Submission

Submission — سبمشن (اسلام): 33 زبانوں میں، حقیقی اسلام کے بارے میں درست معلومات کا دنیا کا سب سے بڑا ذریعہ۔

سورۃ 28: تاریخ (القصص)

خدا کے نام پر ، جو سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

[28:1] ت۔س۔م۔*

[28:2] یہ (حروف) اس مُستند کتاب کے دلائل کی تَشکیل دیتے ہیں ۔

[28:3] ہم تمہیں اس میں موسیٰ اور فرعون کی کچھ تاریخ پڑھ کر سناتے ہیں، سچائی کے ساتھ، ا ن لوگوں کے فائدے کے لئے جو یقین کرتے ہیں۔

[28:4] فرعون زمین پر ظالم بن بیٹھا، اوراس نے کچھ لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کیا۔ اس نے ایک لاچار گروہ کو ستایا، ان کے بیٹوں کو ذبح کرتے ہوئے، جبکہ ان کی بیٹیوں کو چھوڑتے ہوئے۔ وہ درحقیقت بد شعار تھا۔

خدا مظلوم کی تلافی کرتا ہے

[28:5] ہم نے چاہا کہ وہ جو زمین پر مظلوم تھے ان کی تلافی کریں، اور انہیں رہنماؤں میں تبدیل کریں، اور انہیں وارث بنا دیں۔

[28:6] اور انہیں زمین پر ناصب کریں، اور فرعون، ہامان ، اور اس کی فوجوں کو انہی کے کیئے کا مزا چکھائیں۔

خدا پر اعتماد

[28:7] ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی :"اُسے دودھ پلاوٴ ، اور جب تمہیں اس کی جان کا خطرا محسوس ہو، تو اسے بغیر کسی خوف یا غم کے دریا میں ڈال دو ۔ ہم اسے تمہاری طرف واپس لےآ ئیں گے، اور اسے پیغمبروں میں سے ایک بنا دیں گے ۔"

[28:8] فرعون کے گھر والوں نے اسے اٹھا لیا، صرف اسے حزب مخالف کی رہنمائی کرنے کے لیئے اور ان کے لئے غم کا ایک ذریعہ بنانے کے لئے ۔ یہ اس لئے کہ فرعون، ہامان اور ان کی افواج ظالم تھی۔

شیر کے خلوت خانہ کے اندر

[28:9] فرعون کی بیوی نے کہا، "یہ میرے اور تمہارے لئے ایک پرمسرت حصول بن سکتا ہے ۔ اس کو قتل نہ کرو ، کیونکہ یہ ہمارے لئے تھوڑا فائدہ مند ہو سکتا ہے، یا ہم اسےاپنا بیٹا بنا سکتے ہیں۔" اسے کوئی اندازہ ہی نہیں تھا ۔

[28:10] موسی کی ماں کا ذہن اتنابے چین ہو رہا تھا کہ اس نے تقریبا اس کی شناخت کا راز فاش کر دیا تھا۔ لیکن ہم نے اس کا دل کو مضبوط کردیا ، اسے ایک مومن بنانے کے لئے۔

[28:11] انہوں نے اس کی بہن سےکہا ، "اس کی راہ کی پیروی کرو۔ ." اس نے اسے دُور سے دیکھا جبکہ انہیں محسوس نہیں ہوا۔

بچہ اپنی ماں کے پاس واپس آگیا

[28:12] ہم نے اسے تمام د ودھ پلانے والی ماؤں کو قبول کرنے سے منع کر دیا ۔ (اس کی بہن نے) پھر کہا، "میں تمہیں ایک خاندان دکھا سکتی ہوں جو تمہارے لئے اس کی پرورش کر سکتا ہے، اور اس کا اچھی طرح خیال رکھ سکتا ہے۔ "

[28:13] پس ، ہم نے اسے اس کی ماں بہال کر دیا، اس کو خوش کرنے کے لئے، اس کی پریشانیوں کو مٹادینے کے لیے، اور اسے یہ بتانے کے لئے کہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ بہر حال، ان میں سے اکثر نہیں جانتے ۔

[28:14] جب وہ جوانی اور قوت کو پہنچا، تو ہم نےاسے حکمت اور علم سے نوازا. ہم اس طرح نیکوکاروں کو اجر دیتے ہیں ۔

موسی قتل کا ارتکاب کرتا ہے

[28:15] ایک مرتبہ وہ غیر متوقع طور پر شہر میں داخل ہوا ، بغیر لوگوں کے اسے پہچانتے ہوئے۔ اس نے دو آدمیوں کو لڑتے پایا؛ ایک اس کے اپنے لوگوں میں سے (ایک عبرانی) تھا، اور دوسرا دشمنوں میں سے (ایک مصری) تھا۔ وہ جواس کے لوگوں میں سے تھا اس نےاپنے دشمن کے خلاف مدد کے لئے پکارا۔ موسی نے اسے مکا مارا، اسے قتل کرتے ہوئے۔ اس نے کہا ، "یہ شیطان کا کام ہے؛ وہ ایک حقیقی دشمن ہے، اور ایک بڑا گمراہ کرنے والا ہے۔"

[28:16] اس نے کہا، "میرے پروردگار، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ۔ برائے مہربانی مجھے معاف کرنا،" اور اس نے اسے بخش دیا ۔ وہ معاف کرنے والا ہے، سب سے زیادہ مہربان ہے ۔

[28:17] اس نے کہا "میرے پروردگار، مجھ پر تمہاری برکتوں کےعوض ، میں کبھی بھی مجرم لوگوں کاحامی نہیں بنوں گا۔"

[28:18] صبح، وہ شہر میں تھا، خوف زدہ اور ہوشیار ۔وہ جس نے کل اس کی مددمانگی تھی، دوبارہ اس کی مدد کے لئے پکارا ۔ موسیٰ نے اس سے کہا ، "تم واقعی ہی ایک مصیبت ساز ہو ۔

موسیٰ کا جرم بے نقاب ہوا

[28:19] اس سے پہلے کہ وہ ان کے مشترکہ دشمن کو مارتا، اس نے کہا، " اے موسیٰ، کیا تم مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو، جیسا کہ تم نے دوسرے شخص کو کل قتل کر ڈالا؟ ظاہر ہے،تم زمین پر ایک ظالم بننا چاہتے ہو ؛ تم نیکو کار بننا نہیں چاہتے۔"

[28:20] ایک شخص شہر کی دوسری جانب سے دوڑتا ہوا آیا، یہ کہتے، "اے موسیٰ، لوگ تمہیں قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ بہتر ہے کہ تم فوری طور پر چلے جاوٴ ۔ میں تمہیں اچھا مشورہ دے رہا ہوں۔"

[28:21] وہ شہر سےفرار ہو گیا، ، ڈرا ہوا اور ہوشیار ۔ اس نے کہا ، "میرے پروردگار، مجھے ظالم لوگوں سے بچا لو"۔

مدین میں

[28:22] جیسے اس نے مدین کی طرف سفر کیا، اس نے کہا، " میرا پروردگار مجھے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔"

[28:23] جب وہ مدین کے پانی کے پاس پہنچا، اس نے لوگوں کے ایک ہجوم کو پانی پلاتے ہوئے پایا، اوراس نے دو خواتین کو ایک جانب انتظار کر تے محسوس کیا ۔ اس نے کہا، "وہ کیا ہے جس کی تمہیں ضرورت ہے؟" انہوں نے کہا، " ہم پانی نہیں پلا سکتےجب تک کہ ہجوم منتشر نہ ہو جائے اور ہمارا باپ ایک بوڑھا آدمی ہے۔"

[28:24] اس نے ان کے لئے پانی پلایا، پھر سایے کی طرف آیا، کہتے ہوئے کہ ، " میرے پروردگار، جو بھی رزق تم پیری طرف بھیجو گے، مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔"

[28:25] جلد ہی، ان دو خواتین میں سے ایک اس کے پاس آئی، شرماتے ہوئے، اور کہا ، "میرے ابو تمہیں ہماری خاطر پانی پلانے کا معاوضہ ادا کرنے کے لئے دعوت دیتے ہیں۔" جب وہ اس سے ملا ، اور اسے اپنی کہانی سنائی ، اس نے کہا، " بلکل خوف نہ کرو ۔ تمہیں ظالم لوگوں سے بچا لیا گیا ہے ۔"

موسیٰ شادی کرتا ہے

[28:26] ان دو خواتین میں سے ایک نے کہا "اے میرے ابو، اسے کام پر رکھ لیں۔ یہ کام پر رکھنے کے لئے بہترین ہے، کیونکہ یہ طاقتوراور ایماندار ہے ۔"

[28:27] اس نے کہا، " میں تمہیں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ شادی کرنے کی درخواست کرتا ہو، میرے لئے آٹھ حجوں تک کام کرنے کے لئے؛ اگر تم انہیں دس بنا لو، تو یہ تمہارے طرف سے رضا کارانہ ہو گا۔ میں تمہارے لئے اس معاملے کو بہت زیاد ہ مشکل نہیں بنانا چاہتا۔ تم مجھے، خدا کی رضا سے، راست باز پاوٴ گے۔"

[28:28] اس نے کہا، " یہ میرے اور تمہارے درمیان ایک معاہدہ ہے۔میں جو بھی مدت پوری کروں، تم اس میں سے کسی ایک کی بھی مخالفت  نہیں کرو گے۔ خدا اس کا ضامن ہے جو کہ ہم نے کہا۔"

واپس مصر کی جانب

[28:29] جب اس نے اپنی ذمہ داری پوری کر لی تھی، تو اس نے اپنے خاندان کے ساتھ ( مصرکی طرف)سفر کیا ۔ اس نے کوہ سینا کے ڈھلوان سے ایک آگ دیکھی ۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا، "یہیں رُکو ۔ میں نے ایک آگ دیکھی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے پاس کوئی خبر لے آوٴں، یا آگ کا ایک حصہ تمہیں گرمی پہنچانے کے لئے۔"

موسی کومنتخب کیا گیا

[28:30] جب وہ وہاں پہنچا، تو اسے وادی کےدائیں طرف کے کنارے سےپکارا گیا، اس متبرک جگہ سے جہاں جلتی ہوئی جھاڑی واقع تھی: "اے موسی، یہ میں ہوں۔خدا؛ کائنات کا پروردگار۔

[28:31] "اپنا عصا پھینک دو۔" جب اس نے اسے ایک بھوت کی طرح حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو وہ مُڑُ ا اور بھاگا۔" اے موسیٰ، واپس آوٴ ؛ خوفزدہ نہ ہو ۔ تم بالکل محفوظ ہو ۔

[28:32] "اپنی جیب میں اپنا ہاتھ ڈالو ؛ یہ سفید ہو کر نکل آئے گا کسی بھی عیب کے بغیر ۔ اپنے باز ووٴں کو میں بغل میں ڈالو ہیں اور اپنے خوف سےسکونت اختیار کرو ۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے دو دلائل ہیں، فرعون اور اس کے سرداروں کو دکھائےجانے کے لئے ۔ وہ ظالم لوگ بن گئے ہیں ۔

[28:33] اس نے کہا، " میرے پروردگار، میں نے ان میں سے ایک کو قتل کر ڈالا، مجھے ڈر ہے کہیں وہ مجھے قتل ہی نہ کر دیں۔

[28:34] "اس کے علاوہ، میرے بھائی ہارون مقابلے میں زیادہ فصیح ہے۔ اسے میرے ساتھ بھیج دو ایک مددگار کے طور پر میری تصدیق کرنے اورمجھے تقویت پہنچانےکے لئے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے سے کفر کریں۔"

[28:35] اس نے کہا، "ہم تمہیں تمہارے بھائی سمیت تقویت دیں گے، اور ہم تم دونوں کو واضح اختیار دیں گے۔ پس، وہ تم میں سے ایک کو بھی چھو نہیں سکیں گے۔ ہمارے معجزات کے ساتھ، تم دونوں، ان کے سمیت وہ جو تمہاری پیروی کریں، فاتح ہوں گے۔"

فرعون کا تکبر

[28:36] جب موسیٰ اس کے پاس گیا ہمارے دلائل کے ساتھ، واضح اور ٹھوس، اُنہوں نے کہا، "یہ گھڑ لیا گیا جادو ہے ۔ ہم نے کبھی بھی اس کے بارے میں اپنے قدیم آبائو اجداد سے نہیں سنا ہے۔"

[28:37] موسیٰ نے کہا، " میرا پروردگار سب سے اچھی طرح جانتا ہے کہ کوں اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے، اور کون حتمی کامیابی حاصل کر یں گے۔ بے شک، ظالم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتے۔"

[28:38] فرعون نے کہا، " اے میرے سردارو، میں تمہارے لئے کسی اور معبود کو نہیں جانتا سوائے اپنے آپ کے۔ لہٰذا، گارے کو جلاوٴ، اے ہامان، ایک عمارت کو تعمیر کرنے کے لئے، تا کہ ہوسکے میں موسیٰ کے معبود کو دیکھ سکوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔"

[28:39] لہٰذا، اس نے اور اُس کی فوجوں نے ، بغیر کسی حق کے، زمین پر تکبر کا ارتکاب جاری رکھا اوریہ سوچا کہ وہ ہماری طرف کبھی بھی نہیں لوٹائے جائیں گے ۔

[28:40] نتیجتاً، ہم نے اُسے اور اُس کی افواج کو سزا دی ، ان کو سمندر میں پھینک کر ۔ بدکاروں کے نتائج پر دیہان کرو ۔

[28:41] ہم نے انہیں امام بنایا جنہوں نے اپنےلوگوں کی دوزخ کی طرف قیادت کی۔ مزید از آں، قیامت کے دن، ان کی کوئی مدد نہ ہو گی ۔

[28:42] انہوں نے اس کی زندگی مذمت مول لی ہے، اور قیامت کے دن ان کو ذلیل کیا جائے گا۔

موسیٰ کی کتاب *

[28:43] ہم نے موسیٰ کو کِتابِ مُقدّس دی — پچھلی نسلوں کے ہلاک کر ڈالنے کے بعد، اور ان کے ذریعے مثالیں قائم کرنے کے بعد —لوگوں کے لئےروشن خیالی، اور ہدایت اور رحمت، تا کہ ہو سکے کہ وہ نصیحت حاصل کر یں۔

خدا کے رسولِ میثاق سے خطاب کرتے ہوئے

[28:44] تم مغربی پہاڑ کی ڈھلوان پر موجود نہیں تھے ، جب ہم نے موسیٰ کو اپنا حکم جاری کیا تھا؛ تم گواہ نہیں تھے۔ *

[28:45] لیکن ہم نےکئی نسلیں قائم کیں ، اوروقت کی لمبائی کی وجہ سے (وہ بھٹک گئے) ۔ اور نہ ہی مدین کے لوگوں کے درمیان تھے ، ان کے لئے ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ۔ لیکن ہم نےپیغمبر بھیجے تھے ۔

[28:46] نہ ہی تم کوہ سینا کی ڈھلوان پر تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) پکارا۔ لیکن یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے، ( لوگوں کے لئے،) ان لوگوں کو خبردار کر نے کے لئے جنہیں تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا موصول نہیں ہوا تھا، تا کہ ہو سکے کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

کوئی عذر نہیں

[28:47] لہذا ، وہ یہ نہیں کہہ سکتے، جب ان پر ایک آفت آ پڑے گی ان کے اپنے اعمال کےنتیجے میں، "ہمارے پروردگار، اگر تم نے ہماری طرف ایک پیغمبر بھیجا ہوتا، ہم تمہاری آیتوں کی پیروی کرتے، اور مومن ہوتے۔"

تورات اور قرآن

[28:48] اب جب کہ حق ان کے پاس ہماری طرف سے آپہنچا ہے، انہوں نے کہا، "اگر صرف ہمیں وہ دیا جاتا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا! "ہم انہوں نے ماضی میں اس کو نہیں جھٹلایا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا! صحیفے) جادو کے کام ہیں جنہیں کہ ایک دوسرے سے نقل کیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا "ہم ان دونوں کو جھٹلاتے ہیں" ۔

[28:49] کہو کہ، "پھرایک صحیفہ پیدا کرو خدا کی طرف سے ان دونوں سے بہتر ہدایت کے ساتھ، تا کہ میں اس کی پیروی کروں، اگر تم سچے ہو ۔

خدا ہماری طرف اپنی تعلیمات بھیجتا ہے اپنے پیغمبروں کے ذریعے

[28:50] اگر یہ جواب دینے میں ناکام ہو جائیں، تو جان لو کہ یہ صرف اپنے نظریات ہی کی پیروی کرتے ہیں۔اُن سے زیادہ گمراہ اور کون ہے جو اپنے نظریات کی پیروی کرتے ہیں ، خدا کی طرف سے ہدایت کے بغیر؟ خدا ایسے ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں کرتا ۔

تمام سچے ایمان والے قرآن کو قبول کرتے ہیں

[28:51] ہم نے انہیں پیغام پہنچا دیا ہے ، تا کہ ہو سکتا ہے کہیہ نصیحت حاصل کریں۔

[28:52] وہ جنہیں ہم نے پچھلے صحیفوں سے نوازا تھا اس پر یقین کریں گے۔

[28:53] جب یہ انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے، وہ کہیں گے، " ہم اس پر ا یقین کرتے ہیں، یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے سچ ہے۔ اس سے پہلےبھی کہ ہم نے اسے سنا، ہم فرمانبردار تھے۔"

؎یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے دوگنا انعام جو سچ کو پہنچاتے ہیں

[28:54] انہیں ہم دوگنا انعام عطا کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نےاستقلال کے ساتھ ثابت قدمی کی ۔ وہ برُے کاموں کا مقابلہ اچھے کاموں کے ساتھ کرتے ہیں، اور ہمارے رزق میں سے، دیتے ہیں۔

[28:55] جب  ان کا سامنا لغو بات سے ہوتا ہے، یہ اسے نظر انداز کرتے ہیں اور کہتے ہیں، " ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، اور تم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو ۔ تم پر سلامتی ہو ۔ ہم جاہلوں کے جیسا برتاؤ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔"

صرف خدا ہدایت دیتا ہے

[28:56] تم انہیں ہدایت نہیں دے سکتے جن سے تم محبت کرتے ہو۔ صرف ایک خدا ہی ہے جو اپنی مرضی کے مطابق اور اپنے علم کے مطابق ان کو ہدایت دیتا ہے جو اس کے مستحق ہیں ۔

[28:57] انہوں نے کہا، " اگر ہم تمہاری ہدایت کی پیروی کریں گے ، توہم ایذا رسائی میں مبتلا ہوجائیں گے۔" کیا ہم نے ان کے لئے ایک مقدس عبادت گاہ قائم نہیں کی، جس کے لئے ہر قسم کے پھلوں کی پیشکش ہوتی ہے، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ در حقیقت، ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

[28:58] ہم نے بہت سی قوموں کواپنی زندگی سے ناشکرگزار بن بیٹھنے کے باعث ہلاک کر ڈالا۔ اس کے نتیجے میں، یہ ہے ان کے گھر،ان کے بعد غَیر آباد کھنڈرات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں، سوائے چند ایک کے۔ ہم ہیں وارث۔

[28:59] کیونکہ تمہار پروردگار کبھی بھی کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا ان کے درمیان ایک پیغمبر کو بھیجے بغیر، انہیں ہماری ایات پڑھ کر سنانے کے لئے۔ہم کبھی بھی کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتے، جب تک کہ اس کے لوگ ظالم نہ ہوں۔

[28:60] جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے صرف اس دنیا   کا مواد ہے، اور اسکا سنگار ہے۔ وہ جو خدا کے پاس ہے اس سے کہیں زیادہ بہتر ، اور دائمی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو؟

[28:61] کیا وہ جسے ہم نے ایک اچھا وعدہ دیا ہے جو یقیناً آکر رہے گا، اس کے برابر ہے جسے ہم اس زندگی کا عارضی مواد فراہم کرتے ہیں، پھر قیامت کے دن دائمی عذآب جھیلتا ہے؟

شرکاء مشرکوں سے دستبردار ہوتے ہیں

[28:62] وہ دن آئے گا جب وہ انہیں پکارے گا، کہتے ہوئے کہ، " کہاں ہیں وہ شرکاء جنہیں تم نے میرے ساتھ مقرر کیا تھا؟"

[28:63] وہ جنہوں نے فیصلہ مول لیا کہیں گے ، " ہمارے پروردگار، یہی ہیں وہ جنہیں ہم نے بھٹکایا تھا؛ ہم نے انہیں صرف اس لئےبھٹکایا تھا کیونکہ ہم خود ہی بھٹک چُکے تھے۔ ہم اب اپنے آپ کو پوری طرح تمہارے لئے وقف کرتے ہیں۔ یہ حقیقت میں ہماری عبادت نہیں کر رہے تھے۔"

[28:64] یہ کہہ دیا جائے گا کہ "اپنے شرکاء کو (اپنی مدد کے لئے) پُکارو۔" وہ انہیں پکاریں گے، لیکن وہ جواب نہیں دیں گے ۔ یہ عذآب جھیلیں گےاور خواہش کریں گے کہ یہ ہدایت یافتہ ہوتے!

پیغمبروں کی جانب ہمارا ردِعمل

[28:65] اس دن ، وہ ہر ایک سے پوچھے گا، " تم نے پیغمبروں کے ساتھ کیسا ردِ عمل کیا؟"

[28:66] یہ اس دن حقائق سے ایسے دنگ ہو جائیں گے،  یہ لاجواب ہوں گے۔

[28:67] رہے وہ جنہوں نے توبہ کی ، ایمان لائے، اور نیک زندگی گزاری ، وہ جیتنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

[28:68] تمہارا پروردگار ہی ایک ہے جو تخلیق کرتا ہے جو چاہتا ہے،اور چنتا ہے؛ کوئی اور کچھ نہیں چنتا۔ خدا کی تعریف ہو، سب سے بالاتر۔ وہ شریکوں کی ضرورت سے کہیں زیادہ بلند ہے۔

[28:69] تمہارا پروردگار سب سے اندرونی خیالات کو جانتا ہے جو ان کے سینے میں چھپے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ بھی جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔

[28:70] وہی ایک خدا ہے؛ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔اسی سے منصوب ہیں تمام تعریف اس پہلی زندگی میں، اور آخرت میں۔ تمام فیصلے اسی سے منصوب ہیں، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاوٴ گے۔

خدا کی برکتیں

[28:71] کہہ دوکہ، "کیا ہو گااگر خدا رات کو دائمی بنا دے، قیامت کے دن تک؟ کون سامعبود ہے، خدا کے سوا، جوتم کو روشنی فراہم کر سکتا ہے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟"

[28:72] کہہ دوکہ، "کیا ہو گااگر خدا دن کو دائمی بنادے، قیامت کے دن تک ؟ کون سامعبود ہے، خدا کے سوا، جو تم کو ایک رات فراہم کر سکتا ہے آرام کے لئے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟"

[28:73] یہ اس کی طرف سے رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے دن اور رات کو بنایا تاکہ تم (رات کے دوران) آرام کرو، پھر (دن میں) اس کا رزق تلاش کرو، تا کہ ہوسکے تم شکرگزاری کرو۔

شرکاء کچھ اختیار نہیں رکھتے

[28:74] وہ دن آئے گا جب وہ ان سے پوچھے گا، " کہاں ہیں وہ شرکاء جنہیں تم نے گڑھ لیا تھا میرے ساتھ مقابلے میں؟"

[28:75] ہم ہر ایک قوم میں سے ایک گواہ منتخب کریں گے، پھر کہیں گے، " اپنا ثبوت پیش کرو۔" وہ پھر تب احساس کر لیں گے کہ تمام سچائی خدا سے منصوب ہے، جبکہ وہ شرکاء جنہیں انہوں نے گڑھ لیا تھا ، انہیں ترک کر لیں گے۔

قارون

[28:76] قارون (غلاموں کو چلانے والا) موسیٰ کے لوگوں میں سے تھا جس نے انہیں دغا دیا اور ان پرظلم کیا۔ ہم نے اسے اتنے سارے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی چابیاں اس کے مضبوط ترین بند کے لئے بھی قریب قریب بہت بھاری تھیں۔ اس کے لوگوں نے اس سے کہا، " اتنا زیادہ تکبر نہ کرو؛خدا تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

[28:77] " خدا کی طرف سے عطا کیئے گئے رزق کو آخرت کے ٹھکانے کی تلاش کے لئے استعمال کرو ، اس دنیا میں اپنے حصے کو نظرانداز کیئے بغیر۔ خیرات گزاری کرو، جس طرح خدا نے تمہاری طرف خیراتی گزاری کی ہے۔زمین میں بدعنوانی نہ کرتے چلے جاوٴ۔ خدا بدعنوانی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"

[28:78] اس نے کہا کہ، "میں نے یہ سب کچھ اپنی چالاکی کے ذریعے سے پایا ہے۔" کیا اس نے یہ احساس نہیں کیا تھا کہ خدا نے اس سے قبل نسلوں کو ہلاک کر ڈالا جواس سےکہیں زیادہ طاقتور تھیں ، اور تعداد میں زیادہ ؟ (ہلاک کردہ) ظالموں سے ان کے جرائم کے بارے میں نہیں پوچھا گیا ۔

[28:79] ایک دن وہ مکمل جاہ و جلال میں اپنے لوگوں کے پاس باہر آیا ۔ وہ جو اس دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے تھے بولے ، "اوہ، کاش ہم اس خزانے کے مالک ہوتے جسے قارون نے حاصل کیا ہے۔ درحقیقت ،یہ بہت ہی خوش قسمت ہے ۔"

حقیقی دولت

[28:80] وہ جنہیں علم سے نوازا گیا تھا، انہوں نے کہا، " تم پر افسوس ہے، خدا کا اجر ان کے لئے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائیں اور نیک زندگی گزاریں۔" اسے کوئی نہیں حاصل کرتا سوائے ان کے جو ثابت قدم ہوں۔

غاصب کی ناگزیر قسمت

[28:81] پھر ہم نے زمین کواسے اور اس کی حویلی کو نغل لینے کا سبب بنا یا۔ کوئی فوج ان کی مدد نہ کر سکتی تھی خدا کے خلاف؛ اس کی قسمت میں جیتنے والا بننا نہیں تھا۔

[28:82] وہ جو ایک دن پہلے اس سےحسدکرتے تھے بولے کہ ، "اب ہمیں یہ احساس ہے کہ خدا ہی ایک ہے جواپنے خادموں میں سے جسے چاہتا ہےان کے لئے فراہم کرتا ہے، اور روکتا ہے۔ اگر ہم پر خدا کی مہربانی نہ ہوتی، تو وہ زمین کو ہمیں بھی نغل لینے کا سبب بناسکتا تھا۔ ہم اب احساس کرتے ہیں کہ کافر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتے۔"

حتمی فاتحین

[28:83] ہم آخرت کا ٹھکانا اُن کے لئےمخصوص کرتے ہیں جو زمین پر رفعت کی تلاش نہیں کرتے ، اور نہ ہی بدعنوانی کی ۔ حتمی فتح نیکوکاروں ہی کے لیئے ہے ۔

[28:84] جو کوئی بھی نیکوکاری کرتا ہے،کہیں بہتر انعام وصول کرتا ہے۔ رہے وہ جوگناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کے گناہوں کا عذآب بعینہ ان کے اعمال کے برابر ہے ۔

[28:85] بیشک،وہ جس نےتمہارے لئے قرآن کو جاری کیا تمہیں پیش معینہ ملاقات کے لیئے بلائے گا ۔ کہہ دو کہ، "میرا پروردگار اُن سے پوری طرح آگاہ ہے جو ہدایت کو برقرار رکھنے والے ہیں، اور وہ جو بھٹك چُکے ہیں ۔

[28:86] تمہیں کبھی بھی اس صحیفے کے اپنی طرف آنے کی توقع نہیں تھی ؛ لیکن یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ پس، تم کافروں کی طرف داری نہیں کرنا۔

[28:87] نہ ہی تم اپنے پروردگار کی آیات سے انحراف کرنا، اس کے بعد کے وہ تمہارے پاس آچکی ہیں، اور دوسروں کو اپنے پروردگار کی طرف دعوت دینا۔ اور کبھی بھی شرک میں مبتلا نہ ہونا۔

[28:88] تم خدا کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہ کرنا۔ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ خدا کی موجودگی کے سوا ہر تباہ ہوجاتی ہے۔ اس کی ہی ملکیت ہے تمام حاکمیت، اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاوٴ گے۔