Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 36: ی۔س(یس)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[36:1] ی۔س ۔*

[36:2] اور قرآن جو حکمت سے بھرا ہوا ہے ۔

[36:3] بے شک تم (رشاد) رسولوں میں سے ایک ہو۔*

[36:4] ایک سیدھے راستے پر ۔

[36:5] یہ وحی قَوّی تر کی طرف سے ہے ، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ۔

[36:6] اُن لوگوں کو خبردار کرنے کے لیئے جن کے والدین کوکبھی خبردارنہیں کیا گیا، اور اس وجہ سے، وہ بے خبر ہیں ۔

[36:7] یہ پہلے سے مقرر کیا گیا ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

[36:8] کیونکہ ہم ان کی گردنوں کے اردگرد طوق ڈال دیتے ہیں، ان کی ٹھوڑیوں تک ۔ اس کے نتیجے میں، وہ اپنے کفر میں قید ہو جاتے ہیں۔

[36:9] اور ہم ان کے سامنے ایک رکاوٹ ڈال دیتے ہیں، اور ان کے پیچھے ایک رکاوٹ، اور اس طرح، ہم ان پر پڑدہ چڑھا دیتے ہیں؛ وہ دیکھ نہیں سکتے۔

[36:10] یکساں ہے، خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہیں ، یہ ایمان نہیں لا سکتے۔ *

[36:11] تم سے نصیحت صرف وہی لوگ حاصل کریں گے جو اس پیغام کی تائید کرتے ہیں، اور سب سے زیادہ مہربان کی تعظیم کرتے ہیں - تب بھی جب وہ تنہاہ ہوتے ہیں اپنی خلوت میں ۔ انہیں خوش خبری سنا دو مغفرت کی اور سخاوت کے اجر کی۔

خدا کا رسول ِ میثاق *

[36:12] ہم یقینی طور پر مردوں کو زندہ کریں گے، اور ہم نے سب کچھ محفوظ کیا ہے جو انہوں نےاس زندگی میں کیا کیا ہے اور اس کے ساتھ سا تھ و ہ نتائج بھی جو ان کی موت کے بعد جاری رہیں گے۔ سب کچھ ہم نے ایک فاضل ریکارڈ کے اندر محفوظ کیا ہے۔

رسولوں کو مسترد کرنا: ایک المناک انسانی سیرت *

[36:13] مثال پیش کیجیئے ان کے لیئے ایک برادری میں لوگوں کی ، جنہیں رسول موصول ہوئے۔

[36:14] جب ہم نے ان کے پاس دو (پیغمبر) بھیجے ،تو انہوں نے ان کو جھٹلایا ۔ ہم نے پھر تیسرے سے ان کی حمایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ "ہم (خدا کے) پیغمبر ہیں آپ کے لیئے " ۔

[36:15] انہوں نے کہا، "تم ہمارے جیسے انسانوں کےسوا اور کچھ نہیں ہو ۔ سب سے زیادہ مہربان نے کچھ بھی نازل نہیں۔ تم جھوٹے ہو "۔

[36:16] انہوں نے کہا، "ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم آپ کے طرف بھیجے گئے ہیں۔

[36:17] "ہمارا واحد مقصد پیغام پہنچا دینا ہے۔"

[36:18] اُنہوں نے کہا کہ "ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں ۔اگر تم باز نہیں آئے تو، ہم بیشک تمھیں سنگ سار کر دیں گے ، یا تمھیں دردناک عذاب دیں گے ۔"

[36:19] انہوں نے کہا، "اب جب کہ آپ کی یاد دہانی کرائی گئی ہے آپ کی نحوست آپ کے جواب پر منحصر ہے ۔ بیشک آپ حد سے گزر جانے والے لوگ ہیں۔"

[36:20] ایک آدمی شہر کے دوسرے سرےسے آیا یہ کہہ کر "اے میری قوم تم پیغمبروں کی پیروی کرو ۔

[36:21] " پیروی کریں اُن لوگوں کی جو آپ سے کوئی اجرت نہیں مانگتے، اور ہدایت یافتہ ہیں۔

[36:22] "میں کیوں نہیں اس کی عبادت کروں جس نے میری ابتدا کی اور اسی کی طرف تمھاری حتمی واپسی ہے ؟

[36:23] "کیا میں اس کے سوا اوروں کو خدا ٹھراوؑں؟ اگر سب سے زیادہ مہربان میرے لئے کوئی نقصان چاہتا تو ان کی سفارش مجھے قطعیً مدد نہیں دے سکتی، نہ وہ مجھے بچا سکتے ہیں۔

[36:24] "اس صورت میں، میں مکمل طور پر گمراہ ہو ں گا۔

[36:25] "میں آپ کے رب پر ایمان لے آیا ہوں ۔ براہ مہربانی میری بات سنیئے ۔"

پرہیزگار سیدھے جنت میں جاتے ہیں*

[36:26] (اس کی موت کےوقت ) اس کو کہا گیا، "جنت میں داخل ہو جاوؑ" ۔ اس نے کہا، "اوہ، کاش میرے لوگ جانتے ۔

[36:27] "کہ میرے رب نے میری مغفرت اور مجھے معزز بنایا ۔

[36:28] ہم نے اس کی قوم پر ،اس کے بعد، آسمان سے لشکر نازل نہیں کیئے ؛ ہم انہیں بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی ۔

[36:29] بس صرف ایک ہی دھچکہ لگنے کی دیر تھی، جس نے انہیں ساکن کر دیا۔

پیغمبر ریڈیکولانگ: ایک المناک انسانی سیرت *

[36:30] لوگوں کی حالت پر کتنا افسوس ہے! ۔ جب بھی پیغمبر پان کے پاس گئے ،تو انہوں نے، ہمیشہ ان کا مذاق اُڑایا ۔

[36:31] کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی بہت امتوں کو ہلاک کر ڈالا، اور کیسےیہ وہ ان کےپاس کبھی واپس نہیں آتے؟

[36:32] ان میں سے ہر ایک ہمارے آگے طلب کرلیا جائے گا ۔

خدا کی نشانیاں

[36:33] ان کے لئے ایک نشانی مُردہ زمین ہے: ہم اس کو پھر سے زندہ کرتےہیں اور اس سے اناج پیدا کرتے ہیں ان کےکھانے کے لئے ۔

[36:34] اور ہم اس میں کھجور کے درختوں کے باغات اگاتے ہیں ، اور انگور کے،اور ہم ان میں سے چشمے جاری کرتے ہیں ۔

[36:35] یہ اس لیئےکہ انہیں پھل فراہم کرے اور تا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے تیار کریں جوکچھ بھی انہیں ضرورت ہے ۔ کیا وہ شکر گزار گزار ہوں گے؟

[36:36] شان ہو اس کی جس نےہرقسم کے پودوں کو زمین سےپیدا کیا، اور خود انہیں بھی ، اور اسی طرح سےدیگر تخلیقات کوبھی جنہیں یہ جانتے تک نہیں ۔

[36:37] ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم ان پرسے دن کی روشنی کو ہٹا دہتےہیں جبکہ وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

[36:38] سورج ایک مخصوص مقام پرغروب ہوتاہے قادِرمطلق کے خاکہ کے مطابق ۔

[36:39] ہم نے چاند کو مراحل میں ظاہر کرنے کے لیئے طیار کیا، یہاں تک کہ یہ ایک پرانی مڑے میان کی طرح ہو جاتا ہے۔

[36:40] سورج کبھی چاند کو نہ جا پکڑے گا- رات اور دن کبھی انحراف نہیں کرتے- ان میں سے ہر ایک اپنے ہی مدار میں گردش کر رہا ہے۔

سب سے پہلے بحری جہاز کی ایجاد

[36:41] ان کے لئےایک اور نشانی یہ ہے کہ ہم نےان کے آباؤ اجداد کو ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا ۔

[36:42] پھر ہم نے ان کی سواری کے لئے بھی ایسی ہی اور بھی تخلیق کیں۔

[36:43] اگر ہم چاہتے تو ہم ان کو ڈُبا سکتے تھے ، تاکہ ان کی چیخ بھی سنائی نہ دیتی اور نہ ہی انہیں بچایا جا سکتا ۔

[36:44] اس کی بجائے ،ہم ان پر اپنی رحمت برساتے ہیں ،اور ان کو تھوڑی دیر کے لئے لطف اندوز ہونے دیتے ہیں۔

[36:45] اس کے باوجود، ان سے کہا جاتا ہے جب، " اپنے ماضی سے سبق حاصل کرو، اپنے مستقبل میں نیک کام کرنے کے لیئے، تا کہ تم پر رحم کیا جائے"۔

[36:46] چاہے جس قسم کا ثبوت ان کو ان کے پروردگار کی طرف سےدیا جاتا ہے ، وہ اسے مسلسل نظر انداز کرتے ہیں۔

[36:47] . اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ تم رزق میں سے خرچ کرو جو تمہیں خدا نے عطا کیا ہے تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: "ہم کیوں اُنہیں دیں جنہیں خود کھانا کھلا سکتا تھا خدا اگر وہ چاہتا۔ تم تو واقعی خوب بھٹکے ہوئے ہو"۔

[36:48] وہ یہ بھی للکارتے ہیں ،"وہ وعدہ کب پورا ہوگا ، اگر تم سچے ہو؟"

[36:49] بس وہ صرف ایک دھچکا ہی دیکھیں گے جو انہیں آپکڑے گا، جبکہ وہ آپس میں لڑ رہے ہوں گے۔

[36:50] اُن کے پاس اپنی وصیت تیار کرنے تک کی مہلت نہ ملےگی، اور نہ وہ اپنے لوگوں کے پاس واپس جانے کے قابل ہوں گے۔

[36:51] صُور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سےاُٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے رب کے پاس چلے جایئں گے۔

[36:52] وہ کہیں گے ، "ہم پر افسوس ہے ۔ ہمیں ہماری موت کے بعد کس نے پھر سے زندہ کر ڈالا؟ یہ تو وہی ہے جس کا سب سے مہربان نے وعدہ کیا تھا ۔ رسول درست تھے ۔

[36:53] بس ایک ہی دھچکا لگے گا ، جس پر وہ ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جایئں گے۔

[36:54] اس روز کسی جان پرچھوٹا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا ۔ آپ خاص طور پر جو کچھ آپ نے کے لئے ادا کی جائے گی ۔

[36:55] جنت میں رہنے والے ، اس دن خوشی سے مصروف ہو ں گے ۔

[36:56] وہ اپنے اہل خاناوؑں کے ساتھ خوبصورت سائیوں کے نیچے رہتے ہیں، آرام دہ آرائشی سامان سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ۔

[36:57] ان کے پاس وہاں ہر قسم کے پھل ہو ں گے; وہ جس چیز کی خواہش کریں گے انہیں وہاں ملے گی۔

[36:58] ایک سب سے زیادہ رحم کرنے والے رب کی جانب سے امن کاسلام ۔

[36:59] جہاں تک تمہارا تعلق ہے، اے گنہگار،تمہیں الگ طرف کردیاجائے گا۔

شیطان دوسرامتبادل ہے

[36:60] کیا میں نے تم سے یہ عہد نہ لیا تھا ،اے آدم کی اولاد ، کہ تم شیطان کی عبادت نہیں کرنا؟ اور یہ کہ وہ تمھارا سخت طرین دشمن ہے؟

[36:61] اور یہ کہ تم صرف میری ہی عبادت کرنا؟ یہی سیدھا راستہ ہے ۔

[36:62] اٰس نے تم میں سے بہت سوں کو گمراہ کیا۔ کیا تمہارے پاس کوئی عقل نہ تھی؟

[36:63] یہ ہے وہ دوزخ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

[36:64] آج تم اپنے کفر کے نتیجہ میں، اس میں جلو گے۔

[36:65] اس دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں ،انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس کی گواہی دیں گے۔

[36:66] اگر ہم چاہیں تو، ہم ان کی آنکھوں پرد ہ ڈ ال سکتے ہیں، لہٰذا ، جب وہ راہ تلاش کرنا چاہیں گے، وہ دیکھ نہیں سکیں گے۔

[36:67] اگر ہم چاہیں تو ہم ان کو ان کی جگہ پر ہی منجمد کر سکتے ہیں ; لہٰذا وہ نہ آگے بڑھ سکیں گے اور نہ ہی پیچھے جاسکیں گے ۔

[36:68] جسے بھی ہم ایک طویل مدد کے لئے زندہ رہنے کے اجازت دیتے ہیں، ہم اسےکمزوری کی طرف لوٹا دیتےہیں ۔ کیا وہ سمجھتے نہیں رکھتے؟

[36:69] جو کچھ بھی ہم نے اسے(پیغمبر کو) سکھایا شاعری نہیں تھی اور نہ ہی وہ (شاعر) ہے ۔ ایک ٹھوس ثبوت نہیں مگر، ہے اس * اور ایک فاضل قرآن ہے ۔

[36:70] تا کہ وہ لوگ جو زندہ ہیں انہیں منادی کرے اور کافروں کو بے نقاب کرے ۔

[36:71] کیاانہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان کے لئے اپنے ہاتھوں سے مویشیوں پیدا کیے، جو ان کی ملکیت میں ہیں؟

[36:72] اور ہم نے انہیں ان کے قابو میں کیا ؛ کچھ پر وہ سوارہوتے ہیں، اور کچھ کو وہ کھاتے ہیں ۔

[36:73] وہ ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں، اور مشروبات بھی ۔ کیا وہ شکر گزارنہیں ہوں گے؟

بے اختیار شرکاء

[36:74] وہ خدا کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھراتے ہیں ، شاید کہ وہ ان کی کچھ مدد کر سکیں!

[36:75] اس کے برعکس، وہ ان کی کچھ مدد نہیں کر سکتے ۔ بس وہ قربان فوجیوں کی طرح ان کی خدمت میں لگے رہ جاتے ہیں ۔

[36:76] لہذا، ان کی باتوں سے آپ افسردہ نہ ہو ں ۔ ہم پوری طرح آگاہ ہیں اس سے جو کچھ بھی وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ بھی وہ ظاہر کرتے ہیں ۔

[36:77] کیا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے ایک چھوٹے سے قطرے سے پیدا کیا، پھر وہ ایک سخت دشمن بن جاتا ہے؟

[36:78] وہ ہم پر ایک سوال اٹھاتا ہے - اپنی ابتدائی تخلیق کو بھولتے ہوئے-"ہڈیوں کو کون سڑ جانے کے بعدزندہ کر سکتا ہے؟ "

[36:79] کہہ دیجئے ،"وہ جس نے ابتداء میں ان کا آغاز کیا، وہی ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔وہ ہر مخلوق سے پوری طرح آگاہ ہے۔"

[36:80] وہی تو ہے جو تمہارے لیئے سرسبز درختوں سے، ایندھن تیار کرتا ہے ، جسے تم روشنی حاصل کرنے کے لیئے جلاتے ہو۔

[36:81] کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، اسی جیسے دوبارہ تخلیق کرنے کے قابل نہیں؟ ہاں یقیناً؛ وہی خالق ہے ،ہمہ دان ہے۔

[36:82] کسی بھی حکم پر عمل درآمد کرنے کے لئے صرف اسے یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ"ہو جا" اور یہ ہو جاتا ہے ۔

[36:83] لہذا، شان ہے اس ایک ذات کی جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کی بادشاہت ہے، اور اسی کی طرف تم کو واپس لوٹ کر جانا ہے۔*