Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 39: ہجوم (الزمر)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[39:1] یہ ایک وحی ہے مقدس کتاب کی ، خدا کی طرف سے، قادرِمطلق، سب سے زیادہ حکمت والا۔

[39:2] ہم نے یہ کتابِ مقدس تمہاری طرف اتاری ، سچائی کے ساتھ؛ تم خدا کی عبادت کرنا، اپنے دین کوصرف اسی کے لئے وقف کر کے۔

شرکاء شفیع کے طور پر ایک عام فرضی داستان

[39:3] بالکل، دین اکیلے خدا کے لئے وقف کیا جائے۔وہ جو اس کے ساتھ شریک مقرر کرتے ہیں کہتے ہیں کہ، "ہم صرف اس لئے انہیں شریک کرتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا کے قریب ترلے آئیں؛ کیونکہ یہ ایک بہتر مرتبے پر ہیں!" خدا ان کے تنازعات کے حوالے سے ان کا فیصلہ کردے گا. خداایسے جھوٹے لوگوں، کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

[39:4] اگر خدا ایک بیٹا ہی چاہتا ،تو وہ اپنی مخلوقات میں سےجس کا چاہتاانتخاب کر سکتا تھا۔ اس کی تعریف ہو ؛ وہ خدا ہے، واحد،سب سے اعلی ۔

زمین کی صورت *

[39:5] اُس نے آسمانوں اور زمین کو سچائی کے ساتھ پیدا کیا ۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے ، اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے۔ * اُس نے سورج اور چاند کا ارتکاب کیا ہے، ہرایک محدود مدت کے لئے دوڑ رہے ہیں۔ بالکل، وہ قادرِمطلق، بخشنے والا ہے ۔

[39:6] اس نے تمہیں ایک شخص سے پیدا کیا اور پھر اس سے اس کے ساتھی کو پیدا کیا ۔ اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے مویشی اتارے ہیں ۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تخلیق کرتا ہے، تخلیق کے بعد تخلیق، تاریکی کی سَہ ماہیوں میں ۔ اسی طرح ہے خدا تمہارا پروردگار ۔ تمام حاکمیت اسی کے پاس ہے ۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تم کس طرح انحراف کر سکتے ہو؟

اپنی بھلائی کے لئے ایمان لاؤ

[39:7] اگر تم کفر کرو تو خدا کو کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن وہ اپنے بندوں کو غلط فیصلہ کرتے دیکھنا ناپسند کرتا ہے ۔ اگر تم قدردان بننے کافیصلہ کرو، تو وہ تمہارے لئے خوش ہے ۔ کوئی روح کسی دوسری روح کے گناہوں کو اپنے سر نہیں لیتی ہے ۔ بالآخر، تمہاری واپسی تمہارے رب کی طرف ہے، پھر وہ تمہیں ہر عمل سے آگاہ کر دے گا جو تم نے کیا تھا۔ وہ تمہارے اندرون تر خیالات سے پوری طرح آگاہ ہے ۔

[39:8] جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے، تو وہ اپنے پروردگار سے فریاد کرتا ہے، مخلصانہ طور پر صرف اسی کے لئے وقف ہو کر۔ لیکن جیسے ہی وہ اسے برکت دیتا ہے، وہ اپنی پچھلی فریاد کو بھول جاتا ہے، اس کے ساتھ شریک کھڑے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کے راستے سے بھٹکانے کے لئے۔ کہہ دو کہ، "اپنے کفر میں مزے لو عارضی طور پر؛ تم جہنم کی آگ کے مستحق ہو۔"

[39:9]  کیا بہتر نہیں اُن میں سے ایک ہونا جو رات میں ذکر کرتے ہیں، سجدہ کرتے ہوئے اور بیدار رہتے ہوئے، آخرت سے آگاہ رہتے ہوئے اور اپنے پروردگار کی رحمت کی جستجو کرتے ہوئے؟ کہہ دو کہ، " کیا وہ جو جانتے ہیں ان کو برابر ہیں جو نہیں جانتے؟" صرف وہ جو ذہانت رکھتے ہیں، نصیحت حاصل کریں گے۔

[39:10] کہہ دو کہ، " اے میرے بندوں جو ایمان لائے ہو، تم اپنے پروردگار کی تعظیم کرو، " اُن لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں نیکو کاری کرتے ہیں، ایک اچھا صلہ ہے۔ خدا کی زمین کشادہ ہے، اور وہ جو استقلال سے ثابت قدمی کرتے ہیں اپنا اجر سخاوت سے حاصل کریں گے، بے حد۔

صرف خدا

[39:11] کہہ دو کہ، " مجھے خدا کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، دین کو بلکل اکیلے اسی کے لئے وقف کر کے۔

[39:12] "اور مجھے حکم دیا گیا تھا کہ میں حد درجہ کا فرمانبردار بنوں۔"

[39:13] کہہ دو کہ، " مجھے ڈر ہے، اگر میں نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی، ایک عظیم دن کے عذاب کا"۔

[39:14] کہہ دو کہ، "صرف خدا ہی ایک ہے جس کی میں عبادت کرتا ہوں، اپنا دین بلکل اکیلے اسی کے لئے وقف کر کے۔

[39:15] "لہذا، تم اس کے سوا جس کسی کی بھی مرضی چاہے، عبادت کرو ۔ "کہہ دو کہ، "حقیقی نقصان اٹھانے والےوہ ہیں جو اپنی روحوں کو کھو بیٹھتے ہیں، اور اپنے خاندانوں کو، قیامت کے دن پر۔" بلکل یقیناً، یہ حقیقی نقصان ہے۔

[39:16] ان کے اوپر اور ان کے نیچے آگ کے انبار ہوں گے ۔ خدا اس طرح اپنے بندوں   کا انتباہ کرتا ہے: اے میرے بندو، تم میری تعظیم کرو۔

[39:17] رہے وہ جو تمام شرکاء کی عبادت کو مسترد کریں اور خود کو مکمل طور پر اکیلے صرف خدا کے لئے وقف کریں، وہ خوشی کے مستحق ہیں ۔ میرے بندوں کو خوشخبری دے دو۔

خدا کے کلام کی پیروی کرو

[39:18] یہ وہ ہیں جو کہ تمام الفاظ کا جائزہ لیتے ہیں ، پھر سب سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی ہیں وہ جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے؛ یہی ہیں وہ جو ذہانت رکھتے ہیں۔

[39:19] ان کے حوالے سے جو عذاب کی مستحق ہے، کیا تم ان لوگوں کو بچا سکتے ہوجو پہلے سے ہی جہنم میں ہیں؟

[39:20] رہے وہ جو اپنے پروردگار کی تعظیم کرتے ہیں، ان کے لئے بنگلوں پر بنگلے تعمیر کئے جائیں گے، بہتی نہروں کے ساتھ ۔یہ خدا کا وعدہ ہے، اور خدا کبھی بھی اپنا وعدہ نہیں توڑ تا۔

[39:21]  کیا تم دیکھتے نہیں کہ خدا آسمان سے پانی گراتا ہے، پھر اسے زیر زمین کنوؤں میں قائم کر تا ہے، پھر اس کے ذریعے مختلف رنگوں کے پودے پیدا کرتا ہے، پھر وہ بڑھتے ہیں تب تک کہ یہ زرد ہو جائیں، پھر وہ انہیں بھوسے میں تبدیل کر دیتا ہے؟ یہ ایک نصیحت ہونی چاہیئے ان لوگوں کے لئے جو ذہانت رکھتے ہیں۔

[39:22] اگر خدا کسی کے دل کو فرمانبرداری سے مطمعن بنا دے ، تو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی کی پیروی کر رہا ہو گا ۔ لہٰذا اُن پر افسوس ہو جن کے دل خدا کے پیغام کے خلاف سخت ہیں ؛ وہ بہت زیادہ گمراہ ہو چُکے ہیں۔

بہترین حدیث

[39:23] خدا نے یہاں بہترین حدیث نازل کی ہے؛ ایک ایسی کتاب جو یکساں رو ہے اور دونوں راستوں کی طرف اشارہ کرتی ہے (جنت اور دوزخ کی طرف) ۔ ان کی کھا لیں جو اپنے رب کی تعظیم کرتے ہیں اس سے سکڑتی ہیں۔ پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل خدا کے پیغام کے لیئے نرم ہو جاتے ہیں۔ ایسی ہی ہے خدا کی ہدایت؛ وہ جس پر چاہتا ہے انہیں اس کی عنایت کرتا ہے۔ رہے وہ جنہیں خدا گمراہ کرتا ہے، انہیں کوئی چیز بھی ہدایت نہیں دے سکتی ۔

[39:24] اپنے چہرے کو قیامت کے دن کے دردناک عذاب سے بچانے سے زیادہ بہتر اور کیا ہے؟ ظالموں سے کہہ دیا جائے گا کہ، "اپنی کمائی کے نتائج کا مزہ چکھو۔"

[39:25] ان سے پہلے دوسرےکفر کر چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں، عذاب نے انہیں وہاں سے آپکڑا جہاں سے انہیں کبھی اس کی توقع ہی نہیں تھی۔

[39:26] خدا نے ان کی اس زندگی میں ذلت کی مذمت کی ہے ، اور آخرت کا عذاب تو اس سے بہت زیادہ بدتر ہو گا، کاش اگر وہ صرف جانتے۔

قرآن: کوئی ابہام نہیں

[39:27] ہم نے لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثال کا حوالہ اس قران میں دیا ہے، تا کہ شاید یہ نصیحت حاصل کریں۔

[39:28] ایک عربی قرآن، بغیر کسی ابہام کے، تاکہ وہ نیکوکار ہوں۔

[39:29] خدا ایک آدمی کی مثال کا حوالہ دیتا ہے جو جھگڑتے شرکار (حدیث)سے نمٹتا ہے، ان کے مقابلے میں ایک وہ آدمی جو ایک یکساں ذریعہ(قرآن) سے نمٹتا ہے، کیا یہ برابر ہیں؟ خدا کے تعریف ہو ؛ ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔

حدیث: ایک جملہ توہین

[39:30] تم (محمد) ضرور مر جاؤگے، اسی طرح جیسے یہ مر جائیں گے ۔

[39:31] قیامت کے دن، تمہارے پروردگار کے سامنے، تم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے ۔

[39:32] اُس سے زیادہ برا اور کون ہے جو خدا کی نسبت جھوٹ گڑھتا ہے، جبکہ اُس سچ سے کفر کرتے ہوئے جو اُس کے پاس آیا ہے؟ کیا جہنم کافروں کے لیے ایک   عادلانہ بدلہ نہیں ہے؟

قرآن: مطلق سچائی

[39:33] رہے وہ جو حق کو فروغ دیتے ہیں، اور اس میں یقین رکھتے ہیں، وہ نیکوکار ہیں ۔

[39:34] وہ وہاں سب کچھ پائیں گے جس کی خواہش کریں گے، اپنے پروردگار کے پاس۔ ایسا ہی اجر ہے نیکوکاروں کے لئے۔

[39:35] خدا ان کے گناہ آلود اعمال کو بخش دیتا ہے، اور انہیں ان کے اچھے اعمال کے بدلے میں انہیں سخاوت کے ساتھ انعام دیتا ہے۔

گہرا سوال

[39:36] کیاخدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟وہ تمہیں ان شرکاء کے ذریعے ڈراتے ہیں جنہیں یہ خدا کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ خدا جسے بھی گمراہ کرتا ہے، اس کی کوئی چیز بھی رہنمائی نہیں کر سکتی ۔

[39:37] اور جس کسی کی بھی خدا رہنمائی کرتا ہے، اسے کوئی چیز بھی گمراہ نہیں کر سکتی ۔ کیا خدا قادرِمطلق نہیں، اِنتقام لینے والا؟

وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں

[39:38] اگر تم ان سے پوچھو کہ، " زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟" وہ کہیں گے، "خدا"۔ کہہ دو کہ، " تم کیوں خدا کے ساتھ شرکاء مقرر کرتے ہو؟ اگر خدا کی مرضی ہو تی کہ مجھے کوئی مصیبت پہنچے، کیا وہ ایسی مصیبت کو دور کر سکتے ہیں؟ اور اگر اس کی مرضی ہو کہ مجھے کوئی نعمت ملے، کیا وہ ایسی نعمت کو روک سکتے ہیں؟" کہہ دو کہ، "خدا میرے لئے کافی ہے"۔ اس پر تمام بھروسہ کرنے والے بھروسہ کریں۔

[39:39] کہہ دو کہ، "اے میرے لوگو، اپنی پوری کوشش کرواور میں بھی اپنی پوری کوشش کروں گا ؛ تمہیں ضرورمعلوم ہو جائے گا۔

[39:40] "(تمہیں معلوم ہو جائے گا) کون شرمناک عذاب کا مرتکب ہوا ہے، اور ابدی عذاب کا مستحق ہوا ہے۔"

[39:41] ہم نے اس کتاب کو لوگوں کے لئے نازل کیا ہے تمہارے ذریعے ، سچائی کے ساتھ۔ پھر جو کوئی بھی ہدایت حاصل کرتا ہے، اپنی ہی بھلائی کے لئے ہدایت حاصل کرتا ہے، اور جو کوئی بھی گمراہ ہوتا ہے اپنے ہی نقصان کے لئے گمراہ ہوتا ہے۔ تم ان کے وکیل نہیں ہو۔

[39:42] خدا روحوں کو موت دے دیتا ہے جب ان کی زندگی اختتام کو پہنچتی ہے، اور سونے کی وقت بھی ۔ لہٰذا، وہ کچھ کو نیند کے دوران واپس لے لیتا ہے، جبکہ اوروں کو زندگی جاری رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے ان کی پیش معینہ مددت کے اختتام تک۔اس میں ان کے لئے سبق فراہم کرناچاہیے جو   غور کرتے ہیں۔

شفاعت کا افسانہ

[39:43] کیا انہوں نے سفارشی ایجاد کئے ہیں اس کے اور خدا کے درمیان مصالحت کرانے کے لئے؟ کہہ دو کہ ، " کیا ہو اگر وہ کوئی طاقت نہیں رکھتے ہوں، اور نا ہی کوئی سمجھ؟"

[39:44] کہہ دو کہ ، " تمام شفاعت خدا کے پاس ہے۔" آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہت اُسی کے پاس ہے، پھر اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

سب سے بڑا اصول *

[39:45] جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتاہے، تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ان کے دل کراہَت کے ساتھ سکڑ جاتے ہیں ۔ مگر جب دوسروں کا ان کے ساتھ ذکر کیا ہے، تووہ مطمعن ہو جاتے ہیں۔*

[39:46] اعلان کرو:" ہمارے معبود، آسمانوں کا اور زمین کا آغاز کرنے والے، تمام راز اور بیانات کو جاننے والے، صرف ایک تم ہی تو ہو جو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتے ہو، ان کے تنازعات کے بارے میں۔"

[39:47] اگر وہ جنہوں نے ظلم کیااس کی ملکیت رکھتے زمین پر جو کچھ بھی موجود ہے ، یہاں تک کہ اس سے دُگنا بھی تو وہ باآسانی اسے چھوڑ دیتے قیامت کے دن کے دردناک عذاب سے بچنے کے لئے۔انہیں دکھادے گا خدا وہ جس کی انہیں کبھی توقع ہی نہ تھی۔

[39:48]  وہ گناہ آلود اعمال جو انہوں نے کمائے تھے انہیں دکھا دیے جائیں گے، اور وہی چیزیں جن کا یہ مزاق اُڑایا کرتے تھے واپس آ کر انہیں   ستائیں گی۔

انسانی نا اُستواری

[39:49] اگر انسان کو بدبختی چھوتی ہے، تو وہ ہم سے فریاد کرتا ہے، لیکن جیسے ہی ہم اسے کسے نعمت سے نوازتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ، " یہ میں نے اپنی ہی ذہانت کی وجہ سے پایا ہے!" درحقیقت یہ صرف ایک آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔

[39:50] وہ جو ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی یہی کہا ہے، اور ان کی کمائیوں نے انہیں تھاڑا سا بھی فائدہ نہیں دیا۔

[39:51] انہوں نے اپنے برے کاموں کے نتائج جھیلے۔ اسی طرح ، موجودہ نسلوں میں سے ظالم بھی اپنے برے اعمال کے نتائج جھیلیں گے؛ وہ بچ نہیں سکتے۔

[39:52] کیا انہیں احساس نہیں کہ ایک خدا ہی تو ہے جو جس کے لئے چاہے رزق کو بڑھاتا ہے، یا روکتا ہے؟ یہ ان لوگوں کے لئے سبق ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔

خدا کی لامحدود رحمت

[39:53] اعلان کر دو: "اے میرے بندوں جنہیں نے حدود سے تجاوز کیا ہے، کبھی بھی خدا کی رحمت سے مایوسی نہ اختیار کرنا۔ اس لئے کہ خدا تمام گناہ معاف کردیتا ہے ۔ وہ معاف کر دینے والا، سب سے زیادہ مہربان ہے ۔"

[39:54] تم اپنے پروردگار کی پیروی کرنا، اور مکمل طور پراس کی فرمانرداری اختیار کرنا ،اس سے پہلے کہ عذاب تمہیں آپکڑے، پھر تمہاری مدد نہ کی جا سکے۔

[39:55] اور بہترین راستے کی پیروی کرنا جس کی طرف تمہارے لئے تمہارے پروردگار کی طرف سے اشارہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے کی عذاب تمہیں اچانک آپکڑے جبکہ تمہیں اس کی تھوڑی سی بھی توقع ہی نہ ہو۔

[39:56] ایسا نہ ہو کہ ایک روح کہے، "میں کتنا پشیمان ہوں خدا کے حکموں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے؛ میں بے شک مزاق اُڑانے والوں میں سے ایک تھا ۔"

[39:57] یا یہ کہے کہ، " اگر خدا نے مجھے ہدایت دے دی ہوتی، تو میں نیکوکاروں کے ساتھ ہوتا ۔"

[39:58] یا کہے، جب یہ عذاب کو دیکھ لے، " اگر مجھے ایک اور موقع مل جائے، تو میں نیکو کاری کروں گا"۔

[39:59] جی ہاں بیشک(تمہیں کافی مواقع ملے) ۔ میرے دلائل تمہارے پاس آئے، لیکن تم نے انہیں مسترد کیا، تکبر کیااور کافر ہو گئے ۔

[39:60] قیامت کے دن وہ جنہوں نے خدا کے بارے میں جھوٹ بولا تھاتم بد حالی کو ان کے چہروں کا احاطہ کرتا دیکھو گے۔ کیا جہنم تکبر کرنے والوں کے لئے ایک صحیح عذاب نہیں ہے ؟

[39:61] اور خدا نے ان لوگوں کومحفوظ کر لے گاجنہوں نے نیکو کاری کو برقرار رکھا تھا؛ وہ انہیں انعام دے گا۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں چھوئے گی، اور نہ ہی انہیں کوئی غم ہو گا ۔

[39:62] خدا تمام چیزوں کی تخلیق کرنے والا ہے، اور وہ تمام چیزوں کے مکمل قابو میں ہے۔

[39:63] تمام فیصلے آسمانوں اور زمین میں اسی کی ملکیت ہیں، اوروہ جو خدا کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں حقیقی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

[39:64] کہہ دو، " کیا تم مجھےخدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے کی ترغیب دیتے ہو، اے جاہلو؟"

شرک تمام اعمال کی نفی کرتا ہے

[39:65] تم پر انکشاف کیا گیا ہے، اور ان پر جو تم سے پہلے تھے کہ اگر تم کبھی بھی شرک کا ارتکاب کرو گے، تو تمہارے تمام اعمال کی نفی کر دی جائے گی، اور تم نقصان اُٹھانے والوں کے ساتھ ہو جاؤ گے۔

[39:66] لہذا، تم صرف خدا ہی کی عبادت کرنا، اور شکر گزاری کرنا ۔

خدا کی عظمت *

[39:67] وہ کبھی بھی خدا کی عظمت کی پیمائش نہیں کر سکتے ۔ پوری دنیا اس کی مُٹھی کے اندر ہے قیامت کے دن۔ درحقیقت، کائناتیں اس کے دائیں ہاتھ کے اندر تہہ کی گئی ہیں۔ * اس کی تعریف ہو؛ وہ کسی بھی شراکت دار کی ضرورت سے بہت بالاتر ہے ۔

قیامت کے دن

[39:68] سینگ پھونکا جائے گا، پھر اس وقت آسمانوں اور زمین میں ہر شخص بے ہوش ہو جائے گا، سوائے ان کے جنہیں خدا کی طرف سے امان دی جائے گی۔ پھر اسے دوبارہ پھونکا جائے گا، پھر اس وقت وہ سب اُٹھ کھڑے ہوں گے، دیکھتے ہوئے۔ *

[39:69] پھر زمین اپنے رب کے نور سے چمکے گی۔ اندراج کا اعلان کر دیا جائے گا، اور انبیاء اور گواہوں کو سامنے لایا جائے گا۔ ہر شخص کا پھر عادلانہ فیصلہ کر دیا جائے گا، تھوڑی سی بھی ناانصافی کے بغیر۔

[39:70] ہر روح کو ادا کر دیا جائے گا اس کے لئے جو بھی اس نے کیا ہے، کیونکہ وہ پوری طرح باخبر ہے ہر اس عمل سے جو انہوں نے کیا ہے۔

کافر

[39:71] وہ جنہوں نے کفر کیا ہے انہیں ہجوم میں جہنم میں لے جایا جائے گا۔ جب یہ یہاں پہنچیں گے، اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اس کے داروغا کہیں گے، " کیا تمہیں تم ہی میں سے پیغمبر موصول نہیں ہوئے تھے ، جنہوں نے تمہیں تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ کر سنائی تھیں، اور تمہیں اس دن کی ملاقات سے خبردار کیا تھا؟" وہ جواب دیں گے، "جی ہاں بیشک۔ لیکن' عذاب' کا لفظ پہلے ہی سے کافر وں پر موہر لگا دیا گیا تھا۔ "

[39:72] کہہ دیا جائے گا، " جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، جہاں تم ہمیشہ رہو گے۔" کیا ہی بدنصیب تقدیر ہے متکبر کے لئے۔

اہل ایمان

[39:73] وہ جو اپنے پروردگار کی تعظیم کیا کرتے تھے انہیں ہجوم میں جنت میں لے جایا جائے گا۔ جب یہ یہاں پہنچیں گے، اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اس کے داروغا کہیں گے، " تم پر سلامتی ہو؛ تم جیت گئے۔ لہٰذا، تم ہمیشہ اس میں رہو گے۔"

[39:74] وہ کہیں گے، "خدا کی تعریف ہو، جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا، اور ہمیں زمین کا وارث بنایا، ہمیں جنت سے لطف اندوز ہونے کے لئے جیسے ہم چاہیں۔" کیا ہی ایک خوبصورت بدلہ ہے کام کرنے والوں کے لئے!

[39:75] تم فرشتوں کو تخت کے ارد گرد تیرتے ہوئےدیکھو گے، اپنے رب کی تسبیح اور تعریف بیان کرتے۔ سب کے لیے اعدلانہ انصاف جاری کر دیے جانے کے بعد، اعلان کر دیا جائے گا: "خدا کی تعریف ہو۔ کائنات کارپروردگار۔"