Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 14: ابراہیم(ابراہیم)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[14:1] ا۔ل ۔ر۔*ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ پر اتاری ہے ،تاکہ لوگوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لائیں۔آقا کی منشا کے مطابق ۔قادر مطلق ،اورقابل حمد وستائش کے راستے کی طرف ۔

[14:2] خدا(کاراستہ )؛وہ جو آسمانوں اور زمین پر ہر چیز کا مالک ہے ؛افسو س ہے منکرین پر ؛وہ خطرناک سزا کے مستحق ہیں۔

آپ کی ترجیح کیا ہے؟

[14:3] وہ لوگ وہ ہیں جو اس زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں،خدا کے راستے سے ہٹاتے ہیں ،اور اسے مزید پچیدہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں ؛وہ گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔

پیغمبروں کی زبان

[14:4] ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا سوائے(تبلیغ کے لیے )اپنے لوگوں کی زبان میں،تاکہ ان پر باتیں واضح جائیں۔اس کے بعد خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے ۔وہ قادر مطلق ہے ،سب سے دانا۔

موسیٰ

[14:5] اس طرح ہم نے بھیجا موسی ٰکواپنے معجزات کے ساتھ ،یہ کہ کر ،’’اپنی قوم کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لاؤ، اور انہیں خدا کے ایا م کی یاددہانی کراؤ۔‘‘یہ اسباق ہیں ہر ثابت قدم اور شکر گزار فرد کے لیے۔

شکرگزار ہونے کی اہمیت

[14:6] یاد کروکہ موسی ٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا ،’’اپنے اوپر خدا کی نعمتو ں کو یاد رکھو۔اس نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے بچایا تھا ،جنہوں نے تمہیں سخت مصیبت میں مبتلا کررکھا تھا ،تمہارے بیٹوں کوقتل کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو چھوڑ دیتے تھے ۔وہ تمہارے رب کی طرف سے سخت آزمائش تھی ۔‘‘

شکرگزار بمقابلہ ناشکرے

[14:7] تمہارے خدا نے لکھ دیا ہے :’’تم جتنا زیادہ میرا شکر کرو گے،میں اتنا زیادہ تمہیں دوں گا۔‘‘لیکن اگر تم نے ناشکری کی تو میری سزا نہایت سخت ہے۔

[14:8] موسی ٰنے کہا اگر تم کفر کرتے ہوتمام اہل زمین کے ساتھ ،خدا کو کوئی ضرورت نہیں ، قابل تعریف ہے وہ ۔‘‘

انا پرستی :ایک انسانی خصلت

[14:9] کیا تم نے اپنے سے پہلے والوں کے بارے میں نہیں سنا ۔نوح کے لوگ،عاد‘،ثموداور وہ جو ان کے بعد آئے اور جن کو صرف خدا جانتا ہے ؟ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر گئے لیکن انہوں نے ان سے توہین آمیز سلوک کیا اور کہا،’’ہم نہیں مانتے اس کو جس کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ۔ہمیں تمہارے پیغام پر شک (skeptical)ہے؛شک سے بھرپور۔‘‘

والدین کی اندھی تقلید کرنا :ایک عظیم انسانی المیہ

[14:10] انکے پیغمبروں نے کہا ،’’کیا تم خد ا کے بارے میں شکوک رکھتے ہو؛جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟وہ تمہیں صرف تمہارے گنا ہ معاف کرنے کے لیے بلاتا ہے ،اور تمہیں تمہاری اصلاح کا ایک اور موقع دینا چاہتا ہے ۔‘‘وہ بولے ،’’تم ہم جیسے انسانوں سے زیادہ کچھ نہیں ہو،جو ہمیں ہمارے والدین کے اس راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں جس پر وہ عبادت کرتے تھے ۔ہمیں کوئی معتبر حکم دکھائو۔‘‘

[14:11] ان کے پیغمبروں نے کہا،’’ہم تم جیسے انسانوں سے بڑھ کر نہیں ،لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کوچاہے نوازتاہے ۔ہمارے لیے ممکن نہیں کہ تمہیں کسی قسم کا حکمنامہ دکھا سکیں ،سوائے خدا کی مرضی کے مطابق ۔اہل ایمان خدا پر بھروسہ کرینگے۔

[14:12] ’’ہم کیوں نہ خدا پر بھروسہ کریں ،جب اس نے ہمیں ہمارے راستوں پر رہ نمائی کی ہے ؟ہم تمہاری سزا ثابت قدمی سے برداشت کرینگے ۔تمام بھروسہ کرنے والے خدا پر ہی بھروسہ کرینگے۔‘‘

[14:13] جنہوںنے کفر کیا اپنے پیغمبروں سے کہنے لگے،’’ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دینگے،اگر تم ہمارے مذہب پر واپس نہ آئے تو۔انکے خدا نے ان پر وحی کی :’’ہم ظالموں کو لازمی مٹا کرر کھ دینگے۔

[14:14] ’’اور انکے بعد ہم ان کے ملک میں تمہیں آباد کرینگے۔یہ ہے (اجر)انکے لیے جو میری کبریائی تسلیم کرتے ہیں ،اور میرے وعدے کا لحاظ کرتے ہیں ۔‘‘

[14:15] انہوں نے چیلنج کیا ،اور نتیجے میں ،ہر متکبر جابر نے منہ کی کھائی ۔

[14:16] جہنم اس کا منتطر ہے ،جس میں وہ بدبو دار پانی پیئے گا۔

[14:17] وہ اسے حلق سے اتارے گا ،گرچہ وہ اسے روک نہیں سکے گا ،اس پر ہر طرف سے موت آئیگی ،لیکن وہ کبھی نہیں مرے گا ۔ اذیت ناک سزا اس کے انتظار میں ہے ۔*

[14:18] ان لوگوں کا قصہ جو اپنے رب سے کفر کرتے ہیں:ان کے اعمال آندھی میں راکھ کی طر ح ہیں،طوفان والے دن میں۔وہ جو بھی کماتے ہیں اس سے انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا ؛یہ ہے سب سے بڑی گمراہی ۔

صرف قادر مطلق کی عبادت کرو

[14:19] کیا تمہیں شعور نہیں کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو ایک خاص مقصد کے لیے خلق کیا ہے ؟اگر وہ چاہے، تو وہ تمہیں مٹا سکتا ہے،اور تمہاری جگہ نئی مخلوق لا سکتاہے۔

[14:20] یہ خد ا کے لیے زیادہ مشکل نہیں ۔

یو م حشر میں

[14:21] جب یہ سب خدا کے سامنے کھڑے ہونگے ،*تو پیرو کار رہ نماؤں سے کہیں گے ،’’ہم تمہاری پیروی کرتے تھے ،کیا تم خدا کے عذاب سے ہمیں ذرہ بھر بچاسکتے ہو؟‘‘وہ بولیں گے ،’’اگر خدا نے ہمیں ہدایت دی ہوتی ،تو ہم تمہاری رہنمائی کرتے ۔اب بہت دیر ہوچکی ،اب ہم غم کریں یا صبر کریں ،ہمارے لیے بچنے کی کوئی راہ نہیں۔ــ‘‘

شیطان اپنے پیروکاروں سے لاتعلقی کرتا ہے

[14:22] اور شیطان کہے گا،بعدفیصلہ جاری ہونے کے،خدا نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا ،اور میں نے تم سے وعدہ کیا تھا ،لیکن میں نے اپنے وعدہ توڑڈالا،مجھے تم پر کوئی اختیا ر نہیں؛میں نے صرف تمہیں دعوت دی تھی ،اورتم نے میری دعوت قبول کرلی ۔اس لیے مجھے الزام مت دو،اورصرف اپنے آپ کو الزام دو ۔میرا رونا دھونا تمہارے کام نہیں آئیگا، اور نہ تمہارا رونا دھونا میرے کام آئیگا۔تم نے مجھے شریک بنایا تھا میں اس سے انکار کرتا ہوں۔ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔‘‘

[14:23] اور وہ جو ایمان رکھتے ہیںاور راست بازی کی زندگی گزارتے ہیں ،وہ باغات میں داخل کیے جایٔیں گے جن میں نہریں بہتی ہونگی ۔وہ ہمیشہ وہاں قیام کرینگے،اپنے رب کی منشائ کے مطابق ۔وہاں ان کی مبارکباد ہے :’’سلامتی ۔‘‘

حق بمقابلہ باطل

[14:24] کیا تم دیکھتے نہیں کہ خدا نے اچھے لفظ کی مثال اچھے درخت کی طرح دی ہے ،جس کی جڑیں مضبوطی سے جمی ہیں ،اور اس کی شاخیں آسمان تک بلند ہیں؟

[14:25] یہ ہر موسم میں اپنی فصل پیدا کرتا ہے ،اپنے رب کے مقرر کردہ نقشے کے مطابق ۔اس طرح خدا لوگوں کے لیے مثالیں دیتا ہے ،شاید کہ وہ غور کریں۔

[14:26] اوربرے لفظ کی مثال اس بُرے درخت کی سی ہے جوزمین کی سطح پر کٹ چکا ہو؛اس کی کوئی جڑیں نہیں جو اسے کھڑا رکھ سکیں ۔

[14:27] خدا انہیں طاقت بخشتا ہے جو مصدقہ لفظ پر ایمان رکھتے ہیں ،اس دنیا میں اور آخرت میں ۔اور خدا ظالموں کو بھٹکتا چھوڑدیتا ہے۔سب کچھ خدا کی منشا کے مطابق ہے۔

وہ اپنے خاندانوں کو خدا کی حفاظت سے دور کردیتے ہیں

[14:28] کیا تم نے ان کا حال دیکھا جنہوں نے خدا کی نعمتوں کا جواب کفر سے دیا ،اور اس طرح لے آئے تباہی اپنے ہی خاندانوں پر ؟

[14:29] ان کی منزل جہنم ہے،جس میں وہ جلیں گے ؛کیا ہی کرب ناک انجام ہے!

شرک ،تمام برائیوں کی جڑ

[14:30] انہوں نے خدا کی ہمسری کے لیے شریک کھڑے کیے اور دوسروں کو اس کے راستے سے پھیرنے کے لیے ۔کہہ دیجیے،’’کچھ دیر کے لیے خوش ہو لو؛تمہارا آخری ٹھکانہ جہنم ہے ۔‘‘

دو ٹوک احکامات

[14:31] ترغیب دو میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ،کہ نماز قائم کریں اور زکواۃ دیں ان نعمتوں سے جو ہم نے انہیں دی ہیں،خفیہ یا کھلے عام ،قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہوگی نہ اقربا نوازی ۔

[14:32] خدا وہ ہے جس نے آسمان اور زمین خلق کیے ،اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے ہرقسم کے پھل پیدا کرنے کے لیے واسطے تمہاری پرورش کے۔اس نے سمندر میں جہاز تمہا رے لیے مسخر کیے ہیں اپنے حکم سے ۔اور اس نے دریا بھی تمہارے لیے مسخر کیے ہیں۔

[14:33] اور اس نے سورج اور چاندکو بھی تمہارے لیے مسخر کیا ہے ،مسلسل۔اس نے دن اور رات کوبھی تمہارے لیے مسخر کیا ہے ۔

[14:34] اور وہ تم کوہر قسم کی اشیائ مہیا کرتا ہے جن کے لیے تم اس سے التجا کرتے ہو،اگر تم خدا کی نعمتیں شمار کرو ،تم کبھی ان کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔بے شک ،انسان حدسے بڑھنے والا اور ناشکرا ہے۔

ابراہیم

[14:35] یا د کرو کہ ابرا ہیم نے کہا تھا ،’’میرے رب، اسے امن کی سرزمین بنا دے،اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے بچانا۔

[14:36] ’’میرے رب ،انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمرا ہ کیا ہے ۔اور جو میری پیروی کرتے ہیں،وہ میرے ساتھ ہیں۔اور جو میری نافرمانی کرتے ہیں ،توآپ معاف کرنے والے اورسب سے مہربان ہیں۔

[14:37] ’’ہمارے رب ،میں نے خاندان کا کچھ حصہ اس بے آب و گیا وادی میں بسایا ہے ،آپکے مقدس گھر میں۔ہمارے رب ،وہ نماز قائم کرینگے ،لہذا لوگوں کی بڑی تعداد کو ان کی طرف بھیج،اور ہر قسم کا پھل عطا کر،تاکہ وہ شکرگزار بنیں۔

[14:38] ’’ہمارے رب ،آپ جانتے ہیںجوکچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں ۔زمین پر کوئی چیز خدا سے پوشیدہ نہیںاور نہ ہی آسمانوںمیں۔

[14:39] ’’تعریف ہے خدا کی واسطے بخشنے کے مجھے،میرے بڑھاپے کے باوجود،اسماعیل اور اسحق ۔میرا رب دعائیں سنتا ہے۔

نمازیں:خدا کا تحفہ

[14:40] ’’میرے رب ،مجھے ہمیشہ نماز قائم کرنے والا بنا ،اور میری اولاد کو بھی ۔ہمارے رب میری دعائیں قبول فرما۔

[14:41] ’’میرے رب ،مجھے اور میرے والدین کو معاف فر ما،اور ایمان والوں کو ،اس دن جب حساب ہوگا۔‘‘

[14:42] یہ کبھی نہ سمجھنا کہ خدا بے خبر ہے اس سے جو ظالم کررہے ہیں۔وہ صرف انہیں مہلت دے رہا ہے اس دن تک جب آنکھیں خوف سے پھٹی رہ جاتی ہیں۔

[14:43] جب وہ تیزی سے (قبروں سے نکلیں گے)،ان کے منہ اوپر ہونگے،ان کی آنکھیں تک نہ جھپکیں گی ،اور ان کے دلوں پر خوف طاری ہوگا۔

خدا اپنے پیغمبروں کے ذر یعے اپنے احکامات بھیجتا ہے

[14:44] آپ لوگوں کو خبردار کیجیے اس دن سے جب ان پر عذاب آئیگا۔جنہوں نے تجاوز کیا ہوگا ،کہیں گے ،’’ہمار ے رب ،ہمیں ایک موقعہ اور دو۔تب ہم تیر ا کہنا مانیں گے اور پیغمبروں کی اطاعت کرینگے۔‘‘کیا تم نے ماضی میں قسم نہیں کھائی تھی کہ تم ہمیشہ رہو گے ؟

[14:45] تم ان لوگوں کے گھر وں میں رہے جو تم سے پہلے تھے ،انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا،اورتم نے صاف دیکھ لیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا ۔ہم نے تمہارے لیے بہت سی مثالیں قائم کردی ہیں۔

[14:46] انہوں نے اپنی چالیں چلیں،اور خدا ان کی چالوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔بے شک ان کی چالیں پہاڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی تھیں۔

خدا کے پیغمبروں کے لیے یقینی فتح

[14:47] یہ مت سوچو کہ خدا کبھی اپنے پیغمبروں سے اپنا وعدہ توڑے گا۔خدا قادر مطلق ہے ،بدلہ لینے والا۔

نئے آسمان اور نئی زمین *

[14:48] وہ دن ضرور آئیگا جب اس زمین کی جگہ نئی زمین ہوگی ،اور آسمان بھی ،اورہر ایک کو ،خدائے واحدبزرگ وبرتر، کے سامنے پیش کیا جائیگا۔

[14:49] اور آپ دیکھیں گے قصور واروں کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا۔

[14:50] ان کے لباس تارکول سے تیار کیے جائیں گے ،اورآگ ان کے چہروں پر چھاجائیگی ۔

[14:51] کیونکہ خدا ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیگا؛خدا سز ا دینے میں سب سے کامل ہے۔

[14:52] یہ اعلان ہے لوگوں کے لیے ،اس کے ذریعے انہیں تنبیہ کی جاتی ہے ،تاکہ وہ یہ جان جائیں کہ خدا صرف وہی واحد ہے ،اور ان کے لیے جو عقل رکھتے ہیں کہ وہ غور کریں۔