Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 11: ہود(ھود)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[11:1] ا ۔ل ۔ر۔یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات مکمل کردی گئی ہیں،پھر انہیںکھول کربیان کیا گیا ہے۔*یہ سب سے دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے ہے ۔

قرآن:خدا کا پیغمبر

[11:2] سن لو :’’تم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔میں اس کی طرف سے تنبیہ کرنیوالا آیا ہوں،اور خوشخبری دینے والا بھی ‘‘۔

[11:3] ’’اپنے خدا کی بخشش طلب کرو،اور اس کے حضورتوبہ کرو۔پھر وہ تمہیں ایک پیش معینہ مدت کے لیے فراخی سے نوازے گا،اور ان پر اپنا فضل کریگاجو اس کے مستحق ہیں۔اوراگر تم نے بے رخی کی ،تو میں ڈرتا ہوں تمہارے لیے ایک خوفناک دن کے عذاب سے ۔‘‘

[11:4] اور آخر کا ر تمہیں خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے،اوراور وہ قادرمطلق ہے۔

[11:5] بے شک وہ اپنے خفیہ بھید چھپاتے ہیں،تاکہ اسے ان کا علم نہ ہوسکے ۔حقیقت یہ ہے،کہ جس طرح وہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ،وہ ان کے تمام خفیہ اور ظاہرجانتا ہے۔وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔

نعمتوں کی گارنٹی

[11:6] زمین پر کوئی ذی نفس نہیں جس کے رزق کی ضمانت خدا نے نہ دی ہو۔اور وہ جانتا ہے اس کے راستہ اور اس کی آخری منزل ۔سب کچھ ایک عمیق رجسٹر میں درج ہے۔

[11:7] وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۔* اور اس کی( زمینی) سلطنت مکمل طورپر پانی سے ڈھانپی ہوئی تھی۔**تاکہ تمہاری آزمائش کی جاسکے ۔تاکہ تم میں سے ان کو الگ کیا جاسکے جو نیکو کار ہیں ۔پھر بھی ،جب تم کہتے ہو،’’تم موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جائو گے،‘‘جو لوگ ایمان نہیں لاتے ،وہ کہیں گے،’’یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘

[11:8] اگر ہم وہ عذاب موخر کردیں جو انہوں نے کمایا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ ہم مخصوص قوم کے لیے مختص رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ،’’اس کو کیا چیز روک رہی ہے؟‘‘درحقیقت ،ایک بار وہ ان پر آجائے ،تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا ،اور ان کا مذاق ان کے لیے ڈراوا بن جائیگا۔

[11:9] جب کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازتے ہیں،پھر اس کو ہٹا لیتے ہیں ،وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے۔

[11:10] جب کبھی ہم اسے نوازتے ہیں ،اس پر سختی آنے کے بعد،وہ کہتا ہے،’’تمام مصیبت مجھ سے دور ہوگئی ہے؛‘‘وہ جذباتی ، مغرور بن جاتا ہے۔‘‘

[11:11] اور وہ جو ثابت قدمی سے ڈٹے رہتے ہیں،اور پرہیز گاری کی زندگی گزارتے ہیں،وہ بخشش اور اجر عظیم کے مستحق ہوتے ہیں۔

خدا کی وحی بھاری ہوتی ہے

[11:12] ہوسکتا ہے تم چاہو کہ اس میں سے کچھ کی پرواہ نہ کروجو تم پر وحی کیا جاتا ہے ،اور اس سے تمہیں دکھ پہنچتاہو۔علاوہ ازیں،وہ یہ کہہ سکتے ہیں ،’’ آخر کیا وجہ ہے کہ اس کے پاس کوئی خزانہ کیوں نہیں آتا،یا کوئی فرشتہ ؟‘‘آپ تو صرف تنبیہ کرنیوالے ہیں ؛سب چیز یں خدا کے کنٹرول میں ہیں ۔

قرآن : مثل بنانا ناممکن ہے

[11:13] اگر وہ کہیں،’’اس نے بنایاہے(قرآن)،’’ان سے کہو،’’ایسی دس سورتیں پیدا کرکے دکھائو،بنائی ہوئی ،اور جس کو چاہو تم بلاسکتے ہو،سوا ئے خدا کے، اگر تم سچے ہوتو۔‘‘**

[11:14] اگر و ہ تمہارے چیلنج پر پورا نہ اتر سکیں ،تو جان رکھو کہ یہ خدا کے علم سے نازل ہوا ہے،اور کوئی خدا نہیں سوائے اس کے ۔کیا پھر تم تسلیم کرلو گے ؟

[11:15] جو لوگ اس دنیا کی بے بنیاد مادی چیزوں کا پیچھا کرتے ہیں ،ہم ان کے اعمال کا بدلہ اس دنیا میں دینگے،ذرہ بھر کمی کے بغیر۔

[11:16] یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنا آخرت کا حصہ ترک کردیا ،اور ،چنانچہ ،جہنم ان کامقدر ہوگا۔ان کے تمام اعمال بے سود ہیں؛انہوں نے جو بھی کیا ہے وہ ضائع ہوگیا ۔

قرآن کا حسابی کوڈ

[11:17] اور وہ جن کو ان کے خدا کی طرف سے ٹھوس نشانیاں* دی گئی ہیں،اور جس پرگواہ بھی اس کی طرف سے آگیا ہو،اور اس سے قبل ،موسیٰ کی کتاب نے ایک مثال اور رحمت قائم کردی ہے، **وہ یقینا ایمان لے آئیں گے۔اور وہ جو مختلف گروہوں میں سے ایمان نہیں رکھتے ،جہنم ان کی منتظر ہے۔ہرگز شک نہ کرو؛یہ تمہارے آقا کی طرف سے حق ہے ،لیکن زیادہ تر لوگ مانتے نہیں ۔

[11:18] ان سے برے کون ہیں جو خدا کے متعلق جھوٹ گھڑتے ہیں ؟انہیں خدا کے سامنے پیش کیا جائیگا ،اور گواہ کہیں گے،’’یہ ہیں وہ جنہوں نے اپنے آقا کے متعلق جھوٹ بولا تھا۔خدا کی لعنت پڑ گئی ہے ظالموں پر ۔‘‘

[11:19] وہ خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور اسے پچیدہ بناتے ہیں ،اوریہ آخرت کے منکر ہیں ۔

کافر

[11:20] یہ کبھی بچ نہیں پائیں گے ،اور نہ ہی انہیں خدا کے مقابلے میں کوئی آقا اور مالک مدد کے لیے ملیں گے۔ان کی سزا دگنی کر دی جائیگی ۔انہوں نے سننے سے انکار کیا ،اور انہوں نے دیکھنے سے انکار کیا۔

[11:21] یہ وہ ہیں جو اپنے نفسوں کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں،اور جوشریک انہوں نے گھڑے تھے وہ ان سے لاتعلق ہوجائیں گے۔

[11:22] بے شک،آخرت میں ،وہ سب سے زیادہ خسارے میں ہونگے۔

ایمان والے

[11:23] اور وہ جو ایمان لاتے ہیں اور پاک زندگی گزارتے ہیں،اور اپنے آپ کو اپنے آقا کے لیے وقف کردیتے ہیں ،وہ جنت کے باسی ہیں ؛جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

[11:24] ان دو گرہوں کی مثال اندھے اور بہرے جیسی ہے ،ان کی نسبت جو دیکھتے ہیں اورسنتے ہیں۔کیا وہ برابر ہیں ؟کیا تم غور نہیں کروگے؟

نوح

[11:25] ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ،یہ کہتے ہوئے ،’’میں تمہاری طرف صاف تنبیہ کرنے والے کے طور پر آیا ہوں۔‘‘

[11:26] ’’تم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔میں تمہارے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘

[11:27] اس کی قوم کے سردار جو ایمان نہیں لائے تھے کہنے لگے ،’’ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہماری طرح انسان سے زیادہ کچھ نہیں ہو،اور ہم دیکھتے ہیں کہ جولوگ پہلے تمہاری پیروی کرنے والے ہیں وہ ہم میں سے سب سے زیادہ نکھد ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ تمہیں ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں ۔بے شک ،ہم سمجھتے ہیں تم جھوٹے ہو۔‘‘

[11:28] اس نے کہا ،اے میری قوم ،اگر میرے پاس میرے آقا کی ٹھوس نشانی ہوتو ؟اگر اس نے اپنی رحمت سے نوازا ہوتو،اگر چہ تم اس کو دیکھ نہیں سکتے ؟کیا ہم تمہیں اس پرایمان لانے پر مجبور کررہے ہیں؟

[11:29] اے میرے لوگو،میں تم سے پیسہ نہیں مانگتا؛میرا معاوضہ تو خدا کی طر ف سے آتا ہے۔میں ان کو برطرف نہیں کررہا جو ایمان لائے ہیں؛وہ اپنے آقا سے ملاقات کرینگے(اور وہی ان کا فیصلہ کریگا)میں دیکھتا ہوں کہ تم غافل لوگ ہو۔

[11:30] اے میرے لوگو،خدا کے مقابلہ میں کون میری مدد کرسکتاہے،اگر میں انہیں برطرف کروں۔کیا تم غور نہیں کرو گے؟

تمام اختیارات خدا کے پاس ہیں

[11:31] ’’میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں،نہ ہی میں مستقبل کو جانتا ہوں،نہ ہی میں فرشتہ ہونے کا دعوی ٰ کرتا ہوں۔اور نہ ہی میں کہتا ہوں کہ خدا ان پر نعمتیںنہیں بھیجے گا جو تمہاری نظروں میں حقیر ہیں ۔خدا خوب جانتا ہے کہ ان کے دلو ں میں کیا چھپا ہے ۔(اگر میں نے ایسا کیا،)تو میں تجاوز کرنیوالوں میں ہونگا۔‘‘

[11:32] وہ بولے ،’’اے نوح ،تم نے ہم سے جھگڑا کیا ،اورجھگڑا کرتے رہے ،ہم تمہیں چیلنج کرتے ہیں کہ وہ عذاب لے آئو جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو،اگر تم سچے ہوتو۔‘‘

[11:33] اس نے کہا،’’وہ خدا ہے جو تم پر لاتا ہے ،اگر اس نے چاہا ،توتم بچ نہیں سکتے۔

[11:34] ’’اگر میں تمہیں نصیحت کروں تو بھی میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی اگر خدا ہی تمہیں بھٹکادینا چاہتا ہو۔وہ تمہارا آقا ہے ،اور تم اسی کی طرف پلٹائے جائو گے۔‘‘

[11:35] اگر وہ کہیں ،’’اس نے یہ کہانی گھڑی ہے ،’’تو کہو،اگر میں نے یہ بنائی ہو تو میں اپنے جرم کا ذمہ دارہوں ،اور میں ایسے ہر جرم سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔‘‘

[11:36] نوح کو وحی کی گئی :اب تمہاری قوم کے اور لوگ ایمان نہیں لائیں گے،سوائے ان کے جو پہلے ہی لا چکے ہیں ۔ان کے اعمال کا افسوس نہ کرو۔

[11:37] ’’ہماری نگرانی میں کشتی تیارکرو،اورہماری وحی کےمطابق،اوران کےلیےالتجانہ کروجنہوں نےتجاوزکیاہے؛ان کی قسمت میں ڈوبنالکھ دیاگیاہے۔‘‘

جوآخر میں ہنستا ہے بہترین ہنستا ہے

[11:38] جبکہ وہ کشتی تیار کررہا تھا ،اس کی قوم کے بعض افرا د جونہی اس کے پاس سے گزرتے تو اس پر ہنستے ۔اس نے کہا،’’تم ہم پر ہنستے ہو،لیکن ہم تم ہنستے ہیں ،جیسا کہ تم ہم پر ہنس رہے ہو۔

[11:39] یقینا تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون ذلت آمیز عذاب سے دوچار ہوگا،اور ہمیشہ کی سزا بھگتے گا۔‘‘

[11:40] جب ہمار فیصلہ آگیا،تو فضا ابل پڑی ،ہم نے کہا ،’’اس پر ہر جنس کا جوڑا لا د لو،*اپنے خاندان کے ساتھ،سوائے ان کے جو دھتکارے جا چکے ہیں۔جو ایمان لے آئے ہیں انہیں اپنے ساتھ بٹھا لو،’’اور صرف چند لوگ تھے جو اس کے ساتھ ایمان لائے ۔

[11:41] اس نے کہا ،’’کشتی پر بیٹھ جائو،۔اس کا چلنا بھی خدا کے نام پر ہے،اور اس کا ٹھہرنا بھی۔میرا رب غفور اور سب سے رحیم ہے۔‘‘

[11:42] جب وہ چلی انہیں لے کر پہاڑ جیسی لہروں میں ،نو ح نے اپنے بیٹے کو پکارا ،جو تنہا رہ گیا تھا :’’اے میرے بیٹے ،آئو ہمارے ساتھ سوا ر ہو جائو؛کافروں کے ساتھ مت رہو۔‘‘

[11:43] اس نے کہا ،’’ میں پہاڑ کی چوٹی پر پنا ہ لوں گا ،اپنے آپ کو پانی سے بچانے کے لیے ۔‘‘اس نے کہا،’’آ ج خدا کے فیصلے سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا ؛صرف اس کی رحمت کے مستحق (بچا لیے جائیں گے )۔‘‘لہروں نے انہیں جدا کردیا،اور وہ ڈوبنے والوں میں سے تھا ۔

کشتی کہا ں رکی

[11:44] حکم ہوا:’’ اے زمین ،اپنا پانی نگل جا،’’اور’’اے آسمان ،رک جا۔‘‘تب پانی اتر گیا ؛فیصلہ پورا ہوگیا ۔کشتی آخر کار جودی کی پہاڑیوں پر رک گئی ۔*پھر کہہ دیا گیا :’’تجاوز کرنے والے مٹ گئے ہیں۔‘‘

[11:45] نوح نے اپنے رب کو پکارا: ’’میرے رب،میرا بیٹا میرے خاندان کا فرد ہے ،اور تمہارا وعدہ سچا ہے ۔تو حکمت والوں میں سب سے زیادہ حکمت والا ہے۔‘‘

سفارش کا تصور*

[11:46] اس نے کہا ،’’اے نوح ،وہ تمہارے گھروالوں میں سے نہیں ۔جس چیز کوتو نہیں جانتا اس کے بارے میں مجھ سے درخواست کرنا مناسب نہیں ۔*میں تمہیں بصیرت عطا کرتا ہو ں تاکہ تم غافلوں کی طرح نہ ہوجائو۔‘‘

[11:47] اس نے کہا ،میرے رب ،’’میں تیری پناہ مانگتا ہوں،مبادہ میں اس چیز کی دوبارہ دعا کروں جس کو میں نہیں جانتا ۔اگر آپ نے مجھے معاف نہ فرمایا ،اور مجھ پر رحم نہ کیا ، تو میں خسارے والوں میں ہونگا۔‘‘

[11:48] حکم دیا گیا :’’اے نوح ،اتر جائو،تم پر سلامتی اور رحمت ہو،اوران نسلوں پر بھی جو تمہارے ساتھیوں کے بعد آئیں گی ۔اور تمہارے بعد آنیوالی دوسری نسلوں کو ہم عارضی نعمتیں دینگے ،اور پھر انہیں دردناک عذاب دینگے۔‘‘

[11:49] یہ ماضی کی خبریں ہیں جو ہم تم پر وحی کررہے ہیں۔تمہیں ان کی کوئی خبر نہ تھی ۔نہ تمہیں ،نہ تمہاری قوم کو ۔ اس سے قبل ۔اس لیے ،صبر کرو۔آخری کامیابی نیکو کاروں کے لیے ہی ہے ۔

ہود:ایک اور یکساں پیغام

[11:50] ہم نے قوم عاد کی طرف ان کا بھائی ہود بھیجا۔اس نے کہا ،’’اے میری قوم ،خدا کی عبادت کرو؛تمہارا اس کے سوا کو ئی خدا نہیں ۔تم گھڑرہے ہو۔

[11:51] اے میری قوم ،میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔میرا صلہ تو صرف اسی کی طرف سے آتا ہے جس نے مجھے تخلیق کیا ۔کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟

[11:52] ’’اے میری قوم،اپنے رب سے مغفرت طلب کرو،پھر اس کے سامنے توبہ کرو۔اس کے بعدوہ تم پر آسمان سے نعمتوں کی بارش کریگا ،اور تمہاری طاقت بڑھائے گا ۔مڑ کر تجاوز کرنیوالوں میں شامل نہ ہوجانا۔‘‘

[11:53] انہوں نے کہا ،’’اے ہود،تم نے ہمیں کوئی نشانی نہیں دکھائی ،اور تم جو کچھ کہتے ہو اس کی وجہ سے ہم اپنے خدائوں کو نہیں چھوڑیں گے ۔ہم تمہارے ساتھ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔

[11:54] ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے بعض خدائوں کی تم پر مار پڑ گئی ہے۔‘‘اس نے کہا ،میں خدا کو گواہ ٹھہراتا ہوں،اور تم بھی اس کے گواہ ہو،کہ میں لاتعلق ہوں ان سے جو تم نے گھڑ رکھے ہیں شریک ۔

[11:55] ’’اس کے ساتھ۔چنانچہ مجھے اپنا اجتماعی فیصلہ دو،بلا تاخیر۔

[11:56] میرا بھروسہ خدا پر ہے ،جو میرارب ہے اور تمہارا رب ہے۔کوئی ایسا ذی روح نہیں ،جو اس کے کنٹرول میں نہ ہو۔میرا رب سیدھے راستے پر ہے ۔

[11:57] ’’اگر تم منہ پھیرتے ہو،تو میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے جو مجھ پر وحی کیا گیا تھا ۔میرا رب تمہاری جگہ دوسرے لوگ لے آئے گا؛تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔میر ے رب کا سب چیزوں پر کنٹرول ہے ۔‘‘

[11:58] جب ہمار ا فیصلہ آگیا ،ہم نے ہود،اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو بچالیا ،اپنی رحمت کے ذریعے۔ہم نے انہیں خوفناک عذاب سے نجات دی

[11:59] ایسی تھی قوم عاد۔انہوں نے خدا کی آیات کو جھٹلایا ،اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی ،اور ہر مغرورجابر کے راستوں کی پیروی کی۔

[11:60] آخر کار ،ان پر پھٹکار پڑی اس دنیا میں ،اور حشر کے دن بھی ۔بےشک،قوم عاد نے اپنے رب کو جھٹلایا ۔بے شک عاد ،ہود کی قوم، نیست ونابود ہوگئی ہے۔

صالح:ایک اور یکساں پیغام

[11:61] ثمود کی طرف ہم نے ان کا بھائی صالح بھیجا۔اس نے کہا، ’’اے میرے لوگو،خدا کی عبادت کرو،تمہارا اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔اس نے تمہیں زمین سے خلق کیا ،پھر تمہیں اس پر آبا د کیا ،تم اس سے بخشش طلب کرو،پھر اس کے سامنے توبہ کرو۔ میرا رب ہمیشہ قریب ،اور سننے والا ہے ۔‘‘

[11:62] وہ بولے،اے صالح،’’اس سے پہلے تم ہم میں ہر دلعزیز تھے۔کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے روک رہے ہو جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے ؟جو کچھ بھی تم نے ہمیں بتایا ہے ہمیں اس کے بارے میں زبردست شک ہے ۔‘‘

بے ایمان ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں

[11:63] اس نے کہا ،اے میرے لوگو،’’اگر میرے پاس میرے رب کی ٹھوس نشانی ہو تو بھی ،اور اس کی رحمت ؟کون ہے جو اس کے مقابلہ میں میری مدد کریگا،اگر میں نے خدا کی نافرمانی کی تو ؟تم صرف میرے نقصان میں اضافہ کرسکتے ہو۔

[11:64] ’’اے میرے لوگو،یہ خدا کی اونٹنی ہے ،جو تمہارے لیے نشانی ہے ۔تم اسے خدا کی زمین پر چرنے دو ،او ر اس کو ہر گز نقصان نہ پہنچانا،مبادا تم پر فوری عذاب آجائے۔‘‘

[11:65] انہوں نے اسے ذبح کردیا۔اس نے کہا ،’’تمہارے پاس صرف تین دن ہیں رہنے کے لیے ۔یہ پیش گوئی ہے جو اٹل ہے ۔‘‘

[11:66] جب ہمار ا فیصلہ آگیا،تو ہم نے صالح اور اسکے ساتھ ایمان لانے والوں اپنی رحمت سے بچا لیا ،اس دن کی رسوائی سے۔تمہارارب سب سے طاقتور اور قادرمطلق ہے ۔

[11:67] وہ جنہوں نے تجاوز کیا حادثے میں مٹا دیئے گئے ،وہ اپنے گھروں پر مردہ پڑ ے رہے۔

[11:68] یوں محسوس ہوتا تھا جیسا وہ وہاں کبھی رہے ہی نہ تھے۔دراصل ،قوم ثمود نے اپنے رب کو جھٹلایا تھا ۔بے شک ،اہل ثمود نے اپنی سزا پالی ۔

ابراہیم اور لوط

[11:69] جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر گئے ،وہ بولے ،’’سلام ہو۔‘‘اس نے جواب دیا ،’’سلام ہو،‘‘ اور جلد ہی ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا ۔

[11:70] جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کو نہیں چھورہے ،تو اس کو شک پڑگیا اور خوف آیا ۔وہ بولے ،’’خوف مت کھائو،ہمیں لوط کی قوم کی طرف بھیجا جارہا ہے ۔‘‘

[11:71] اس کی بیوی کھڑی تھی ،جب ہم نے اسے اسحاق اور اسحاق کے بعدیعقوب کی خوشخبری دی ،تو وہ ہنس دی۔

[11:72] وہ بولی ،’’ افسوس مجھ پر ، اس عمر میں میرے ہاں کیسے بچہ ہوسکتاہے،یہ ہے میرا خاوند،بوڑھا آدمی ؟یہ واقعی حیرت کی بات ہے!‘‘

[11:73] انہوں نے کہا ،کیا تم خدا کے لیے اسے عجیب سمجھتی ہو؟خدا نے تمہیں اپنی رحمت اور نعمت سے نوازا ہے ،اے حرم کے رہنے والو۔وہ قابل تعریف اور شان والا ہے ۔‘‘

[11:74] جب ابراہیم کا خوف کم ہوا ،اور اس کو خوشخبری مل گئی ،تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

[11:75] بے شک ،ابراہیم حلیم ، نہایت نرم دل اور فرمانبردار تھا ۔

[11:76] اے ابراہیم ،باز رہو اس سے ،تمہارے خدا کافیصلہ آچکاہے ؛وہ نہ ٹلنے والی سزا کے حق دار ہیں۔‘‘

ہم جنسی کی مذمت

[11:77] جب ہمارے فرشتے لوط کی طرف گئے،تو ان سے بدسلوکی کی گئی،اور وہ ان کی موجودگی سے پریشان ہوگیا۔اس نے کہا ،’’یہ مشکل دن ہے۔‘‘

[11:78] اس کے لوگ بھاگ کرآئے؛وہ اپنے برے کاموں کے عادی ہوچکے تھے ۔اس نے کہا ، اے میرے لوگو،یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہوگا ،اگر تم ان کی بجائے میری بیٹیاں لے لو۔تم خدا کا خوف کھائو؛میرے مہمانوں کے ساتھ مجھے تنگ نہ کرو۔کیا تمہارے درمیان کوئی معقول آدمی نہیں ہے؟

[11:79] انہوں نے کہا،’’ تم خوب جانتے ہوکہ ہمیں تمہاری بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں؛تم اچھی طرح جانتے ہو جو ہم چاہتے ہیں۔‘‘

[11:80] اس نے کہا ،’’کاش میں کافی طاقتور ہوتا ،یا میرا کوئی طاقتور ساتھی ہوتا !‘‘

[11:81] (فرشتوں )نے کہا،اے لوط،ہم تمہارے خدا کے قاصد ہیں،یہ لوگ تمہیں چھو بھی نہیں سکتے ۔تم رات کو اپنے خاندان کے ساتھ چل پڑو،اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے پلٹ کرنہ دیکھے،سوائے تیری بیوی کے ؛وہ سزا یافتہ ہے ان کے ساتھ جو سزایافتہ ہیں۔ان کا مقررہ وقت صبح ہے۔کیا صبح جلد ہی نہیں ہونیوالی ؟‘‘

سدوم اور گومارہ تباہ کر دیئے گئے

[11:82] جب ہمارا فیصلہ آگیا،ہم نے اس کو الٹ پلٹ دیا ،اور ہم نے اس پر سخت،تباہ کن پتھروں کی بارش کی ۔

[11:83] یہ پتھر ظالموں کو مارنے کے لیے تمہارے رب کی طرف سے موسوم تھے ۔

شعیب :ایک اور یکساں پیغام

[11:84] اور مدائن والوں کی طرف ہم نے ان کا بھائی شعیب بھیجا۔اس نے کہا ،’’اے میری قوم ،خدا کی عبادت کرو؛تمہارا اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ناپ تول میں دھوکہ نہ دو۔میں دیکھتا ہوں کہ تم خوشحال ہو۔میں تمہارے لیے ایک زبردست دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

[11:85] اے میری قوم ،پورا ناپو اور تولو،انصاف کے ساتھ۔لوگوں کے حقوق میں ان کو دھوکہ نہ دو،اورزمین پر فسادی بن کرنہ پھرو۔

[11:86] خدا تمہیں جو بھی عنایت کرتا ہے ،خواہ وہ کتنا چھوٹا کیوں نہ ہو،وہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے،اگر تم حقیقت میں مومن ہوتو۔میں تم پر نگران نہیں ہوں۔‘‘

[11:87] وہ بولے،’’ اے شعیب ،کیا تمہارا مذہب تمہیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنے والدین کا مذہب لازمی چھوڑدیں،یا اپنا کاروبار اس طرح کرنا چھوڑ دیں جیسا ہم چاہتے ہیں؟یقینا تم حلیم اور عقل مند کے طور پر جانے جاتے ہو۔‘‘

[11:88] اس نے کہا ،’’اے میرے لوگو،اگر میرے پاس میرے خدا کی طرف سے ٹھوس ثبوت ہوتو؛اگر اس نے مجھے عظیم نعمت سے نوازاہوتو؟میں وہ خود نہیں کرنا چاہتا ،جس سے تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو خرابیوں کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں جس قدر میرے بس میں ہے۔میری رہنمائی کا انحصار مکمل طورپر خدا پر ہے؛میرا بھروسہ اسی پر ہے۔میں نے اسی کے آگے سر تسلیم کیا ہے۔

[11:89] ’’اور ،اے میرے لوگو،اور میری مخالفت میں اس قدر مشتعل نہ ہوجائو کہ تم پر وہی تباہی آجائے جو نوح کی قوم پر آئی تھی ،یا ہود کی قوم پر ،یا صالح کی قوم پر ؛اور لوط کی قوم تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔

[11:90] ’’تم اپنے رب سے بحشش کی التجا کرو ،اور اسی سے معافی مانگو۔میرا رب نہایت رحم کرنیوالا اور مہربان ہے۔‘‘

[11:91] وہ بولے،’’اے شعیب،بہت سی باتیں جو تم ہمیں بتارہے ہو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں،اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے درمیان بے زور ہو۔اگر تمہارے قبیلے کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کرچکے ہوتے ،ہمارے لیے تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔‘‘

[11:92] وہ بولا،’’اے میرے لوگو،کیا میرا قبیلہ خدا سے زیادہ عزت والا ہے؟کیا یہی وجہ ہے کہ تم اس سے غافل ہو؟میرا رب خوب جانتاہے جو کچھ بھی تم کرتے ہو۔

[11:93] ’’اے میرے لوگو،تم جو چاہتے ہو کرتے رہو،اور میں بھی ایسا ہی کروں گا۔یقینا تمہیں معلوم ہوجائےگاہم میں سے کس کو ذلت آمیز سزا ملتی ہے؛تمہیں معلوم ہوجائیگا جھوٹا کون ہے۔بس انتظار کرو،اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘

[11:94] جب ہمارا فیصلہ آگیا ،ہم نے شعیب کوبچالیا اور ان کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے۔اور جہاں تک بروں کا تعلق ہے ،ان پر تباہی ٹوٹ پڑی اور وہ اپنے گھروں میں مردہ پڑے رہے۔

[11:95] یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔اس طرح،مدائن والے مٹ گئے،جس طرح ان سے پہلے اہل ثمود مٹ گئے تھے ۔

موسیٰ

[11:96] ہم نے موسی ٰ کو اپنی نشانیوں اوربھاری اختیار کے ساتھ بھیجا۔

[11:97] فرعون اور اس کے بڑوں کی طرف ۔لیکن انہوں نے فرعون کا حکم مانا،اور فرعون کا حکم دانش مندانہ نہیں تھا۔

[11:98] اور حشر کے دن وہ اپنی قوم کی رہنمائی کریگا ،جہنم کے راستے پر ؛کیا ہی برا ٹھکانا ہے رہنے کے لیے!

[11:99] ان پر اس زندگی میں بھی لعنت پڑی ،اورقیامت کے روز بھی پڑیگی؛کیسا برا راستہ ہے راستہ پیروی کا؛

یادرکھنےوالےاسباق

[11:100] یہ سابق بستیوں کی خبر ہے جو ہم تمہیں بتارہے ہیں ۔کچھ ابھی قائم ہیں اور باقی مٹ چکی ہیں ۔

[11:101] ہم نے ان پر کبھی ظلم نہیں کیا ،انہوں نے خود ہی اپنی نفسوں پر ظلم کیا ۔ان کے خدا،جنہیں وہ خدا کے علاوہ پکارتے تھے ،انکی ذرہ بھی مدد نہ کرسکے،جب تمہارے رب کا فیصلہ آگیا۔حقیقت میں انہوں نے اپنی بربادی کو یقینی بنالیا۔

[11:102] ایسا تھا عذاب جو تمہارے رب نے نازل کیا ،جب بستیو ں نے تجاوز کیا ۔بے شک ،اس کی سزا دردناک ،اورتباہ کن ہے۔

[11:103] یہ سبق ہے ان کے لیے جنہیں آخرت کی سزا کا خوف ہے۔وہ دن ایسا ہوگا جب تمام لوگوں کو حاظر کیا جائیگا۔ایسا دن جو دیکھنے والا ہوگا۔

[11:104] ہم نے اس کی آمد کا خاص وقت مقرر کررکھا ہے۔

[11:105] جس دن یہ آئیگی ،کوئی نفس ایک لفظ بھی نہیں بولے گا،سوائے اس کی مرضی کے ساتھ ۔بعض کی حالت ابتر ہوگی ،اوربعض خوش ہونگے۔

[11:106] اورجوپریشان ہونگے وہ جہنم میں ہونگے ،جس میں وہ آہیں بھریں گے اور روئے پیٹیں گے۔

[11:107] وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے ،جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں،تمہارے رب کی مرضی کے مطابق۔تمہارا خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

[11:108] اور جو خوش قسمت ہونگے،وہ جنت میں ہونگے۔وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے،جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں،تمہارے رب کی مرضی کے مطابق۔یہ ہمیشہ رہنے والا انعام ہے۔

والدین کی اندھی تقلید ایک عظیم انسانی المیہ

[11:109] یہ لوگ جو عبادت کرتے ہیں اس کے بارے میں کوئی شک نہ رکھو؛یہ بالکل ویسے ہی عبادت کرتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے والدین کو عبادت کرتے دیکھا ہے۔ہم انہیں کسی کاٹ کے بغیر بھرپور بدلہ دینگے۔

[11:110] ہم نے موسی ٰ کو کتاب دی تھی ،لیکن اس پر جھگڑا کیا گیا،اوراگر تمہارے رب کی طرف سے پیش معینہ بات طے نہ ہوتی، تو ان کا فیصلہ فوری کردیا جاتا ۔یہ اس کے بارے میں شک سے بھرے ہوئے ہیں،شکی۔

[11:111] تمہارا رب یقینا ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔وہ خوب آگاہ ہے ہر اس بات سے جو یہ کرتے ہیں۔

[11:112] لہذا،اس راہ پر چلتے رہو جس کی پیروی کا تمہیں حکم دیا گیا ہے،ان لوگوں کے ہمرا ہ جنہوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے،اور تجاوز کرنیوالے نہ بنو۔وہ ہر وہ چیز دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔

[11:113] ان کی طرف مت مائل ہونا جو حد سے بڑھ گئے ہیں،مبادا تم دوزخ کے حقدار بن جائو،اور تم خدا کے مقابلے میں کوئی ساتھی نہیں پائو گے،پھر خسارے والوں کو چھوڑ دو۔

پانچ میں سے تین نمازیں

[11:114] تم دن کے دونوں سروں پر نماز ادا کرو،اوررات میں۔نیک اعمال برائیوں کو دور کردیتے ہیں۔یہ ان کے لیے یاددہانی ہے جو غور کرتے ہیں۔

[11:115] تم ثابت قدمی سے ڈٹے رہو،کیونکہ خدا نیکوکاروں کو صلہ دینے سے کبھی نہیں چوکتا۔

[11:116] کاش پچھلی نسلوں میں بعض اتنی عقل رکھتے کہ برائی کو روک سکتے!ان میں سے صرف چند تھے جن کو ہم نے بچالیا۔اورتجاوز کرنیوالے،وہ اپنی مادی آسائشوں میں مگن تھے ؛وہ گناہگار تھے۔

[11:117] تمہارا رب بلاجواز کسی بستی کو تباہ نہیں کرتا ،جبکہ اس کے لوگ پرہیز گار ہوں۔

ہم کیوں پیدا کیے گئے

[11:118] اگر تمہارا رب چاہتا تو،تمام لوگ ایک گروہ ہوتے (ایمان والوں کا)لیکن وہ ہمیشہ جھگڑا کرینگے (حق پر)۔

[11:119] صرف وہ جن پر تمہارے رب کی رحمت ہوگی (وہ حق پر نہیں جھگڑیں گے)۔یہی وجہ ہے کہ اس نے انہیں پیدا کیا۔*تمہارے رب کا فیصلہ پہلے ہی صادرہوچکا:’’میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔سب کو ایک ساتھ ۔‘‘**

[11:120] ہم تمہارے دل کو قائم رکھنے کے لیے پیغمبروں کی تاریخ بکثرت بیان کرتے ہیں ۔اب تمہارے پاس حق آچکا ہے۔اور روشنی اور یاددہانی بھی مومنوں کے لیے۔

[11:121] جنہوں نے کفر کیا ان سے کہہ دو،’’تم جو چاہو کرو ،اور میں بھی ایسا ہی کروں گا۔

[11:122] ’’پھر انتظار کرو؛ہم بھی انتظار کرینگے۔‘‘

[11:123] آسمانوں اور زمین کا مستقبل خدا کا ہے،اور تمام معاملات وہی کنٹرول کرتا ہے۔تم اس کی عبادت کرواور اس پر بھروسہ رکھو۔تمہارا خدا ہرگز بے خبر نہیں اس سے جو تم کرتے ہو۔