Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 15: الحجر وادی (الحجر)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[15:1] ا۔ل۔ر۔*یہ (حروف)ثبوت ہیں اس کتاب کے؛قران مجید۔

[15:2] بے شک،وہ جنہوں نے کفر کیا ضرورآرزوکرینگے کہ کا ش وہ مسلم ہوتے ۔

[15:3] انہیں کھانے دیجیے،لطف اندوز ہوتے ،اورمرغوب سوچ میں اندھا رہنے دیجیے ؛انہیں پتہ چل جائیگا۔

[15:4] ہم نے کسی قوم کو نہیں مٹایا ،مگر ایک مخصوص ، پیش معینہ وقت کے مطابق ۔

[15:5] قوم کا خاتمہ نہ کبھی آگے کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی موخر ۔

[15:6] انہوں نے کہا،’’اے جس نے حاصل کی یہ یاددہا نی،تم دیوانے ہو۔

[15:7] ’’تم کیوں نہیں فرشتے لاتے ،اگر تم حق پر ہو؟‘‘

[15:8] ہم فرشتے نہیں بھیجتے مگر خاص کاموں کے لیے ۔ورنہ کسی کو مہلت نہیں دی جائے گی ۔

خدا کا رسولِ میثاق*

[15:9] یقینا، ہم نے نازل کی ہے یاددہانی،اوریقینا، ہم اس کی حفاظت کریں گے۔*

[15:10] ہم نے تم سے پہلے بھی بھیجے ہیں(پیغمبر)ماضی میں قوموں کی طرف ۔

[15:11] جب بھی کوئی پیغمبر ان کی طرف گیا ،انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔

[15:12] اس طرح ہم قصورواروں کے قلوب قابو کرتے ہیں۔

[15:13] چنانچہ ،وہ اس پر ایمان نہیں لاسکتے ۔یہ نظام پچھلی نسلوں سے چلا آرہا ہے۔

[15:14] اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیتے ،جس کے ذریعے وہ پھلانگ سکتے ؛

[15:15] تو وہ کہیں گے،’’ہماری آنکھوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔‘‘

[15:16] ہم نے آسمان میں کہکشاں قائم کیں،اور اسے دیکھنے والوں کے لیے خوش نما بنایا۔

[15:17] اور ہم نے اس کی حفاظت کی ہر شیطان مردود سے ۔

[15:18] اگر ان میں سے کوئی سننے کے لیے کھسک کر آئیگا،تو ایک بہت بڑا دھکیلنے والا اس کا پیچھا کریگا۔

[15:19] جہاں تک زمین کا تعلق ہے ،ہم نے اس کو بنایا ،اور اس پر مستحکم رکھنے والے (پہاڑ )رکھ دئیے،اوراس پر ہم نے پیدا کیا مکمل توازن ہر چیز کا۔

[15:20] ہم نے اس کو تمہارے رہنے کے قابل بنایا،*اوراس مخلوق کے لیے جنہیں تم رزق نہیں فراہم کرتے ۔ *15:20جب ہم خلاباز خلا میں بھیجتے ہیں ،ہم انہیں مکمل ناپ تول کر خوراک،پانی اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔خدا نے خلائی جہاز، زمین پیدا کی اربوں خلابازوں کے ساتھ جو کام کرتے ہیں اور دوبارہ پیدا بھی کرتے ہیں؛اس نے انہیں خود کارسسٹم دیا جو آکسیجن،تازہ پانی اوربڑی مقدار میںانواع واقسام کی مزیدار خوراک اور مشروبات پیدا کرتا ہے۔

[15:21] کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔لیکن ہم اسے مقررہ مقدار میںنازل کرتے ہیں۔

[15:22] اورہم ہوائوں کو بارآورزرگل منتقل کرنے والاکے طور پر بھیجتے ہیں،اورآسمان سے پانی برساتے ہیں تمہارے پینے کے لیے۔ورنہ تم اسے مزید نہیں رکھ سکتے ۔

[15:23] یہ ہم ہیں جوزندگی اور موت کنٹرول کرتے ہیں،اور ہم ہی آخری وارث ہیں۔

[15:24] اور ہم بخوبی جانتے ہیں تم میں سے انہیں جو آگے بڑھتے ہیں،اوربخوبی جانتے ہیں انہیں جو پیچھے ہٹتے ہیں۔

[15:25] تمہارا رب یقینا انہیں حاضر کریگا۔وہ سب سے دانا،اورعالم الغیب ہے۔

نسل انسانی

[15:26] ہم نے انسان کو پرانے کیچڑ سے پیدا کیا،کمہار کی مٹی جیسے۔

[15:27] اور جہاں تک جنوں کا تعلق ہے،ہم نے انہیں پیدا کیا ،اس سے پہلے ،بھڑکتی آگ سے ۔

[15:28] تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا،’’میں انسان پیدا کررہا ہوںپرانے کیچڑ سے ،کمہار کی مٹی جیسے۔

[15:29] جب میں اسے مکمل کرلوں،اور اس میں اپنی روح پھونک دوں،تم اس کے سامنے سجد ے میں پڑجانا۔‘‘

[15:30] فرشتے سجدے میں پڑ گئے؛سب کے سب ،

[15:31] سوائے ابلیس (شیطان)کے۔اس نے سجدے میں پڑنے والوں کاساتھ دینے سے انکار کردیا۔

[15:32] اس نے کہا،’’اے ابلیس (شیطان)،تم سجدہ کرنے والوں کے ساتھ کیوں نہیں ہو؟‘‘

[15:33] وہ بولا،’’میں انسان کے سامنے سجدہ نہیں کروں گا،جسے آپ نے پرانے کیچڑ سے پیدا کیا ،کمہار کی مٹی جیسے ۔‘‘

[15:34] اس نے کہا ،’’اس لیے ،تم دفع ہوجائو؛تم دھتکارے ہوئے ہو۔

[15:35] ’’تم پر میری لعنت ہے قیامت کے دن تک۔‘‘

[15:36] وہ بولا،’’میرے رب ،مجھے اس روز تک مہلت دیجیے جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

[15:37] اس نے فرمایا ،’’تمہیں ملت دی جاتی ہے۔

[15:38] ’’ایک مخصوص دن اور وقت تک ۔‘‘

[15:39] اس نے کہا، ’’میرے رب ،چونکہ آپ چاہتے تھے کہ میں گمراہ ہوجائوں،میں یقینازمین پر انہیںبہکائوں گا؛میں یقیناان سب کو بھٹکائوں گا۔

[15:40] ’’سوائے تمہارے ان عبادت گزاروں کے ،جو صرف اورصرف تمہارے لیے وقف ہیں۔‘‘

[15:41] اس نے کہا ،’’یہ وہ قانون ہے جو اٹل ہے۔

[15:42] ’’تمہیں میرے بندوں پر کوئی اختیار نہیں۔تمہیں صرف ان پر،بھٹک جانے والوں پر اختیار ہے جوتمہاری پیروی کرتے ہیں۔

[15:43] ’’اور جہنم ان سب کا منتظر ہے۔

[15:44] اس کے سات دروازے ہوں گے ۔ہر دروازہ پائے گا ایک خاص حصہ ان میں سے ۔‘‘

[15:45] جہاں تک راست بازوں کا تعلق ہے،وہ باغات اور چشموں سے لطف اندوز ہونگے۔

[15:46] اس میں داخل ہوجائو،پر امن اور محفوظ۔

[15:47] ہم ان کے دلوں سے تمام حسد دور کردینگے۔ایک خاندان کی طرح ،وہ ملحقہ تختوں پر ہونگے۔

[15:48] انہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ؛اور نہ ہی وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔

[15:49] میرے بندوں کو مطلع کردوکہ میں معاف کرنے والا ،نہایت مہربان ہوں۔

[15:50] اور میری سزا سب سے دردناک ہے۔

فرشتے ابراہیم کے پاس آتے ہیں

[15:51] انہیں ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دو۔

[15:52] جب وہ اس کے مکان میں داخل ہوئے،وہ بولے ،’’سلامتی ہو۔‘‘اس نے کہا ،’’ہمیں تمہارے بارے میں اندیشہ ہے۔‘‘

[15:53] وہ بولے ،’’اندیشہ مت کرو۔ہمارے پاس خوش خبری ہے تمہارے لیے :ایک صاحب کمال بیٹے کی ۔‘‘

[15:54] اس نے کہا،’’تم مجھے کیسے اس قسم کی خوشخبری دے سکتے ہو،جبکہ میں اتنا بوڑھا ہوں؟کیا تم پھر بھی مجھے یہ خوشخبری دیتے ہو؟‘‘

[15:55] وہ بولے،’’جوخوشخبری ہم تمہیں دیتے ہیں سچی ہے؛ناامید نہ ہو۔‘‘

[15:56] اس نے کہا،’’کوئی ناامید نہیں ہوتا اس کے رب سے ،سوائے گمراہوں کے ۔‘‘

[15:57] اس نے کہا ،’’تمہارا مقصد کیا ہے،اے نامہ برو؟‘‘

[15:58] ہم گناہ گار لوگوں کی طرف بھیجے جارہے ہیں۔

[15:59] ’’جہاں تک لوط کے خاندان کا تعلق ہے ،ہم انہیں سب کو بچالیں گے۔

[15:60] ’’لیکن اس کی بیوی کو نہیں؛اس کے مقدر میں ہلاک ہونیوالوں کا ساتھ ہے ۔‘‘

لوط

[15:61] فرستادے لوط کی بستی میں گئے۔

[15:62] اس نے کہا،’’تم انجانے لوگ ہو۔‘‘

[15:63] وہ بولے،’’ہم آپکے پاس وہ کچھ لائے ہیں جس کا وہ شک کررہے تھے ۔

[15:64] ’’ہم آپ کے پاس حق لائے ہیں؛ہم برحق ہیں۔

[15:65] ’’آپ اپنے گھر والوں کو رات کے وقت لے جائیں ۔ان کے پیچھے ٹھہرے جائیں ،اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ تم میں سے کوئی بھی پیچھے نہ دیکھے۔جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح سیدھے جائیں۔‘‘

[15:66] ہم اس تک یہ حکم پہنچادیا:وہ لوگ صبح کے وقت مٹا دیئے جائیں گے ۔

[15:67] شہر کے لوگ خوشی خوشی آگئے ۔

[15:68] اس نے کہا ،’’یہ میرے مہمان ہیں؛مجھے شرمندہ مت کرو۔

[15:69] ’’خدا کا خوف کرو،اور مجھے شرمندہ مت کرو۔‘‘

[15:70] انہوں نے کہا ،کیا ہم نے تمہیں کسی سے رابطہ نہ کرنے کی تاکید نہیں کی تھی ؟‘‘

[15:71] اس نے کہا ،’’یہ ہیں میری بیٹیاں،اگر تمہیں بہت ضروری ہے۔‘‘

[15:72] مگر ،افسوس ،وہ ہوس میں پوری طرح اندھے ہوچکے تھے۔

[15:73] چنانچہ ،تباہی نے صبح کے وقت انہیں آن لیا۔

[15:74] ہم نے اسے الٹ پلٹ کر رکھ دیا ،اور ان پر تباہ کن پتھروں کی بارش کی ۔

[15:75] یہ سبق ہے ان کے لیے جو دانشمند ہیں۔

[15:76] یہ ہمیشہ نظام رہے گا۔

[15:77] یہ نشانی ہے ایمان والوں کے لیے ۔

[15:78] اور لکڑیوں وا لے لوگ بھی خطاکار تھے۔

[15:79] چنانچہ ،ہم نے ان سے بدلہ لیا ،اور دونوں بستیاں مکمل دستاویزی ہیں۔

[15:80] ال حجر کے لوگوں نے پیغمبروں کا انکار کیا ۔

[15:81] ہم نے انہیں اپنی آیات دیں ،مگر انہوں نے انہیں جھٹلا دیا ۔

[15:82] وہ پہاڑوں میں کھود کر محفوظ گھر بناتے تھے ۔

[15:83] آفت نے انہیں صبح کے وقت آلیا۔

[15:84] جو کچھ انہوں نے ذخیرہ کر رکھا تھا ان کے کام نہ آیا۔

دنیا کے اختتام کا انکشاف*

[15:85] ہم نے آسمان اور زمین نہیں بنائے،اور ان کے درمیان ہر چیز ،سوائے ایک خاص مقصد کے ۔دنیا کا خاتمہ ہوگا ،چنانچہ ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آئیے۔

[15:86] تمہار ارب خالق ہے،عالم الغیب۔

[15:87] ہم نے آپ کو سات جوڑے دیئے ہیں،اور قرآن عظیم۔

[15:88] اس چیز کی فکر نہ کرو جو ہم نے دوسرے (پیغمبروں)پر عنایت کی تھی ،اور (کافروں کی وجہ سے)پریشان نہ ہوں،اور مومنوں کے لیے داہنا بازو نیچے رکھیں۔

[15:89] اور اعلان کردیجیے:’’میں صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔‘‘

[15:90] ہم تقسیم کرنے والوں سے نمٹ لیں گے۔

[15:91] وہ قرآن کو صرف جزوی طور پر مانتے ہیں۔

[15:92] تمہارے رب کی قسم ،ہم ان سے سب پوچھ گچھ کرینگے،

[15:93] ہر اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے کیا ہے۔

[15:94] اس لیے ،ان احکامات پر عمل کرو جو تمہیں دیئے گئے ہیں،اور شرک کرنے والوں کی پرواہ مت کرو۔

[15:95] نقلیں اتارنے والوہم تمہیں الگ کردینگے،

[15:96] جو خدا کے ساتھ ایک اور خدا ٹھہراتے ہیں۔یقینا انہیں معلوم ہوجائیگا۔

[15:97] ہم بخوبی جانتے ہیں کہ تمہیں ان کی باتوں کا رنج ہوگا۔

[15:98] آپ اپنے رب کی حمد وثنا کرتے رہو ،اور جھکنے والوں کے ساتھ رہو۔

[15:99] اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو ،یقین* حاصل کرنے کے لیے ۔