Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 12: یوسف(یوسف)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[12:1] ا ۔ل ۔ر۔یہ (حروف)نشانیاں ہیں اس عمیق کتاب کی ۔*

[12:2] ہم نے اس کو عربی قرآن نازل کیا ہے ،تاکہ تم سمجھ سکو۔*

[12:3] ہم اس قرآن کے نزول کے ذریعے تم کو درست ترین تاریخ بیان کررہے ہیں۔اس سے قبل ،تم بلکل بے خبر تھے۔

[12:4] یادکروکہ یوسف نے اپنے والد سے کہا،’’اے میرے باپ،میں نے گیار ہ سیارے دیکھے،اور سورج ،اور چاند؛میں نے انہیں اپنے آگے جھکتے دیکھا۔‘‘

[12:5] اس نے کہا،’’میرے بیٹے اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا مبادہ وہ تمہارے خلاف منصوبے بنائیں اورچالیں چلیں۔ یقیناشیطان انسان کا بدترین دشمن ہے۔

[12:6] اس طرح تمہارے پروردگارنے تمہیں نواز ا ہے،اور تمہیں تمہارے خواب کے ذریعے خوشخبری دی ہے۔اس نے تم پر اور یعقوب کے خاندان پر اپنی نعمت مکمل کردی ہے ،جیسے اس نے کی تھی تمہارے آباواجداد ابراہیم اوراسحاق پر اس سے قبل۔تمہارارب عالم الغیب اور سب سے دانا ہے۔ ‘‘

[12:7] یوسف اور اس کے بھائیوں میں اسباق ہیں تلاش کرنیوالوں کے لیے۔

[12:8] انہوں نے کہا،یو سف اور اس کے بھائی کوہماراباپ زیادہ پسند کرتا ہے،اور ہم اکثریت میں ہیں۔بےشک ہمارا باپ بہت گمراہ ہے۔

یوسف کی قسمت خدا کی طرف سے پہلے ہی سےمتعین کردہ *

[12:9] 9. ’’چلو یوسف کومار ڈالتےہیں،یاشہربدر کردیں ،تاکہ تمہیں والد کی کچھ توجہ مل سکے۔بعدازاں تم نیک لوگ بن سکتے ہو۔‘‘*

[12:10] ان میں سے ایک نے کہا،’’یوسف کوقتل مت کرو ؛چلو اسے کنویں کی گھاٹی میں پھینک دیتے ہیں۔شاید کوئی کارواں اس کو نکال لے،اگر تم ایسا کرنے کا فیصلہ کرتے ہو تو ۔‘‘

[12:11] انہوں نے کہا ،’’اے ہمارے باپ،آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے ؟ہم اس کا اچھی طرح خیال رکھیں گے۔

[12:12] ’’کل اسے ہمارے ساتھ کھیلنے کودنے کےلئے بھیج دیجیے۔ہم اس کی حفاظت کرینگے۔‘‘

[12:13] اس نے کہا،’’مجھے فکرہے کہیں تم اسکے ساتھ چلے جائو ،پھربھیڑیا اس کو کھا جائے جبکہ تمہارا اس کی طرف تمہارا دھیان ہی نہ ہو۔‘‘

[12:14] وہ بولے،’’بےشک،اگر ہماری اتنی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی بھیڑیا اس کو کھا جائے ،تو پھر ہم واقعی ہی نکمے ہونگے۔‘‘

ایمان والوں کو خدائی ضمانت عطا ہوتی ہے

[12:15] جب وہ اس کے ساتھ چلے گئے ،اور اسے کنویں کی گھاٹی میں پھینکنے کا متفقہ فیصلہ کرچکے ،تو ہم نے اس کو وحی کی :ایک دن ،تم ان کو یہ سب کچھ بتائو گے،جبکہ ان کو کچھ خیال نہ ہوگا۔‘‘

[12:16] وہ شام کو اپنے باپ کے پاس آئے،روتے ہوئے۔

[12:17] وہ بولے،’’ہمارے باپ،ہم ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ رہے تھے ،یوسف کوہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا تھا،بھیڑے نے اس کو کھا لیا ،آپ ہم پر کبھی اعتماد نہیں کرینگے ، خواہ ہم سچ ہی کہہ رہے ہوں۔‘‘

[12:18] انہوںنے اس کی قمیض پیش کی ،جس پر نقلی خون لگاتھا۔اس نے کہا ،یقینا تم نے آپس میں سازش کرکے ایک خاص منصوبہ پر عمل کیا ہے ۔میں تو صرف یہی کرسکتا ہوں کہ صبر کے ساتھ چپ رہوں۔تمہاری سازش کے مقابلے میں خدا میری مدد کرئے۔‘‘

یوسف کو مصر لے جایاگیا

[12:19] ایک قافلہ وہاں سے گزرا،اور انہوں نے اپنے سقے کوبھیجا۔اس نے اپنا ڈول ڈالا،پھر کہا،’’میں کتنا خوش نصیب ہوں،اس میں ایک لڑکا ہے!‘‘وہ اسے اپنے ساتھ بطور مال لے گئے،اور خدا پوری طرح واقف تھا جو انہوں نے کیا ۔

[12:20] انہوں نے اسے سستے داموں بیچ دیا۔چند درہم میں۔کیونکہ انہیں اس کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔

[12:21] مصر میں جس نے اسے خریدا اپنی بیوی سے کہنے لگا ،’’اس کا اچھی طرح خیال رکھنا،ہوسکتا ہے یہ ہمارے کام آئے،یا ہوسکتا ہے ہم اس کو پال لیں۔‘‘اس طرح ہم نے یوسف کو زمین پر آباد کیا،اور ہم نے اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائی ۔خدا کا حکم ہمیشہ پورا ہوکر رہتا ہے،لیکن زیادہ تر لوگ جانتے نہیں ۔

[12:22] جب وہ بلوغت کو پہنچا،اسے ہم نے دانش اور علم عطا کیا ۔ہم اس طرح پرہیزگاروں کو نوازتے ہیں۔

خدا ایمان والوں کوگناہ سے بچاتا ہے

[12:23] جہاں وہ رہتاتھا وہاں گھروالی نے اس کو لبھانے کی کوشش کی ۔اس نے دروازے بند کرلیے اور کہا،’’میں سب تمہاری ہوں۔‘‘وہ بولا،’’میرا خدا مجھے بچائے گا ۔وہ میرا آقا ہے،جس نے مجھے ایک اچھا گھر عطا کیا *۔تجاوز کرنیوالے کبھی کامیاب نہیں ہوتے ۔‘‘

[12:24] قریب تھا کہ وہ اس کے زیر ہوجاتی ،اور وہ اس کے زیر ہوجاتا،اگر وہ اپنے خدا کی نشانیاں نہ دیکھ لیتا۔اس طرح ہم نے اس سے برائی اورگنا ہ دور کردیا،کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا ۔

[12:25] وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے،اور،اس عمل میں،اس نے اس کاکرتا پیچھے سے پھاڑ ڈالا۔دروازے پر انہیں اس کا خاوند ملا۔وہ بولی،اس کی سزا کیا ہونی چاہیے جو تمہاری بیوی کوداغدار کرنیکی کوشش کرئے۔سوائے قید یا دردناک سزا؟‘‘

[12:26] وہ بولا،’’اس نے مجھے لبھانے کی کوشش کی ہے۔‘‘اس کے گھر کے ایک گواہ نے تجویز پیش کی :’’اگر اس کا کرتا سامنے سے پھٹا ہے،تب وہ سچ کہہ رہی ہے اوروہ جھوٹا ہے۔

[12:27] ’’اور اگر کرتا پیچھلی جانب سے پھٹا ہے ،تو وہ جھوٹی ہے،اور وہ سچ کہہ رہا ہے۔‘‘

[12:28] جب اس کے خاوند نے دیکھا کہ کرتا پیچھے کی طرف سے پھٹا ہے ،وہ بولا’’یہ عورت کا مکر ہے۔بےشک تمہار ا مکر بہت بھیانک ہے۔

[12:29] ’’یوسف،اس واقعہ سے درگزر کر۔اور تم (میری بیوی)،تمہیں اپنے گنا ہ کی معافی مانگنی چاہیے۔تم نے خطا کی ہے۔‘‘

[12:30] شہر میں بعض خواتین نے چرچا کیا:’’گورنر کی بیگم اپنے غلام کو لبھانے کی کوشش کررہی ہے۔وہ اس سے گہری محبت کرتی ہے۔ہم دیکھتی ہیں کہ وہ بہک چکی ہے۔‘‘

[12:31] جب اس نے ان کی باتیں سنیں،اس نے انہیں مدعو کیا ،ان کے لیے آرام دہ جگہ تیار کی ،اور ہرایک کوچھری پکڑا دی ۔پھر اس نے اس سے کہا ،’’کمرے میں داخل ہوجائو۔‘‘جب انہوں نے اسے دیکھا،انہوں نے اس قدرتعجب کیا،کہ اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔*وہ بولیں،’’عظیم ہے خدا کی ذات ،یہ کوئی انسان نہیں؛یہ تو معزز فرشتہ ہے۔‘‘

[12:32] وہ بولی ،’’یہ ہے وہ ، جس کی محبت میں گرفتار ہونیکا الزام تم نے مجھ پرلگایا تھا ،بےشک میں نے اسے لبھانے کی کوشش کی تھی ،اور اس نے انکار کردیا۔اگر اس نے میرے کہے پر عمل نہ کیا تو ،یقینا جیل میں جائیگا اور بے آبرو ہوگا۔‘‘

[12:33] اس نے کہا،میرے رب ،ان کا کہا ماننے سے جیل بہتر ہے،اگر تو نے ان کی چالوں کو نہ موڑا تو میں ان کی خواہش کروں گا اور غافلو ں جیساہوجائوں گا۔‘‘

[12:34] اس کے رب نے اس کی دعاسن لی اور ان کی چالیں دفع کردیں۔وہ سننے والا اور عالم الغیب ہے۔

[12:35] بعد ازاں،انہیں سوجھا ،صاف نشانیوں کے باوجود، اس کو ایک مدت کے لیے قید کردینا چاہیے۔

[12:36] جیل میں دو نوجوان اس کے ساتھ تھے ۔ان میں سے ایک بولا ،’’میں دیکھا(خواب میں )کہ میں شراب تیار کررہا ہوں،‘‘اوردوسرے نے کہا،’’میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹی ہے جس کو پرندے کھارہے ہیں ۔ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتائو۔ہم دیکھتے ہیں کہ تم نیک ہو۔‘‘

[12:37] اس نے کہا ،’’اگر تمہیں کوئی خوراک فراہم کی جاتی ہے تو،قبل اس کے کہ تم وہ حاصل کرو میں تمہیں اس سے مطلع کرسکتا ہوں۔یہ اس علم میں سے کچھ ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے۔میں نے ان لوگوں کا مذہب ترک کر دیا ہے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے،اور آخرت کے بارے میں بھی ،وہ اصلی منکر ہیں۔

[12:38] ’’اور میں نے اس کی بجائے اپنے آبائ ابراہیم ،اسحاق اور یعقوب کا مذہب اختیار کیاہے۔ہم نے خد ا کے ساتھ کبھی شریک نہیں ٹھہرائے۔ایسا ہے فضل ہم پر اور لوگوں پر خد ا کی طرف سے ،لیکن زیادہ تر لوگ ناشکرے ہیں۔

[12:39] ’’اے میرے جیل کے ساتھیو،کیا کئی خدابہتر ہیں ،یا ایک خدا،وہ ،سب سے اعلیٰ؟

[12:40] ’’تم اس کے علاوہ جو بھی عبادت کرتے ہووہ بدعات ہیں جو تم نے قائم کررکھی ہیں ،تم اورتمہارے والدین نے۔خدا نے ایسے شریکوں کی کبھی سند نہیں دی ۔تمام حکمرانی خدا کی ہے،اور یہ اس کا حکم ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔یہ مکمل دین ہے،لیکن بیشتر لوگ نہیں جانتے ۔

[12:41] اے میرے جیل کے ساتھیو،تم میں سے ایک اپنے آقا کو شراب پلانے والا بنے گا اور دوسرا سولی پر چڑھایا جائیگا،پرندے اس کا سر نوچیں گے۔یہ فیصلہ ہے اس معاملے کا جوتم نے پوچھا تھا۔‘‘

[12:42] تب اس نے اسے کہا جس نے رہاہوجانا تھا،’’اپنے رب کے سامنے مجھے یاد رکھنا۔‘‘*پھر شیطان نے اسے اس کا آقا بھلادیا،چنانچہ ،وہ چند سال مزید جیل میں رہا۔

بادشاہ کا خواب

[12:43] بادشاہ نے کہا،’’میں نے سات موٹی گائیں دیکھیںجنہیں سات کمزور گائیں کھارہی ہیں،اور (گندم کی) سات سبز بالیاںاور دوسری مرجھائی ہوئی ۔میرے خواب سے متعلق مجھے مشورہ دو،اگر تم خوابوں کی تعبیر بتانا جانتے ہوتو۔‘‘

[12:44] وہ بولے ،’’بے تکے خواب ۔خوابوں کی تعبیر کے متعلق ہمیں کوئی علم نہیں ۔‘‘

[12:45] ایک جو (جیل سے)رہا ہو چکا تھا ،کہنے لگا، کیونکہ اب اسے آخرکاریاد آگیاتھا،’’میں تمہیں اس کی تعبیر بتاسکتا ہوں،اس لیے مجھے( یوسف کی طرف )بھیجو۔‘‘

یوسف نےبادشاہ کی تعبیربتائی

[12:46] ’’یوسف میرے دوست ،ہمیں سات موٹی گائیوں کے بارے میں بتائو جنہیں سات دبلی گائیں کھار ہی ہیں ،اورسات سبز بالیوں اورسات مرجھائی ہوئی بالیوں کے بارے میں ۔میں لوگوں کے لیے کچھ معلومات لے کر واپس جانا چاہتا ہوں۔‘‘

[12:47] اس نے کہا،اگلے سات سال میں تم جو بھی کاشت کرو،جب کٹائی کا وقت آئے تو دانوں کو بالیوں میں پڑا رہنے دینا،سوائے اس کے جو تم نے کھانے ہوں۔

[12:48] ’’اس کے بعد سات سال قحط پڑیگا،جس میں تمہارا ان کے لیے جمع شدہ زیادہ تر استعمال ہوجائیگا۔

[12:49] ’’اس کے بعد ،ایک سال آئیگا جس میں لوگوں کو چین ملے گا،اور وہ ایک بارپھر، رس نچوڑیں گے۔‘‘

[12:50] بادشاہ نے کہا،’’اسے میرے پاس لائو۔‘‘جب قاصد اس کے پاس آیا،اس نے کہا ،’’جائو واپس اپنے آقا کے پاس اور اس کو کہوان عورتوں کی تفتیش کرئے جنہوں نے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔میرا رب ان کے مکروں سے خوب آگاہ ہے۔‘‘

[12:51] (بادشاہ )نے کہا(عورتوں سے)،’’تم اس واقعے کے بارے میں کیا جانتی ہوجب تم نے یوسف کولبھانے کی کوشش کی تھی ؟‘‘وہ بولیں،نعوذ باللہ ؛ہمارے علم میں کوئی بری بات نہیں جو اس نے کی ہو۔‘‘گورنر کی بیوی نے کہا،’’اب حق واضح ہوگیا ہے۔میں ہوں وہ جس نے اسے لبھانے کی کوشش کی تھی ،اور وہ سچا تھا ۔

[12:52] ’’مجھے امید ہے کہ وہ جان جائیگا کہ میں نے کبھی اس کی عدم موجودگی میں خیانت نہیں کی ،کیونکہ خدا کبھی خیانت کرنیوالوں کے منصوبوں کی حمایت نہیں کرتا ۔

[12:53] ’’میں اپنی معصومیت کا دعوی ٰ نہیں کرتا۔نفس تو بدی پر اکساتا ہے،سوائے ان کے جن پر میرے رب کی رحمت ہوتی ہے۔میرا رب معاف کرنیوالا ،نہایت رحم کرنیوالا ہے۔‘‘

یوسف کوسرداری ملتی ہے

[12:54] بادشاہ نے کہا،’’اسکو میرے پاس لائو،تاکہ میں اس کو اپنے کام کےلئے رکھ سکوں۔‘‘ جب اس نے اس سے بات کی ،اس نے کہا،’’آج تمہیںہمارے ساتھ نمایاں حیثیت حاصل ہے۔‘‘

[12:55] اس نے کہا،’’مجھے خزانچی بنادو،کیونکہ مجھے اس شعبے کا تجربہ اور علم ہے۔‘‘

[12:56] اس طرح ہم نے یوسف کو زمین پر آباد کیا ،حکمران بناکر،جیسا وہ چاہتا تھا۔وہ اپنی مرضی کے مطابق حکم چلا سکتا تھا۔ہم جس پر چاہیں اپنی رحمت نازل کرتے ہیں ،ہم کبھی بھی نیکوکاروں کی تلافی کرنے سے نہیں چوکتے ۔

[12:57] اس کے علاوہ،آخرت کا بدلہ اس سے بھی بڑھ کرہے،ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک زندگی گزارتے ہیں ۔

[12:58] یوسف کے بھائی آگئے؛اس نے انہیں پہچان لیا،مگرانہوں نے اسے نہ پہچانا۔

[12:59] اس نے انہیں ان کا مال دیا ،وہ بولا،’’اگلی بار،اپنے سوتیلے بھائی کوساتھ لانا۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں پورا ناپتا ہوں،اور تمہارے ساتھ فراخدلی سے پیش آتا ہوں؟

[12:60] اگر تم اسکو میرے پاس نہ لائے ،تو مجھ سے اپنا حصہ حاصل نہیں کرسکو گے؛اور نہ ہی تم میرے قریب آئو گے۔‘‘

[12:61] وہ بولے،’’ہم اس کے باپ سے اس کے متعلق بات کرینگے۔ہم یقینا یہ کرینگے۔‘‘

[12:62] پھر اس نے اپنے نائبین کو ہدایت کی ؛’’ان کا سامان ان کے تھیلوں میں واپس رکھ دو۔جب وہ گھر پہنچ کر ان کو پائیں گے تو وہ جلد واپس آئیں گے۔‘‘

[12:63] جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے ،انہوں نے کہا،’’ہمارے باپ،جب تک آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے ،ہم اپنا مال حاصل نہیں کرسکیں گے۔ہم اس کا اچھی طرح خیال رکھیں گے۔‘‘

[12:64] اس نے پوچھا،’’کیا میں تم پر اسی طرح اعتبار کروں، جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیاتھا ؟خداہی سب بڑا محافظ ہے،اور،سب سے بڑھ کر رحم کرنیوالا،وہ سب سے زیادہ رحم کرنیوالا ہے۔‘‘

[12:65] جب انہوں نے اپنے تھیلے کھولے ،تو اپنا مال واپس پایا۔وہ بولے ،’’ہمارے باپ ،ہم اس سے زیادہ کیا مانگ سکتے ہیں؟یہ ہے ہمارا سامان،ہمیں واپس مل گیا ہے۔اس طرح اب ہم اپنے خاندان کوروزی فراہم کرسکتے ہیں،اپنے بھائی کی حفاظت کرسکتے ہیں،اورسامان سے لدا ایک اور اونٹ حاصل کرسکتے ہیں۔یقینا یہ منافع بخش سودا ہے۔‘‘

[12:66] اس نے کہا،’’میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا،جب تک تم خدا کے سامنے میرے ساتھ پختہ عہد نہیں کرتے کہ تم اس کو واپس لائو گے،سوائے اس کے کہ تم مکمل طورپر مغلوب ہوجائو ۔‘‘جب انہوں نے اس کے ساتھ پختہ عہد کیا،اس نے کہا ،’’جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں خدا اسکا گواہ ہے۔‘‘

[12:67] اور اس نے کہا، ’’اے میرے بیٹو،ایک دروازے سے داخل نہ ہونا،مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔تاہم میں کسی ایسی بات سے تمہیں نہیں بچا سکتا ،جو خدا نے پیش معین کردی ہے۔تمام فیصلے خدا کے ہیں،میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور تمام بھروسہ کرنیوالوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔‘‘

یعقوب یوسف کی بو سونگھ لیتے ہیں

[12:68] جب وہ (یوسف کی طرف) گئے،وہ اپنے باپ کی ہدایات کے مطابق داخل ہوئے۔اگر چہ یہ سب وہ نہ بدل سکا جو خدا نے پہلے ہی متعین کردیا تھا۔یعقوب نے اپنی کسی وجہ سے انہیں یہ کرنے کو کہا تھا۔کیونکہ اس کے پاس وہ خاص علم تھا جو ہم نے اس کو عطا کیا تھا ،لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ۔

واپس مصر میں

[12:69] جب وہ یوسف کے کمرے میں داخل ہوئے ،اس نے اپنے بھائی کو قریب کرلیا اور کہا ،’’میں تمہارا بھائی ہوں؛ان کی حرکتوں پر افسوس نہ کرو۔‘‘

یوسف نے اپنے بھائی کور کھ لیا

[12:70] جب اس نے انہیں ان کا مال دیا،اس نے پانی پینے والا پیالہ اپنے بھائی کے بیگ میں رکھ دیا ،پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا ؛’’ایک قافلے کے مالک چور ہیں۔‘‘

[12:71] جب وہ ان کی طرف آئے ،تو پوچھا،’’تمہارا کیا کھوگیا ہے؟‘‘

[12:72] وہ بولے،’’ہم بادشاہ کا پیالہ کھو بیٹھے ہیں۔جو بھی اس کو لوٹائے گا ایک اضافی لدا ہوا اونٹ حاصل کریگا؛میں ذاتی طور پر اس کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘

[12:73] وہ بولے ،’’خدا کی قسم ،تم اچھی طرح جانتے ہوکہ ہم یہاں غلط کام کرنے نہیں آئے ،اور نہ ہی ہم چور ہیں۔‘‘

[12:74] انہوں نے کہا،’’چور کی سزا کیا ہے،اگر تم جھوٹے نکلے؟‘‘

[12:75] وہ بولے،’’اگریہ اس کے تھیلے سے ملا ،تو سزایہ ہے کہ ،چور تمہارا ہوگا۔ہم قصوروار کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔‘‘

[12:76] پھر اس نے اپنے بھائی کے صندوق کی طرف جانے سے پہلے آغاز ان کے صندوقوں کی چیکنگ سے کیا ،اور اس نے اپنے بھائی کے صندوق سے وہ برآمد کرلیا۔اس طرح ہم نے یوسف کی خاطر منصوبہ مکمل کردیا؛اگر وہ بادشاہ کے قانون پر عمل کرتا تو اپنے بھائی کو نہیں رکھ سکتا تھا۔لیکن یہ خدا کی منشا تھی ۔ہم جس کو چاہیں عظیم مرتبہ عطا کرتے ہیں۔ہر اہل علم سے اوپر ایک اور بھی ہوتا ہے جو اس سے زیادہ صاحب علم ہوتا ہے ۔

[12:77] انہوں نے کہا،’’اگر اسی نے چرایا ہے،تو اسی طرح ماضی میں اس کے بھائی نے کیا تھا ۔‘‘یوسف نے اپنے احساسات اپنے اندر چھپالیے،اور انہیں کوئی اشارہ نہ دیا ۔اس نے (اپنے دل میں )کہا،’’تم واقعی برئے ہو۔خدا تمہار ے بہتان خوب جانتا ہے۔‘‘

[12:78] وہ بولے،اے بھلے مانس،اس کاباپ بہت بوڑھا ہے؛کیا تم اس کی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لو گے؟ہم دیکھتے ہیں تم ایک مہربان شخض ہو۔‘‘

[12:79] اس نے کہا،خدا کی پناہ،کہ ہم اس کی جگہ دوسرا بندہ لیںجس کے قبضے سے ہماری اشیائ برآمد ہوئی ہیں۔ورنہ ہم ظالم ہونگے۔‘‘

[12:80] جب وہ اس کا ارادہ بدلنے سے مایوس ہوگئے ،تو ایک دوسرے سے مشورہ کرنے لگے۔ان میں سب سے بڑے نے کہا،’’کیا تمہیں احساس نہیں کہ تمہارے باپ نے خدا کو حاظر ناظر جان کا تم سے پختہ عہد لیاتھا؟ماضی میں تم نے یوسف کو کھویا تھا ۔میں اپنے والد کی اجازت ملنے تک یہ جگہ نہیں چھوڑوں گا،یا جب تک خدا میرا فیصلہ نہیں کردیتا؛وہ بہترین فیصلہ کرنیوالا ہے۔

واپس فلسطین میں

[12:81] جائو واپس اپنے والد کے پاس اور اسے بتائو۔۔۔’ہمارے باپ ،تمہارے بیٹے نے چوری کی ہے۔ہمیں یقین ہے،کیونکہ ہم خود اس کے گواہ ہیں۔یہ ایک غیر متوقع واقعہ تھا ۔

[12:82] ’آپ اس بستی سے پوچھ سکتے ہیں جہاں ہم تھے،اور اس قافلے سے جو ہمارے ساتھ واپس آیا ہے۔ہم سچ کہہ رہے ہیں۔

[12:83] اس نے کہا،بلاشبہ ،تم نے ایک منصوبہ پر عمل کرنے کی سازش کی ہے۔میں چپ چاپ صبر ہی کرسکتا ہوں۔ہوسکتا ہے خدا ان سب کومیرے پاس لے آئے۔وہ عالم الغیب اور حکمت والا ہے۔‘‘

[12:84] اس نے یہ کہتے ہوئے ان سے منہ موڑ لیا ،’’مجھے یوسف کا غم ہے۔‘‘اوربہت زیادہ صدمے سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں؛وہ واقعی غمزدہ تھا ۔

[12:85] انہوں نے کہا،’’خدا کی قسم ،آپ اس وقت تک یوسف کا غم کرتے رہیں گے جب تک بیمارنہ پڑ گئے ،یا جب تک آپ انتقال نہیں کرجاتے ۔‘‘

[12:86] اس نے کہا،’’میں اپنی مصیبت اور غم کا شکوہ صرف خدا سے کروں گا،کیونکہ مجھے خدا کی طرف سے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔

[12:87] ’’اے میر ے بیٹو،جائو یوسف اور اسکے بھائی کو لے آئو،اور خدا کے فضل سے کبھی مایوس نہ ہونا۔خدا کے فضل سے کوئی مایوس نہیں ہوتا سوائے کافروں لوگوں کے۔‘‘

اسرائیل مصر جاتا ہے

[12:88] جب وہ (یوسف کے) کمرے میں داخل ہوئے،وہ بولے،’’اے نیک نفس ،ہم نے بہت مصیبتیں جھیلی ہیں ،اپنے خاندان کے ہمراہ،اور ہم لائے ہیں کمتر اشیائ۔لیکن ہمیں امید ہے کہ آپ ہمیں پورا مال دینگے اور ہم کو خیرات دینگے۔خدا خیرات دینے والوں کوبدلہ دیتا ہے۔‘‘

[12:89] وہ بولا،’’کیا تمہیں یاد ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب تم غافل تھے؟‘‘

[12:90] وہ بولے،’’تم یو سف ہی ہو۔‘‘اس نے کہا ،’’میں یوسف ہوں اور یہ ہے میرا بھائی ۔خدا نے ہم پر رحم کیا ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب کوئی پاکبازی کی زندگی گزارتا ہے اور ثابت قدم رہتا ہے۔ خدا نیکو کاروں کو صلہ دینے سے کبھی نہیں چوکتا ۔‘‘

[12:91] انہوں نے کہا،’’خدا کی قسم ،خد انے تمہیں ہم پر صحیح فضیلت دی ہے ۔یقینا ہم غلطی پر ہیں۔‘‘

[12:92] اس نے کہا،’’آج تم پر کوئی الزام نہیں۔خدا تمہیں معاف کرئے۔تمام رحم کرنیوالوں میں،وہ سب سے زیادہ رحم کرنیوالا ہے۔

[12:93] ’’میری یہ قمیض لے جائو؛جب تم اسے میرے والد کے چہرے پر ڈالو گے،ان کی بینائی بحال ہوجائیگی۔اپنے پورے خاندان کولائواور میری طرف واپس آئو۔‘‘*

[12:94] قافلہ آنے سے بھی پہلے ،ان کے والد نے کہا،’’میں یوسف کی بو سونگھ سکتا ہوں۔کیا کوئی مجھے خوشخبری دیگا؟‘‘

[12:95] وہ بولے ،’’خد ا کی قسم ،آپ ابھی تک پرانے تذبذب میں ہیں۔‘‘

[12:96] جب خوشخبری والا آیا ،اس نے (قمیض)ان کے چہرے پر ڈالی،جس پر ان کی بینائی بحال ہوگئی۔اس نے کہا،’’میں نے تمہیں بتایا نہیں تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے تھے۔‘‘

[12:97] وہ بولے،’’ہمارے باپ ،ہماری بخشش کی دعا کرو؛بے شک ہم غلط تھے ۔‘‘

[12:98] اس نے کہا،’’میں خدا سے التجا کروں گا کہ وہ تمہیں معاف کردے؛وہ بخشنے والا ہے،نہایت رحم کرنیوالا۔‘‘

مصر میں

[12:99] جب وہ یوسف کے گھر داخل ہوئے،وہ اپنے والدین سے گلے ملا،یہ کہتے ہوئے،خوش آمدید مصر میں۔انشااللہ آپ یہاں محفوظ رہیں گے ۔‘‘

[12:100] اس نے اپنے والدین کو تخت پربٹھایا۔وہ اس کے سامنے جھک گئے ۔اس نے کہا،’’اے میرے باپ ،یہ میرے پرانے خواب کی تعبیر ہے۔میرے رب نے اسے سچ کردکھایا ہے۔اس نے مجھے نوازاہے،قیدخانے سے مجھے نجات دی اور تم لوگوں کو صحرا سے لایاجبکہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیا ن رخنہ ڈال دیا تھا ۔میرا رب جس پر چاہے نہایت مہربان ہوتا ہے۔وہ علیم اور حکیم ہے ۔‘‘

[12:101] ’’میرے رب ،تو نے مجھے بادشاہت دی ،اور خوابوں کی تعبیرکا علم دیا۔آسمانوں اور زمین کے خالق ؛تو ہی میرارب اور آقا ہے اس دنیا میں اور آخرت میں ۔مجھے بطور فرمانبردار موت دینا،اورمیراشمار نیکو کاروں میں کرنا۔‘‘

[12:102] یہ خبر ہے ماضی کی جو ہم تمہیں دے رہے ہیں۔تم اس وقت موجو د نہیں تھے جب انہوں نے متفقہ فیصلہ کیا تھا(یوسف کو کنویں میں ڈالنے کا)جب انہوں نے مل کر منصوبہ بنایا۔

لوگوں کی اکثریت ایمان نہیں لاتی

[12:103] زیادہ تر لوگ،خواہ تم کچھ بھی کرلو،ایمان نہیں لائیں گے ۔

[12:104] تم کسی سے پیسہ طلب نہیں کررہے؛تم صرف سب لوگوں کو یہ یاددہانی کرادو۔

[12:105] آسمانوں اور زمین پر انہیں بہت سی نشانیاں دی گئیں مگر وہ ،غور کیے بغیر ،ان کے پاس سے گزرگئے!

ایمان والوں کی اکثریت جہنم میں جائیگی

[12:106] ان کی اکثریت جوخدا پر ایمان رکھتے ہیںلیکن ایسا شرک کے بغیر نہیں کرتے ۔

[12:107] کیا انہیں ضمانت دی گئی ہے کہ خدا کا زبردست عذاب ان پر اچانک نہیں ٹوٹے گا ،جب کہ انہیں ہرگز توقع نہیں ہوگی ؟

[12:108] کہہ دیجیے،’’یہ ہے میرا راستہ:میں خدا کی طرف بلاتا ہوں،روشن نشانی کی بنیاد پر ،وہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں جو میری پیروی کرنیوالے ہیں۔عظیم ہے خد ا کی ذات ۔میں شرک کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘

[12:109] تم سے پہلے ہم نے نہیں بھیجے سوائے وہ مرد،جنہیںہم نے وحی کی تھی ،مختلف بستیوں کے لوگوں سے چنے گئے۔کیا انہوں نے زمین پر چل پھر کر ان کے حالات نہیں دیکھے جو ان سے پہلے تھے؟ جو لوگ نیک زندگی گزارتے ہیں آخرت کاٹھکانا ان کے لیے کہیں بہتر ہے۔کیا تم سمجھو گے نہیں؟

آخری کامیابی ایمان والوں کے لیے ہے

[12:110] عین اس وقت جب پیغمبر مایوس ہوگئے،اور سوچنے لگے کہ انہیں جھٹلا دیا گیا ہے،ہماری کامیابی ان کی طرف آجاتی ہے۔تب ہم بچا لیتے ہیں جسے چاہتے ہیں،جبکہ گناہگاروں کے لیے ہمارا عذاب اٹل ہے۔

قرآن میں وہ سب کچھ ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے

[12:111] ان کی تاریخ میں ،سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو دانش مند ہیں۔یہ گھڑی ہوئی حدیث نہیں؛یہ( قرآن )تمام سابق الہامی کتب کی تصدیق کرتا ہے،ہر چیز کی تفصیلات فراہم کرتا ہے،اور روشنی اور ہدایت ہے ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔