Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 35: آغاز کرنے والا(فاطر)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[35:1] خدا کی تعریف ہو، آسمانوں اور زمین کا آغاز کرنے والااور فرشتوں کو منتخب کرنے والا رسولوں کو طور پر پنکھ کے ساتھ- دو، تین اور چار (پنکھ) ۔ وہ تخلیق کو بڑھاتا ہے جیسےچاہتا ہے ۔ خدا قادرِ مطلق ہے ۔

[35:2] جب خدا لوگوں پر رحمت کی بارش کرتا ہے، تو کوئی طاقت اسے نہیں روک سکتی ۔ اور اگر وہ اسے روک دیتا ہے، تا کوئی بھی طاقت، اس کے سوا، اسے نہیں بھیج سکتی ۔ وہ قادر مطلق، سب سے زیادہ حکمت والا ہے۔

[35:3] اے لوگوں تم اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ خدا کے علاوہ کیاکوئی اورخالق ہےجوتمہارے لئے آسمان اور زمین سے فراہم کرتا ہے؟ اس کی سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ۔تم کس طرح انحراف کر سکتے ہو؟

[35:4] اگر وہ تم پر یقین نہ کریں ، تو تم سے پہلے رسولوں پر بھی یقین نہیں کیا گیا تھا ۔ خدا نے تمام چیزوں کو اپنے قابو میں کیا ہوا ہے ۔

[35:5] اے لوگو، خدا کا وعدہ سچا ہے. لہذا، اس نیچ زندگی میں مشغول نہ ہو جانا۔محض فریب کے ذریعے خدا کی طرف سے منحرف نہ ہو جانا۔

[35:6] شیطان تمہارا دشمن ہے، پس تم اس سے دشمن ہی کی طرح نمٹنا ۔ وہ صرف اپنی جماعت کو جہنم کے مکین بننے کی دعوت دیتا ہے ۔

[35:7] وہ جنہوں نے کفر کیا ایک شدید عذآب کے مرتکب ہیں، اور وہ جو ایمان لائے اور صالح زندگی گزاریں، وہ بخشش اور ایک عظیم اجر کے مستحق ہیں ۔

[35:8] غور کرو اس پر جس کا شیطانی کام اس کی نظروں میں آراستہ کر دیا گیا، یہاں تک کہ یہ اسے راست بازی سمجھتا ہے۔ خدا اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو کوئی بھی( گمراہ ہونے کا)ارادہ کرتا ہے، اور وہ اسی طرح ہدایت دیتا ہے جو کوئی بھی (ہدایت حاصل کرنے کا) ارادہ کرتا ہے۔ لہٰذا، تم ان پر رنجیدہ مت ہونا۔ خدا ان کے ہر ایک عمل سے پوری طرح آگاہ ہے۔

[35:9] خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہےبادلوں کو پیدا کرنے کے لئے، پھر ہم ان کو بنجر زمینوں کی طرف لے جاتے ہیں ، اور ایسی زمینوں کو بحال کرتے ہیں اس کے بعد کہ وہ مردہ تھیں ۔ اسی طرح دوبارہ ززندہ کیا جانا ہے ۔

تمام وقار خدا کی ملکیت ہے

[35:10] جو کوئی بھی وقار کی تلاش کرتا ہے اسے جان لینا چاہیئے کہ تمام وقار خدا کی ملکیت ہے۔ تمام اچھے الفاظ اسی کی طرف سربلند ہوتے ہیں، اور وہی نیک کاموں کو سرفراز کرتا ہے۔ رہے وہ جو شیطانی کاموں کی سازش کرتے ہیں، وہ شدید عذآب کے مرتکب ہوتے ہیں؛ایسے لوگوں کی سازشوں کا مقدر ہی ناکام ہونا ہے۔

خدا مکمل کنٹرول میں ہے

[35:11] خدا نے تمہیں دھوڑ سے پیدا کیا، پھر ایک چھوٹے سے قطرے سے، پھر وہ تم سے تمہارے ازواج کے ذریعے پیدائش کرواتا ہے۔ کوئی بھی خاتون حاملہ نہیں ہوتی ، نہ ہی جنم دیتی ہے، اس کے علم کے بغیر۔ کو ئی بھی ایک طویل زندگی کے لئے زندہ نہیں رہتا، اور نہ ہی کسی کی زندگی کو کاٹ کر مختصر کر دیا جاتا ہے، سوآئے ایک پہلے سے موجود دستاویز کے مطابق ۔ یہ خدا کے لئے آسان ہے۔

خدا کی عظمت کی قدردانی *

[35:12] دو سمندر ایک جیسے نہیں ہیں؛ ایک تازہ اور لذیذ ہے، جبکہ دوسرا نمکین ہے اور پینے کے قابل نہیں ہے ۔ ان میں سے ہر ایک سے تم نرم گوشت کھاتے ہو اور پہننے کے لئے زیورات مرتب کرتے ہو ۔ اور تم بحری جہازوں کو ان کے درمیان تیرتے ہوئے دیکھتے ہو، اس کے رزق کی تلاش کرتے،تاکہ تم قدردان ہو ۔

[35:13] وہ رات کو دن میں ملاتا ہے، اور دن کو رات میں ملاتا ہے۔اُس نے سورج اور چاند کو ایک پیش معینہ وقت تک دوڑنے کا مرتکب کیا ہے۔ایسا ہی ہے خدا تمہارا پروردگار؛ تمام بادشاہت اسی کی ملکیت ہے۔ جو کوئی معبود بھی تم اس کے علاوہ مقرر کرتے ہو ، وہ ایک بیچ کے چھلکے تک کے بھی مالک نہیں ہیں۔

شرکاءبالکل بے ختیار *

[35:14] اگر تم انہیں پکارو، تو وہ تمہیں سن نہیں سکتے۔ یہاں تک کہ اگر وہ تمہیں سن بھی لیں ، وہ تمہیں جواب نہیں دے سکتے۔ قیامت کے دن ، وہ تم سے بری ہو جائیں گے۔ کوئی بھی تمہیں سب سے زیادہ واقف کی طرح مطلع نہیں کر سکتا ہے ۔

[35:15] اے لوگوں،وہ تمہی تو ہو جنہیں خدا کی ضرورت ہے، جبکہ خدا کو کسی کی ضرورت نہیں، سب سے زیادہ قابلِ تعریف ہے۔

[35:16] اگر وہ چاہے ، تو وہ سے چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے اور ایک نئی مخلوق کو متبادل کر سکتا ہے ۔

[35:17] یہ خدا کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہے ۔

[35:18] کوئی روح کسی دوسری روح کے گناہوں کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتی۔ اگر ایک روح جو گناہوں سے بھر ی ہوئی ہے دوسری سے فریاد کرے کہ اس کے بوجھ کا کچھ حصہ برداشت کرلے، کوئی دوسری روح اس کا کوئی حصہ بھی نہیں اُٹھا سکتی، یہاں تک کہ اگر وہ آپس میں رشتہ دار بھی ہوں ۔ صرف وہی لوگ تمہاری تمبیحات پر توجہ کر سکیں گے جو اپنے پروردگار کی تعظیم کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنی خلوت میں بھی ہوں ، اور وہ رابطہ نماز(صلاة ) کو قائم کرتے ہیں۔ جو کوئی بھی اپنی روح کو پاک کرتا ہے، ایسا اپنے ہی بھلے کے لئے کرتا ہے۔ ہتمی واپسی خدا کی طرف ہے۔

[35:19] نابینا اور بینا برابر نہیں ہیں۔

[35:20] اور نہ ہی اندھیرا اور روشنی ۔

[35:21] اور نہ ہی سائے کی ٹھنڈک اور سورج کی گرمی ۔

[35:22] اور نہ ہی زندہ اور مُردہ ؛ خدا جسے چاہتا ہے سننے دیتا ہے ۔ تم ان کو سننے والا نہیں بنا سکتے جو قبروں میں ہیں ۔

[35:23] تم ایک خبردار کرنے والےسے زیادہ اور کچھ نہیں ہو۔

خدا کا رسول ِ میثاق *

[35:24] ہم نے تمہیں بھیجا ہے * سچائی کے ساتھ، ایک خوشخبری سنانے والا، اور اس کے ساتھ ساتھ خبردار کرنے والا۔ ہر قوم کو ضرور ایک خبردار کرنے والا ملے گا۔

[35:25] اگر وہ تم سے کفر کریں، وہ بھی جو ان سے پہلے تھےکفر کر چکے ہیں ۔ ان کےان کے پاس گئے واضح دلائل کے ساتھ، اور زبور، اور منور مقدس کتابوں کے ساتھ۔

[35:26] اس کے بعد ،میں نے ان کو سزا دی جنہوں نے کفر کیا؛ میرا بدلہ کیسا خوفناک تھا!

خدا کی رنگارنگ تخلیقات

[35:27] کیا تم سمجھتے نہیں کہ خدا آسمان سے پانی بھیجتا ہے، جس کے ذریعے ہم مختلف رنگوں کے پھل پیدا کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ پہاڑوں کے بھی مختلف رنگ ہے؛ چوٹیاں سفید یا سرخ یا کسی اور رنگ کی ہیں ۔ اور کوّے کالےہیں ۔

[35:28] اس کے علاوہ لوگ، جانور، اور مویشی مختلف رنگوں میں آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جوواقعی خد ا کی تعظیم کرتے ہیں وہ ہیں جو علم رکھنے والے ہیں ۔ خدا قادرِمطلق ہے، بخشنے والا ہے ۔

[35:29] بیشک، وہ جو خدا کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، رابطہ نماز (صلاة) کو قائم کرتے ہیں، اور ہمارے دیے گئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں- پوشیدہ اور اعلانیہ - ایک ایسی سرمایہ کاری میں مشغول ہیں جو کبھی بھی نقصان میں نہیں جاتی ۔

[35:30] وہ انہیں سخاوت کے ساتھ جزا دے گا، اور ان پر اپنی نعمتیں بڑھا دے گا ۔ وہ بخشنے والا، قدردان ہے ۔

قرآن: تمام آسمانی کتابوں کی تکمیل

[35:31] ہم نے اس آسمانی کتاب میں جو تم پر نازل کیا ہے وہ سچ ہے، تمام پچھلی آسمانی کتابوں کی تکمیل کرتے ہوئے۔ خدا اپنے بندوں سے پوری طرح واقف ہے، دیکھنے والا ہے۔

[35:32] ہم نے آسمانی کتاب کو نسل در نسل پہنچایا، اور ہم نےا پنے بندوں میں سے جن کو چُنا، انہیں حاصل کرنے کی اجازت دی۔ اس کے بعد، ان میں سے کچھ نے اپنی روحوں پر ظلم کیا، اوروں نے اس کی صرف جزوقتی طور پر پاسداری کی، جبکہ دیگر نیکو کاری کرنے کے لئے بیقرار تھے خدا کی رضا کے مطابق؛ یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اہل ایمان

[35:33] وہ عدن ، کے باغات میں داخل ہوں گے، جہاں وہ سونے اور موتیوں کےکڑوں سے آراستہ ہوں گے ، اور ان کے لباس ان میں ریشم سےبنائے گئے ہوں گے ۔

[35:34] وہ کہیں گے، "خدا کی تعریف ہوہماری تمام پریشانیوں کو ختم کرنے کے لئے۔ ہمارا پروردگار بخشنے والا، قدردان ہے ۔

[35:35] " اس نے ہمیں ابدی نعمتوں کے ٹھکانوں میں داخل کر دیا ہے، اپنے فضل کے ساتھ۔ ہم یہاں کبھی بھی تنگ نہیں ہوتے، نہ ہی ہم کبھی تھک جاتے ہیں۔"

کافر

[35:36] رہے وہ جنہوں نے کفر کیا ، وہ جہنم کی آگ کے مرتکب ہو گئے ہیں، جہاں ان کا موت کے ذریعے کبھی خاتمہ نہیں کیا جاتا، نہ ہی کبھی ان کے لئے عذاب کو کبھی کم کیا جاتا ہے۔ ہم یوں ہی ناشکروں کو بدلا دیتے ہیں۔

[35:37] وہ وہاں چیخیں گے، "ہمارے پروردگار، اگر تم ہمیں یہاں سے باہر نکال دو، تو ہم نیکوکاری کریں گے، ان کاموں کے سوا جنہیں ہم کیا کرتے تھے۔" کیا ہم نے تمہیں ایک زندگی بھر کا موقع نہیں دیا تھا، لگاتار یاد دہانیوں کے ساتھ اُن کے لئے جو نصیحت حاصل کریں؟ کیا تمہیں خبردار کرنے والا موصول نہیں ہوا تھا؟ لہٰذا،مزہ چکھو (نتائج کا )۔ ظالموں کا کوئی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔

[35:38] خدا آسمانوں اور زمین کے مستقبل کو جاننے والا ہے ۔ وہ تمام اندرون ترین خیالات کوجاننے والا ہے ۔

فاتحین اور نقصان اٹھانے

[35:39] ایک وہی ہے جس نے تمہیں زمین کا وارث بنایا۔ اس کے بعد، جو کوئی کفر کا انتخاب کرتا ہےاپنے ہی نقصان کے لئے ایسا کرتا ہے۔ کافروں کا کفر ان کی طرف ان کے پروردگار سے نفرت میں اضافہ کرتا ہے۔ کافروں کا کفر ان کو نقصان میں مزید ڈبوتا ہے۔

[35:40] کہہ دو کہ ، " ان شرکاء پر غور کرو جنہیں تم نے خدا کے سوا مقرر کیا ہے؛ مجھے بتاوٴ انہوں نے زمین پر کیا پیدا کیا ہے۔" کیاوہ آسمانوں میں کسی شراکت داری کے مالک ہیں؟ کیاہم نے انہیں ایک کتاب دی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے؟در حقیقت، وہ جس کا ظالم ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں ایک دھوکے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

[35:41] ایک خدا ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے۔ اگر کسی اور نے انہیں تھاما ہوتا، تو وہ بلکل یقینی طور پر غائب ہو جاتے۔ وہ بردبار بخشنے والا ہے۔

ان کو ازمائش میں ڈالتے ہوئے

[35:42] انہوں نے حلفاً خدا کی ققسم اٹھائی کہ اگر ایک خببردار کرنےوالا ان کے پاس آیا، تو وہ ایک مخصوص جماعت سےبہترہدایت یافتہ ہوں گے! تاہم،اب جب ایک خببردار کرنے والا ان کے پاس آیا، تواِس نے صرف انہیں مزید نفرت میں ڈبو ڈالا ۔

[35:43] وہ زمین تکبر پر قائم رہے، اور بری سازشوں پر، اور بری سازشیں ان پر اُلٹی پڑتی ہیں جو ان کی سازش کرتے ہیں۔ کیا انہیں پھران کی تقدیر کی علاوہ کچھ اور کی توقع کرنی چاہیے جنہوں نے ماضی میں وہی کام کیے تھے؟ تم یہ جان جاوٴ گے کہ خدا کا نظام کبھی نہیں بدلتا؛ تم یہ جان جاوٴ گے کہ خدا کا نظام ناقابلِ تبدیل ہے۔

[35:44] کیا یہ زمین میں گھومیں نہیں اور ان کے نتائج پر متنبہ نہیں ہوئے جو ان سے پہلے تھے ؟وہ ان سے بھی زیادہ مضبوط تھے ۔ خدا سے کچھ بھی نہیں چھپ سکتا آسمانوں میں جو کچھ بھی ہے، اور نہ ہی زمین پر۔ وہ عالمِ کُل، قادرِ مطلق ہے ۔

[35:45] اگر خدا لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا دیتا، تو وہ زمین پر ایک بھی مخلوق کو نہ باقی رکھتا۔ لیکن وہ انہیں ایک پیش معینہ مدد تک کے لئے مہلت دیتا ہے۔ ایک مرتبہ جب ان کی مدت پوری ہوجاتی ہے، پھر خدا اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔