق ہے یا وہ جو ہدایت نہیں دیتا اور جس کوخود رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ؟تمہاری سمجھ میں کیا خرابی ہے؟‘‘

[10:36] ان میں سے اکثر قیاس پر چلتے ہیں ،اور قیاس حق کا متبادل نہیں ہے ۔خدا ہر اس کام سے پوری طرح باخبر ہے جو یہ کرتے ہیں ۔

صرف خدا ہی قرآن تصنیف کرسکتا ہے۔

[10:37] یہ قرآن خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی تصنیف نہیں ہوسکتا۔یہ تمام سابقہ پیغامات کی تصدیق کرتا ہے اور مکمل مفصل کتاب پیش کرتا ہے۔یہ قطعی ہے،کیونکہ یہ کائنات کے رب کی طرف سے ہے ۔

[10:38] کیاوہ یہ کہتے ہیں،’’اس نے اس کو خودبنایا ہے،‘‘تو پھر اس جیسی ایک سورۃ بنائو،اورجس کو چاہو بلا لو،سوائے خدا کے،اگر تم سچے ہوتو۔‘‘

[10:39] حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس کو پڑھے اورپرکھے بغیر اور سمجھنے سے پہلے جھٹلایا ہے۔اسی طرح ان سے پہلے جو کفر کرتے تھے انہوں نے کیا تھا ۔اس لیے اب حد سے بڑھنے والوں کا انجام دیکھو۔

[10:40] ان میں سے بعض (اس کتاب پر) ایمان رکھتے ہیں،جبکہ دوسرے اس پر ایمان نہیں رکھتے۔تمہارا رب بدکاروں کو خوب جانتا ہے۔

[10:41] اگر وہ تمہیں جھٹلائیں ،تو کہہ دیجیے،’’میرے اعمال میرے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے۔جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو،اورجو تم کرتے ہو میں اس سے بری ہوں۔‘‘

[10:42] ان میں سے بعض آپکی بات سنتے ہیں ،لیکن کیاآپ بہروں کو سنا سکتے ہیں،خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟

انسان اپنے راستوں کا انتخاب مرضی سے کرتے ہیں

[10:43] ان میں سے بعض آپ کی طرف دیکھتے ہیں ،لیکن کیا آپ اندھوںکو راہ دکھا سکتے ہیں،خواہ وہ دیکھتے نہ ہوں؟

[10:44] خدا کبھی لوگوں پر ظلم نہیں کرتا؛لوگ خود ہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں۔

[10:45] اس دن جب وہ ان تمام کو حاظر کریگا،انہیں ایسے محسوس ہوگا جیسے وہ اس دنیا میں دن کا ایک گھنٹہ رہے ہوں،جس میں وہ ملے ۔بے شک وہ لوگ خسارے میں ہیں جنہوں نے خدا سے ملاقات کا انکار کیا ؛اور گمراہی کا راستہ اختیار کیا ۔

[10:46] خواہ ہم تمہیں دکھا دیںکچھ حصہ (بدلے کا)جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے،یا اس سے پہلے تمہاری زندگی ختم کردیں،انہیں آخر کار ہماری ہی طرف لوٹناہے۔خدا گواہ ہے ہر اس چیز پر جو یہ کرتے ہیں۔

[10:47] ہر قوم کے لیے ایک پیغمبرہے۔جب ان کا پیغمبر آجاتا ہے ،ان کا فیصلہ انصاف سے کیا جاتاہے،ذرہ بھر بے انصافی کے بغیر۔

[10:48] وہ چیلنج کرتے ہیں :’’یہ پیشگوئی کب پوری ہوگی ،اگر تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘

پیغمبر کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا

[10:49] کہہ دیجیے،’’میں اپنے آپ کو نقصان یا نفع پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا، صرف جو خدا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔‘‘ہر قوم کا عرصہ حیات پیش معین ہوتا ہے۔جونہی ان کا درمیانی عرصہ اختتام کو پہنچتاہے،تو وہ اس میں ایک گھنٹہ بھی تاخیر نہیں کرسکتے اور نہ بڑھا سکتے ہیں۔

[10:50] کہہ دیجیے،’’خواہ اس کا عذاب رات کو آئے یا دن کو ،نافرمان کیوں اتنی جلدی میں ہیں؟

[10:51] ’’اگر یہ ہوجاتاہے تو کیا پھر تم ایمان لے آئو گے؟تم اس کی آمد کو چیلنج کیا کرتے تھے ؟‘‘

[10:52] نافرمانوں سے کہا جائیگا ،’’ابدی عذاب کا مزہ چکھو۔کیا تمہیںبالکل اسی چیز کا بدلہ نہیں دیا گیا جو تم نے کمائی ہے؟‘‘

[10:53] وہ تمہیں پیش گوئی کا چیلنج کرتے ہیں :’’کیا یہ بالکل وہی ہے جو ہوگا؟‘‘کہہ دیجیے،’’ہاںبے شک،میرے خدا کی قسم ،یہ حق ہے،اور تم ہرگز بچ نہیں سکتے۔‘‘

ایمان کی کیا قیمت ہے

[10:54] اگر مفسد کے پاس دنیا بھر کی دولت ہوتو وہ ہنسی خوشی اس کو فدیہ میںدینے کو تیار ہوجائیگا۔جب وہ بدلہ دیکھیں گے تو ان پر غم چھا جائے گا۔ان کافیصلہ انصاف سے کیا جائیگا ،رتی بھر بے انصافی کے بغیر۔

[10:55] بلاشبہ ،آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہے۔بے شک ،خدا کا وعدہ سچا ہے،لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ۔

[10:56] زندگی اور موت وہی کنٹرول کرتا ہے،اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔

[10:57] اے لوگو،تمہارے پاس تمہارے رب کی روشنی آچکی ہے،اوریہ ہر اس چیز کی شفا ہے جو تمہارے دل کو تکلیف دیتی ہے،اور رہنمائی ہے،اور ایمان والوں کے لیے رحمت ۔

ایمان والوں کے لیے خوشی

[10:58] کہہ دیجیے،’’خدا کے فضل اور اس کی رحمت سے وہ لطف اندوز ہونگے۔‘‘یہ ہر اس دولت سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو وہ جمع کرسکتے ہیں۔

کھانے پینے پر انسان کی لگائی پابندیاں

[10:59] ’’کیا تم نے غور کیا،کیسے خدا تم پر ہر قسم کی نعمتیں نازل فرماتا ہے،پھر تم ان میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال قرار دیتے ہو۔‘‘کہہ دیجیے،’’کیا خدا نے تمہیں ایسا کرنے کی اجازت دی تھی؟یاتم جھوٹ گھڑتے ہو اورانہیں خدا سے منسوب کرتے ہو؟‘‘

[10:60] کیا کبھی ان کے ذہن میں آیا ہے جو خدا سے متعلق جھوٹ گھڑتے ہیں کہ انہیںیوم حشر کو اس کا سامنا کرنا پڑیگا؟یقینا خدا لوگوں پر اپنے فضل کی بارش کرتا ہے،لیکن ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔

خدا کو جاننا

[10:61] تم کسی صورتحال میں نے پڑتے ،نہ ہی قرآن کی تلاوت کرتے ہو،نہ ہی کوئی بات کرتے ہو،بغیر ہمارے دیکھے، جب تم کرتے ہو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔نا ہی ذرہ برابر تمہارے رب کے کنٹرول سے باہر ہے،خواہ وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں ۔نہ ہی کوئی چیز ذرے سے چھوٹی ،یا بڑی ایسی ہے جو عمیق رجسٹر میں درج نہ کی جاتی ہو۔

خوشی :اب اور ہمیشہ*

[10:62] یقینا خدا کے ساتھیوں کو کوئی خوف ہے اور نہ ہی غم ۔

[10:63] یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ کی زندگی گزارتے ہیں۔

[10:64] ان کے لیے ،اسی دنیا میں بھی خوشی اور راحت ہے اور آخرت میں بھی۔یہ خدا کا ناقابل تغیر قانون ہے۔یہی عظیم ترین کامیابی ہے۔

[10:65] ان کی باتوں سے مایوس نہ ہو ۔تما م اختیارات خدا کے پاس ہیں ،وہ ہربات سننے والا اور عالم الغیب ہے۔

[10:66] بے شک ،جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین پر ہے وہ سب خدا کا ہے۔جو خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیںوہ کسی کی پیروی نہیں کرتے ۔وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کی پیروی کررہے ہیں۔وہ صرف قیافہ لگاتے ہیں۔

[10:67] صرف وہ ذات ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی ،اور دن کو روشن بنایا۔یہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سن سکتے ہیں۔

بھاری کلمہ کفر

[10:68] انہوں نے کہا،’’خدا کا ایک بیٹا ہے!‘‘عظیم ہے وہ ذات ۔وہ سب سے غنی ہے۔آسمانوں اور زمین میں جوکچھ ہے وہ اس کا ہے۔تمہارے پاس اس کلمہ کفر کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔کیا تم خدا کے بارے میں وہ کچھ کہہ رہے ہو جو تم نہیں جانتے ؟

[10:69] اعلان کردیجیے،’’جو لوگ خدا کے بارے میں جھوٹ گھڑتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔‘‘

[10:70] وہ اس دنیا میں اپنا عارضی حصہ حاصل کرتے ہیں،اس کے بعد انہیں آخر ہماری طرف ہی پلٹنا ہے،پھر ہم انہیں ان کے کفر کا سخت عذاب دیں گے۔

نوح

[10:71] ان کو نوح کی تاریخ بیان کرو۔اس نے اپنی قوم سے کہا ،’’اے میرے لوگو،اگر تمہیں میری حالت اورخدا کے کلام کی یادہانی زیادہ بھاری لگتی ہے تو میں اپنا بھروسہ خدا پر کرتا ہوں۔تم اپنے سرداروں کے ساتھ اکھٹے ہوجاؤ،حتمی فیصلے پر متفق ہوجاؤ اور بلا تاخیر مجھے مطلع کرو۔

[10:72] ’’اگر تم منہ موڑتے ہو تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔میرا صلہ خدا کی طرف سے آتا ہے۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار بن جاؤں۔‘‘

[10:73] انہوں نے اسے جھٹلا دیا،چنانچہ،ہم نے اسے بچالیا اور ان کو بھی جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے؛ہم نے انہیں وارث بنایا۔اور ہم نے ان کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ۔نتائج پر غور کرو؛انہیں تنبیہ کی گئی تھی ۔

انسان اپنے اصلی گناہ پر اصرار کرتے ہیں

[10:74] پھر اس کے بعد ہم نے ان کے لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے ،اور انہوں نے انہیں صاف نشانیاں دکھائیں۔لیکن وہ ماننے والے نہیں تھے اس کو، جسے انہوں نے ماضی میں جھٹلا دیا تھا ۔اس طرح ہم ظالموں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

موسیٰ اور ہارون

[10:75] پھر ہم نے ان کے بعدموسی ٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے گروہ کی طرف بھیجا،اپنی نشانیوں کے ساتھ۔لیکن انہوں نے سر کشی کی ،اور وہ ظالم لوگ تھے۔

[10:76] جب ہماری جانب سے ان کیطرف حق پہنچ گیا،انہوں نے کہا،’’یہ تو کھلا جادو ہے!‘‘

[10:77] موسی ٰ نے کہا ،’’جب تمہارے پاس حق آتا ہے تو کیاتم اسی طرح اس کو بیان کرتے ہو؟کیا یہ جادو ہے؟ کوئی جادوگر کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں؟‘‘

[10:78] وہ بولے ،’’کیا تم ہمیں اس سے پھیرنے آئے ہو جو ہم نے اپنے والدین کو کرتے دیکھا ہے،اوراپنے لیے اچھا منصب لینے کے لیے ؟ہم کبھی تمہارے ساتھ بطور مومن نہیں ملیں گے ۔‘‘

حق قائم رہا

[10:79] فرعون بولا،’’ہر تجربہ کار جادو میرے پاس لائو۔‘‘

[10:80] جب جادوگر آئے،موسی ٰ نے ان سے کہا ،’’پھینکو جو تم پھینکنے والے ہو۔‘‘

[10:81] جب انہوں نے پھینکا،موسی ٰ نے کہا،’’تم نے جو کچھ دکھایا ہے جادو ہے،اور خدا اسے ناکام کریگا۔خدا ظالموں کے عمل کی حمایت نہیں کرتا۔

[10:82] خدا اپنے احکام سے حق کو ثابت کرتا ہے،مجرموں کے باوجود۔

[10:83] سوائے اس کے چند لوگوں کے سوا کوئی موسی ٰ پر ایمان نہ لایا،فرعون اور اپنے بڑوں کے ظلم سے ڈرتے ڈرتے۔یقینا فرعون زمین پر بہت بڑا سر کش تھا اور اصلی ظالم ۔

[10:84] موسی ٰ نے کہا ،’’ اے میرے لوگو،اگر تم واقعی خدا پر ایمان لائے ہوتو ،پھر اسی پر بھروسہ کرو،اگر تم واقعی مسلم ہوتو۔‘‘

[10:85] وہ بولے،’’ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہیں،ہمار ے رب ،ہمیں ان ظالم لوگوں کے ظلم سے بچاؤ۔

[10:86] ’’ہمیں نجات دلائو،اپنی رحمت سے،ان کافر لوگوں سے ۔‘‘

[10:87] ہم نے موسی ٰ اور اسکے بھائی پر وحی کی،’’فی الوقت مصر میں اپنے گھر بنائے رکھو،اپنے گھر وں کو معبد بنائو اور نماز قائم کرو۔ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔‘‘

[10:88] موسیٰ نے کہا ،’’ہمار ے رب ،تم نے فرعون اور اس کے بڑوں کو اس دنیا میں آسائشیں اور دولت دی ہے۔ ہمارے رب ،جنہیں وہ صرف دوسروں کو تیرے راستے سے موڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ہمارے رب ،ان کی دولت مٹا دے ،ان کے دلوں کو سخت کردے تاکہ یہ ایمان نہ لا سکیں ،حتی ٰ کہ وہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں۔‘‘

[10:89] اس نے فرمایا ،’’تمہاری دعا قبول ہوگئی (اے موسی ٰ اور ہارون)،اس لیے ثابت قدم رہو،اور ان لوگوں کے راستوں پر نہ چلوجو جانتے نہیں ہیں۔‘‘

[10:90] ہم بنی اسرائیل کو سمندر پار پہنچا دیا۔فرعون اور اسکی فوج نے ان کا پیچھا کیا ،جارحیت سے اور ناجائز۔جب اسے غرق ہونے کا یقین آگیا ،وہ بولا،’’میں مانتا ہوں کوئی خدا نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں؛میں مسلم ہوں۔‘‘

[10:91] ’’بہت دیرہوگئی!*تم پہلےہی بغاوت کرچکےہو،اورظالم بنےرہے۔

فرعون کی لعشمحفوظ کرد ی گئی*

[10:92] ’’آج ہم تمہاری لاش محفوظ کیے دیتے ہیں،تاکہ تم آئندہ نسلوں کے لیے عبرت بن جائو۔‘‘*بدقسمتی سے اکثر لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

[10:93] ہم نے بنی اسرائیل کو باعزت مقام عطا کیا تھا ،اور انہیں اچھی نعمتوں سے نوازا تھا۔اس کے باوجود، انہوں نے جھگڑا کیا جب ان کے پاس یہ علم آیا۔ تمہارا رب حشر کے دن فیصلہ کریگا ان کا، ہر اس چیز کا جس پر وہ جھگڑتے تھے ۔

پیغمبر کا شک

[10:94] اگر تمہیں کوئی شک ہے اس کے بارے میں جو تم پر نازل کیا گیا ہے تو ان سے پوچھو جنہوں نے سابق کتاب پڑھی ہے۔بے شک ،حق آ گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے ۔شک کرنیوالوں کے ساتھ نہ رہو۔

[10:95] اور ان لوگوں کا ساتھ بھی نہ ملو جنہوں نے خدا کی آیا ت کو جھٹلایا ہے،کہیں تم خسارے والوں میں شامل نہ ہوجائو۔

[10:96] یقینا،جن کو تمہارے خدا نے مسترد ہونا لکھ دیا ہے وہ ایمان نہیں لاسکتے ۔

[10:97] تم خواہ انہیں کیسی ہی نشانی دکھائو(وہ ایمان نہیں لاسکتے )،جب تک وہ درد ناک عذاب دیکھ نہیں لیتے ۔

ایمان والی قومیں خوشحالی ہوتی ہیں

[10:98] جو بھی قوم ایمان لاتی ہے اس کو ایمان کا صلہ لازمی ملے گا۔مثال کے طورپر یونس کی قوم :جب وہ ایمان لائے تو ہم نے انہیں ذلت آمیز عذاب سے نجات دی جو وہ اس دنیا میں بھگت رہے تھے ۔اور ہم نے انہیں خوشحال کردیا۔

کافر الگ کردیئے گئے*

[10:99] اگر تمہارا خدا چاہتا ،تم دنیا میں سب لوگ ایمان لے آتے ۔*کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرنا چاہتے ہو؟

[10:100] کوئی ذی روح ایمان نہیں لا سکتا مگر خدا کی منشا کے تحت ۔کیونکہ وہ ان پر لعنت کرتا ہے جو سمجھنے سے انکار کرتے ہیں۔

[10:101] کہہ دیجیے ،’’آسمانوں اور زمین میں جتنی بھی نشانیاں ہیں ان کو دیکھو۔‘‘تمام ثبوت اور تمام تنبیہات ان لوگوں کے کوئی کام نہیںآسکتیں جنہوں نے کفر کا فیصلہ کرلیا ہے ۔

[10:102] کیا وہ اس قسمت سے مختلف کی توقع کرسکتے ہیں جو ماضی میں ان جیسی پچھلوں کی تھی؟ کہہ دیجیے ،’’اب صرف انتظار کرو،اور میں بھی ،تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘

فتح جس کی ضمانت دی گئی

[10:103] ہم آخرکار اپنے پیغمبروں اور ان کو جو ایمان لاتے ہیں بچالیتے ہیں ۔یہ ہمار ا اٹل قانون ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیتے ہیں ۔

[10:104] کہہ دیجیے،’’ اے لوگو،کیا تمہیں میرے مذہب کے بارے میں کوئی شک ہے ،میں عبادت نہیں کرتا اس کی جس کی تم خدا کے علاوہ عبادت کرتے ہو۔میں صرف خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں؛وہ جو تمہاری زندگیاں ختم کریگا۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ایمان والا رہوں۔‘‘

[10:105] مجھے حکم دیا گیا تھا :’’اپنے آپ کو توحید کے دین کے لیے وقف رکھو؛تم بتو ں کی پوجا نہ کرنا۔

[10:106] ’’تم خدا کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرنا وہ تمہیں نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔اگر تم کروگے تو تجاوز کرنے والے ہوگے۔‘‘

تما م اختیارات خدا کے پاس ہیں

[10:107] اگر خدا تمہیں سختی میں مبتلا کرتا ہے،تو کوئی اسے دور نہیں کرسکتا سوائے اس کے ۔اور جب وہ تمہیں نوازتا ہے،تو کوئی طاقت اس کے فضل کونہیں روک سکتی۔وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے عنایت کرتاہے۔وہ معاف فرمانے والا ،نہایت مہربان ہے۔

[10:108] اعلان کردیجیے؛’’اے لوگو،اس میں حق تمہارے پاس آچکا ہے تمہارے رب کی طرف سے۔جو بھی ہدایت پائے گا اپنے بھلے کے لیے پائے گا۔اور جو بھی گمراہ ہوگا وہ اپنے نقصان کے لیے ہی گمراہ ہوگا۔میں تم پر نگہبان نہیں ہوں۔‘‘

[10:109] اس کی پیروی کرو جوتم پر بھیجا کیا گیا ہے،اور صبر کرو حتی ٰ کہ خدا اپنا فیصلہ جاری کردے؛وہ بہترین منصف ہے۔