ضمیمہ 10، خدا کا صیغۂ جمع کا استعمال
ضمیمہ 10
خدا کا صیغۂ جمع کا استعمال
انگریزی بولنے والی دنیا میں، جہاں تثلیث کا عقیدہ عام ہے، بعض لوگ قرآن میں خدا کے صیغۂ جمع کے استعمال پر حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ قرآن کا غالب پیغام، جس میں قطعاً کوئی سمجھوتہ نہیں، یہ ہے کہ "خدا ایک ہے" (2:133, 163; 4:171; 5:73; 6:19; 9:31; 12:39; 13:16; 14:48, 52; 16:22, 51; 18:110; 21:108; 22:34; 37:4; 38:65; 39:4; 40:16; 41:6; 112:1)۔
جب بھی خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے متکلم کا صیغۂ جمع استعمال ہوتا ہے تو یہ لازماً دوسری ہستیوں، مثلاً فرشتوں، کی شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اس قرآن کے نزول میں فرشتے جبرائیل اور نبی محمد کی شرکت شامل تھی۔ اسی لیے 15:9 میں صیغۂ جمع استعمال ہوا: "ہم نے یہ کتاب نازل کی ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔" یہاں صیغۂ جمع محض اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قرآن کے پہنچانے کے عمل میں فرشتے جبرائیل اور نبی محمد نے شرکت کی۔
ایک اور مثال آدم اور عیسیٰ میں زندگی کی روح پھونکنے سے متعلق ہے۔ آدم کی تخلیق آسمان میں ہوئی اور خدا نے براہِ راست ان میں زندگی کی روح پھونکی۔ چنانچہ متکلم کا صیغۂ واحد مسلسل استعمال ہوا ہے: "میں نے آدم میں اپنی روح میں سے پھونکا" (15:29, 38:72)۔ دوسری طرف عیسیٰ کی تخلیق زمین پر ہوئی، اور جبرائیل خدا کا "کلمہ" مریم تک لے کر آئے۔ عیسیٰ کی تخلیق کا ذکر کرتے وقت مسلسل صیغۂ جمع استعمال ہوا ہے (21:91, 66:12)۔
جب خدا نے موسیٰ سے براہِ راست، فرشتوں کی وساطت کے بغیر، کلام کیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ خدا خالصتاً صیغۂ واحد میں کلام فرما رہا ہے: "میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم صرف میری عبادت کرو، اور میری یاد کے لیے رابطے کی نمازیں (صلاۃ) قائم کرو۔" (20:12-14)۔
جب بھی خدا کی عبادت کا ذکر آتا ہے، صیغۂ واحد استعمال ہوتا ہے (51:56)۔