ضمیمہ 3، ہم نے قرآن کو آسان بنا دیا [54:17]
ضمیمہ 3
ہم نے قرآن کو آسان بنا دیا [54:17]
آیت 11:1 ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کے معجزے میں [1] اس کے ظاہری ڈھانچے کی مافوق البشر ریاضیاتی ترتیب اور [2] اس کے ساتھ ساتھ غیر معمولی عمدگی کے حامل ایک ادبی شاہکار کی تصنیف شامل ہے۔
ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی سادہ ریاضیاتی نمونے کی عددی تقسیم کی شرائط پوری کر لے، لیکن ایسا ہمیشہ ادبی معیار کی قربانی دے کر ہی ہو پاتا ہے۔ ادبی اسلوب اور پورے قرآن میں انفرادی حروف کی پیچیدہ ریاضیاتی تقسیم (ضمیمہ 1) پر بیک وقت قابو اس حقیقت سے عیاں ہے کہ قرآن کو یاد کرنا، سمجھنا اور اس سے لطف اندوز ہونا آسان بنا دیا گیا ہے۔ انسان کی لکھی ہوئی کتاب کے برعکس، قرآن کو بار بار، لامحدود طور پر پڑھنے میں لطف آتا ہے۔
اس ضمیمے کا عنوان سورہ 54 کی آیات 17، 22، 32 اور 40 میں دہرایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا عربی متن اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ پڑھنے والے یا حفظ کرنے والے کو اگلے درست الفاظ یا اگلی آیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ادبی مواد کو ہماری یادداشت میں بٹھانے کا مؤثر ترین طریقہ کیا ہے۔ اس زمانے میں جب لکھی ہوئی کتابیں نایاب ہوا کرتی تھیں، قرآن کے حفظ نے نسل در نسل اصل متن کی حفاظت میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
قرآن حفظ کرنے والا شخص، بغیر احساس کیے، قرآنی الفاظ کی آوازیں ادا کرتے ہوئے ایک پیچیدہ ادبی نظام کے ذریعے الٰہی مدد پاتا ہے۔ قرآن کی تقریباً ہر آیت میں وہ چیز موجود ہے جسے میں "یادداشت کی گھنٹیاں" کہتا ہوں۔ ان کا کام پڑھنے والے کو یہ یاد دلانا ہے کہ آگے کیا آنے والا ہے۔ یہ نظام اس قدر وسیع ہے کہ میں صرف دو وضاحتی مثالیں پیش کروں گا:
1۔ سورہ 2 کی آیات 127، 128 اور 129 میں سے ہر ایک اللہ کے دو مختلف ناموں پر ختم ہوتی ہے۔ ناموں کے یہ جوڑے بالترتیب "السمیع العلیم (سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا)"، "التواب الرحیم (توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا)" اور "العزیز الحکیم (زبردست غالب، بڑی حکمت والا)" ہیں۔ اگر یہ کوئی عام کتاب ہوتی تو ان چھ ناموں میں آسانی سے الٹ پھیر ہو جاتی، مگر قرآن میں ایسا نہیں۔ ان جوڑوں میں سے ہر ایک سے پہلے اسی آیت میں ایک "یادداشت کی گھنٹی" موجود ہے جو ہمیں ناموں کے درست جوڑے کی یاد دہانی کراتی ہے۔ چنانچہ آیت 127 میں ابراہیم اور اسماعیل کے کعبہ کی بنیادیں اٹھانے کا ذکر ہے۔ آیت "السمیع العلیم" کے ناموں پر ختم ہوتی ہے۔ یہاں نمایاں آوازیں "س"، "م" اور "ع" ہیں۔ یہی تین حروف لفظ "اسماعیل" میں نمایاں ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ جملے میں نمایاں طور پر مؤخر رکھا گیا ہے، اور اس سے جملے کا ادبی حسن بھی بڑھتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آیت یوں چلتی ہے: "جب ابراہیم کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، اسماعیل کے ہمراہ ..." عام طور پر کوئی انسانی مصنف یوں لکھتا: "جب ابراہیم اور اسماعیل نے کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں...." لیکن "اسماعیل" کی آوازوں کو مؤخر کرنا انہیں آیت کے اختتام کے قریب لے آتا ہے، اور یوں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس آیت میں اللہ کے درست نام "السمیع العلیم" ہیں۔
آیت 128 میں "التواب الرحیم" کے ناموں سے عین پہلے نمایاں لفظ "تُب" موجود ہے۔ یوں لفظ "تُب" یادداشت کی گھنٹی کا کام دیتا ہے۔ 2:129 کے آخر میں اللہ کے نام "عزیز، حکیم" ہیں۔ یہاں نمایاں آوازیں "ز" اور "ک" ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں یادداشت کی گھنٹی لفظ "یزکیہم" ہے۔
2۔ ایک اور عمدہ مثال 3:176، 177 اور 178 میں ملتی ہے، جہاں کافروں کی سزا کو بالترتیب "عظیم (ہولناک)"، "الیم (دردناک)" اور "مہین (ذلت آمیز)" بیان کیا گیا ہے۔ کسی انسانی کتاب میں حفظ کرنے والا ان تین صفات کو آسانی سے آپس میں گڈمڈ کر سکتا تھا، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان صفات میں سے ہر ایک سے پہلے طاقتور یادداشت کی گھنٹیاں موجود ہیں جو ایسی گڑبڑ سے بچاتی ہیں۔ آیت 176 کے لفظ "عظیم" سے پہلے لفظ "حُزن" آتا ہے، جس کی نمایاں خصوصیت زور دار حرف "ز" ہے۔ یہ ہمیں اس آیت کے آخر میں آنے والی مخصوص صفت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ آیت 177 کے لفظ "الیم" سے پہلے لفظ "ایمان" کی آواز یادداشت کی گھنٹی کا کام دیتی ہے، اور 3:178 کے لفظ "مہین" سے پہلے پوری آیت میں "م" اور "ہ" کی کثرت پائی جاتی ہے۔
یادداشت کی گھنٹیوں کی دیگر مثالوں میں 3:173 کا اختتام اور 3:174 کا آغاز، 4:52 کا اختتام اور 4:53 کا آغاز، 4:61 کا اختتام اور 4:62 کا آغاز، 18:53 کا اختتام اور 18:54 کا آغاز، اور اس طرح کی بہت سی مثالیں شامل ہیں۔